مفتی محی الدین منصوری

2 بلاگ 0 تبصرے

اردو کے دیس میں اردو پریشان ہے

دنیا کی وسیع عریض کائنات میں ہزاروں قومیں آباد ہیں، ان کی الگ الگ زبانیں،ثقافتیں اور تہذیبیں ہیں اس وقت پاکستان میں ایک محتاط...

ہماری پولیس محافظ یا رہزن

محافظ سرحدوں کی حفاظت میں معمور ہو یا شہر میں شہریوں کی دونوں ہی ہمارے لیے قابل احترام ہے، سرحدوں پر دشمن کے مقابل...

اہم بلاگز

حقیقی مستحق کی تلاش

خالق کائنات اللہ ربّ العزت نے صاحب ثروت طبقے پر ایک متعین مقدار غریبوں اور ضرورتمندوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لئے بطور زکوٰۃ ادا کرنا فرض قرار دیا ہے۔ اور ان پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ مستحقین زکوٰۃ کو تلاش کرکے ادائیگی کریں ۔ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ رمضان المبارک گزررہا ہے جس میں بہت سے مسلمان بھائی اپنی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اس مہینے میںبہت سےاسپتال ، تعلیمی ادارے ، فلاحی خدمات سر انجام دینے والی این جی اوز اور دینی مدارس باضابطہ تشہیر کرکے زکوٰۃ وصول کرتے نظر آتے ہیں جوکہ اس رقم سے فلاحی خدمات سرانجام بھی دیتے ہیں مگر تقریباً نوے فیصد حقیقی مستحقین زکوٰۃ ،زکوٰۃ کے ثمرات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تنگ دستی اور محتاجی کے باوجود اپنی سفید پوشی کسی پر ظاہر نہیں کرتے ، کسی کے سامنے دست دراز نہیں کرتے اور صاحب ثروت طبقہ ان افراد کو یکسر نظر انداز کردیتاہے ۔ حالانکہ یہی وہ حقیقی مستحقین ہیں جنہیں اللہ ربّ العزت کی طرف سے تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے اپنی زمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کرتے ہوئے حقیقی مستحق کو تلاش کریں اوراس کا بہترین طریقہ یہ اپنایا جاسکتا ہے کہ امیر افراد غریب اور درمیانے درجے کے اپنے عزیز و رفقاء سے ، ہمسایوں سے، اور مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دینے والے افراد سے رابطہ رکھیں ، وقتاً فوقتاً ان کی خبر گیری کریں، ان کے مالی حالات اور محرومیوں کا جائزہ لیں اور ان جیسے افراد کے ذریعے دیگر لوگوں کے حالات کا جائزہ لے کر زکوٰۃ کا مال ان حقیقی مستحقین تک پہنچا کر اپنی زمہ داری سے احسن طور پر عہدہ براہ ہوں تاکہ حق حقدار تک پہنچے ۔ نظام زکوٰۃ ایک مضبوط و خوشحال اسلامی معاشرہ کی تشکیل ، غربت کے خاتمے اور انسانی فلاح و بہبود کااہم ترین ذریعہ ہے۔ اسلام میں ادائیگی زکوٰۃ کا حکم سماجی انصاف اور اخلاقی قدروں کومستحکم کرنے کے لئے ہی دیا گیا ہے۔ ادائیگی زکوٰۃ سے مال پاک ہوتاہے اور اس عمل میں نیکی اور افادیت کے بے شمار پہلو ہیں، جس طرح مومن بندہ نماز کے قیام اور رکوع وسجود کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی بندگی اور تذلل ونیازمندی کا مظاہرہ جسم وجان اور زبان سے کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ورحمت اور اس کا قرب حاصل ہو، اسی طرح زکوٰۃ ادا کرکے وہ اس کی بارگاہ میں اپنی مالی نذر اسی غرض سے پیش کرتا ہے اور اس بات کا عملی ثبوت دیتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسے اپنا نہیںبلکہ اللہ تعالیٰ کاہی سمجھتا اور یقین کرتا ہے، اور اس کی رضا و قرب حاصل کرنے کے لیے اس کو پیش کرتا ہے۔ حب مال و دولت جو ایمان کش اور نہایت مہلک روحانی بیماری ہے، زکوٰۃ اس کا علاج اور اس کے گندے اور زہریلے اثرات سے نفس کی تطہیر اور تزکیہ کا ذریعہ ہے۔ اسی بناہ پر قرآن...

مغربی جمہوریت غلامی کا سبب

ہم اصلاح کاری کے نام پر دور المیہ میں ہیں۔ہمارے اصلاحی نظام کے شیشے پر نظر آنے والی لکیریں دراصل نشاندہی کررہی ہیں کہ ہم اصلاح کاری اور اصلاح کاروں کے فریب میں ہیں۔جس کی وجہ سے شکست و ریخت کے آثار اس دیس کے اور پوری امت مسلمہ کے چہرے پر صاف نظر آرہے ہیں اور صرف اتنا ہی نہیں اس دھوکے،جھوٹ اور فریب میں حقیقی نظام کو گم کر چکے ہیں۔اس کی بات کرنے والے ہماری نظروں سے اوجھل ہیں کہ اب اصل کو نقل سے جدا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اصلاح کاری کے نام پر جاگیردارانہ نظام کا فروغ اب کسی خاص ذہینیت کا خاصہ نہیں رہابلکہ اب اس میں پلاستر زدہ چہرے بھی شامل ہوگئے ہیں۔ایک ایسا نظام جس کی بیخ کنی اشد ضروری ہے مگر وہ اتنے شفاف طریقے سے ہمارے معاشرے میں کھیل رہا ہے کہ اب اسے پہچاننا ہی مشکل ہے۔طاقت کا یہ کھیل یوں تو ہمیشہ سے جاری ہے مگر اس وقت مکر فریب اور سچائی میں حد امتیاز کھینچنا آسان تھا اور اب انتہائی مشکل۔ اصلاح کے نام پر ایک اصلاح کار آتا ہے اور اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لیے کمزور کو دباتا ہے اور دبانے کے بعد اسے در گزر،صبر اور برداشت کا درس دیتا ہے۔یہ کھیل بارہا جاری رہتا ہے اور اس سرگرمی کے لیے خاص منصوبے کے تحت تیار کیے گئے لوگ اور سرگرمیاں کی جاتی ہیں تاکہ ایک عظیم اکثریت اس فریب میں گرفتار رہے کہ اچھائی مار کھاجانے اور دبے رہنے کا نام ہے۔ طاقت کا کھیل،غنڈہ گردی اور دہشت کا یہ کھیل کھل کر جس نے کھیلا وہ کچھ حاصل کر بھی لے تو لوگوں کا اعتبار حاصل نہیں کرپاتا۔مگر جنھوں نے یہ کھیل صالحیت اور اصلاح کے پردے میں کھیلا انھوں نے معاشرے کو جھوٹ کے نیزے پر رکھ کر فریب کی تلوار سے قلم کر دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ایسا اس لیے ہے کہ دام تزویر میں لا کر کام نکالنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ باقاعدہ ایسا نظام اور ایسے اذہان تشکیل دیں جو خوف اور مرعوبیت کے تلے دبے ہوئے ہیں۔اس طرح ان کو غلام بنانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ آقائے دو جہاںؐ کی مثالی زندگی کو دیکھیں تو سبق ملتا ہے کہ وہ عورت جو راہ میں کچرا پھینکتی ہے اس ہی کی عیادت کو تشریف لے گئے۔جنھوں نے پتھر مارے کہ جوتے آپ کے مقدس خون سے بھر گئے ان کے لیے دعائے خیر کی۔ایسے کتنے ہی واقعات سے گزرتے ہوئے جب فتح مکہ تک پہنچتے ہیں تو عام معافی کا اعلان فرماتے ہیں۔جی ہاں ہندہ تک کو معاف فرمادیتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہیں اذیت دیتے ہیں اور اذیت دینے والے کو پیغام دیتے ہیں کہ برداشت کرو کہ اللہ نے برداشت کا حکم دیا ہے۔انسان کے صبر کو آزما کر صبر کی تلقین کرنے والے اپنے ظلم کے لیے بڑی آرام دہ رعایت طلب کرتے ہیں۔وہ بھی خدا کے نام پر۔ ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ اپنا مفاد اپنا وقت پورا ہونے تک اپنی مرضی...

رمضان میں کرنے کے کام

وبائی امراض کے باوجود ہر مسلمان خوشی سے نہال ہے اور کیوں نہ ہو؟ اللہ کریم نے ایک مرتبہ پھر اپنی رحمتوں سے نوازا ہے۔ یہ مہینہ ماہ غفران، ماہ رحمت اور ماہ نجات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ اللہ رب العزت کے حضور گڑگڑا کر مانگنے اور منوانے کا مہینہ ہے، جس میں ہر مسلمان اپنے رب کوراضی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ انسان میں روحانی صفات پیدا کرتا اور جسمانی صحت عطاء فرماتاہے۔ بندہ کو خدا کے قریب کرتا اور گناہوں کی آگ بجھا کر دین کی شمع روشن کرتا ہے۔ اس لیے ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں "روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر بھی میں دوں گا۔"حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سرکاردوجہاں کا ارشاد نقل فرماتے ہیں "رمضان میں جنت کے سب دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پورا ماہ کوئی دروازہ بھی بند نہیں ہوتا۔ سرکش شیاطین زنجیروں میں قید کرلیے جاتے ہیں۔" اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس سہولت سے مستفید ہونے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے دلوں کو صاف کرنا ہوگا۔ حسد، بغض، کینہ، نفرت، تعصب اور عداوت نہیں ہونی چاہیے۔ جب تک دلوں میں یہ غلیظ بیماریاں رہیں گی، دل میں نیکی، تقوی اور خلوص کا نور نہیں آئے گا۔ جیسے لالٹین کا شیشہ جتنا صاف ہوتا ہے اتنا ہی دور تک چمکنا اور صاف روشنی پہنچاتا ہے۔ ہمیں نماز تہجد، استغفار، صلوۃ التسبیح کا اہتمام کرنا ہوگا۔ سب سے اہم کام اس مقدس مہینے میں گناہوں سے اجتناب کرنا ہے۔ آنکھ، کان، ہاتھ اور زبان کے ہمہ قسم کے گناہوں مثلا بدنظری، جھوٹ، موسیقی، رشوت ستانی اور کسی کی دل آزاری سے مکمل طور پر بچنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مقدس مہینے میں اللہ کے حضور خوب گڑگڑا کر دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں، یقینا بڑے ہی پریشان کن ہیں اس کی خود ساختہ وجوہات چاہے ہم جتنی بھی نکال لیں اصل اور حقیقی وجہ یہی ہے کہ ہمارا رب ہم سے روٹھ گیا ہے۔ روٹھنے کی وجہ بھی بالکل صاف اور سیدھی سی ہے، کہ ہم نے صرف اس کی نافرمانیوں پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ شرم و حیاء کے تمام ضابطے علی الاعلان توڑے ہیں۔ اس بے حیائی اور عریانی کو اجتماعی طور پر بھی فروغ دیا گیا ہے اور انفرادی بھی۔ اجتماعی کی مثال ہمارا میڈیا خصوصا سوشل میڈیا، جس میں ٹی وی ڈراموں، فلموں حتی کے کاروباری اشتہارات میں بھی فحش مناظر دکھا دکھا اس قدر بیمار ذہنیت کا حامل بنادیا ہے۔ اب وہ ایسی ہی چیزوں کو پسند کرنے لگے ہیں۔ آج سے یہ عہد کرنا ہے کہ یہ رمضان ہم نے سابقہ تمام رمضانوں سے الگ اور منفرد گزارنا ہے۔ پہلے اگر ہم رمضان میں بھی عبادات اور توبہ استغفار میں کوتاہی کرتے تھے، اس بار ایسا ہرگز نہیں کریں گے بلکہ اسے گولڈن چانس سمجھتے ہوئے اللہ تعالی کی خوب خوب بندگی اور فرائض و نوافل کی کامل ادائی کے ذریعے اس طرح منانا ہے کہ...

اللہ کی حکمرانی قائم کی جائے

رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ دے کر اللہ ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟ کیا مسلمانوں کو اس بات کا بھی ادراک ہے؟ ہم بس دعائیں ہی کرتے رہتے ہیں اور عمل ندارد صرف بیٹھ کر قرآن پڑھنا اور سننا ہی مسلمانوں کو بہت بھاری محسوس ہوتا ہے۔ اللہ کو بے عمل مسلمان مطلوب نہیں ہیں۔ وہ روزے کے ذریعے سے ہماری قوت مدافعت کو چیک کرتا ہے  اور چاہتا ہے کہ مسلمان جسمانی اور روحانی لحاظ سے اتنے مضبوط ہو جائیں کہ دجالی فتنوں کا مقابلہ کرنا ان کے لیے آسان ہو جائے۔ جتنی بھی مہلت زندگی ہے اس کو دنیاوی کھیل تماشوں میں ضائع کرنے کے بجائے اس مقصد کو پانے کی کوشش کریں کریں جس کی ذمہ داری اللہ نے ہر مسلمان پر ڈالی ہے کہ صرف کسی ایک خطہ زمین پر نہیں بلکہ پوری زمین پر اللہ کی حکمرانی قائم کی جائے۔  ابھی بھی وقت ہے مسلمانو! مغربی طاقتوں کا آلہ کار بن کر انہی کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا چھوڑ دو جو مسلم ممالک کی افرادی قوت سے اپنی ملوں مشینوں کے کل پرزوں کا کام لے کر خوب پھل پھول رہی ہے اور اس دولت اور اسلحے کے زور پر مسلمانوں کی نسلوں کو تباہ و برباد کر رہی ہیں۔  ہمیں اب اپنی صلاحیتیں اور مہارتیں اپنے ہی ملکوں کے لیے استعمال کرنی چاہئیں۔ ہماری نسلیں چند دنیاوی آسائشوں کے عوض مغربی اقوام کی چاکری بخوشی قبول کر لیتی ہیں۔ اس غلامی کے بیج کو دل و دماغ میں پروان چڑھانے میں والدین اور نظام تعلیم کا بھی بہت اہم کردار رہا ہے جس کی وجہ سے ہماری نئی نسلیں دین کے سپاہی بننے کے بجائے  یہود و نصاریٰ کے ہرکارے بن گئے۔  ہماری ان عبادتوں اور ریاضتوں کا کیا فائدہ جو مسلمانوں کو گروہوں اور فرقوں میں بانٹ کر پارہ پارہ کر دیں؟ وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خداداد اس ماہ مبارک میں اللہ تعالی کی طرف سے جو جائز خواہشات سے روکنے کی تربیت کی جاتی ہے وہ پورے سال ناجائز خواہشات سے روکنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اللہ امت مسلمہ کے سب معاملات کو آسان کریں۔ آمین۔

لاک ڈاؤن نعمت ہے

توجہ طلب اور ایمان کو تازہ کرنے والی دل سوز تحریر نے ایک مرتبہ پھر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ابتدائی دور کا نقشہ کھینچ دیا جو شاید اس ہنگامی زندگی میں ہم  اوجھل کر بیٹھے تھے۔ دوران رمضان المبارک میں دوبارہ  عارضی لاک ڈاٶن سے تنگ آنے والے ایک بار صرف ایک بار میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شعب ابی طالب کی اس تنگ اور دشوار گزار گھاٹی کے 3 سال ضرور یاد کر لیں ان شاءاللہ اطمینان نصیب ہوگا۔ شعب ابی طالب جہاں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کے ساتھ سخت ترین 3 سال ( معاشی و معاشرتی بائیکاٹ ) کے گزارے تھے۔ ان میں شیر خوار بچےبھی تھے۔عورتیں بھی اور بزرگ بھی۔بھوک بھی تھی ۔افلاس بھی اور سماجی ترک تعلق بھی۔عورتیں اور بچے جب بھوک یا گرمی سے روتے تو کفار مکہ استغفرُللہ قہقہے لگاتے۔صحرا کی گرمی بھی ان کے جوش ایمانی کو مانند نہ کرسکی۔ ایک ہم ہیں! راشن کا ذخیرہ بھی ہے ، بجلی بھی ، اے سی ، ٹی وی اور انٹرنیٹ کی سہولت  بھی موجود ہے گھروں میں انواع و اقسام کے کھانے اور پکوان پکائے جا رہے ہیں۔ رشتہ داروں سے فون پر مسلسل رابطہ بھی ہے۔یہ لاک ڈاون ہماری بھلائی کے لئے ہے۔ شعب ابی طالب نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مہربانؐ کا امتحان تھا! یہاں صرف غیر ضروری نکلنا منع ہے۔" یہ لاک ڈاون ہماری بقا ہے"کرونا ایک قدرتی آفت یا وبا ہے،اگر یہ آزمائش ہے تو اللہ سے صبر مانگیے۔اگر یہ عذاب ہے تب بھی میرے رب کا شکر ہے کے اس نے بھوکا پیاسا نہیں مارا صرف جھنجھوڑا ہے۔ اشارہ دیا ہے۔ آئیں استغفار کریں۔توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے۔ یہ تاریخ اور سیرت نبیؐ کے سچے واقعات ہم مسلمانوں کی عملی زندگی کے لئے ہی مشعلِ راہ ہیں۔اللّه پاک ہمیں سیرت النبیؐ پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔ یقین جانیے اگر نمازوں کا اہتمام ہر گھر میں ہورہا ہے، تلاوتِ قرآن حکیم جاری ہے، صبح سے شام تک کی دعائیں روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، رشتوں کا احساس ہو چلا ہے، بے مقصد گھر سے نکلنے پر ضمیر ملامت کررہا ہے، رشوت، بھتہ خوری اور دل آزاری سمیت معاملات میں خیانت کو ترک کرنے کی نیت رب العالمین کے حضور سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ کی زندگی اپنے رب اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا عزم کرلیا ہے تو سمجھ لیں کہ مستقبلِ قریب میں پوری دنیا سے یہ آواز بلند ہورہی ہوگی کہ کسی کو اس وبا سے زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا دیکھنا ہے تو سر زمین پاک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دیکھ لو اور جان لو ابھی رحمت خداوندی زمین والوں پر جاری و ساری ہے۔جیسے کندن سے سونا نکلتا ہے ویسے ہی ہمارے نوجوان اس کی تصویر ہونگے۔ ان شاءاللہ۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین۔

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

عہد حاضر کا نوجوان

    نوجوان طبقہ کسی بھی قوم کا ایک قیمتی سرمایہ ہوتا ہے جو خیر و بھلائی کے کاموں، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کی ترقی اور خوش حال معاشرے کا قیام تعلیم یافتہ نوجوانوں سے ہی ممکن ہے۔ اگر یہی نوجوان درست سمت پر نہ چلیں تو معاشرہ اور قوم شر و فساد کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔       نوجوان نسل امت کی امید، معاشرے کا سرمایہ، مستقبل کا سہارا اور قومی کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں، تاریخ کا مطالعہ کریں تو جہاں بھی انقلاب آیا وہاں اس قوم کے نوجوانوں کا اہم کردار رہا . مگر عہد حاضر کا نوجوان اپنے وجود سے اپنی ذمہ داری سے ناآشنا ہے۔    عہد حاضر کا نوجوان تعلیم کی بجائے منشیات کی لعنت کا شکار ہے ، عورتوں کا محافظ نوجوان جنسی تسکین کے لیے ان کی عزتیں دبوچ رہا ہے ، جائیدار کے لیے ماں باپ ، بہن بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتا ، مسکراہٹیں بکھیرنے کی بجائے موت کا سامان یعنی منشیات کو فروخت کر رہا ، بیوی کی رضامندی کے لیے ماں باپ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ، غریبوں و مسکینوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے فحش زدہ پروگرامات اور سیاسی لیڈروں پر خرچ کر رہا ، محکوم  کی آواز بننے کی بجائے ان کی آواز کو دبوچ رہا ، اپنی زبان و ثقافت کو ترجیح دینے کی بجائے مغربی فحش زدہ تہذیب و ثقافت ک فروغ دے رہا ۔    عہد حاضر کا نوجوان اپنے اندر تعصب اور فرقہ پرستی لیے گھوم رہا اس کے خون میں تعصب اور فرقہ پرستی تیزی سے بہہ رہی آہ ! یہ نوجوان نسل جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں آج وہ فحش و عریانی کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ نوجوان طبقہ تعلیم حاصل کر کے بھی اخلاقیات سے محروم ہیں . آخر یہ زوال پذیری کب تک رہے گی ؟      جب ہم اسلامی اقداروں کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب و ثقافت کو اپنائیں گے تو نتائج یہی ہوں گے۔  اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے مگر آج ہماری نوجوان نسل اس سے دور ہے وہ تعلیم کو روزگار کے لیے حاصل کر رہی ، کسی غریب کی مدد لوگوں کی نظر میں شان شوکت بنانے کے لیے کر رہا، نماز دھکاوے کے لیے پڑھ رہا ، پڑوسی کو ووٹ کے لیے استعمال کر رہا غرض یہ کہ ہر جانب اپنا مفاد دیکھ رہا ۔    نوجوان نسل سے گزارش کروں گا اپنے وجود کو سمجھیں اس دنیا میں آپ کو بےمقصد نہیں بھیجا گیا ایک خاص مقصد تھا جس سے ہم ناآشنا ہیں .امت مسلمہ کو دوبارہ عروج کی جانب نوجوان نسل ہی لے جا سکتے ہیں یہ سب تب ہی ہو گا جب ہم اپنے مفاد کو ترک کریں کسی دوسرے کے حققوق کو غضب نہ کریں سوشل میڈیا کا استعمال مثبت کریں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔  ورنہ یہ زوال ہمیں ختم کر دے گا۔  اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔

آئیں رشتوں کو محفوظ کریں

رشتوں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے۔ اس میں صرف عورت ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ مرد بھی برابر کا شریک ہے۔  کیونکہ جب اللہ نے مرد کوکفیل بنایا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ  کفالت کے ساتھ ساتھ اپنے ان حقوق وفرائض کا بھی خیال رکھے جو اس پر اسی اللہ نے عائد کئے ہیں  جس نے اسے عورت کا محافظ بنایا ہے۔ ہر مرد کو یہ بات تو اچھی طرح یاد رہتی ہے کہ وہ عورت کا قوام ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ اسے یہ برتری کس وجہ سے دی گئی ہے۔ اگر فیملی میں کسی سے کوئی اختلاف ہوجاتا ہے تو زیادہ تر باپ ،شوہر ، بھائی یا بیٹا گھر کی عورتوں پر پابندی  عائد کردیتا ہے کہ وہ بھی اس سے کوئی تعلق نہ رکھے ۔ جس کی وجہ سے وہ رشتہ اور کمزور ہوجاتا ہے اور غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں۔   اسی طرح اگر عورت کو کسی پر غصہ آجائے تو یہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر بھی اس سے نہ ملے  چاہے وہ اس کی ماں ہی کیوں نہ ہو  اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو میاں بیوی کے آپس کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ یہی وہ بنیادی خرابی ہے جو  نہ صرف ایک خاندان کا توازن بگاڑنے کا سبب بنا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بدنظمی پھیلانے اور برائیوں کو پھلنے پھولنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ۔ کیونکہ ہم برائی کرنے والے کو تو نشانہ بنالیتے ہیں مگر برائی کرنے کی وجہ جاننے یا اسے ختم کرنے کی نہ تو کوشش کرتے ہیں اور نہ اس کار خیر کو کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی وہ سچ ہے جس کو قبول کرنے سے ہم ڈرتے ہیں اوراس   حقیقت سے آنکھیں چرانا ایسا ہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر یہ سوچ کر اپنی آنکھیں بند کرلےکہ وہ بلی سے بچ جائے گا یا شطر مرغ کسی خطرے کو دیکھ کر ریت میں منہ چھپاکر یہ سمجھ لے کہ خطرہ ٹل جائے گا اور وہ بچ جائے گا تو یہ عقلمندی یا ہوشیاری نہیں ہے بلکہ بیوقوفی اور حماقت ہے۔ ہمارے معاشرے کے افراد بھی ایسے ہی طرز عمل کو اختیار کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں کے نہ تو ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ان کو ختم کرنا ہمارے اختیار میں ہے ۔ اگر دنیا کا نظام اسی تصور کے ساتھ چلتا تو آج نہ تو اسلام کی روشنی ہم تک پہنچتی اور نہ اللہ کی وحدانیت کا تصور ہمیں ایک اللہ کی عبادت کرنے والا بناتا۔رشتوں کو جوڑنا مرد اور عورت  دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔  رشتوں  اور محبتوں کو قائم رکھنے کےلئے ضروری ہےکہ چند باتوں لپیٹ کاخیال رکھیں۔ جب کوئی ایک شخص غصہ میں ہو تو دوسرے کو تحمل کے ساتھ معاملے کو سنبھالنا چائیے تاکہ رشتوں میں کوئی تلخی پیدا نہ ہو۔ کیونکہ بعض اوقات بہت چھوٹی سی غلط فہمی بہت بڑے فساد  کا سبب بن جاتی...

عنوان: 2021 نفاذ اردو کا سال

پاکستان کو اللہ نے جہاں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے وہیں ایک نعمت قومی زبان اردو بھی ہے. اردو میں فارسی عربی ترکی کے الفاظ موجود ہیں اور اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ دنیا پھر میں بولی جاتی ہے اور  1999ء  کی مردم شماری کے مطابق دس کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کہ نویں بڑی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے۔  اردو زبان میں فارسی کا کافی رنگ نظر آتا ہے جس کہ وجہ یہ ہے کہ محمود غزنوی کے دور سے لے کر مغل بادشاہوں کے دور تک اسے دفتری زبان کا درجہ حاصل رہا. برصغیر پر برطانوی تسلط کے بعد انگریزی کو دفتری زبان بنا دیا گیا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ابھی تک غلامی کا طوق گلے میں ڈالے انگریزی کو ہی پوجتے آ رہے ہیں جو کہ غلام زدہ قوم کی نشانی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے اور اسی زبان کو تعلیم و تعلم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ہم سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں قومی زبان کی بجائے فرنگی زبان کو تریح دیتے ہوئے اسے تعلیم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بیوی کے پاؤں تلے زمین نکل گئی. . ..  مزید پڑھیے : رانگ نمبر  اسی قومی زبان اردو کے بارے پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ " پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے اور یہ آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر ملک میں رائج ہو جانی چاہئیے". پاکستان کا آئین 1973 میں رائج ہوگیا لہذا اصولً 1988 تک اردو کو مکمل طور پر پاکستان میں ہر شعبہ میں رائج ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اتنے لمبے عرصے میں ہمارے حکمران اردو کو مکمل طور پر رائج کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں. ایک بڑی وجہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کی حکمرانی ہے جو اپنی اولادوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہیں اور وطن واپسی پر پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے. یوں یہ انگریزی زبان میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے بابو جن کو اردو ٹھیک طرح سے بولنا نہیں آتی اور الفاظ کا حلیہ بگاڑ کر بولتے ہیں وہ ان افراد پر حکمرانی کرتے ہیں جو ان سے ہزار گنا زیادہ قابلیت رکھتے ہیں۔  ہمارے ہاں انگریزی کو اعلی معیارِ زندگی کے نشان کے طور سمجھا جاتا یے. حالانکہ تمام ترقی یافتہ اقوام بشمول چائنہ کوریا وغیرہ نے اپنی زبان میں ترقی کی ہے.ہم کم انگریزی جاننے اور بولنے والے افراد کو جاہل قرار دیتے ہیں. لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ قاصد علی رحمن جو کہ صرف پانچ جماعتیں پڑھے ہیں اور ایک کتاب کہ مصنف ہیں وہ خود کو ان پڑھ کہتے ہیں. جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں انگریزی نہیں جانتا اسی لئے دوسروں کی نظر میں ان...

محکمہ پولیس میں اخلاقی فقدان

گردش ایام ،تلخی وقت،بے روزگاری ،بے لگام مہنگائی اور ناقص غذائوں نے چھوٹی عمراں وچ کی کی روگ لادتے نے آپ زیادہ نہیں آج سے دس پندرہ سال پیچھے چلے جائیں تو یقین کریں بلڈ پریشر ،شوگر، ہارٹ اٹیک جیسی مہلک اور موذی امراض اس قدر نہ تھیں جس برق رفتاری سے یہ امراض آج بڑھ رہی ہیں پہلے یہ امراض زیادہ تر بڑھتی عمر کے لوگوں میں پائی جاتی تھیں مگر اب نوجوان ان کا زیادہ شکار ہورہے ہیں۔ نبی رحمت سرکار دوعالم ؐکی حدیث کے مطابق قرب قیامت وبائوں کا پھوٹنا اور اچانک اموات کا ہونا لازم ہے ۔ویسے تو الحمدللہ ،اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے ہر بیماری سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طر ح کی روحانی جسمانی بیماریوں ،عذابوں،وبائوں، آفتوں اور آزمائشوں سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ رکھے آمین ۔ چند عرصہ سے امراض معدہ اور ذہنی تنائو کا شکار ہوچکا ہوں۔ایک بات کو مسلسل سوچتے رہنا اور پھر خود سے خوفزدہ رہنا عجیب سی الجھنیں ہیں کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں لیتی اور انکی وجہ اللہ تعالیٰ سے دوری ہے کیونکہ ایک مسلمان جس کے پاس قرآن کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت اور کامیاب زندگی کے لیے نبی رحمت ؐ کے فرامین موجود ہوں وہ مسلمان کبھی بھی ان الجھنوں کا شکار نہیں ہوسکتا جب تک کہ ان سے روگردانی نہ کرلے ،منہ نہ موڑ لے۔اور یقینا ایسا ہی ہے کہ فکر معاش نے فکر الٰہی سے غافل کردیا ہے۔ چندروز قبل ہفتہ کے دن شام سات بجے کے قریب لوہاری سے BP Operatorلینے کے لیے گیا تو واپسی پر فرمان بیگم پر عملدرآمد کرتے ہوئے شاہ عالمی سے پلاسٹک کے ڈبے لینے کے لیے داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی ایک ملازم نے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا کہا فوراً سے پہلے بائیک روکی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک ملازم نے آئی ڈی کارڈ مانگا فوراً پیش کیا موبائل نمبر پوچھا فوراً بتایا ایک Profarmaپر سب کچھ لکھ لیا۔ادھر کیا لینے آئے ہو؟ عرض کی کہ پلاسٹک کے ڈبے۔تمہیں نہیں پتا کہ ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے عرض کہ اکثر شام کے وقت چند لوگ زمین پر سستی چیزوں کی سیل لگاکربیٹھے ہوتے ہیں یہی سوچ کر ادھر کارخ کرلیا ۔اتنے میں ڈرائیونگ سیٹ کی دوسری جانے بیٹھے صاحب بولے توں کی کردا اے؟عرض کی کہ قلم کا مزدور ہوں ۔سیدھی طرح دس عرض کی کالم نگار (صحافی )یہ بات سننی تھی کہ اعلیٰ حضرت ایک موٹی گالی کے ساتھ بولے یہ صحافی تو ہوتے ہی (یہاں وہ گالی لکھنا مناسب نہیں کیونکہ میری زبان اور قلم مجھے زیب نہیں دیتا)ایسے ہیں ۔انتہائی ادب سے عرض کی کہ جناب کہ میرے پیشے کوگالی نہ دیں قلم کی حرمت پامال مت کریں کیونکہ صحافت پیغمبری پیشہ ہے ۔آپ نے جو مانگا حضور کو پیش کردیا پھر گالی دینا اچھی بات نہیں بس یہ بات سننی تھی کہ جناب کسی فلمی ہیرو کی طرح ایک دم گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلے اور کہا دساں تینوں ایتھے...

پکوڑوں کا مہینہ

رمضان کی آمد آمد ہے۔ہر طرف زور و شور سے رمضان کی تیاریاں جاری و ساری ہیں۔ ایسے میں دو طرح کے مزاج ہیں ایک تو وہ جو رمضان کو حقیقتا روزے اور عبادات  کے لئے خالص کر رہے ہیں۔ اور دوسرا اکثریتی گروپ جو افطاری کے تصورات سے ابھی سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ جن کا موٹو ہے *ہمیں افطاری سے پیار ہے*۔ رمضان کے سحری و افطار کے کیا ہی کہنے۔ اسی سلسلے میں  خواتین رمضان سے پہلے ہی بہت سی چیزیں بنا کر فریز کر رہی ہیں جن میں کئی قسم  رول، سموسے، بڑے ، شامی کباب،  پراٹھے، پائے وغیرہ شامل ہیں تاکہ رمضان میں وقت اور محنت بچائی جا سکے اور دھیان روزے پر ہی رہے۔  رمضان میں ایک جوڑا ایسا ہے جس کے بغیر افطاری سونی سونی لگتی ہے۔ جی ہاں لال شربت اور پکوڑے۔ ان کے بغیر افطار کا تصور کم از کم ہمارے ہاں مفقود ہے۔ لال شربت میں اختلاف ہے کچھ افراد روح افزاء کے حق میں ہیں اور کچھ جام شیریں کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔  مگر ایک چیز جس پر تمام قوم کا اجماع ہے وہ ہیں پکوڑے ان کو رمضان کا برانڈایمبسیڈر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ پکوڑے کا وجہ تسمیہ کے بارے  میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں ۔ کچھ افراد کہتے کہ کسی مکرانی شخص نے گھی میں بیسن کی ٹکیاں ڈالیں ۔ بھوک کی شدت تھی اور پکنے میں دیر ہو رہی تھی تو اس نے جھنجلا کر کہا پکو رےے۔ جو کثرت استعمال سے پکوڑے ہو گیا مگر اندر کی بات ہے کہ اس شخص کے گھر آٹا ختم ہو گیا تھا، بیوی بہت سخت مزاج تھی اس نے محلے کی "خبرگیری" کے لئے جانے سے پہلے ، واپسی پر کھانا تیار ہونے کا حکم دیا تھا۔ بازار جانے کا وقت نہ تھا چنے کی دال نظر آئی وہی پیس کر آٹا بنایا۔ بیوی کے آنے کا وقت ہو چلا تھا گھبراہٹ میں اس نے گوندھنے کی کوشش کی تو پانی زیادہ ڈال دیا  اب وہ لئی بن چکی تھی۔ اس نے جلدی سے اس میں نمک اور دستیاب مصالحے ڈال دیئے اور گھی میں پکنے کو ڈالا ۔ باہر بیوی کی پڑوسن سے لڑنے اور بچوں کو پیٹنے کی آواز آنے لگی۔ تو اس نے کڑاہی میں پڑے مرکب کو دیکھا  اسی دوران بیوی گھر میں داخل ہوئی اور کڑک کر بولی کیا پکایا ہے میاں گھبرا کر بولا پکو ڑےےےے۔ بس اسی سے اسے پکوڑے کا نام ملا۔ آگے کی کہانی میں بیوی کو پکوڑے  بہت پسند آئے اور وہ بہت خوش بھی ہوئی۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آدمی کوئی بلوچ تھا۔مگر ہمیں یہ شبہ ہے کہ ان صاحب کا تعلق لاہور سے تھا کہ کیونکہ وہاں"ڑ" کا بکثرت استعمال پایا جاتاہے۔ کچھ مورخین  کا کہنا ہے کہ ”پکوڑا“ سنسکرت زبان کے لفظ ”پکواتا“ سے ماخوذ ہے، پکواتا معنی ”پکا ہوا“ اور واتا کا معنی ”سوجن“۔ ’پکوڑا‘ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔  ادبی حیثیت  سے  اس  1780 ء کو "کلیاتِ سودا ”میں پہلی بار استعمال ہوتے ہوئے سنا گیا۔ کسی محاورے یا...

ہمارے بلاگرز