مزنہ سید

6 بلاگ 0 تبصرے

جھوٹی قسم

 قسم کھانا آج کل ہمارے معاشرے میں بہت عام سی بات ہوگی ہے ، ہر دوسرا آدمی خاص طور پر دکاندار اپنی اشیاء بیچنے کیلیے...

 کیا ہم آزاد قوم ہیں؟

اے سرزمین تیری عظمت کو سلام ، تیرے  دلیر جواں سال نوجوانوں کو سلام ، اس دھرتی پہ جاں نثار کرنے والوں تمہاری قربانیوں...

کیسا ہے نصیباں

آج کل کے دیکھے جانے والوں ڈراموں میں سے ایک اور ڈارمہ کیسا ہے نصیباں, ایک بہت ہی مظلوم لڑکی مریم کی کہانی ہے۔...

باغی

باغی ڈرامہ 17 جولائی 2018 کو ایک مشہور ٹی وی چینل پر ٹیلی کاسٹ  ہوا ۔ یہ سوشل میڈیا فیم  ماڈل  قندیل بلوچ عرف...

دل آرا

آج کل ٹی وی پر نئے ڈراموں کی بہاریں ہیں۔ ان ہی میں سے ایک ڈرامہ جو لوگوں  میں زیادہ  مقبول ہورہا ہے۔ وہ ...

چیخ

چیخ اپنے سسپنس رکھتی ہوئی اسٹوری کی وجہ سے ان دونوں بہت مقبول ہے ۔  یہ کہانی   منت کی دوست نایاب کےقتل کے گرد...

اہم بلاگز

شکر کی فریکوئنسی

ان خاتون کا پرس کہیں راستے میں گر گیا تھا، اس پرس میں ان کی رقم، ڈیبٹ، کریڈٹ، شناختی کارڈ اور کہیں زیادہ قیمتی معلومات بھی پرس میں موجود تھیں لیکن اس سے بھی بڑا المیہ یہ تھا کہ وہ ابھی حال ہی میں بیرون ملک سے آئی تھیں، اس لیے اس پرس میں موجودہ جگہ کا کسی بھی قسم کا فون نمبر اور ایڈریس موجود نہیں تھا۔ ان کو یہ بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ اصل میں پرس  گرا کہاں ہے؟  انہوں نے وہ سارا راستہ چھان مارا جہاں ان کو گمان تھا کہ پرس گر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے راستے میں موجود کئی گھروں پر دستک دے کر معلوم بھی کیا اور انہیں آگاہ بھی کیا کہ اگر آپ کو وہ پرس ملے تو مجھے اس نمبر پر کال کریں لیکن ندارت! ان خاتون کے پاس دنیا کے ہر انسان کی طرح دو آپشنز تھے: 1) ایک یہ کہ وہ اپنی قسمت کو روتی رہے ہیں، خود کو کوستی رہیں اور اپنے نصیب پر آنسو بہاتی رہیں۔ اس صورتحال میں وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو کر کسی بھی قسم کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوسکتی تھیں۔ وقت ضائع کر کے، صحت کو خطرے میں ڈال کر اور اپنی زبان خراب کرنے کے بعد بھی ان کا پرس بہرحال ان کو نہیں ملنا تھا۔ 2) دوسرا راستہ برداشت کا تھا۔ وہ اپنے نصیب پر صبر آجاتا، وہ حالات کے دھارے پر خود کو چھوڑ دیتیں۔ جب جب اس پرس کے گرنے یا گم ہونے اور نہ ملنے کا ذکر نکلتا ان کے دل میں ایک ٹیس اٹھتی اور وہ بولتیں کہ خدا کو شاید یہی منظور تھا۔ ہم تو اس کی رضا پر راضی ہیں لیکن انہوں نے تیسرا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور یہ "شکر" کا راستہ تھا۔  دن بھر میں جب بھی ان کو خیال آتا کہ ان کا نہایت ہی قیمتی پرس گم ہو گیا ہے تو  وہ کسی کونے میں بیٹھ کر اللہ تعالی کا "شکر" ادا کرنے لگتیں آنکھیں بند کرکے سوچنے لگتیں کہ دروازے پر دستک ہوئی ہے اور کسی نے ان کا پرس ان کو واپس کردیا ہے۔ اب وہ اس پرس کو کھول کر دیکھ رہی ہیں اور اس میں سارا سامان جوں کا توں موجود ہے۔ اس طرح کرنے سے ان کی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی، امید کی کرن جل اٹھتی اور شکرگزاری کے جذبات دل میں موجزن ہو جاتے۔ ان کو یہ عمل کرتے ہوئے دو دن ہو گئے تھے۔ ان کی طبیعت اور مزاج میں خوشگواری کا احساس تھا۔ دل اور دماغ سے ہر قسم کی پریشانی، شکوہ اور شکایت ختم ہو چکی تھی کہ اچانک ان کے فون پر ایک انجان نمبر سے کال موصول ہوئی۔ فون اٹھایا تو دوسری طرف دیہاتی اندازمیں کوئی گفتگو کر رہا تھا اس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ایک پرس ہے اور اس نے بڑی مشکل سے پتہ لگایا ہے کہ شاید یہ آپ کا ہی ہے۔ خاتون نے پوچھا کہ آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟ دیہاتی نے جواب دیا کہ...

نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے نام 

دنیا والوں کی طرف سے مسلسل پہنچائی جانے والی ایذارسائیوں سے دل برداشتہ ہو کر آپ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ۔ سوچا کہ آپﷺ کو بتائوں کہ ہم وہی اجنبی ہیں جو آپﷺ کے سلام کے مستحق بننے کے لیے کوشاں ہیں، جن کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا تھا کہ" سلام ہو ان اجنبیوں پر"۔ آج کفار ہم پر بالکل اسی طرح حملہ آور ہیں جیسا آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  بتا کر گئے تھے؟۔  انھوں نے تو ہمیں واقعی دسترخوان پر موجود کھانوں کی مانند سمجھ لیا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ آسمان گرتا ہے نہ کوئی شہابِ ثاقب ٹوٹتا ہے۔ ہم  بڑی تعداد میں  ہونے کے باوجود بےبس و لاچار ہیں۔ اور دوسری طرف ہمارے ساتھی مسلمان نیند کی دوا کھائے عالم مدہوشی میں ہیں۔ آپ ﷺنے ہی تو فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ آج اس جسم کے بیشتر اعضاء شدت تکلیف کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں لیکن باقی جسم کے حصے اس تکلیف کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ ﷺنے ہی تو فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب دین پر چلنا انگارے کو ہاتھ میں تھامنے کے مترادف ہوگا ۔ ہمیں دیکھیے ہم اپنے ہاتھ میں انگارے تھامے دین پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دنیا والے ہمیں زخمی کرتے ہیں۔ کبھی طنز و نشتر سے کبھی اپنی استہزائیہ مسکراہٹ سے۔ اور ہم۔۔۔ ہم آپ ﷺکی "فطوبی للغرباء" والی حدیث یاد کرکے پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔  آپﷺ کی باتیں ہمارے زخموں پر مرہم لگانے کے لئے کافی ہیں۔ یہ لوگ ہمیں مکے کی سختیاں اور طائف کے پتھروں کی یاد تازہ کرواتے ہیں۔ ہم تیز ہوا کے جھونکوں کے سامنے اپنے ایمان کے ٹمٹماتے دیوں کو بچانے کی ادنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دنیا کی رعنائیاں اپنی مقناطیسیت لیے چہار جانب سے ہمیں اپنی طرف مائل کرنے کی تگ و دو میں مسلسل مصروف ہیں۔ پیارے رسول ﷺ  یہ لوگ ایسے جی رہے ہیں جیسے کبھی مرنا ہی نہیں اور پھر ایسے مر جاتے ہیں جیسے کبھی جیے ہی نہیں۔  یہ لوگ آپﷺ کی اس حدیث کو فراموش کیے بیٹھے ہیں کہ ایک مسلمان کی جان، اس کا مال، اس کی آبرو دوسرے مسلمان کے لیے کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ باعث احترام ہیں۔ مگر یہ لوگ۔۔ ۔  یہ لوگ تو ایک دوسرے کا مال ہڑپنے کے لیے جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ بھلا کیسے بھول سکتے ہیں کہ کل ہمیں آپﷺ کا سامنا کرنا ہے؟ ۔ روز محشر یہ کیسے تسلیم کریں گے کہ کس طرح دنیا میں ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑتے رہے؟۔ آپ ﷺکا وہ فرمان عالی شان آپ کے دیگر فرامین عالیہ کی طرح  کس قدر بر حق ہے کہ دنیا مومن کے لئے اک قید خانہ ہے، میں اس جہان فانی کے مستعار شب وروز میں خود کو بندشوں میں جکڑا ہوا محسوس کرتی ہوں۔۔ ہر قدم پر رکاوٹ اور ہر اقدام پر بندشیں۔۔ آپ ﷺمجھے بہت یاد آتے ہیں۔ نا جانے کتنا عرصہ باقی ہے جب آپ سے...

خونِ شہید رنگ لائے گا ان شاء اللہ

انجینیر محمد مرسی، سابق صدر جمہوریۂ مصر کی شہادت کی خبر ملتے ہی زبان پر یہ آیت  جاری ہوگئی: مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ‌ۚ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ‌ ۖ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا( الاحزاب :23 ) ” ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔  انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ "          ہاں، انجینیر محمد مرسی !          ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔          اس سے جو نذر مانی تھی اسے پورا کردیا۔           آپ کے رویّے میں زندگی کی آخری سانس تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔           ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا : ” اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، اس حال میں کہ میں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا ہو اور صرف اللہ ہی سے اجر چاہا ہو، منھ آگے ہی رکھا ہو اور پیٹھ نہ دکھائی ہو، تو کیا میری خطائیں بخش دی جائیں گی؟” اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :” ہاں” (احمد :8075)       ہاں، انجینیر محمد مرسی !       آپ کو اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا ہے۔       آپ نے بے مثال صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔      آپ راہِ حق پر ڈٹے رہے ہیں۔      آپ نے پیٹھ نہیں دکھائی ہے۔     آپ بارگاہِ الٰہی میں سرخ رُو پہنچے ہیں۔        موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ ہر ایک کو مرنا ہے۔ روزانہ سیکڑوں لوگ طبعی موت مرتے ہیں، لیکن کتنی پُر سعادت موت ہے جو اللہ کی راہ میں آئے اور آدمی کو شہادت کے بلند درجے پر فائز کردے۔         بیسویں صدی میں دنیا کے مختلف ممالک میں احیائے اسلام کی تحریکیں برپا ہوئیں، لیکن قید و بند اور شہادت کی آزمائشوں کی جو تاریخ مصر کی اخوان المسلمون نے رقم کی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ اس کے بانی کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ اس کے متعدد رہ نماؤں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا، اس کے ارکان کو ہزاروں کی تعداد میں کال کوٹھریوں میں ٹھونس دیا گیا۔ آزمائشوں کا شکار ہونے والوں میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی، لیکن کسی کے پائے استقامت میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی۔             آزمائش کا ایک دور محمد مرسی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ چلا جب قانونی طور پر منتخب حکومت کو ایک سال ہی کے اندر 2013 میں معزول کردیا، احتجاج کرنے والے کئی ہزار اخوان مردوں، عورتوں، بچوں اور بچیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا، اخوان رہ نماؤں اور صدر محمد مرسی کو جھوٹے الزامات لگاکر جیل کی سلاخوں میں قید کردیا گیا۔ چھ سال کے اس عرصے میں ان پر بدترین مظالم ڈھائے گئے، بھیانک تشدد کیا گیا، یہاں تک کہ آج اس کی تاب نہ لاکر وہ کمرۂ عدالت ہی میں غش کھاکر گر پڑے اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔              یہ ظالم کیوں نہیں سوچتے کہ اس طرح وہ غلبۂ اسلام...

قصیدہ بُردہ شریف

دنیائے عشقِ حقیقی کا مدحت و ثنا خوانی پر مبنی ایک ایسا شہرہئ آفاق کلام جسے سرکارِ دوعالم خاتم النبیین والمرسلین والمعصومین حضور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں لکھا گیا۔ اس بابرکت کلام مبارک اور اس کے خالق کو بدولتِ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ وہ مقام حاصل ہوا جو بہت کم عشاقوں اور اُن کے کلاموں کو نصیب ہوا ہے۔ قصیدہ بردہ شریف پر روشنی ڈالنے سے قبل اس عظیم الشان مدحت کے خالق حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ کا مختصراً تعارف قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبد اللہ البوصیری ؒ ؒ یکم شوال 608ھ اور بعض روایات کے مطابق یکم شوال 610ھ میں بھشیم کے مقام پر پیدا ہوئے۔ حضرت شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ نے دلاس میں پروش پائی۔آپؒ نسلاً" بربر " تھے۔ حضرت شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ روحانی سلسلہئ شاذلیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ولی العصرحضرت ابو العباس احمد المرسیؒ سے بیعت تھے جوقطب اوّل حضرتِ عالی مقام قبلہ ابو الحسن شاذلی ؒ کے خلیفہ تھے۔حضرت ابو الحسن شاذلی ؒسلسلہئ شاذلیہ کے بانی اور اپنے شیخ حضرت عبدالسلام بن مشیشؒ کے خلیفہ تھے اور حضرت عبدالسلام بن مشیش ؒ، حضرت اما م ابوالمدین غوث المغربی ؒ کے خلیفہ تھے جو ماہتاب ِ ولایت، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ تھے۔ یعنی اگر یہ کہا جائے تو یقیناً غلط نہ ہوگا کہ حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیریؒ روحانی اعتبار سے پیرانِ پیر محبوبِ سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی چوتھی روحانی پشت میں بطورامامِ بر حق اور ولی اللہ کے آسمان ِرشد و ہدایت پرایک روشن تارے کی مانند نمودار ہوئے۔حضرت شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ ؒ ایک مصری شاعر تھے آپ نے مصر کے ایک گاؤں جس کا نام" بو صیر ی" تھاابن ِ حناء کی زیرِ سرپرستی میں متعدد شاعرانہ کلام لکھے۔آپ ؒ کی تمام تر شاعری کا محور مذہب اور تصوف ہی رہا۔آپ ؒکے تمام کلاموں میں سے سے زیادہ مشہور و مقبول کلام "قصیدہ بردہ شریف " ہے جو شافع محشر،ساقی کوثر، خاتم النبیّین والمرسلین والمعصومین حضور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی مدحت و ثنا خوانی پر مبنی ہے۔حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ کا وصال مصر کے شہر اسکندریہ میں ہو۔ آپ ؒ کے سنہئ وصال کی مختلف روایات ہیں۔ آپ ؒ کا وصال 694ھ، بعض کے مطابق 695ھ اورکچھ کے مطابق 696 ھ میں ہوا۔ حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ " فسطاط "کے مقام پر مسلک شافعی کے بانی، فقیہ اُمت، مجدد العصر، امامِ دین و ملت، قبلہ حضرت اقدس جناب امام شافعی ؒ کے قرب میں مدفون ہیں۔ قصیدہ بردہ شریف کو "قصیدۃمحمدیہ "بھی کہا جاتا ہے۔ بردہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی چادر ہے۔ قصیدہ بردہ شریف کا مکمل نام "القصیدۃالکواکب الدریہ فی مدح خیرالبریہ " ہے۔اس قصیدے میں کُل 162 اشعارہیں۔ قصیدہ بردہ شریف کا...

عِید کی خوشیاں اور اِنسَانی تعلّقات کا بُحران

ہمارے زمانے تک آتے آتے عید بھی طبقاتی محسوس ہونے لگی ہے اور اس کا اثر بچوں کے مزاجوں تک پر پڑا ہے۔ چنانچہ لاکھوں والدین کے لیے عید ایک اندیشہ بن جاتی ہے اسلام اتنا ’’حقیقی‘‘ ہے کہ وہ مسلمانوں کو غم کیا، خوشی میں بھی ’’وقار‘‘ سے محروم نہیں ہونے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں تہواروں کی بہتات ہے نہ میلوں ٹھیلوں کا کلچر۔ اسلام کے اصل تہوار صرف دو ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ ان تہواروں کی ’’مسرت‘‘ اپنی اصل میں روحانی بھی ہے اور نفسیاتی اور جذباتی بھی۔ ان تہواروں کا ایک مرکز خدا ہے، اور دوسرا مرکز انسان اور ان کے باہمی تعلقات۔ ان تہواروں کا خدا مرکز ہونا شعورِ بندگی کی علامت ہے، اور انسان مرکز ہونا فروغِ انسانیت اور فروغِ محبت کا استعارہ ہے۔ اس لیے کہ ان تہواروں سے مسلمانوں کی وحدت اور شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ ان باتوں کو آسان پیرائے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ مسلمانوں کی مسرت کا مرکز یا تو خدا ہے، یا اس کے انسانی رشتے اور تعلقات۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانوں کا شعورِ بندگی تو عیدین پر نماز دوگانہ کے ذریعے آشکار ہوجاتا ہے اور مسلمان اپنی نفسی حالت کے مطابق ان نمازوں کی ادائیگی سے روحانی مسرت کشیدکرلیتے ہیں۔ لیکن انسانی تعلقات سے حاصل ہونے والی خوشی مدتوں سے کمیاب ہے۔ اس کمیابی کا بنیادی سبب انسانی تعلقات کا بحران ہے۔ اس بحران کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ خاندان، خاندان نہیں رہے… والدین، والدین نہیں رہے… اولاد، اولاد نہیں رہی… شوہر، شوہر نہیں رہے… بیویاں، بیویاںنہیں رہیں… عزیز، عزیز نہیں رہے… رشتے دار، رشتے دار نہیں رہے… دوست، دوست نہیں رہے… پڑوسی، پڑوسی نہیں رہے… بزرگ، بزرگ نہیں رہے… خورد، خورد نہیں رہے۔ نتیجہ یہ کہ انسان، انسان نہیں رہے… زندگی، زندگی نہیں رہی۔ چنانچہ زندگی سے حقیقی خوشی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوچکی ہے۔ شاعر نے کہا ہے ؎ اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے اسلام کے دائرے میں خاندان کا ادارہ اصولِ توحید کے سماجی مظہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاندان پورا معاشرہ بلکہ پوری تہذیب ہے۔ جب معاشرے اور تہذیب میں کوئی بڑا عدم توازن پیدا ہو تو جان لینا چاہیے کہ خاندان کے ادارے میں کوئی بڑی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ مسلم معاشرت میں خاندان کا ادارہ بڑا مضبوط تھا اور بڑا خوبصورت بھی، مگر ہمارے روحانی، اخلاقی اور علمی زوال نے اس ادارے کو بنیادوں سے ہلا دیا۔ اسلام خاندان کے کسی ایک تصور یا کسی خاص قسم پر اصرار نہیںکرتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک طویل مدت تک مشترکہ خاندانی نظام ہماری تہذیب کا مرکز تھا۔ ہمیں مشترکہ خاندانی نظام میں پروان چڑھنے اور رہنے کا تجربہ ہے۔ بلاشبہ اس نظام میں کچھ خامیاں بھی تھیں، مگر اس کی خوبیاں خامیوں سے زیادہ تھیں۔ ہمیں یاد ہے کہ اس خاندانی نظام میں رمضان اور عید بہت بڑے تجربے یا بہت بڑی روحانی مسرت سے بھری ہوئی واردات کی حیثیت سے وارد ہوتے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ماس-ٹر

محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ“مار نہیں پیار“نوٹیفیکیشن سے قبل ماسٹر(استاد)کو ایسے خطرناک کردار کے طور پرمعاشر ہ میں پیش کیا جاتاتھا کہ جس کو دیکھتے ہی طالب علم کے جسم کا ماس(skin)ٹر،ٹر کرنا شروع کردیتا تھا۔میرا ایک دوست فرخ الحسن بھٹی بچپن سے ہی پختہ عزم کئے ہوئے تھا کہ اسے بڑے ہو کر اس وجہ سے ماسٹر بننا ہے کہ جتنا ماسٹروں نے اسے مارا ہے خود ماسٹربن کربچوں کو مار پیٹ کر اپنا بدلہ لینا ہے،ماسٹر تو نہ بن سکا البتہ محکمہ جنگلات میں آجکل ٹمبر کوخوردبرد کرنے میں کافی ”ماسٹر“ہو گیا ہے۔اپنے ماسٹرپن کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ کیا ہوا درخت کٹوا کے پیچ دیا ایک کی بجائے دس درخت لگواتا بھی تو ہوں،کیا فلسفہ ہے کالے دھن کو سفید کرنے کا،اس کے اسی فعل کو دیکھتے ہوئے میں نے اسے کتنی بار سیاست میں آنے کا مشورہ دیا ہے۔اس کے ماسٹر پن کی ایک مثال ملاحظہ ہوکہ ایک بار جوکالیہ بیلا فاریسٹ میں نئے پودے لگانے کا حکم صادر ہوا،موصوف نے کہیں نئی گاڑی خریدنی تھی تو ظاہر ہے پودے نہ لگوا سکا۔اتفاق سے سیکرٹری فاریسٹ کا دورہ تھا،جناب انہیں گھنٹہ بھر لانچ میں بیلا کے ارد گرد گھماتا رہا،سیکرٹری کے پوچھنے پر کہ کیا تم نے پودے لگوائے بھی ہیں کہ ایسے ہی ہمیں گھماتے جا رہے ہو۔فرخ نے نہائت معصومیت سے جواب دیا کہ سر دریائی علاقہ ہے پانی کا کیا بھروسہ،ہو سکتا ہے کہ دریا کا پانی بہا کے لے گیا ہو۔موصوف برطرف ہوئے اور ماموں کی سفارش سے نوکری پر بحال ہوئے اور انہیں پیسوں سے خرید کردہ گاڑی پر دفتر حاضری دینے پہنچ گئے۔اب آپ ہی بتائیں کہ اس سے بڑا ماسٹر کوئی ہو سکتا ہے۔مگر جس ماسٹر کی بچپن میں فرخ بھٹی بات کیا کرتا تھا اس سے مراد سکول اساتذہ تھے۔وہ تو ماسٹر نہ بن سکا البتہ میں فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ چھوڑ کر دوحہ قطر میں ضرور ایک پاکستانی اسکو ل میں ماسٹربن گیا۔اب میرے پاس سب کچھ ہے ماسوا پیسے کہ کیونکہ فرخ کا کہنا تھا کہ استاد کا کام پیسہ کمانا نہیں یہ کام دیگر”پیشہ ور“لوگوں کا ہے۔جب پیسے کی اہمیت کی سوچ اجتماعیت کی سوچ بن جائے گی تو ماسٹر بھی تو ایسا ہی سوچنے والے ہونگے جیسے کہ ایک گاؤں میں اسکول میں معائنہ ہورہا تھا اور ماسٹر صاحب بچوں کو cupسپ(سانپ) پڑھا رہے تھے انسپکٹر نے اعتراض کرتے ہوئے ماسٹر نے کہا کہ سر یہ سپ نہیں بلکہ کپ ہوتا ہے تو استاد محترم استادی دکھاتے ہوئے بڑے معصومانہ انداز میں گویا ہوئے کہ سر جب تک میری تنخواہ نہیں بڑھائی جائے گی اس وقت تک cup سپ ہی رہے گا۔ ایک بار مجھے ایک طالب علم نے پوچھا کہ سر یہ استاد اور ماسٹر میں کیا فرق ہے تو میں نے جواب دیا کہ ماسٹر و ہ ہوتا ہے کہ وہ جب بچے کو مارے تو ماس ٹر،ٹر ہو جبکہ استاد مارتے ہوئے بھی ایسی استادی دکھا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔میرے ایک استاد محترم تھے جن کے پاس ایک سہراب کی سائیکل تھی وہ...

  واقعی بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ 

زندگی کی یکسانیت کے ہاتھوں تنگ آکر دماغ میں کچھ نیا کرنے کا سمایا۔ ذہن پر زور دینے کے لیے بھاری کتابوں کا سہارا لیا لیکن اس ناہنجار دماغ نے کچھ نیا نہ سجھایا۔ سوچا چلو قریبی دوست کے پاس جا کر مشورہ کیا جائے، گھر سے باہر قدم  نکالنے ہی والے تھے کہ دھوپ کی شدت دیکھ کر دوست کی بات یاد آگئی۔" زیادہ تیز دھوپ میں ہرگز باہر نہ جانا سورج کی روشنی سے بھوسا جلدی آگ پکڑ لیتا ہے۔" اپنے سر کی خیریت اسی میں جانی کہ شام تک انتظار کیا جائے۔ اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ ڈور بیل کی آواز سنائی دی دروازہ کھولا تو سامنے محلےدار خاتون کو پایا جو حال ہی میں یہاں شفٹ ہوئی تھیں۔ انھیں اندر بلاکر امی کو ان کے آنے کی اطلاع دی باتوں باتوں میں پتا چلا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ٹیوشن ڈھونڈ رہی ہیں۔ ہمارے دماغ میں ٹیوشن پڑھانے کا خیال وارد ہوا جسے ہم نے عملی جامہ پہنانے کا سوچا اور فورا ً ہی اپنی خدمات پیش کر دیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصادق انھوں نے بھی فوراً ہامی بھرلی۔ دوسرے دن وہ اپنے دو بچوں مع   اپنی بہن کے تین بچوں  کے تشریف لے آئیں۔ بچے ان کے سامنے جس شرافت کا مظاہرہ کر رہے تھے اسے دیکھ کر انگ انگ خوشی سے نہال ہوگیا کہ بچے نہایت تمیزدار اور سمجھ دار ہیں۔ اپنی امی کے جانے کے تھوڑی دیر بعد بچوں نے وہ رنگ ڈھنگ دکھائے کہ چودہ کیا اٹھائیس طبق روشن ہوگئے۔ خیر بچوں کو جلدی چھٹی دےکر گھر بھیجا اور ان سے نمٹنے کے طریقے سوچنے لگے۔ بالآخر بچوں کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ سوچ ہی لیا۔ دوسرے دن بچوں کے آتے ہی انھیں چاکلیٹ دکھا کر آرام سے بیٹھ کر پڑھنے والے بچوں کو دینے کاوعدہ کیا۔ اس اعلان  سے خاطر خواہ فائدہ ہوا مگر اس کے بعد ۔۔۔۔ "مس! پڑھنا کیوں ضروری ہے؟" "اس لیے تاکہ آپ پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بن سکیں۔" "مس عالم چنہ جتنا؟" "مس ، مس! لڑکے پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بنتے ہیں تو کیا میں بڑی عورت بنوں گی۔ " میں نے اپنا سر پکڑ لیا اور ڈپٹ کر کام مکمل کرنے کاکہا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ۔۔۔۔۔ "مس! یہ مجھے پڑھنے نہیں دے رہا۔" " کیوں بھئی کیا مسئلہ ہے آپ کیوں پڑھنے نہیں دے رہے۔" " مس میں تو کچھ بھی نہیں کررہا۔" "مس! یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ میں اپنا یاد کررہا ہوں "قائد اعظم نے فرمایا" تو یہ بول رہا ہے "تو چل میں آیا". " میں نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے دونوں کو ڈانٹا تو ایک نیا معرکہ شروع ہوگیا۔ "مس! یہ مجھے جھوٹی کہہ رہی ہے۔" "مس! یہ کہہ رہی تھی کہ اس کی امی نے کہا ہے اب ہمیں کھانا کھانے اور سانس لینے پر بھی ٹیکس دینا پڑیگا۔"  .کچھ سوچتے ہوئے  " مس یہ ٹیکس کیا ہوتا ہے۔"  "بےوقوف !تمہیں اتنا بھی نہیں پتا۔ میرے ابو بتا رہے تھےجب حکومت دوسرے کے کیے ہوئے جرم کی سزا کے لیے عوام سے پیسے لے کر انکا خون نچوڑتی ہے تو اسے ٹیکس دینا...

ڈنڈا پیر

میرے استادِ محترم شفیع صاحب اکثر نالائق بچوں کو کام نہ کرنے پر سزا دیتے ہوئے اپنی گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ایک موٹا ڈنڈا ہاتھ میں گھماتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ”وگڑیاں تِگڑیاں دا ڈنڈا پیر“اور پھر اسی ڈنڈے سے بچوں کے وہ کس اور ”بل“ نکالتے تھے کہ جسم کے ایک ایک انگ سے ”پیڑاں“نکلنی شروع ہو جاتی،یا پھر کہا کرتے تھے کہ ”آسمان سے چار کتابیں اور ایک ڈنڈا نازل ہوا ہے“پہلی بات تو سیدھی سادھی سی تھی اس لئے سمجھ آگئی کہ جو نالائق ہیں ان کے بستے بھاری اور ذہن خالی ہوتے ہیں اس لئے ان کا علاج ڈنڈا ہی ہو سکتا ہے جبکہ دوسری ضرب المثل کبھی کھاتے نہیں پڑی کہ جب زمین جنگلات سے بھری ہوئی ہے تو پھر ڈنڈے کو فلک سے نیچے کیوں اتارا گیا،ذرا ہوش سنبھالا تو خود ہی اندازہ لگایا کہ ہو سکتا ہے جو لوگ الہامی کتابوں پر عمل پیرا نہیں ہونگے ان پر سختی برتنے کے لئے ڈنڈے کا نزول بھی کر دیا گیا ہو۔بروزن ”ڈبہ پیر“ایک عرصہ تک”ڈنڈا پیر“کو بھی کسی آستانہ عالیہ و درگاہ شریف کا گدی نشین ہی خیال کرتا رہا کہ ہو سکتا ہے یہ کوئی ایسا پیر ہو جو مریدوں کا علاج ڈنڈے سے کرتے ہوں جس کی نسبت سے ڈنڈا پیر معروف ہو گیا ہو وہ تو اس وقت سمجھ آئی جب شریف صاحب نے ہماری تشریف پر ایک دن گھر کا کام نہ کرنے پر ڈنڈوں کی ایسی برسات کی کہ خدا پناہ۔ عصرالاقدام میں ڈنڈے سے وہی کام لیا جاتا تھا جو آج کل کلاشنکوف یا پسٹل سے لیا جاتا ہے۔یقین کے لئے اپنے پٹھان بھائیوں کی پرانی تصاویر پر غور فرمائیے گا تو ہر بزرگ کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا دکھائی دے گا جبکہ آج کے دور کی تصویر ملاحظہ فرمائیں تو ڈنڈے کا نعم البدل کلاشنکوف ہو گی۔برصغیر پاک و ہند کی روائت بھی رہی ہے کہ پرانے بزرگ دوران سفر اپنے ساتھ دو چیزوں کو ضرور ساتھ رکھتے تھے،کتا اور ڈنڈا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں کے بے شمار فائدے ہیں،مثلاً دشمن اگر ڈنڈے سے نہ مرے تو یہ کام کتے سے لیا جا سکتا ہے اور کتا اپنے فرائض آوری سے کوتاہی برتے تو ڈنڈا کام دکھا سکتا ہے۔ان دنوں ڈنڈا چلانے میں مشاقی حاصل کرنے کے لئے نوجوانوں کو باقاعدہ ”گتکا“(ایک گیم) سکھایا جاتا تھا اور پولیس میں بھرتی کرتے ہوئے مختلف سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی کیا جاتا تھا کہ کیا تمہیں گتکا کھیلنا آتا ہے۔ممکن ہے یہ ڈنڈا بردارپولیس اسی دور سے چلی آرہی ہو۔پا کستان میں تو خیراس پولیس کی اتنی اہمیت نہیں اکثر اس پولیس کو جلسے جلوسوں،میلوں،یا قبضہ لینے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے ہاں البتہ ایک بار سعادت عمرہ کے دوران جنت البقیع کے باہر موجود تھا کہ ایک دم لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا،ایسے میں کسی نے آواز لگائی کہ ڈنڈا بردار پولیس آگئی بھاگو،اگرچہ ان کے پاس جو ڈنڈے تھے وہ ہمارے پولیس والوں کے مقابلہ میں عشر عشیر بھی نہیں تھے تاہم ان کا رعب و دبدبہ ایسا تھا...

عجیب پاکستانی ہوں

پاکستانی اتنے غریب نہیں ہونگے جتنے عجیب ہیں۔ ہر مرد عورت اپنے آپ میں ایک وکھرا نمونہ ہے۔ پاکستانیوں میں ایک عادت بڑی '' عام '' ہے۔ جو ہر پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان میں بدرجہ اتم موجود ہوگی۔ اتنے چسکورے ہیں کہ ہر بات کا پتہ ہونے کے باوجود منہ کراراے کیے جاتے ہیں۔ جیسے کوئی '' چائے '' پی رہا ہو تو دوسرا باہر سے آنے والا بصارت جیسی نعمت سے مستفید ہونے کے باوجود بھی حیرت سے پوچھے گا '' چائے پی رہے ہو ''۔ اب ظاہر ہے چائے کے کپ میں خون پینے سے تو بندہ رہا۔ ہمارے رشتہ داروں میں میں کسی کے آنے پر اسے آواز نہ کرنا پرلے درجے کی گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ آواز کرنے سے مراد یہ کہنا ہوتا ہے '' آئے ہو '' اگر کوئی بزرگ ہو تو بس لفظ کو ذرا کھینچ کر لمبا کر کے '' راااااااااااااالے '' کہنا ضروری ہے اور ایسا نہ کرنے والے کی مٹی ایسی پلید کردی جاتی ہے کہ دنیا کے نکھٹو، منحوس، اور بے ادب بھگوڑا انسان کی مہر اس پر لگا دی جاتی ہے۔ جب بھی ہری پور جانا ہوا جس رشتہ دار کی طرف بھی جاؤ پہلا سوال یہی ہوگا '' آئی ہو '' جس پر میں آرام سے بس یہی کہہ دیتی ہوں۔ '' نہیں! ابھی راستے میں ہوں۔'' اب بندہ پوچھے راستے میں ہوتا تو گھر کیسے تشریف لاتا ظاہر ہے گھر تک پہنچا ہے تو آیا ہی ناں۔ اچھا __ اگر آپ بازار چلے جاؤ اور بدقسمتی سے کوئی واقف مل جائے تو چھوٹتے ہی یہی سوال پوچھے گا '' بازار آئے ہو ''۔ اس بے تکے سوال پر بندہ ہونق بنا بٹر بٹر دیکھنے لگتا ہے کہ شاید غلطی سے پہلوانوں کے اکھاڑے یا کسی فیکٹری میں تو نہیں گھس گیا۔ چلو پہلے جوتا خریدتے ہیں اس سوچ کے آتے بندہ اچھی طرح تسلی کرنے کے بعد جیسے ہی شوز ہاؤس میں داخل ہوتا ہے دکاندار کا پہلا سوال حواس باختہ کردیتا ہے۔ '' ہاں جی! میڈم جوتا لینے آئے ہیں '' '' نہیں بھائی! گرم مصالحہ، برتن دھونے والا صابن اور ہاں ساتھ ایک سرف کا پیکٹ بھی دے دو '' کوفت سے سوچتے چپ چاپ جوتا پسند کرنے میں ہی بندہ بہتری جانتا ہے۔ کچھ دن پہلے افطار کے لیے کچھ مہمان آئے۔ جیسے ہی مہمان خاتون نے واش روم کی طرف قدم بڑھائے میں نے مروتاً، جبراً، کنایتاً، اشارتاً غرض ہر طرح سے دانتوں کی نمائش کرتے حق میزبانی کے ساتھ حق پاکستانی ادا کیا۔ '' آنٹی جی! واش روم جارہی ہیں '' '' نہیں بیٹا! ایک میٹنگ ہے وہی اٹینڈ کرنے جارہی ہوں '' سادگی سے دیے گئے جواب نے بھرپور شرمندہ کروا دیا۔ خجالت سے مسکرا دی کہ چلو وطن کی بیٹی اور محب الوطن پاکستانی ہونے کا حق تو ادا کردیا۔ اب انسان کیا شرمندہ ہو! ہماری یہی ڈھٹائی تو ایک دوسرے کے لیے ہنسی کا باعث بنتی ہے ورنہ تو آج کا انسان معاشی بوجھ میں اس قدر دب چکا ہے کہ بتیسی کو ہی ٹھنڈ لگوا بیٹھا ہے۔ '' میں بھی '' عجیب پاکستانی ہوں '' سے اقتباس

افطاری

پاکستانیوں میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہو ایک خصوصیت ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ جب بھی ان سے پوچھا جائے کہ کہاں جا رہے ہو تو360 دائرے نما پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گویا ہوں گے”کھانا کھانے“اور کہیں سے آرہے ہوں تو بھی برابر جواب وہی ملے گا کہ ”کھانا کھا کے“۔گویا کھانا ہی زندگی ہے،حکما کا خیال ہے کہ انسان کو زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا چاہئے جبکہ ہم پاکستانیوں کا خیال ہے کہ کھانے کے لئے زندہ رہا جائے اور وہ بھی کسی کے کھاتے سے۔اس مرض میں ان پڑھ اور پڑھے لکھے سبھی شامل ہیں اپنے ایک پڑھے لکھے ادبی دوست سے ایک باراس کی بسیار خوری کی وجہ پوچھی تو جناب پٹ سے اردو ادب سے ایک حوالہ نکال لائے کہ جناب کیا آپ کے علم میں نہیں کہ ایک بار چچا غالب سے پوچھا کہ آپ کو کھانے میں کیا مرغوب ہے تو انہوں نے کیا کہا تھا کہ”آم ہوں اوربہت ہوں“۔ارے بھائی وہ تو موسمی پھل کاتذکرہ تھا سار ا سال کھانے کی تھوڑی بات ہو ری تھی تمہاری طرح۔ویسے ہمیں دو مواقع پر خوب کھانے کا موقع میسر آتا ہے،ایک کسی احباب کی دعوتِ ولیمہ اور دوسرا رمضان المبارک میں کسی کے ہاں افطاری۔افطاری کیا کھانے کی رفتار سے ہم اسے افتاری ہی بنا ڈالتے ہیں۔کیونکہ روزہ کشا ہوتے ہی جس رفتار سے روزہ دار کھانے پر یلغار یا دھاوا بولتے ہیں لگتا ہے یہ ان کی زندگی کا آّخری کھانا ہی ہوگا یا پھر کل عید ہوگی۔کہتے ہیں کہ کسی فقیر کو اہل محلہ نے زبردستی روزہ رکھوا دیا تو جب بوقت افطاری اس سے پوچھا گیا کہ تم سب سے پہلی دعا کون سی کرو گے تو کہنے لگا کہ ”کل عید ہوجائے“۔ایسے ہی ایک روائت ہے کہ کسی گاؤں میں نمبردار نے اعلان کر دیا کہ گاؤں میں کسی بھی شخص کو روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے جو بھی روزہ نہیں رکھے گا اسے کڑی سزا دی جائے گی۔اب گاؤں کے میراثی کوبھی بادل نخواستہ روزہ رکھنا پڑا،اب یونہی سورج سر پر آیا تو میر عالم صاحب اپنے بوریا بستر سمیٹ نمبردار کی حویلی کے سامنے سے بار بار گزر رہے ہوں،تجسس پر نمبردار نے بلا کر پوچھا کہ میر عالم کیا ہوا،یہ بستر اٹھا کر کہاں کا ارادہ ہے،تو میر عالم کہنے لگا کہ سرکار آپ تو مجھے زبردستی روزہ رکھوا رہے ہیں جبکہ ساتھ کے گاؤں کا نمبردار کہہ رہا ہے کہ تم کلمہ بھی نہ پڑھنا اور میرے گاؤں چلے آؤں۔ دوران رمضان مشاہدہ کیجئے گا کہ روزہ دار کی آنکھیں روزہ کشائی سے پہلے بمشکل کھل رہی ہوتی ہیں اور روزہ کشائی کے بعد آنکھوں اور منہ کا کھلنا ناممکن سادکھائی دیتا ہے۔افطاری کو رفتاری خیال کر بے تحاشا کھانے سے پیٹ کا اس قدر برا حشر ہوتا ہے کہ پیٹ بھی بندوں کے نادیدہ پن کو کوس رہا ہوتا ہے کہ یہ اونٹ کا نہیں انسانوں کا معدہ ہے یار۔افطاری کے بعد پیٹ کسی طور بھی پیٹ نہیں لگ رہا ہوتا پورے کا پورا ڈھول دکھائی دے رہا ہوتا...

ہمارے بلاگرز