روبینہ عبدالقدیر

3 بلاگ 0 تبصرے

عورت کی سماجی عزت

اس معاشرے کو ایسے مردوں کی ضرورت ہے جو عورت کو ملکہ سمجھنے والے ہوں، جو عورت کی عزت و احترام کرنا جانتے ہوں،...

” ماہ محرم الحرام “

بحیثیت مسلمان ہمیں نئے سال کا آغاز اسلامی سال سے کرنا چاہیے۔ ماہ محرم الحرام سے سال کا آغاز کرنا اصحاب کرام رضوان اللہ...

اولاد کی تربیت ہے فرض آپ کا…لیکن ٹھہریے

’’ہماری بیٹی بہت ضدی ہے، بڑا بیٹا بہت بدتمیز ہوگیا ہے، ایک بیٹی گالیاں بہت دینے لگی ہے، اور میراایک ا بیٹا بہت جھوٹ...

اہم بلاگز

ناموس رسالت کیلئے جاگو!

  اللہ تعالی نے اپنے محبوب ﷺکو ایک ناقابل بیان حسن و جمال اور کردار کا پیکر بنا کر بھیجا۔ دور نبوی میں عرب کے لوگ رسول اللہﷺ کی نبوت کو جھٹلاتے تھے اور معاذ اللہ بُرا بھلا کہتے تھے اس کے بعد جب اسلام پھیلا اور پوری دنیا میں چھا گیا تو اب غیر مسلم یعنی مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ آپ ﷺ کی ذات اقدس پر ہرزا سرائی کرتے ہیں. صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد آج کے دن تک مسلمانوں کی ماؤں نے وہ لعل پیدا کیے ہیں جو ناموس رسالت کی خاطر جان دینا اور جان لینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ فرزندانِ توحید میں سے غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ نے رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے خلاف کتاب لکھنے والے راجپال کھتری کو جہنم واصل کیا تو اس کے جنازہ میں علامہ اقبال جیسے قلندر صفت انسان اور پیر سید جماعت علی شاہ صاحب جیسے وقت کے ولی بھی موجود تھے۔ عشق و محبت کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی موضع ساروکی کے رہائشی غازی عامر عبدالرحمن چیمہ نے گستاخ کو واصل جہنم کر کے دیارِ غیر میں نئی تاریخ رقم کی، پھر تاریخ نے دیکھا کہ گستاخِ رسول گورنر سلمان تاثیر کو غازی ملک ممتاذ حسین قادری نے 4 جنوری 2011 کو واصل جہنم کیا جس کی پاداش میں انہیں 29 فروری 2016 ء کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ سلمان تاثیر کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہ تھا جبکہ ممتاذ قادری رحمتہ اللہ علیہ کا جنازہ تقریباً 60 لاکھ افراد نے پڑھا۔ تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو مسلمانوں کی تاریخ ان سنہری واقعات سے بھری پڑی ہے۔ قارئین کے لئے سوچنے کی بات ہے ہوگی کہ علم الدین شہید کے دور میں تو انگریز حکومت تھی لہٰذا پھانسی دے دی گئی۔ ملک ممتاذ قادری کو تو مسلمان حکومت نے پھانسی کی سزا سنائی؟ ہالینڈ میں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے مقابلہ کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد میں ایمبیسی بند کرنے کے قریب اقدام کی وجہ سے ہالینڈ کو مقابلہ روکنا پڑا، فرانس نے سرکاری سطح پر گستاخی کی تو پی ٹی آئی سرکار نے معیشت کا رونا رو کر بجائے دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے کے اپنے ہی ملک کے نہتے مسلمانوں کو ہزاروں شیل اور گولیاں برسائیں، لاشیں تک گرانے سے گریز نہیں کیا گیا۔ اب بھارت میں حکومتی پارٹی بی جے پی کی رکن نوپورشرما نے شانِ رسالت مآب ﷺمیں گستاخی کی ہے جس کی وجہ سے پورے عالم اسلام میں غم و غصہ پایا جارہا ہے،پاکستان میں بھی اس گستاخی کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور ملک بھر میں لاکھوں عشاقانِ رسول ﷺ نے ریلیوں اور جلوسوں میں شرکت کی، بھارت میں بھی دہلی، بریلی شریف، کرناٹک، راجستھان اور سیکڑوں مقامات پر احتجاج کیا گیا جو کہ ہر مسلمان کا حق ہے، بھارتی حکومت نے ریاستی دہشتگردی کرتے ہوئے ان ریلیوں اور احتجاجی جلوسوں کی سرپرستی کرنے والے افراد کے گھروں کو غیر قانونی طور پر مسمار کرنا شروع کر دیا جس پر انٹرنیشنل میڈیا میں بھی خبریں شائع ہوئیں،عرب...

اْستاد ! ایک انمول ہستی

کوئی بھی انسان دْنیامیں تنہا نہیں رہ سکتا ہے ہمیں کسی نہ کسی رشتے کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ رشے خونی ہوتے ہیں جن میں ہمارے گھر والے ہمارے عزیز واقارب شامل ہیں جبکہ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن سے ہمارا تعلق خونی تو نہیں ہوتا لیکن وہ اپنوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک رشتہ اْستاد کا ہے۔ اساتذہ ہمارے روحانی والدین بھی کہلاتے ہیں - اسلام میں اْستاد کا رشتہ والدین کے رشتے کے برابر قرار دیا گیا ہے کیونکہ اْستاد ہی ایسی واحد شخصیت ہے جو والدین کے بعد بچوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہیں - اْستاد ہی ہے جو ہمیں معاشرے میں رہنے کے طور طریقے سکھاتا ہے اور ہمیں کتابوں کا علم پڑھاتا ہے-حضرت علی رضی اللہْ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: ’'اگر تم بادشاہ ہو تو بھی اپنے اْستاد اور والد کی تعظیم میں کھڑے ہو جاؤ'‘ اس بات سے اْستاد کی حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے- ایک اْستاد ہی ہے جو پتھر کو تراش کر ہیرا بناتا ہے- اْستاد کا کام صرف طلباء کو کتابی سبق ہی پڑھانا نہیں بلکہ وہ طلباء کو زمانے کی تمام اْونچ نیچ کے بارے میں سکھاتا ہے اور معاشرے میں رہنے کے طور طریقوں سے بھی آگاہی فراہم کرتا ہے-اْستاد کے احترام اور اس کی مناسب تربیت کے بغیر کوئی بھی انسان کامیابی حاصل نہیں کر سکتا- مشہور محاورہ ہے کہ: 'با ادب با نصیب'، 'بے ادب بے نصیب' جو انسان اپنے اساتذہ کا ادب و احترام نہیں کرتا وہ منہ کے بَل گرتا ہے-آپ پوری دْنیا میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں کوئی بھی ایسا رشتہ نہیں ہوگا جو بغیر مطلب کے آپ کے ساتھ ہو- آج کل کے رشتے صرف اور صرف مطلب کی بنیاد پہ قائم ہیں مطلب ختم تو رشتہ بھی ختم- لیکن ہمارے والدین اور اساتذہ ایسی واحد شخصیات ہیں جو بنا مطلب کے ہمارا ساتھ دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اْن کے بچے اْن سے بھی ذیادہ آگے جائیں اور مزید ترقی کریں -ہمارے پیارے نبی حضرت محمد کو تمام انسانوں کیلئے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے- جب آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہا سے خطاب کیا کرتے تھے تو صحابہ کرام اس قدر خاموشی سے بیٹھتے تھے کہ اپنے سروں کو حرکت تک نہیں دیتے تھے بیشک اْن کے سروں پہ پرندے آ کر کیوں نہ بیٹھے رہیں اور ایک موجودہ دور کے طلباء ہیں کہ اْنہوں نے اْستاد کے ادب و احترام کو بالکل ایک طرف کر کے رکھ دیا ہے- طلباء اپنے اْستاد کے سامنے تن کر کھڑے ہو جاتے ہیں اْن سے اونچی آواز میں بحث و مباحثہ کرتے ہیں- اکثر دکھائی دیتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ جھگڑا بھی کرتے ہیں جو کہ بے حد نا مناسب طرز عمل ہے۔ میرے لیے میرے تمام اْساتذہ قابلِ عزت ہیں - میں نے جب سے اس شعبے میں قدم رکھا ہے تو ہر قسم کے لوگوں سے میرا واسطہ پڑا ہے- لیکن دو ایسی شخصیات ہیں جو میرے لئے بہت ہی ذیادہ قابلِ احترام ہیں۔ آپ کودْنیا میں ایسے بہت کم...

خود کشی پر قابو کیسے ؟

عقیدہ آخرت کو کوئی مانتا ہو یا نا، آخرت کا وقوع پزیر ہونا بہرحال یقینی ہے، ہر انسان خواہ نیکیوں کا پلڑا بھاری رکھتا ہو یا برائیوں کا، دنیا میں مکمل صلہ پانے سے محروم رہتا ہے، یہ ضرور ہے کہ کچھ نیکیوں کا اجر اور کچھ برائیوں کی سزا دنیا میں بھی دے دی جاتی ہے، لیکن اصل میزان یوم الحساب کو ہی ہو گا، عادل ومنصف خدا سے ایسی توقع رکھنا ہی عقلمندی ہے اور ایمان کی علامت بھی۔ باضمیر اور حساس ہونا جہاں نعمت خداوندی ہےوہیں ایک عظیم آزمائش بھی ہے، با ضمیر شخص مایوس ہو جائے۔ اگرتبدیلی کی اُمید سے۔ صبح نو سے۔ تنگی کے ساتھ آسانی کے انتظار میں۔ تو یہ فردکی ہار یا ناکامی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے لئے ایک سوالیہ علامت بھی ہے۔ معاشرے کی بے حسی کے بنا ایسی صورتحال شاذ ہی پیدا ہوتی ہے، لہذا فرد کے جرم کے مواخذے سے معاشرے کی چھوٹ بھی ممکن نہیں۔ اگر کوئی معاشرتی رویوں سے دل برداشتہ ہو کر ایسا قدم اٹھائے تو گردو پیش والوں کو بالخصوص براءت نامہ تیار کر لینا چاہیئے۔ اگر ایک فرد نے غربت سے تنگ آ کر انتہائی قدم اٹھایا تو فرد کے اقرباء، پڑوسی، حکومت کو بھی جواب دہی کی تیاری کر لینی چاہیئے، جس مذہب نے یہ اخلاقیات سکھائی ہیں کہ۔ چھلکے بھی پڑوسی کو نظر نہ آئیں، مبادا کہ وہ کسی محرومی کا شکار ہو جائیں، جو کم از کم چالیس گھروں تک کے احوال سے خبردار رہنا سکھاتا ہے، مبادا کہ کوئی بھوکے پیٹ نہ سو جائے۔ اور پھر حاکم کے سپرد زکوۃ و عشر مال غنیمت نظام کر کے اسے مساکین و فقراء کا ولی بنا کر رعایا کی خبر گیری کی ذمہ داری دیتا ہے۔ اس مذہب کے نام لیواؤں کی جانب سے بار بار اٹھنے والا یہ حرام فعل لمحہ فکریہ ہے۔ یقیناً ہم نے شہادت حق کا فریضہ ادا کرنے میں کوتاہی کی ہے، امیر کو زکوۃ، صدقات، اور ان کے مال میں موجود سائل اور محروم کا حق ادا کرنے کی تلقین ہوتی رہنی چاہیئے، نمود نمائش، اسراف سے باز رہنے کا درس دیا جانا چاہیئے، کم وسائل والے کو حالات کی سختی سے گھبرانے کی بجائے صبر، شکر اور قناعت سے کام لینا چاہیئے، اخوت و بھائی چارہ کے فروغ کے لئے فضول رسم رواج کی ادائیگی کے لیے فکر کرنے کی بجائے، آپس میں سلام کو رواج دینا چاہیںے، تحفے تحائف کے لین دین کو فروغ دینا چاہیئے خواہ یہ معمولی اشیاء ہی کیوں نہ ہوں۔ بے حسی سے پناہ مانگیں، اپنی خاطر اور دوسروں کے لئے۔ خیر خواہی کا حق ادا کریں، ضرورت سے زائد خوددار ضرورت مندوں میں بانٹ دیں۔ خود بھی سماج سے دور نہ رہیں اور سماجی تنہائی کے شکار افراد سے دوستی کرکے انہیں معاشرے میں جینا سکھا دیں۔ گر چہ ہم معاشرتی رویوں کو یکدم نہیں بدل سکتے، تا ہم ان رویوں کے شکار افراد کو مایوسی سے نکال کر معاشرے کی اصلاح کے لئے استعمال کر سکتے ہیں، بے شک معاشرے کی اصلاح کے لئے ایسے حساس افراد...

عجب ہے یہ دیس!

انسانیت نے ہمیشہ ہی معروف کو پسند کیا ہے اور منکرات کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے مثال کے طور پر دنیا میں کہیں بھی جھوٹ بولنے کو پسند نہیں کیا جاتا اسی طرح جرائم ہیں جن کو دنیا نے کبھی اچھا نہیں سمجھا ہے انسان دوستی کا دم بھی بھرتا رہے اور اس کی آڑ میں دوست کے دشمن سے مل جائے اوردوست اپنے دوست کو ہر طرح کا نقصان پہنچانے کے درپہ ہوجائےاسی کو غدّاری کہا جاتاہے یہ صفت وفاداری کی ضد ہے ۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا ہر زمانے میں کڑی سے کڑی دی جاتی رہی ہے چاہیے وہ بادشاہوں کا زمانہ ہی کیوں نہ ہو جب بھی کسی بادشاہ کو اپنے کسی منصب دار کے بارے میں معلوم ہوجاتا کہ وہ غدّاری کا مرتکب ہوا ہے تو وہ اس کو ایسی عبرتناک سزادیتا کہ پھر کوئی ایسا کرنے کی جراءت نہ کرتا۔غدّاری کے اس فعل کو اللہ تعالیٰ نے بھی انتہائی ناپسند دیدہ قرار دیا ہےیہی وجہ ہے کہ جب کوئی مرد یا عورت نکاح کے بعد اپنے شریک حیات کے علاوہ وہی تعلق کسی اور کے ساتھ قائم کرلے تو اس کی سزا رجم ہے ۔اور ایسے لوگوں پر رحم کھانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ یہ بات اس تناظر میں کہنے کی ضرورت پیش آئی کہ آج کل سابق صدر پاکستان اورچیف آف آرمی ا سٹاف جرنیل پرویز مشرف کو پاکستان واپس آنے کی اجازت دی جائے یا نہ دی جائے اس موضوع پر بحث ہورہی ہے ۔جیسے گزشتہ دن ہی سینٹ میں حکومت اور اپوزیشن میں اس موضوع پر گرماگرم بحث ہوئی ۔سنیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پرویز مشر ف کو اگر پاکستان لایا جاتاہے تو پھر اس ملک کی جیلوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور عدالتیں بندکردی جائیں کیونکہ پھر ان کی ضرورت نہیں اس بات کی تائید پورے سینٹ میں صرف نون لیگ کی عرفان احمد صدیقی نے کی باقی تمام بڑی جماعتوں نے سابق صدر کی پاکستان واپسی کی حمایت کا اظہار کیا اور اس کے حق میں دلیلیں دیں اور سب سے بڑھ کر چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کہ پرویز مشرف پاکستان کا شہری ہے اور بیمار ہے، اگر آنا چاہے تو اسے آنے دیں۔ جرنیل پرویز مشرف کے جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں کئی طرح کےسنگین جرائم درج ہیں جس میں سب سے بڑا وہی جرم ہے جس کا ذکر اوپر کے سطور میں کیا گیا ہے اس کے علاوہ آئین شکنی ، اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس کی جبری معزولی ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور سیکڑوں افراد کی امریکہ حوالگی اور اس خدمت کے عیوض لاکھوں ڈالروں کی وصولی جس کا اعتراف موصوف نے خود اپنی کتاب میں بھی کیا ہے ۔جنگ کے زمانے میں بھی دشمن ملک کے سفیر کو گرفتار کرنا یہ ایک انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے مگر سابق صدر نے یہ حد بھی امریکہ کی محبت میں پھلانگ ڈالی ۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہےکہ کس طرح ایک جرنیل امریکی صدر جارج واکر بش کے ایک...

درست نمبر ڈائل کرنے والے

سڑک پر کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو مختلف رد عمل سامنے آتے ہیں، لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ کوئی موبائل سے ویڈیو بنانا شروع کر دیتا ہے! کوئی ایسا ہے جو افسوس کا اظہار کر کے نکل جاتا ہے! کوئی دعا و استغفار کی تسبیح کے وظائف بڑھا دیتا ہے۔ کوئی سوچتا ہے شکر ہے اس حادثے میں متاثرہ کی جگہ میں نہیں تھا! کوئی ہجوم جمع ہونے سے پہلے ہی ہمدرد بن کر تیزی سے لپکتا ہے اور زخموں سے کراہتے مجروح سے کہتا ہے کہ وہ اپنا موبائل مجھے دے تا کہ وہ اس کے گھر والوں کو حادثے کی اطلاع دے سکے۔ زخمی بس جیب کی طرف اشارہ کر نے کی طاقت رکھتا ہے ۔۔،لیکن دراصل یہاں اس کے ساتھ  ہاتھ  ہو جاتا ہے. جی ہاں یہی وہ بد ترین شخص ہے جو زخموں سے چور شخص کے اعتماد کو عادی مجرمانہ ذہنیت کے ساتھ روند دیتا ہے اور اس کا موبائل ،نقدی سب اڑ ا کر رفو چکر ہو جاتا ہے! پکڑا جائے تو معصومیت سے کہتا ہے ! اس نے خود ہی تو مجھے اپنا موبائل دیا تھا۔ لیکن اسی ہجوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں لیکن ان کا رشتہ انسانیت سے مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے۔ حادثے کے وقت ایسے فرد کی موجودگی متاثرین حادثہ کے لئے خوش قسمتی کی علامت بن جاتی ہے، وہ محنت کش مزدور، ڈاکٹر ،انجینئر ،تاجر کوئی بھی حیثیت رکھتے ہوں۔ مخلوق خدا کو اللہ کا کنبہ سمجھتے ہیں اور ان کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کا طرز عمل دوسرے افراد سے یکسر مختلف ہوتا ہے ۔خاص طور پر کسی پر آئی مشکل گھڑیوں میں رب کے حضور کھڑا ہونے کا احساس انھیں بے چین کئے دیتا ہے، وہ اپنے ہر عمل کو دینی فریضے سے جوڑ دیتے ہیں ،ہر دور میں انسانیت دراصل ایسے ہی انسانوں سے فلاح پاتی آئی ہے۔ جی ہاں انھیں پہچانئے، یہ ہیں وہ لوگ جن کے ہاتھ میں ملک اور معاشرے کی باگ ڈور آجائے تو ان کا رویہ اس حادثے میں موجود کچھ کرداروں سے یکسر مختلف ہو گا۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں ،ہمارا وطن اور معاشرہ بھی زخموں سے چور ہے، ہر شخص بےحال ہے ،آئیے اپنے ملک اورمعاشرے کی تعمیر و ترقی آزمائے ہوئے سنگدل موقع پرستوں کے ہاتھوں میں نہ دینے کا عزم کریں۔اپنے شہر کی تقدیر اچھے اور مخلص لوگوں کے حوالے کریں۔ لیکن آپ انھیں کیسے پہچانیں گے؟ خدمت کے ہر میدان میں یہ موجود ہیں۔ کروناوبا، زلزلے، سیلاب میں کچھ لوگ ہاتھوں کی زنجیر بنا کر خلق خدا کی مدد کرتے نظر آئیں گے۔ کرپشن سے ان کا دامن پاک ہے، دیانت کے میدان میں ملکی و عالمی اداروں کی رینکنگ میں ٹاپ پر رہتے ہیں۔ 24 جولائی کو ترازو کے نشان پر مہر لگا کر ایسے لوگوں کو منتخب کریں۔ جو آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ جنھیں آپ اپنا موبائل تھمائیں تو لے کر رفو چکر نہ ہوجائیں، بلکہ درست نمبر ڈائل کرکے آپ کا مسئلہ حل کروانے کی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز