نورالہدی شاہین

2 بلاگ 0 تبصرے
، نور الہدیٰ شاہین صحافت کے طالب علم اور سماجی کارکن ہیں۔ مختلف سماجی موضوعات پر سوشل میڈیا کے ذریعے مہمات چلاتے ہیں جن میں فروٹ بائیکاٹ مہم اور وی آر گرین شجر کاری مہمات بھی شامل ہیں۔

زلزلے کی یادیں

آٹھ اکتوبر 2005 کی صبح جب زلزلہ آیا تو ہم سوات کے علاقہ برہ بانڈئی کے ہائی اسکول میں کلاس روم کے اندر بیٹھے...

صحافت پڑھ لو، بہت اسکوپ ہے

پاکستان میں دیگر بہت سارے مسائل کے ساتھ ایک سلگتا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ملکی سطح پر کوئی موثر اور منظم تعلیمی پالیسی...

اہم بلاگز

پروٹین کی مقدار اور صحت‎

پروٹین ویسے تو آپ کی غذا کا اہم ترین حصہ ہونا چاہیے تاکہ آپ کا جسم متحرک اور چست و توانا رہے لیکن کچھ افراد وزن کم کرنے کے لیے بھی غذا میں پروٹین کی مقدار کو بڑھانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ جب ہم وزن کم کرنے کی بات کرتے ہیں تو ضرورت سے زیادہ پروٹین والی غذا زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے پروٹین کی وجہ سے میٹابولزم کے کام کرنے کی صلاحیت مزید تیز ہوجاتی ہے جو وزن گھٹانے میں بڑی حد تک معاون ثابت ہوتی ہےاس کی وجہ سے انسان کم کھانا کھا کر زیادہ دیر تک تر و تازہ رہ سکتا ہے۔ پروٹین انسانی جسم میں مسلز کو بہتر کرنے اور انہیں بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اسی کی وجہ سے ورزش کے شوقین افراد اپنے کھانے میں پروٹین کی بڑی مقدار استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کچھ افراد ضرورت سے زائد پروٹین اپنی خوراک میں شامل کر لیتے ہیں جس کے حوالے سے ماہر غذائیت کہتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے مختلف طریقوں سے نقصان دہ ہوسکتی ہے اگر مخصوص مقدار میں پروٹین کا استعمال کیا جائے اور مناسب ورزش کی جائے تو وزن میں کمی دکھائی دیتی ہےلیکن اس کے برعکس جب ضرورت سے زائد پروٹین کا استعمال کرلیا جائے تو وہ وزن کم کرنے کے بجائے اسے بڑھا دیتی ہے۔ متوازن غذا کا تذکرہ کبھی پروٹین کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا اوراگراس کے ساتھ مناسب ورزش بھی شامل کرلی جائے تو صحت مندی کا حصول یقینی ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ پروٹین کون کون سی غذاؤں سے بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ صحت بہتربنانے کے لئے جہاں سموسوں اور رول سے چھٹکارا پانا ضروری ہے وہیں اگر روزمرہ غذا میں بادام کا استعمال بھی شامل کرلیا جائے تو اس سے جسم میں پروٹین کی ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔ ہر بادام میں جہاں 1.3 گرام پروٹین ہوتے ہیں وہیں اس میں فائبر (ریشہ) بھی وافر ہوتا ہے جو آپ کے جسم اور دماغ، دونوں کےلئے مفید ہے۔ سبزیوں کا زیادہ استعمال آپ کی صحت کو فائدہ پہنچاتا ہے لیکن ان میں بھی پھول گوبھی، بند گوبھی اور اس قبیل کی دوسری سبزیوں کی خصوصی اہمیت ہے۔ گوبھی کے ایک کپ (200 گرام) میں پانچ گرام پروٹین ہوتے ہیں جبکہ اس کے دوسرے اہم غذائی اجزاء میں وٹامن بی ون، میگنیشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ وغیرہ شامل ہیں۔ البتہ بہتر نتائج کےلئے اسے پکائے بغیر سلاد کی شکل میں کھانا چاہئے۔ چنے کا شمار بھی پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں ہوتا ہے۔ اس کے ایک کپ (200 گرام) میں تقریباً چالیس گرام پروٹین ہوتے ہیں۔ ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر سے بھرپور ہونے کی بدولت چنے سے وزن گھٹانے میں بہت مدد ملتی ہے۔ البتہ انہیں کھانے میں اعتدال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ناریل بھی پروٹین کا اہم ذریعہ ہےاور تازہ ناریل کے ہر 200 گرام میں 16 گرام پروٹین ہوتے ہیں جبکہ اس میں ’’تھریونین‘‘ کہلانے والا ایک امائنو ایسڈ بھی اس میں بکثرت پایا جاتا ہے جو جگر کی حفاظت کےلئے ضروری ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق دیسی پنیر آپ کی صحت کےلئے...

میموری کارڈ‎

بچوں کی آن لائن کلاسز بھی موبائل پر چل رہی تھیں تو خود کی بھی تمام سرگرمیاں اسی موبائل پر ہی جاری تھیں۔اور اب یہ موبائل صرف دوسروں کی خیر خیریت دریافت کرنے والی ڈیوائس نہی رہا تھا بلکہ اب یہ کتابیں بھی تھا تو گھڑی بھی۔یہ بہت سارے بازار بھی تھا تو برقی رابطوں کا ذریعہ بھی۔اسی کے ذریعہ اب وہ گھر بیٹھے شادیوں میں شرکت کرتی تھی تو دنیا جہاں کی سیر بھی کر آتی تھی۔نت نئےکھانے پکانے بھی اس نے اسی کے ذریعہ سیکھے تو نمک تیز ہو جانے یا نہاری پر سے اڑ جانے جانے والے تیل کو واپس لانے کا طریقہ بھی اسی کے ذریعہ وہ لمحوں میں جان گئی تھی۔کپڑوں پر سے چائے کا دھبہ صاف کیسے صاف کیا جاتا ہے تو جلی پتیلی کو کیسے رگڑنا ہے یا پھر چہرے کے  داغ دھبے صاف کرنے یا  دیواروں اور فرش کی رگڑائی کا کیا بہترین طریقہ ہوگا؟؟۔ ۔سب ہی کچھ اس کے ذریعہ ہی کرنا آیا تھا۔ لیکن کچھ دنوں سے اب اس کے ساتھ یہ مسئلہ درپیش تھا کہ اس کا یہ ساتھی اب اسے کافی تنگ کر رہا تھا۔کسی بھی چیز کو کھولنے میں کافی وقت لگاتا۔ایسا بھی نہ تھا کہ اس کی کوئی چابی یعنی پاس ورڈ وغیرہ کو کھلنے میں دقّت پیش آرہی ہو ۔لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں اب اسے بہت تنگ کرنے لگا تھا۔اور اسے اب کوفت ہوتی تھی کہ یہ کیوں پریشان کر رہا ہے؟؟؟ اس نے جب یہ مسئلہ اپنے بچوں کے سامنے رکھا تو بچوں نے کہا کہ امی یہ بہت بھاری ہوگیا ہے۔اسلیے تنگ کر رہا ہے۔اس نے اسے اٹھایا اور حیران ہوتے ہوئے کہنے لگی کہ: ہائیں یہ کہاں سے بھاری ہوگیا؟؟؟؟اس کا وزن تو اتنا ہی لگ رہا ہے جتنا کہ خریدتے وقت تھا ۔لیکن رکو میں ابھی دیکھتی ہوں اور یہ کہتے ہی وہ اسے اٹھائے وزن مشین کے قریب جانے لگی۔اور اسے یہ کرتا دیکھ کر اس کے بچے خوب ہی ہنسے۔ اب تو پھر وہ حیران رہ گئی کہ: ارے بھئ اس میں بھلا ہنسنے والی کونسی بات ہے؟؟؟تم ہی لوگوں نے تو اس کے بھاری ہونے کا بتایا تو میں اس کا وزن ہی تو کرنے لگی ہوں کہ جیسے ہم انسان کھا کھا کر بھاری بھر کم ہوجاتے ہیں کہیں اس بے جان بیچارے نے بھی تو ہمارے اثرات نہیں قبول کر لیے۔ اب اس کے بچوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ امی یہ جو آپ نے اس میں اتنی ایپلیکشنز اور ان گنت ویڈیوز ،تصویریں اور  ڈاکیومینٹس جمع کر لیے ہیں اس کی وجہ سے یہ بھاری ہوگیا ہے۔اور ہینگ ہونے لگا ہے۔اگر آپ ان میں سے وہ تمام کچھ ڈیلیٹ کر دیں گی جن کی ابھی آپ کو ضرورت نہی تو یہ بہتر کام سر انجام دینے لگے گا۔یہ سب سُن کراس نے اچھا کہ کر سر ہلایا جیسے کہ وہ پوری بات سمجھ گئی ہو۔اور اب وہ موبائل لے کر بیٹھ گئی۔اور اس میں سے اس نے سب سے پہلے بہت سی ایپلیکشنز کو ڈیلیٹ کیا۔اس کے بعد ای میلیز میں جاکر غیر...

! کہیں ہم نافرمانوں میں تو نہیں

ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بد تر ہونے کا احساس دلاتا ہے ۔ بنیادی طور پر سارا فساد معیشت کیلیے ہے ، یہ انفرادی پیٹ و دیگر آسائشوں کے حصول سے شروع ہوتا ہے اور اجتماعیت کی سرحدوں سے جا ٹکرا تا ہے ، گوکہ تاحال انسانی خواہشات کی کوئی حد متعین نہیں کی جاسکی ہے تاہم معیشت کے استحکام کیلیے ایک دوسرے کی ذاتی ملکیت پر قبضہ کرنے سے لیکر پورے پورے ملکوں پر قابض ہونے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی اور یہ سلسلہ ابھی جارہی ہے ۔ ترقی یافتہ دور میں قبضہ کرنےکیلیے بے تحاشہ ایسی ایجادات موجود ہیں کہ جن سے بغیر تخریب کاری کیے اپنے ممکنہ احداف حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ عطاء کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے والاعام طور پر خطاکر جاتا ہے،اس لیے عطا کی ہوئی شے کو عطا کرنے والے کی رضا کے مطابق استعمال کروورنہ عطا ء سے الگ کر دئیے جاؤ گے ۔ کسی بات کا وقت پر سمجھ آجانا اور اسکو سمجھ کر اس پر عمل کرنا   زندگی کا سب سےکٹھن اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ بچپن میں جب طرح طرح کی چیزیں نظروں کے سامنے آتی ہیں تو معصوم سا دل کرتا ہے کہ سب کچھ مجھے ہی مل جائے ، کبھی کبھی تو یہ دل بہت ضد بھی کرتا ہے اور جسکے نتیجے میں اسے اپنے خول یعنی جسم کی مرمت بھی کروانی پڑ جاتی ہے ، پھر کہیں جاکے جز وقتی قرار آتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب طاقت نا تواں ہوتی ہے ، نا اختیار اور نا ہی خریداری کیلیے رقم، دونوں کیلیے کسی کے محتاج ہوتے ہیں اور یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں کہ کس وجہ سے اس چیز سے باز رکھا جا رہاہے ۔ پھر وقت گزرتا ہے جب طاقت آجاتی ہے کسی حد تک اختیار بھی آجاتا ہے لیکن رقم محدود بلکہ قلیل میسر ہوتی ہے لیکن جن چیزوں سے پہلے روکا گیا تھا انکی سمجھ آجاتی ہے پھرنئی روک ٹوک پرانی روک ٹوک کی جگہ لے لیتی ہے جو کہ بہت ناگوار گزرتی ہے اور اپنے مطالبات کے رد ہوجانے پر مختلف قسم کے احتجاج شروع ہو جاتے ہیں اور احتجاج کی نوعیت مطالبے سے براہ راست مطابقت رکھتی ہے یعنی جتنا شدید مطالبہ ہوتا ہے اتنا ہی شدت سے بھرپور احتجاج ہوتا ہے ۔ اب وہ وقت آجاتا ہے جب طاقت ، اختیار ، دولت اور سب سے بڑھ کر من چاہی زندگی گزارنے کا اختیار آجاتا ہے ۔ اب تقریباً ساری روک ٹوک کسی کتابوں کی الماری میں رکھی ہوئی کتاب کی طرح دماغ میں سمائی ہوتی ہے ، یہاں سے وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جب آپ کسی کیساتھ وہ سب کچھ جو آپ پیچھے جھیلتے آئے ہو کسی اور کیساتھ کرنا ہوتا ہے ۔ آج سب چیزوں کی ترتیب واضح ہوتی دیکھائی دیتی ہے او رکبھی تنہائی میں بیٹھے ہوئے زیر لب خود بخود مسکراہٹ زیر لب پھیل جاتی ہے جیسے کوئی بچپن کی بہت ہی معمولی سی چیزکیلیے کی جانے...

سیلف کنٹرول (ظبطِ نفس) کیسے ؟؟؟

سیلف کنڑول کی کمی کے اثرات ہمیں ٹین ایج میں ہی نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔نو عمری سے لے کر جواں عمری تک یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے اگر شعور کے ساتھ اسے ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔یہ وہ عمر ہوتی ہے جب لحاظِ تربیت سب سے زیادہ خدشات اور تحفظات کا شکار ہوتی ہے ۔والدین اور ماحول کا مجموعی اثر بچے لے رہے ہوتے ہیں اور اس عمر میں آکر صرف وہی عکس پیش  کرتے ہیں جو کچھ انہوں نے شعور اور لا شعور میں دیکھا اور سیکھا۔۔اس لیے اولاد کو جذباتی اور اعصابی لحاظ سے مظبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو سیلف کنٹرول کرنا سیکھنا پڑے کا۔۔لمحہ  لمحہ میں مزاج کا بدلنا۔۔بات بات پہ غصہ آنا ،ہر بات پہ فوری  ردعمل دینا ۔۔کسی کا غصہ کہیں اور بے سبب الجھن ۔چڑچڑے پن کا اظہار کرنا ۔۔بات بے بات جھڑکنا۔ یہ بچوں سے زیادہ بڑوں کے عمومی رویوں میں شامل ہیں ۔۔یہ بے اعتدال رویے بچوں کو والدین سے متنفر کرتے ہیں۔۔۔بچے دوستوں ،گھر سے باہر کے ماحول میں دلچسپی لیتے ہیں ۔۔کسی بھی نرم لہجے والے اجنبی کو اپنا ہمدرد سمجھنے لگتے ہیں۔غلط دوستوں غلط صحبت کو راہ فرار بنا لیتے  ہیں۔اس وقت والدین  اولاد کو خود سے دور ہوتا محسوس کرتے ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہ کمی کہاں رہی ۔۔۔ان رویوں پہ اکثر والدین بچھتاوے کا بوجھ لیے رکھتے ہیں اور کئی ایک تو اپنی غلطی کو دل میں بھی تسلیم نہیں کرتے ۔۔اور آخری حد یہ ہوتی ہے کہ والدین  کہتے ہیں شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گا یا بیوی آئے گی تو ٹھیک کر لے گی خود۔۔۔اور پھر وہی پہیہ  الٹا گھومتا ہے۔۔لڑکی ہو تو گھر میں موجود کسی رشتے سے نہیں بن پاتی اور گھر کا سکون برباد ہوتا  ہے..لوگ آس پاس رہنے والے رشتے دار اور احباب بات کرنا،معاملات کرنے سےکتراتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر اس عادت کو کب اور کیسے ٹھیک کیا جائے ؟؟ عمل درست کرنے کا صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب یہ احساس ہو جائے کہ آپ خود اپنی منفی عادت سے پریشان ہیں اور اس سے دوسرے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔چاہے ٹین ایجرز ہوں،نوجوان ہوں یا چھوٹے بچوں کے والدین ،جب جہاں احساس ہو جائے وہاں عادت اور عمل بدلنے کے لیے ارادہ اور مستقل مزاجی ضروری ہے ۔اس کے بغیر کچھ بھی بدلنا ممکن نہیں۔جب ارادہ کرلیں تو تین نکاتی پروگرام پہ عمل پیرا ہو جائیں ، پہلا  یہ کہ کسی بھی معاملے پہ جو "آؤٹ آف کنٹرول"لگے فوری رد عمل نہ دیں۔پانچ،دس منٹ کا وقت دیں خود کو جس میں اندر کا ابال بیٹھ جائے۔ دوسرا منظر بدل لیں،جس کی تاکید ہمیں حدیث میں بھی ملتی ہے کہ اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جائیں بیٹھے ہو تو لیٹ جائیں۔کسی اور کمرے میں چلے جائیں یا کسی اور کام پہ  توجہ مرکوز کرلیں۔ تیسرا رات سونے سے پہلے اپنا محاسبہ کریں کہ کتنے معاملات میں ہمیں سیلف کنٹرول نہ رہا۔کتنے معاملات میں خود پہ قابو رکھا۔ضروری نہیں ایک ہفتے یا کچھ  دن میں سو فیصد نتیجہ نکلے۔اگر ریٹنگ میں دس میں سے پانچ یا...

روشن ستارے

یہ معاذ کہاں چلا گیا؟ پارک میں بیٹھی سارہ کو اپنا بیٹا معاذ کچھ دیر سے نظر نہ آیا تو فکرمندی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ تھوڑا ڈھونڈنے کے بعد اسے دور معاذ کھڑا دیکھائی دے رہا تھا، اس کے ساتھ کچھ اور بچے بھی تھے اور وہ کسی بات کے بارے میں تجسس میں لگ رہے تھے۔ سارہ بھی ان کے پاس چلی گئی اور جا کر پتہ چلا وہاں کسی پرندے کا گھونسلہ ہے اور اس میں پرندے کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ معاذ اور اس کے ابھی کچھ دیر پہلے پارک میں بنے دوست اس پرندے کے بچوں کو اپنی تفریح کا سامان بنائے بیٹھے ہیں اور تو اور وہ پرندہ جب اپنے گھونسلے میں آنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اسے بھگا دیتے ہیں، معاذ سارہ کے پوچھنے پر چہک چہک کر اسے اپنی کارگزاری کی روداد سنا رہا تھا۔ سارہ نے گھونسلے کو دیکھا تو چڑیا کے پچے انسان کے بچوں کے رویے سے پریشان شور مچا رہے تھے اور چڑیا بھی دور بیٹھی بے بسے سے دیکھ رہی تھی اور قریب آنے کی کوشش میں بار بار پیچھے بھگا دی جاتی تھی۔ سارہ نے سب بچوں کو اگٹھا کیا اور ان سے کہا آپ لوگ کب سے اکیلے کھیل رہے ہیں اب ہم سب مل کر ایک ایکٹیویٹی کرتے ہیں۔۔۔ بچوں نے بھی خوشی سے خامی بھر لی۔ سارہ نے بیگ سے بسکٹ کا ایک پیکٹ اور پانی کی بوتل نکالی، جلدی سے بسکٹ کا چورا بنایا، اور پیکٹ کھول کر ایک بچے کے حوالے کیا، بوتل کے ڈھکن میں پانی ڈالا،  معاذ کو دیا اور ان دونوں سے کہا یہ لے جائیں اور گھونسلے کے پاس رکھ کر آئیں، وہ دونوں رکھ کر وآپس آئے تو سارہ سب بچوں کو لے کر تھوڑا فاصلے پر بیٹھ گئی اور سب بچوں کو دیکھنے کا کہا۔۔۔ بچوں کے گھونسلے کے قریب سے ہٹنے پر چڑیا فوراً سے گھونسلے پر آ گئی، چڑیا کو دیکھ کر اس کے بچے بھی خوش ہوئے، پھر چڑیا نے وہاں سے پانی لیا اور بسکٹ کا چورا بھی خود بھی کھایا اور بچوں کو بھی دیا یہ سارا منظر سب بچے انہماک سے دیکھ رہے تھے، چڑیا کے پانی اور بسکٹ لینے پر ایک خوشی بچوں کے چہرے پر دوڑ جاتی۔ اب وہ حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اتنے میں معاذ نے آواز لگائی،، وہ دیکھو! چڑیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے اور سمائیل بھی کر رہی ہے وہ شاید ہمیں تھینک یو  بول رہی ہے۔ سب کے پھول سے جیسے چہروں پر معصومیت اور خوشی بکھری تھی۔ سارہ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب سے پوچھا اب بتاؤ؟ ایسے چڑیا کی مدد کر کے اچھا لگ رہا ہے یا اسے تنگ کر کے اچھا لگ رہا تھا؟ سب بچے یک زبان بولیں تھے چڑیا کی ہیلپ کر کے۔ سارہ مسکرا دی تھی۔۔۔ اچھا تو اس سے ریلیٹڈ آپ سب کو ایک واقعہ سناؤں؟؟ جی۔۔۔۔۔ سب بچوں نے کہا تھا۔ اچھا تو آپ سب کو پتہ ہے ہمارے آئیڈیل کون ہیں؟ معاذ آپ بتاؤ؟ ہمارے آئیڈیل ہمارے پیارے نبی صلی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

چکنی مٹی کے لوگ‎

آج کل جگہ جگہ ایک مذہبی وسیاسی  جماعت کے بینرز لگے ہوئے ہیں،  ایک بینر پر لکھا  تھا"قوم کو لاہور اورنج ٹرین،پنڈی میٹرو بس،ملتان میٹرو بس اور پیشاور میڑو سروس مبارک،کراچی والوں ٹیکس دیتے رہو اور دھکے کھاتے رہو" اطلاعا  عرض ہے کہ کراچی کے عوام کو دھکے کھانےمیں بہت مہارت حاصل ہے، چاہے وہ رکشے کے ہوں یا بس کے، گدھا گاڑی کے ہوں یا کھلی سوزوکی کے،سڑکیں اتنی لہراتی اور بل کھاتی کے کمر کا درد بلکل ٹھیک ہوجائے،دس نمبر لیاقت آباد کی سڑک(بکرا منڈی کے سامنے والی)میں جو دھکے کھاتے جھولا جھولنے کا مزہ عوام کو دس سال تک آیا وہ بیان سے باہر ہے،  کئی بار خواہش ہوئی کہ سابق مئیر اور وزیراعلی صاحب کو بھی یہاں کے دھکوں کی سیر کرائی جائے، پھر خیال آیا نجانے کراچی میں ایسی کتنی ہی سڑکیں ہونگی وہ بچارے کہاں کہاں کے دھکوں کا مزہ لینگے۔ اب آتے ہیں کراچی والوں  کی طرف۔ یہاں مختلف رنگ، نسل، مذہب اور فرقوں  کے لوگ آباد ہیں جن کو اپنے حقوق کی سمجھ ہی نہیں ہے،مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور سرکارکو کوئی سروکار ہی نہیں روڈ صاف ستھرے اور خوب صورت ہو یا  ٹرانسپورٹ کا نظا م اچھا ہواشرافیہ  کو صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے ، حالیہ بارشیں ہوئیں  توسوچا اس قوم کو اب تو اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہوگی اور غصے میں بھرے گورنر ہاؤس یا وزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے،  لیکن ان کا حال تو ویسا ہی ہوا جیسا ایک بادشاہ کی رعایا کا تھا ۔ "ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کو آزمانے کے لیے پہلےان کا کھانا بند کیا،  پھر پانی و دیگر مراعات لیکن عوام کچھ نہ بولی،  پھربادشاہ نے حکم دیا کہ کام پر آنے جانے والے راستوں پر ہر آدمی کو چانٹا مارا جائے،  کچھ عرصے یہ چیز چلتی رہی آخر کار ایک دن رعایا محل کے باہر میدان میں جمع ہوگئی،  بادشاہ خوش ہوا کہ چلو اب ان کو اپنے حقوق کا خیال تو آیا-عوام نے کہا بادشاہ سلامت ہمیں کام پر جاتے ہوئےدیر ہو جاتی ہےآپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی  آپ چانٹا مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہم وقت پر اپنے کام پر پہنچ سکے-یہی حال ہمارے کراچی کی قوم کاہے- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

پانچ روپے کا ماسک اور 200 کی بریانی

میرے آج کے کالم کا موضوع کچھ عجیب سا لگ رہا ہوگا کہ یہ ماسک اور بریانی کی پلیٹ کا آپس میں کیا تعلق،تو جناب کبھی کبھار تعلق یونہی بنا لینا چاہئے جیسا کہ ایک مزارع ایک زمیندار کے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ایسے میں زمیندار کا ادھر سے گزر ہوا۔زمیندار نے دیکھا کہ مزارع ہل ٹھیک سے نہیں چلا رہا ہے تو اس نے ڈانٹتے ہوئے اس مزارع سے کہا کہ غلامیاں! تم ’’سڑیوں کے ساتھ سڑی‘‘یعنی لائن کی ترتیب کے ساتھ ہل نہیں چلا رہے ہو،جس پر غلاماں بولا کہ چوہدری صاحب جب آپ نے اپنی دھی کا پیسہ کھایا تھا تو کیا میں بولا تھا؟چوہدری نے ذرا گھبراتے ہوئے پوچھا کہ بھلا اس جواب کا میرے سوال کے ساتھ کیا تعلق ہے تو مزارع نے کہا چوہدری صاحب ’’گلاں چوں گل ایویں ای نکلدی اے‘‘یعنی باتوں میں سے باتیں ایسے ہی نکلتی ہیں۔ لیکن میرے موضوع یعنی ماسک اور بریانی کا تعلق اس لئے ہے کہ آجکل حکومتی اور اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے جلسوں کا سلسلہ جو چلا ہوا ہے اس میں میری طرح آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ حکومتی ایوانوں سے ان کے مشیران جب بھی ٹی وی ٹاک شوز میں تشریف فرما ہوتے ہیں ان کی ایک ہی آواز ہوتی ہے کہ کرونا کا مرض ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے اس لئے عوام کو ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا پڑے گا۔ بات بالکل درست ہے لیکن جب حافظ آباد کا جلسہ ہوتا ہے اور اس میں مہمان خصوصی خود ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب خود تشریف لاتے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے سامنے عوام کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو بنا ماسک کے نہیں دیکھا ہوگا؟اگر دیکھا تھا تو پھر کیوں اپنی انتظامیہ کو خبردار نہیں کیا کہ اتنی ساری عوام بنا ماسک کے کیوں ایک جگہ جمع ہوئی ہے۔اور انتظامیہ کا حال دیکھ لو کہ تماشائیوں کی تعداد پر ہر ٹی وی ٹاک شو میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے نمبرز اپوزیشن کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہیے گا کہ ہمارے جلسے میں آنے والی عوام کا شعوری لیول آپ کی عوام سے اس لئے بہتر تھا کہ انہوں نے حکومتی ہدایات کے مطابق کرونا کے خلاف ایس او پیز کا زیادہ خیال رکھا ہوا تھا۔ یہی حال اپوزیشن کے جلسوں میں بھی دیکھا گیا ہے اگر صرف گوجرانوالہ،کراچی کے جلسہ کو ہی لے لیں تو ہر میڈیا چینل نے دکھایا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔لوگ صبح سے ہی جوق در جوق جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں ہر طرف بریانی اور کھانے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلا یا جارہا ہے۔کیونکہ بھوکے پیٹ تو سارا دن جلسہ گاہ میں عوام اپنے لیڈران کا انتظار نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے بریانی کا انتظام بھی اپوزیشن کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کیا ہوگا ،عوام تو اپنے ساتھ دو وقت کی روٹی ٹفن میں پیک کر کے اپنے ساتھ لانے سے رہی۔اگر...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

ہمارے بلاگرز