نادیہ ناصر

1 بلاگ 0 تبصرے

بچوں کے موبائل کی نگرانی کیجیے

یقیناً آپ کے گھر میں سات سے چودہ سال تک کے بچے ہوں گے۔یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اہل ایماں کی اکثریت نے اپنے...

اہم بلاگز

معصوم آوارہ کتوں کا دیس اور وحشی بچے

میں چائے کی میز پر بیٹھا موبائل کی اسکرین پر اسکرول کررہا تھا کہ اچانک ایک وڈیو نظروں کے سامنے سے گزری اور میں لمحے بھر کے لیے دم ساکن ہوگیا۔ وڈیو میں دیکھا کہ ایک 7سالہ بچی سنسان گلی سے گزررہی تھی کہ درجن بھر کے قریب آوارہ کتوں نے ایک دم حملہ کردیا اور اُس بچی کو بھنبھوڑ کر نوچ کھایا۔ میں نے جب سے یہ ویڈیو دیکھی ہے اس وقت سے اسی شش و پنج میں ہوں کہ کچھ لکھوں یا اندر ہی اندر کڑھتا رہوں؟ اس دیس کی زینبوں کے لئے دو ٹانگوں والے کتے ہی کیا کم تھے کہ اب ان گلیوں میں چار ٹانگوں والے 'معصوم' اسٹرے ڈاگز' بھی ان کے لیے وبال جان بن گئے ہیں۔مگر 'معصوم آوارہ کتے' اور وہ بھی قصور وار؟ نا بابا نا، آپ تو ایسا سوچیئے گا بھی مت۔ بقول میرے وطن کی چند خوش پیراہن خواتین، یہ "اسٹریٹ ڈاگز" تو انتہائی معصوم جانور ہیں، وہ تو انسانوں کے بدتہزیب و خونخوار بچے ہی انہیں اتنا تنگ کرتے ہیں، ایسی سنگ باری کرتے ہیں کہ "بیچارے ڈاگز" سیلف ڈیفنس میں انہیں کاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اب اس سرخ لباس میں ملبوس بچی کو ہی لیجیے، اس کا کیا کام تھا کہ یہ ان "معصوم" آوارہ کتوں کی راجدھانی میں اس طرح دندناتی پھرے؟بھلے سے اس نے ان کو نہیں چھیڑا تو کیا ہوا، اس کے بھائی بند تو اکثر ان کو پتھر مارتے ہی ہونگے، اب اگر آج ان بیچارے آوارہ کتوں نے اپنا حساب برابر کر بھی دیا تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑی، ہیں جی؟ لیکن اس صورتحال سے گزرنے والی یہ زینب اکیلی نہیں اور بقول وفاقی وزارت صحت حکام، پاکستان میں ان "معصوم آوارہ کتوں" کی تعداد صرف ڈیڑھ کروڑ ہے، جن میں سے پچیس لاکھ تو صرف صوبہ سندھ کے باسی ہیں۔ میرے وطن کے یہ "انوسینٹ اسٹرے ڈاگز" ہر سال تقریباً دس لاکھ افراد کو 'بحالت مجبوری' کاٹ لیتے ہیں جن میں سے 80 فیصد تو صرف یہ "وحشی" بچے ہوتے ہیں جن کے سر اور چہرے ہی ان بیچارے کتوں کی زد پر آتے ہیں۔ یہاں میرا وجدان کہتا ہے کہ اصل کہانی ان دس لاکھ بد نصیبوں کے زخموں اور تکلیفوں سے ہی جڑی ہوئی ہے۔ بھلا وہ کیسے؟وہ اس لیے کہ ان دس لاکھ سگ گزیدگی کے شکاروں کو اینٹی ریبیز ویکسین کی کم از کم چار ڈوزز اور اس کے ساتھ ساتھ امیون گلوبلن لگنا بہت ضروری ہے تاکہ انہیں ریبیز کی تکلیف دہ موت سے بچایا جا سکے۔ برسبیل تذکرہ پاکستان میں کم از کم پانچ ہزار افراد ریبیز کا شکار ہو کر انتہائی اذیت ناک موت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔فرض کر لیجئے کہ سگ گزیدگی کے شکار ایک شخص کی ویکسینیشن پر اوسطاً دو ہزار روپے خرچہ آتا ہے تو میرے حساب کتاب کے مطابق یہ رقم دو ارب روپے بنتی ہے۔ جی ہاں دو ارب روپے کی اینٹی ریبیز ویکسین ان دس لاکھ ستم رسیدہ اور سگ گزیدہ افراد کے لیے ہر سال منگوائی جاتی ہے اور وہ بھی ہمارے پرامن ترین ہمسائے ہندوستان سے جہاں کے ادارے بھارت بائیوٹیک اور سیرم...

اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام

تعارف: قائد اعظم کی مادر علمی جامعہ سندھ مدرستہ الاسلام میں شعبہ کمپیوٹر سائنس کے طالبعلم ہیں۔ موجودہ وقت میں اسلامی معاشرے میں عورت کی حیثیت کو اجا گر کرنا نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ معا شرہ کی ترقی اور خو شحالی کا رازبھی اس میں پوشیدہ ہے۔اسلام وہ مذہب ہے جو بنی نوع انسان کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس وقت مغربی دنیا کا نظریہ اسلام کی اصل بنیا دوں کو ہلا رہا ہے۔ مغرب کی رائے میں اسلام ایک تنگ نظر اور پستی کا شکار مذہب ہےجو خواتین کو انکے بنیادی حقوق سے دور کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔ اسلام کے دو بنیادی ذرائع قرآن و حدیث میں عورتوں کی حیثیت واضح طور پر بیان کر دی گئ ہے۔ ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کہتے ہیں کہ روزِاول سے اسلام نے عورت کے مذہبی،سماجی، معاشرتی،قانونی،آئینی، سیاسی اور انتظامی کردار کا نہ صرف اعتراف کیا ہےبلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔ تاہم یہ ایک المیہ ہے کہ آج مغربی اہل علم جب بھی عورت کے حقوق کی تاریخ مرتب کرتے ہیں تو اس باب میں اسلام کی تاریخی خدمات اور بے مثال کردار سےیکسر صرف نظر کرتے ہوئےاسے نظر اندازکردیتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں عورت بھی اسی طرح معاشرے کا اہم فرد قرار دی گئی ہے جس طرح معاشرے میں مرد اہمیت کا حامل ہے۔ کسی طرح سے بھی عورت کو کمتر جنس قرار نہیں دیا گیااور نہ ہی اسے مرد سے کم درجہ دیا گیا ہےیہ کہنا غلط نہیں ہو گاکہ اسلام عورت کو ہر لحاظ سے معاشرے میں مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔اسلام سے قبل عورت کو اپنے خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ انہیں نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا بلکہ انہیں اپنے بنیادی حقوق کی آگاہی سے بھی دوررکھا جاتا تھا۔ بعض قبائل میں بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ گاڑ دینے کا سلسلہ عام تھااور بالغ لڑکیوں کی حیثیت نہ ہونے کے برابر تھی۔

حضرت محمد ﷺ

انسان اخلاقی لحاظ میں کسی نہ کسی جزو میں کمزور پڑ جاتا ہے یا تو جذبات کی رو میں بہہ کر ایسا کر بیٹھتا ہے جس کی شرمندگی اسے زندگی کے کسی نہ کسی حصہ میں اٹھانی پڑتی ہے یہ انسان کی زندگی کا کمزور ترین پہلو ہے کچھ لوگ جذبات کو کنٹرول کر کے زندگی بھر کی شرمندگی سے بچ جاتے ہیں دنیا میں بہترین اخلاق کے بہت سے لوگ آۓلیکن انکی زندگیوں میں ایسی کمزوریاں بھی نظر آتی ہے جو انکے اخلاق کے عکس کو دھندلا کر جاتی ہے۔ لیکن ہمارے نبی ﷺ اخلاق کے بلند ترین مقام پر موجود ہے جہاں جذبات کی ضرورت پڑی وہاں جذبات بھی نظر آتے ہیں انکے بیٹے قاسم کا انتقال ہوا تو آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں تو صحابہ نے پوچھا کہ آپﷺ رو رہے ہیں ؟ تو آپﷺ نے جواب دیا کہ رونا فطری چیز ہے اسلیے میرے بھی آنسو رواں ہوئے۔ نماز پڑھتے ہوئے حضرت حسن و حسین پیٹھ پر چڑھ جاتے اور آپ تب تک سجدے میں رہتے جب تک وہ اتر نہیں جاتے غرض یہ کہ آپ ﷺ بچوں کے احترام کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے حضرت زید بن حارث فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کبھی ان کو ڈانٹا یا جھڑکا نہیں۔ زندگی میں اتنی مشکلات تکلیف کے باوجود ہر رشتے کو آپ صلی اللہ وسلم اعتدال سے لے کر چلے اتنی آزمائشوں کے باوجود بھی آپ ﷺ صحابہ کے درمیان بیٹھ کر مزاح بھی کیا کرتے تھے ایک دفعہ تمام صحابہ کرام دسترخوان میں بیٹھ کر کھجور تناول فرما رہے تھے اور گٹھلیاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھتے جا رہے تھے توآپﷺ نے کہا کہ علی نے اتنی کھجور تناول فرما لیں۔ اور جب آپ صلی اللہ وسلم کو غصہ آتا تو اس پر قابو پانے کی کوشش کرتے ایک دفعہ ایک بدوی نے مسجد نبوی میں پیشاب کردیا صحابہ کرام نے اسے ڈانٹا چاہا تو آپ نے صحابہ کو منع کردیا اور خود وہاں پر پانی بہایا زندگی کے تمام معاملات میں احساسات و جذبات متوازن رکھنا آپﷺ کی زندگی کا نچوڑ ہے ۔ایک کافر عورت آپ پر کچرا پھینکتی ہے لیکن ایک دن نہ پھینکنے کی صورت میں اس کی عیادت کرنے پہنچ گئے وہ آپ کے خلاف سے متاثر ہو کر ایمان لے آئی۔ انتقام نہ لینا معاف کر دینا آپﷺ کی صفت ہے اسی خصوصیات کی وجہ سے آپ کے دشمن آپ کے دوست بن گئے آپ ہر معاملے میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے آپ کا رویہ آقا غلام امیر فقیر سب سے ایک سا ہوتا تھا کسی کو اس کے رتبے کی بنا پر اہمیت نہیں دیتے بلکہ اس کے تقوی کی بنا پر اہمیت دیتے قبیلے کی ایک امیر خاتون نے چوری کر لی آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو چند لوگوں نے سفارش کرنے کی کوشش کی تو آپ نے جواب دیا کہ اگر اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کو سزا دیتا آپ صل وسلم نے اللہ کے حکم کو اپنی زندگی کے...

سرزمین پاکستان

سرزمین پاکستان پر پہلے دن سے ہی دشمنوں نے اپنے ناپاک عزائم کے پنجے گاڑنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جسکا منہ بولتا ثبوت پاکستان کا دولخت ہونا ہے بات یہاں پہنچ کر بھی بس نہیں ہوجاتی یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جا رہا ہے اور پاکستان کے وجود کو زخموں سے چور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان نے جانی و مالی اور ہرطرح کے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہماری ماءوں نے ایک سے بڑھ کر ایک محب وطن پیدا کیا ہے جو اپنی دانست میں ملک و قوم کا سرفخر سے بلند کرنے کیلئے کوشاں رہتا ہے اور کوئی ایسا موقع نہیں جانے دیتا کہ جہاں اسکی کارگردگی پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سب سے بلند لہرائے۔ جنرل ضیاء الحق شہید ایک غیر ملکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی بہت ذہین ہیں (ساتھ یہ بھی کہا کہ میں اپنی تعریف نہیں کر رہا)۔ یوں تو انکی اس بات کا حوالہ ان کی اپنی ذاتی دانشمندیوں سے مل جائے گا لیکن یہ ہمارا عمومی تاثر ہے ۔ بد قسمتی سے ہم وہ قوم ہیں جس سے ساری دنیا گھبراتی ہے اور ہم ساری دنیا سے گھبراتے ہیں۔ یوں تو پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والوں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اس فہرست میں ایک نام ایسا بھی ہے کہ جس کی مرہون منت آج پاکستان ساری دنیا کے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے جو ایٹمی طاقت کے حامل ہیں، جن کی بدولت ہمیں اپنی بقاء کیلئے کسی سے بھیک نہیں مانگنی پڑتی ، جن کی وجہ سے ہمارے دشمن ہم سے شدید نفرت کے باوجود ہم سے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملاتے ہیں ، یہ وہ فرد ہیں کہ جنہوں نے ملک کا نا صرف دفاع کو مضبوط ترین بنایا بلکہ بوقت ضرورت اپنی خود مختاری کو بھی پاکستان پر نچھاور کردیا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پہچان ایٹم بم نہیں بلکہ محسن ِ پاکستان کے طورسے ہوئی ۔ آپ نے قوم پر ایسے احسان کئے ہیں جو ہم عوام تو کیا ادارے بھی اسکا بدلہ نہیں چکا سکیں گے۔ محترم افتخار عارف صاحب کا یہ شعر جو شائد ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی خدمات کے اعتراف میں ہی لکھا گیا مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے کچھ عرصہ قبل تک بہت ساری ایسی باتیں ہواکرتی تھیں جو ملکی سالمیت کی خاطر منظر ِ عام پر نہیں لائی جاتیں تھیں (اور یقینا جن کی بقاء کی خاطر کیسی کیسی قربانیاں دی گئی ہونگیں )اورجن میں سے اکثر ایسے راز ہیں کہ جوپیوند خاک ہونے والوں کیساتھ ہی دفن ہوچکے ہونگے اور ہوتے چلے جائینگے ۔ دورِ حاضر میں تو جیسے کوئی رازنامی لفظ کو لغت سے نکال ہی دیا گیا ہے، ہر بات کی تو کیا ہر ہر عمل کی تشہیر ہورہی ہے اور چند لمحوں میں دنیا کیا کچھ دیکھ لیتی ہے، اس وجہ سے اہم صرف چند لمحوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ، کسی خوب کہہ رکھا ہے کہ آنکھ...

اللہ کی نازل کردہ تعلیم

صحیح رہنمائی صرف اللہ کی نازل کردہ تعلیم میں مل سکتی ہے لطیف النساء انسان دنیا میں کتنی بھی ترقی کرلے، کوئی بھی عہدہ حاصل کرلے، کتنا ہی کمالے، ہزاروں نوکر چاکر رکھ لے، بلڈنگیں بنا لے۔ مگر پھر بھی اکثر و بیشتر اسے دل کا اطمینان نصیب نہیں ہوتا، کوئی نہ کوئی فکر، ٹینشن، بیماری یا پسندیدہ خوراک یا مشاغل سے پرہیز کرنا پڑتا ہے۔ دل کا سکون ہی تلاش کرتا رہتا ہے۔ بسا اوقات نیند لانے والی گولیاں بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔ عموماً بڑی عمر کے لوگ زیادہ اس کیفیت سے گزرتے ہیں جبکہ جوان اپنی مصروفیات میں مست ہوتے ہیں۔ مگر سکون اور اطمینان صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو صحیح رہنمائی کیلئے شروع سے ہی اللہ کی نازل کردہ کتاب "قرآن"سے جڑے ہوتے ہیں ۔ احکام الٰہی کی پابندی کرتے ہیں ۔ شریعت پر چلنے کی اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں اور عموماً داعی کی حیثیت سے لوگوں کو بھی یہی راہنمائی دیتے ہیں صحیح راہنمائی قر آن کی تعلیم سے ہی مل سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انتہائی پریشانی یا مصیبت میں جب بندہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے دعا مانگتا ہے ۔ قرآن پڑھتا ہے ترجمہ اور تفسیر سمجھنے کی اپنی سی کوشش ہی کرتا ہے کہ اس کو قلبی سکون ملنے لگتا ہے۔ زندگی کے اتنے بکھیروں میں انسان کہیں گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ مگر اچانک کو ئی واقعہ ، کسی کی موت، کوئی حادثہ ، اسے ہلا کر رکھ دیتا ہے ۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ یہ زندگی بھی کیا عجیب چیز ہے ۔ایک پل میں ختم ! گویا سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں ۔ کل شام تیسر ی منزل سے ایک محترمہ ہمارے گھر آئیں دوبیٹوں کی ماں ہیں جو سترہ سال سے کم کے ہیں ۔ میرے شوہر کی طبیعت معلوم کرنے ۔ انتہائی اداس لگ رہی تھیں میں نے پوچھا خیریت ہے آپ کیسی ہیں؟ کہنے لگیں والدہ کا اچانک انتقال ہو گیا تھا ، سوا مہینے بعد آئی ہوں ۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی اور انتہائی افسوس بھی کہ مجھے خبر تک نہ ہوئی ۔ ہرکوئی یہی سمجھتا رہا کہ فلاں نے انہیں بتا دیا ہوگا ۔ وہ کہنے لگیں انتہائی غیر متوقع موت تھی میں اکلوتی بیٹی ہوں اور دو بھائی ہیں ۔ میرے لئے امی ہی سب کچھ تھیں میں بہت ڈر رہی ہوں اور یہ صدمہ برداشت نہیں کر پارہی ہوں ۔موت یوں اچانک جدائی ڈال دے گی میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا ۔ میں نے کہا انتہائی غم اور انتہائی خوشی میں بھی ہمیں صبر کرنے اللہ کی حمد کرنے اور اسکی تسبیح کرتے رہنے کا حکم ہے کہ اس کے فضل سے ہی سارے کام انجام پاتے ہیں اور ہمیں نہ صرف آگاہی دیتے ہیں بلکہ آخرت کی تیاری کے ڈھنگ سکھانے اور اللہ کی نازل کردہ کتاب سے راہنمائی لینے پر آمادہ کرتے ہیں کہ کتابِ الٰہی کی تعلیم ہی ہمیں صحیح راہنمائی عطا کرتی ہے ۔ ایک ایسی ایمانی قوت جس سے دل سکون پاتے ہیں، روح مطمئن...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ماسک اور خول

ابن سینا نے اپنی مشہور کتاب’’القانون فی الطب‘‘میں 1025 میں ہر قسم کی وبائی امراض کے بارے میں ’’قرنطینہ‘‘کا تصور پیش کیا۔اس عمل کے لئے انہوں نے لفظ ’’اربعینہ‘‘یعنی چالیس روز استعمال کیا۔بارھویں صدی میں جب اس کتاب کا اطالوی زبان میں ترجمہ ہوا اس چالیس دن کا نام قرنطینہ Quarantenaپڑا،جس کے معنی اطالوی زبان میں چالیس روز ہی ہوتے ہیں۔تاریخ طب میں اب سینا اور البیرونی کی ملاقات کا احوال بہت جگہ بیان کیا گیا ہے۔اور اس ملاقات کی وجہ شہرت دراصل اس دور میں پھیلی ہوئی وباطاعون اور احتیاطی تدابیر ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب البیرونی مصافحہ کرنے اور گلے لگانے کے لئے آگے بڑھے تو ابن سینا نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔نہ صرف انکار کیابلکہ سرکہ کے پانی کے ساتھ صاف کپڑے لانے کو بھی کہا تاکہ البیرونی اپنے ہاتھ اور چہرہ وغیرہ کو مکمل طور پر صاف کر لیں۔البیرونی حیران ہوئے اور وجہ پوچھی ۔جواب ملا کہ جہاں کالی موت(طاعون)پھیلی ہوئی ہو وہاں گلے لگنے اور ہاتھ ملانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ابن سینا نے اس وبا کو روکنے کے لئے چند اور احتیاطی تدابیر بھی پیش کیں جو آج بھی من و عن صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔ لوگوں میں خوف وہراس نہ پھیلایا جائے۔ ہاتھ نہ ملایا جائے۔ میل جول کو محدود کر دیا جائے۔ بازاروں اور مساجد کو بند رکھیں۔ ہجوم نہ کریں، کرنسی کو بھی سرکہ سے دھوکر یا صاف کر کے استعمال کیا جائے۔ مسواک کو بھی سرکہ سے دھو کر استعمال کریں اور مریض کو چالیس روز تک الگ رکھا جائے۔ ان دو دانائوں کی ملاقات کے نتیجہ کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ وبائی امراض کے دنوں میں ہمیں خاص احتیاط کی ضرورت رہتی ہے،خاص کر ہاتھوں کو دھونا اور چہرے کو ڈھانپ کر رکھنا۔موجودہ سائنسی دور میں سائنس نے یہ سہولت فراہم کر دی ہے کہ ہمیں اب کپڑے سے منہ ڈھاپنے کی بجائے فلٹریشن والا ایک ماسک فراہم کر دیا ہے۔جس کے بے شمار فوائد ہیں۔کپڑے کا یہ وہ ماسک ہے جو ہر کوئی دیکھ پاتا ہے۔لوگ دیکھتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اس شخص نے بیماری سے بچائو کی احتیاطی تدابیر کر رکھی ہے،یا پھر اس کا مقصد ارد گرد موجود اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنا ہے۔لیکن ایسے لوگوں کی پہچان کیسے ہو جنہوں نے اپنے چہروں پر منافقت وبے حسی کے خول در خول سے ڈھانپ رکھا ہے۔مگر مخاطب ہوں تو لہجہ ایسا شیریں کہ کانوں میں شہد گھل گھل جائے۔وہ تو عرصہ دراز بعد پتہ چلتا ہے کہ ۔۔۔۔بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔ لوکی مینوں چہرے اتے خول چڑھا کے ملدے نیں منہ دے کنے مٹھے پر دل دے کنے کوڑے نیں۔ ایسے ابن الوقت لوگوں کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ موقع کی مناسبت سے ماسک اتار لیتے ہیں۔وہ شخص جو چند دن قبل آپ کے وارے وارے جا رہا تھا اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کسی وقت بھی حزب مخالف کے پلڑے میں بیٹھا دکھائی دے گا۔دراصل اسے آپ سے نہیں اپنے مفاد سے پیار تھا۔ماسک اس نے پہلے سے ہی چڑھا رکھا تھا تاہم آپ کا اعتماد تھا جو...

معاشرہ بدلے ہم کیوں؟

فیصل آبادانٹر نیشل ایئر پورٹ جہاز لینڈ کرتے ہی جو سب سے پہلا خیال دل میں سمٹ کر آیاوہ تھا احساس تفاخر کہ ہم اپنے وطن میں قدم رنجہ فرما ہو چکے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ہمارے اندر کی پاکستانی روح بھی بیدار ہو چکی تھی جس کا اندازہ ہم نے اس بات سے لگا یا کہ ابھی ٹھیک سے جہاز رکنے بھی نہ پایا تھا کہ ہر کوئی اپنی سیٹ چھوڑ،سیٹ کے اوپر کیبنٹ سے سامان نکالنے کے لئے بے تاب ہوگیا۔ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ جہاز کا دروازہ کھلنے سے بیشتر ہی وہ چلتے جہاز سے چھلانگ لگا کر باہرچلا جائےاور تو اور وہ مسافر جو دوحہ سے میرے ساتھ والی نشست پر براجمان انتہائی وضع قطع اور نفیس گفتگو کرنے والا شخص بھی ایک پولیس مین کے کہنے پر جب لائن توڑے غیراخلاقی طور پر سب کو لائن میں چھوڑ کر جانے لگا تو نہ جانے کیوں میں نے اس کا بازو تھام کر ہمت جتا کر اسے مخاطب کیا،کہ حضور کیا ہم نے دوحہ ایئر پورٹ پر ایسا کیا؟وہاں تو ایک شرطہ جب ’’جھلا‘‘کہتا ہے تو سب کے سب شریف زادوں کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر محمود وایاز کی یاد تازہ کر دیتے ہیں تو پھر آپ یہاں اپنے ملک میں کیوں ایسا کر رہے ہیں کہ لائن میں کھڑے تمام لوگوں کو چھوڑ کر آپ غیر قانونی و غیر اخلاقیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔شخص کی سمجھ میں میری بات آگئی اور اپنی جگہ واپس چلا آیا،تاہم وہ پولیس مین مجھے گھورتے ہوئے پھر سے اسے بلانے لگا کہ جب میں کہہ رہا ہوں تو آپ کیوں نہیں آتے؟گویا وہ پولیس مین نہ ہوا کسی ملک کا وزیراعظم ہو۔ میری طرح آپ میں سے بھی بہت سے لوگوں کو ایسے بے شمار حالات و واقعات کا سامنا رہا ہوگا۔ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار میرے ساتھ انگلینڈ کی فلائٹ سے ایک شخص سفر فرما رہا تھا،بات بات پہ وہ ایک جملہ ضرور کہتا کہ انگلینڈ میں تو ایسا نہیں ہوتا۔لیکن یونہی ہم ائیر پورٹ سے باہر نکلے اس نے سب سے پہلا جو کام کیا وہ ہاتھ میں پکڑی پانی کی خالی بوتل ایسے پھینکی جیسے کوئی ناجائز بچہ کچرے کے ڈھیر پر پھینکتا ہے۔مجھ سے رہا نہ گیا تو میں مسکراتے چہرے سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ــ’’کیا انگلینڈ میں ایسے ہوتا ہے؟‘‘۔ذرا شرمندہ سا ہوا اور بوتل اٹھا کر مناسب جگہ پر رکھ دی۔ میں نے جو بات پاکستان سے باہر رہتے ہوئے محسوس کی وہ یہ ہے کہ ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ اس کے ملک کی تقدیر بدلے،پاکستان کا سیاسی و معاشی نظام مستحکم ہو،پاکستانی معاشرہ ایک مثالی معاشرہ ہو،ہم تقلید ِ دنیا اور تمثیلِ عالم ہوں۔لیکن بقول اقبال خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق میں جس ملک میں رہائش پذیر ہوں وہاں پر بھی قانون کی اس قدر حکمرانی ہے کہ رات کے پچھلے پہر بھی جب کہ ٹریفک سگنل پر کوئی پولیس والا اپنے فرائض منصبی پر نہ بھی معمور ہو،وہاں بھی لوگ سرخ سگنل...

اے قائد تم سا کوئی نہیں

قائدِ اعظم ایک دیانتدار اور اصول پسند لیڈر تھے جیسا وہ پاکستان چاہتے تھے ان کی رحلت کے بعد ویسا نہ بن سکا ،ہندووں اور انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی پر یہاں  کے جاگیرداروں اور چوہدریوں سے یہ ملک چھٹکارہ حاصل نہ کر سکا، انہوں اس ملک کا وہ حال کردیا کہ اللہ معافی اور بچا کچا برا حال ملک کے ایک بڑے ادارے نے کر دیا حرام حلال کی تمیز ہی ختم ،انصاف کا بول بالا ہی نہیں۔ قائد کا تصور پاکستان محض نصابی باتیں اور علمی مباحث ہیں نہ قوم بانئی پاکستان کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی وہ ایسی جماعتوں یا گروہوں کی حمایت کرتی ہے جو قائد اعظم کے پاکستان کو ان کے خواب کے مطابق اسلامی،فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے میں مخلص ہیں۔ اے قائد ہم آپ کو کیا جواب دیں گے کیونکہ آپ نے پاکستان وڈیروں اور جاگیر داروں کے لیے نہیں بنایا تھا یہ ملک غریب عوام کے لیے بنا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ پاکستان میں انسانی مساوات،جمہوریت، اسلامی عدل،قانون کی حکمرانی اور معاشی انصاف ہو مگر اے قائد پاکستان میں تو انسانی زندگی سب سے ارزاں شے ہے،یہاں انسان کیڑے مکوڑوں کی مانند مرتے ہیں،کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا نہ انسانی حقوق کی انجمنیں سڑکوں پر آتی ہیں اور نہ منتخب اراکین اسمبلی دکھ درد کا اظہار کرتے حکومت نام کی شے صرف حکمرانوں،سیاستدانوں اور بالائی طبقوں کی خدمت اور حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔  میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں ہر شعبے اور اداروں میں کڑوروں روپے کی رشوت دے کر جاب ملتی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے بجائے جاہل جٹ کو عمدہ عہدوں سے نوازہ جاتا اور ہمارے اچھے پڑھے لکھے نوجوان بیرون ملک سدھار جاتے اور جو یہاں رہتے وہ پرائیویٹ جاب کرتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا خان سفارش خان ہے جس کی ضرورت سرکاری ہسپتال سے لے کر قانونی سہولت حاصل رہتی ہے،اپ نے قائد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد جو مشہور زمانہ تقریر کی تھی اس میں پاکستان سے سفارش کلچر،دھونس،کنبہ پروری اور ذخیرہ اندوزی کو ختم کرنے کے عہد کا اعلان کیا تھا لیکن افسوس کہ ہر آنے والا حکمران باتیں تو تبدیلی کی کرتا ہے مگر ان پر عمل نہیں کرتا،اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اس نظام میں بنیادی تبدیلیاں کر کے ہر قدم پر قانون و آئین کی حکمرانی کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔عوام بھی اپنا کردار ادا کریں ،ان کو یہ بات سوچنا چاہیے کہ ان کے آباؤ اجداد نے جس طرح قائد کی قیادت میں انگریز جیسے جابر حکمرانوں کو اپنے مطالبات کے سامنے جھکا دیا تھا اور ہندوؤں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا تو آج بھی یہ اپنی طاقت استعمال کر سکتے ہیں،مگر یہ تو بے حسی کی چادر اوڑھے سو رہے۔ "عوام یہ سمجھ لیں کہ فرشتوں ان کی مدد کو نہیں اترے گے"قائد اعظم کی رحلت کے بعد سے  لیکر اب تک کوئی بھی...

ہمارے بلاگرز