ناصر حمید

1 بلاگ 0 تبصرے

جلال الٰہی کی جھلک

 بلاشبہ متکبروسرکش قوموں کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا ہےUAE نے دس ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجنے کا اعلان کر دیاہے 2020 ایکسپو...

اہم بلاگز

موسمیاتی تبدیلی کے دنیا پر تباہ کن اثرات

اس وقت ملک کے بیشتر شہر اور دیہات ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔سندھ کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ چکا ہے پنجاب کے تمام شہر اور دیہات بھی گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔دراصل گلوبل وارمنگ کے باعث سطح سمندر گرم ہونے سے لو پریشر بنتا ہے جس سے سمندری ہوائیں شہر کی طرف آنا بند ہوجاتی ہیں اور لو پریشر کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ کے میدانی علاقوں کی ہوا کراچی کو چھوتے ہوئے سمندر کی جانب چلنے لگتی ہے جس کے باعث ہیٹ ویو مزید سنگین ہوجاتی ہے۔اس دوران بجلی کی کھپت میں اضافے کے باعث لوڈ شیڈنگ عام بات ہے اور جس کے بعد بلند و بالا عمارتوں میں پانی نہیں آتا، اس لیے کراچی میں ہیٹ ویو مزید سنگین ہوجاتی ہے۔ دریا خشک ہونے، آبادی میں ہوشربا اضافے، دریا کے گرد جنگل کا خاتمہ ہونے اور شہر کی شاہراہوں پر قائم درختوں کی کٹائی کی وجہ سے لاہور شہر بھی ان دنوں شدید لو اور دھوپ کی لپیٹ میں ہے۔ہیٹ ویو کو پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جارہاہے۔ ماہرین کے مطابق کہ گلوبل وارمنگ کئی گنا خطرناک ہے اور یہ پوری انسانیت کا اوّلین مسئلہ ہے۔ ہم اس گھمبیر مسئلے سے آنکھیں نہیں چر ا سکتے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ملک بھر کے دریاؤں میں پانی کی کمی اور خشک سالی کے باعث غذائی قلت اور زمینی حالات کی تبدیلی کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ یہاں ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور برآمدات کا انحصار زرعی شعبے پر ہی ہے، جس وقت تک حکومت کو ہوش آئے گا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے چند روز بیشتر قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام اور متعلقہ مقامی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مون سون کی معمول سے زیادہ بارشوں کے ممکنہ تباہ کن اثرات اور موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لیے تمام تر پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، کیونکہ خاص طور پر موسم گرما کے مون سون کے اوقات میں سیلاب اور تیز بارشوں سے لوگوں کی زندگیوں اور معاش کے ساتھ ساتھ عوامی انفرا اسٹرکچر کو بھی شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ موسمی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہنگامی حالات کی منصوبہ بندی اس خیال کے ساتھ کی جائے کہ شدید موسمی حالات کا سامنا اب کبھی کبھار نہیں بلکہ اکثر کرنا پڑے گا۔ وہ سیلاب جو کبھی 10 سال میں ایک مرتبہ آتا تھا وہ اب ہر سال آئے گا۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں میں ان جگہوں پر پودے لگائیں جہاں سورج کی روشنی پڑتی ہو، گھروں اور دفاتر میں نصب اے سی فلٹرز کو صاف رکھیں، گیزر کو کور سے ڈھانپ کر رکھیں، کپڑے دھونے کے لیے ٹھنڈے پانی کا استعمال کریں، گاڑیوں کا کم سے کم استعمال کریں اور یقینی بنائیں کہ انجن اچھی حالت میں ہو، واک، بائی سیکل یاپبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوںکوترجیح دیں۔ پیرس معاہد ہ میں امریکہ کی دوبارہ شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا کہ...

راز

راز کہنا، سننا، بتانا، کتنا دلچسپ معاملہ ہے اسکے پیچھے کتنا تجسس پنہاں ہے۔ ہر کوئی راز دار بننا چاہتا ہے لیکن اسکا پاس رکھنا،حفاظت کرنا ہی اصل ذمہ داری ہے، کچھ لوگ اسے ایک شغل کی طرح لیتے ہیں اور ہر جگہ نشر کرتے پھرتے ہیں، جس سے نہ صرف جس کے متعلق راز ہے اسکی عزت نیلام کر رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے کردار کو بھی مشکوک کر رہے ہوتے ہیں کتنا اذیت ناک لمحہ ہوتا ہے جب اپنا کوئی راز محفل کی زینت بنا ہو اور ہر ایک کی زبان سے سن رہے ہو اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ زمین پھٹے اور آپ اس میں سما جائیں، لوگوں کی زبانوں میں ہماری کمزوریوں کی تشہیر ہو رہی ہوتی ہے، ہم چپ سادھے اپنے اس لمحے کا ماتم کر رہے ہوتے ہیں جب ہم نے کسی کو رازدار بنایا تھا، لوگ تو آہستہ أہستہ بھول جاتے ہیں لیکن بس راز افشا کرنے والے کا کردار مشکوک ہو جاتا ہے، ساری زندگی کا ایک ہی سبق مل جاتا ہے کہ آئندہ کسی پر اعتبار نہیں کرنا۔ راز دار بنانا اصل میں دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا ذریعہ ہے، یہ بوجھ اللہ تعالی کی ذات کے سواء کوئی نہیں اٹھاسکتا اگر اٹھا بھی لیا تو کسی جذباتی موقع پر افشا ہونے کا خطرہ سولی کی طرح لٹکا رہے گا لحاظہ اللہ رب العزت سے بڑھ کر کوئی رازداں نہیں ، جو سن کر ملامت، طعنہ نہیں دیتا اور نہ افشاء ہونے کا ڈر رہتا ہے بلکہ بندہ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے اور یہ بہتریں رازداں ہر وقت میسر ہے، راز کو اچھالنا ایک دلچسپ مشغلہ بن چکا ہے نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر بھی یہ کام انٹرٹینمنٹ کے نام پر کیا جاتا ہے، آج کل سوشل میڈیا بھی لوگوں کی نجی زندگی کے راز اچھالنے کا کام بہت احسن طریقے سے کر رہا ہے اور سب سے ذیادہ لائک انہی چیزوں میں مل رہے ہیں، جتنی مشہور شخصیت ہوگی اسکے نجی زندگی کی کہانیاں مختلف سرخیوں، ویڈیوز کے ذریعے پھیلاکر ذیادہ سے ذیادہ کمایا جاتا ہے گویا راز پھیلانا بھی کمائی کا ذریعہ بن گیا صرف پرموشن کی خاطر ایک خبر کو مختلف کئی طریقوں سے پیش کرکے ذیادہ سے ذیادہ لائکس کما کر بزنس کیا جا رہا ہے۔ اس سارے کاموں کے نتائج بہت بھیانک سامنے آتے ہیں معاشرے، خاندان میں فساد پیدا ہوتا ہے اور یہ معاشرہ آپس کے جھگڑوں اور رنجشوں کدورتوں کی وجہ سے کسی مقام پر بھی ترقی یافتہ نہیں بن سکتا کیونکہ یہ اندرونی طور پر ہی ذہنی انتشار کا شکار ہوچکا ہوتا ہے ہمیشہ پر امن معاشرہ ہی ترقی کرتا ہے اس لئے قران میں سورہ حجرات میں ایک پرامن معاشرے کی بہترین صورت گری کی ہے کہ جو آپس میں لڑنے والوں کے درمیان صلح کرواتے ہیں،ایک دوسرے کو طعنے نہیں دیتے، تجسس یا ٹوہ نہیں لیتے، کسی کی غیبت، چغلی، بہتان نہیں لگاتے، بدگمانی نہیں کرتے، برے القابات سے نہیں پکارتے، بلاتصدیق بات آگے نہیں پہنچاتے۔ یہی اخلاقی قدریں ہیں جن کا خیال رکھتے ہوئے ہی ہم بہترین...

موسم روٹھ رہاہے!

گرمی کی تازہ لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ میں ہو رہی ہے۔ امپیریل کالج لندن اور یونیورسٹی آف ہوائی میں محققین بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ موسم کی یہ انگڑائی پاکستان کا کیا حشر کر سکتی ہے لیکن پاکستان کی کسی یونیورسٹی کے لیے یہ سرے سے کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں بیٹھا ڈاکٹر رابرٹ روڈ دہائی دے رہا ہے کہ موسموں کے اس آتش فشاں کو سنجیدگی سے لیجئے ورنہ ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے لیکن پاکستان کے اہلِ دانش سیاست کی دلدل میں غرق ہوئے پڑے ہیں۔ ندی خشک پڑی ہے اور چشمے کا پانی نڈھال ہے۔ مارگلہ کے جنگل میں آج درجہ حرارت 42 کو چھو رہا ہے۔ عید پر بارش ہوئی تو درجہ حرارت 22 تک آ گیا تھا لیکن عید سے پہلے اپریل کے آخری دنوں میں بھی یہ 40 سے تجاوز کر گیا تھا۔ مارگلہ میں چیت اوروساکھ کے دنوں میں ایسی گرمی کبھی نہیں پڑی۔ یہ جیٹھ ہاڑ کا درجہ حرارت ہے جو چیت اور وساکھ میں آ گیا ہے۔ موسموں کی یہ تبدیلی بہت خطرناک ہے لیکن یہاں کسی کو پروا نہیں۔ اس معاشرے اور اس کے اہلِ فکر و دانش کو سیاست لاحق ہو چکی اور ان کے لیے سیاست کے علاووہ کسی موضوع پر بات کرنا ممکن نہیں رہا۔ موسموں کی اس تبدیلی سے صرف مارگلہ متاثر نہیں ہو گا، پورے ملک پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ مارگلہ میں تو درجنوں چشمے ہیں اور ندیاں۔ کچھ رواں رہتی ہیں، کچھ موسموں کے ساتھ سوکھتی اور بہتی ہیں لیکن جنگل کے پرندوں اور جانوروں کے لیے یہ کافی ہیں۔ سوال تو انسان کا ہے، انسان کا کیا بنے گا؟ افسوس کہ انسان کے پاس اس سوال پر غور کرنے کا وقت نہیں۔ ابلاغ کی دنیا ان کے ہاتھ میں ہے جو سنجیدہ اور حقیقی موضوعات کا نہ ذوق رکھتے ہیں نہ اس پر گفتگو کی قدرت۔ نیم خواندگی کا آزار سماج کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سرِ شام ٹی وی اسکرینوں پر جو قومی بیانیہ ترتیب پاتا ہے اس کی سطحیت اور غیر سنجیدگی سے خوف آنے لگا ہے۔ نوبت یہ ہے کہ دنیا چیخ چیخ کر ہمیں بتا رہی ہے کہ آپ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن ہمارا دانشور صبح سے شام تک یہی گنتی کر رہا ہوتا ہے کہ کس قائدِ انقلاب کے جلسے میں کتنے لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ یہی حال سوشل میڈیا کا ہے۔ موضوعات کا افلاس آسیب بن چکا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ماحولیات کی تباہی سے یکسر بے نیاز۔ گلی کوچوں سے پارلیمان تک یہ سوال کہیں زیرِ بحث ہی نہیں کہ درجہ حرارت بڑھنے کا مطلب کیا ہے؟زیرِ زمین پانی کی سطح جس تیزی سے گر رہی ہے، خوفناک ہے۔ چند سال پہلے اسلام آباد میں 70 یا 80 فٹ پر پانی مل جاتا تھا لیکن اب تین سے چار سو فٹ گہرے بور کرائیں تو بمشکل اتنا پانی دستیاب ہے کہ...

سری لنکا کا بدترین معاشی بحران،ہمیں سبق سیکھنا ہو گا

سر لنکا میں عوام کے شدید دباو اور مسلسل احتجاج کے پیش نظر وزارت عظمیٰ سے مہندرا راج پکسے کے استعفیٰ کے بعد ان کے حامیوں کے سڑک پر اْتر آنے کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے نیز کرفیو میں توسیع کے باوجود سیکوریٹی فورسیز صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ شروع ہونے والے تشدد سے متعدد افراد ہلاک کئی زخمی ہیں۔ سری لنکن وزیراعظم کے استعفیٰ کے باوجود عوام مطمئن نہیں ہیں اور وہ صدر گوٹابایا راج پکسے کے استعفے پر مصر ہیں۔ یاد رہے کہ مہندرا راج پکسے کے خلاف عوام کی شدید برہمی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے گھر کے باہر مظاہرین پر ان کے حامیوں نے پر تشدد حملہ کیا جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد حکومت مخالف مظاہرہ کے کلیدی مرکزگّلے فیس گارڈن پر بھی حکومت حامی پہنچ گئے اور انہوں نے وہاں بھی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ نتیجے میں مظاہرین بے قابو ہوگئے جن کی تعداد حکومت حامیوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف حکومت حامیوں کو سڑکوں پر دوڑا دوڑا کر پیٹابلکہ سیکورٹی فورسیز کو بھی خاطر میں نہیں لائے۔ سری لنکا غیر معمولی معاشی بحران کی وجہ سے حکومت مسائل کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔دو کروڑ 20 لاکھ کی آبادی والے ملک کو تیزی سے کم ہو رہے زرمبادلہ کے دخائز اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے عوام کے لیے اشیائے ضروریہ درآمد کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ان وجوہات کی وجہ کئی ہفتوں تک حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے جو حال ہی میں پرتشدد ہو گئے، جس کے بعد وزیراعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔عوام کے زیادہ تر غصے کا محور صدر گوتابایا راجاپکشے اور ان کے بھائی اور سابق وزیراعظم مہندا راجاپکسے ہیں، جن پرملک کو معاشی بحران میں مبتلا کرنے کا الزام ہے۔ مظاہروں کا آغاز کیسے ہوا؟ کئی مہینوں سے سری لنکن شہری اشیائے ضروریہ خریدنے کے لیے قطاروں میں لگ رہے تھے کیونکہ زرمبادلہ کے بحران کی وجہ سے درآمدی خوراک، ادویات اور فیول کی قلت ہو گئی تھی۔ تیل کی کمی کی وجہ سے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنا تھا۔کورونا وبا اور روس یوکرین تنازع نے بھی حالات کو بدتر بنا دیا لیکن ممکنہ معاشی بحران کے حوالے سے انتباہ بہت پہلے سے کیا جا رہا تھا۔ 2019 ء میں صدر گوتابایا راجاپکشے ایسٹر پر چرچ اور ہوٹلوں میں ہونے والے خود کش دھماکوں کے بعد اقتدار میں ائے تھے۔ان دھماکوں میں 290 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور سیاحت کی صنعت کو بہت نقصان پہنچا تھا، جو کہ زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔گوتابایا راجاپکشے نے سری لنکا کو معاشی بحران سے نکالنے اور محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔حکومت کو اپنے محصولات میں اضافہ کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ بڑے انفراسٹکچر منصوبوں کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ کچھ قرضوں کے لیے چین نے مالی اعانت فراہم کی تھی، لیکن اپنی صدارت کے چند ہی دنوں میں راجاپکشے نے سری لنکا کی تاریخ میں...

پُرامن معاشرے کی ضروریات

کوئی بھی معاشرہ امن کے بغیر پھل پھول نہیں سکتا،جس طرح ہم اپنی باقی تمام بنیادی ضروریات کو مکمل کرنے میں لگے رہتے ہیں ،اس طرح اگرامن کی بحالی کی کوشش کی جائے تو بہت سے مسائل کی نشاندہی ہوگی اوران کا حل نکل آئے گا۔معاشرے میں امن نہ ہونے کی اہم وجہ عدم برادشت کے بڑھتے ہوئے رویئے ہیں،جس دن ہم یہ سمجھ جائیں کہ دوسرے شخص کی سوچ غلط نہیں بلکہ ہم سے مختلف ہے اس دن سارے جھگڑے اور اختلافات ختم ہوجائیں گے۔ہم ایک دوسرے کی اظہاررائے کا احترام نہیں کرتے بلکہ جب تک بات ہمارے مطلب کی نہ ہو ہم اسے سننے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ سوچ الگ ہونا غلط نہیں جب مختلف سوچ رکھنے والے افراد مل کر بیٹھتے ہیں تو کافی نئی چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن اس کے بجائے ہم بحث و مباحثہ میں پڑ جاتے ہیں، بحث کا کوئی فائدہ نہیں، بحث سے گفتگو کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے،اپنے لہجے اور انداز میں اپنائیت رکھنی چاہیے تاکہ اگلا شخص اپنی بات کہتے ہوئے نہ ہچکچائے اور ایسے الفاظ کا چناوکیا جائے جو سب کی سمجھ میں آجائے اپنی سوچ کا اظہار اوررائے دینے کا حق سب کو حاصل ہے،ہمارے معاشرے کے حالات کو مدنظررکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہوگیا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے سوا دوسرے کے امن کے بارے میں بھی سوچ رکھتا ہوگا۔انسانیت کو بچانے کی آج جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی،جس کیلئے سب کو مل اپنا پنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس وقت سب سے بڑی سوشل میڈیا نیوز ویب سائٹس ہیں، میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں کوئی بھی شخص اپنی اظہارِ رائے کو منٹوں میں دنیا بھر میں پہنچا سکتا ہے تو جہاں آجکل ان ویب سائٹس کو شغل اور دوسرےفضول کاموں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اگر ہم ان کو امن پھیلانے کا ذریعہ بنائیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ،میرے نزدیک تمام مسائل کی بنیاد اجتماعی سوچ سے جڑی ہوئی ہے، سوچ ہی دراصل ارادے کا روپ دھارتی ہے اور پھر ارادے عمل میں ڈھلتے ہیں، جیسی سوچ ویسے ارادے. ایک بہت ہی خوبصورت حدیث ہے کہ، اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جس سے کسی کی دل آزاری ہو ایسے الفاظ کا استعمال نہ کریں تو امن قائم ہونے میں دیر نہ لگے۔ ہم سب کی سوچ الجھی ہوئی ہے، فکر میں یکسوئی موجود نہیں ہے،جس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی سوچ کو سمجھنے اور مسائل کا حل ڈھونڈنے کے بجائے نت نئے مسائل جنم دے رہے ہوتے ہیں،یہی نہیں بلکہ معاشرے کی بنیاد عدل و انصاف سے ہو ۔عدل قائم و دائم رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے،چاہے وہ کوئی اعلیٰ ڈگری والا ہو یا کوئی ان پڑھ۔ انصاف سب کے لئے ایک جیسا ہونا ضروری ہے کسی کو بھی انصاف سے محروم نہ کیا جائے،انسانی فطرت میں تنوع موجود ہے, ایک دوسرے کی نفسیات کو سمجھیں،میڈیا کا کردار کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس میڈیا میں اگر کوئی خبر آئے تو جب تک اس کی اچھی طرح سے جانچ...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز