کوثر اشفاق

9 بلاگ 0 تبصرے

اعتکاف کامقصد

اعتکاف کامقصد دنیا سے وقتی طور پر تعلق توڑکر اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہے اس سے اس کی محبت ، رحمت  اور ہدایت...

اچھا استاد شاگردوں کے لیے تحفہ (پہلا حصہ)

ایک زمانہ تھا کہ شاگرد استاد کو بڑی رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور دل میں خواہش رکھتے تھے کہ وہ بھی بڑے...

رمضان کردار سازی کا مہینہ

کچھ مہمان جو کبھی کبھی آتے ہیں مگر اپنے ساتھ بہت سارے تحفہ وتحائف   اور کھانے پینے کا بھی ڈھیروں سامان ساتھ لاتے ہیں...

آئیں رشتوں کو محفوظ کریں

رشتوں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے۔ اس میں صرف عورت ہی...

رمضان ایک بابرکت مہینہ

آئیے ہم رمضان کو بہت خلوص کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں کیونکہ یہ وہ موقعہ غنیمت ہے جو قسمت والوں کو نصیب ہوتا...

تربیت کرکے بچوں کو اخلاق سیکھائیں

لوگ کہتے ہیں یہ جدید دور ہے ، تعلیم کا رحجان بڑھ گیا ہے  ہر شخص باشعور اور سمجھدار ہے۔ اپنے بچوں کو مہنگے...

23 مارچ یا عہد کی یاد دہانی‎

23 مارچ ایک ایسی قرارداد کی منظوری کا دن ہے جس کی بدولت  اللہ کی رحمت سے  پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا...

غلامی سے نجات کا ذریعہ

   جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہم سے کبھی بھی ناراض نہ ہو چاہے اس کے...

یقین کامل اللہ پر رکھیں‎

اکثر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ " اللہ ہماری نہیں سنتا " کبھی غور نہیں کیا کہ ایک مومن مسلمان کی زبان...

اہم بلاگز

طلباء اور سیاست

ترا شباب امانت ہے ساری دنیا میں تو خارزار جہاں میں گلاب پیدا کر   موجودہ دور میں کسی بھی ترقی یافتہ ملک اور قوم کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی کہ اس مقام عروج پر پہنچنے میں اس قوم وملک کے نوجوانوں اور طلباء کی قربانیوں کی ایک لازوال داستان شامل ہے۔ کسی بھی ملک و قوم کے لیے طلباء ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی نوجوان طلباء ہی کسی ملک و قوم کے تابناک مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو کوئی بھی آپ کی اس بات سے اختلاف کرنے سے قاصر ہے کہ جس ملک و قوم کے طلباء و نوجوان غیر ذمہ دار اور لاپرواہ ہوں ان کے اندر اخلاقی، سماجی، معاشی و معاشرتی اعتبار سے اور دیگر شعبہ ہاۓ زندگی کے متعلق شعور نہیں تو وہ قوم کے مستقبل کو تاریک کر دیتے ہیں یوں وہ ملک و قوم اپنا نام و نشان یعنی شناخت اور مقامی حیثیت کھو بیٹھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبالؔ نے کہا تھا ؎ اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں ہوتی ہو جس کے جوانوں کی خُودی صورتِ فولاد جوانی کی عمر ہی ایسا وقت ہوتا ہے کہ جس میں انسان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتا ہے چنانچہ روشن مستقبل اور انقلاب کی نوید سننے کے لیے لازم ہے کہ نوجوان اپنے اندر کم ہمتی کی بجاۓ ہمت پیدا کرے اور اپنے اندر غیرت و حمیت پیدا کرے یہی اصل دولت ہے۔ بقول اقبالؔ ؎ گَر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیّور قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں     اس سرزمین پر ایک خوشگوار انقلاب لانے کے لیے طلباء میں سیاست کو پروان چڑھانا ہو گا اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی انقلاب میں طلباء تحریکوں کا کردار مرکزی حیثیت سے بھی ہو سکتا ہے اور ابتدائیہ  کردار تو لازمی ہوتا ہے۔ برصغیر کی تاریخ ہی اٹھا کر دیکھیں تو سامراج کے خلاف بغاوت کا ایک بڑا حصہ یہی طلباء ہی تو تھے مثلاً "HSRA"(ہندوستان سوشلسٹ انقلابی فوج) نام سے ایک تنظیم کا نام ملے گا۔ یوں اس وقت سے لے کر آزادی کی طویل داستان میں جن  بھی انقلابات نے جنم لیا ان میں طلباء کا کردار لازوال اور بے مثال ہے۔ اسی طرح آزادی کے ایوبی آمریت کے خلاف 1964 میں ایک انقلابی تحریک نے جنم لیا جو طلباء مطالبات پہ مشتمل تھی۔ اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ طلباء میں معاشرے کے ہر قسم کے طبقے کی نمائندگی موجود ہوتی ہے خواہ محنت کش طبقہ ہے یا متوسط طبقہ۔ یہی وہ واحد پلیٹ فارم ہوتا ہے جس سے ہو کر طلباء سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام، آمریت اور ظلم و استحصال کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے میدان میں نکلتے ہیں۔ سارے نظام میں جدّت کے سبب ہمارے طلباء کو وسائل کی کمی کی وجہ سے بے شمار مسائل کا سامنا ہے اگرچہ دعوی کیا جاتا ہے کہ تعلیم برابر فراہم کی جاتی ہے لیکن درحقیقت اس طبقاتی نظام تعلیم نے نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک...

جتنا دبیں گے، دبائے جاتے رہیں گے

دو تین ہفتے قبل ملک میں شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ اس ہنگامے سے بھی تین چار ماہ قبل حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ایک معاہدہ عمل میں آیا تھا جس میں اور بہت ساری باتوں کے علاوہ فریقین میں یہ بات بھی حتمی طور پر طے کر لی گئی تھی کہ فرانس کے سفیر کو اس کے اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔ معاملہ بہت سنجیدہ تھا۔  فرانس آزادی اظہار کا بہانا بنا کر ہمارے پیاری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل توہین پر توہین کئے جا رہا تھا اور نہایت بے ہودہ خاکے بنا کر مسلسل ان کی ہتک کئے جا رہا تھا۔ یہ ایک عالمگیر حقیقت ہے کہ ہر قوم، ہر قبیلہ، ہر ملک اور ہر دھرم رکھنے والے کو اپنے اپنے رہنماؤں سے ایک ایسا جذباتی لگاؤ ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک اپنے رہبر و رہنما کیلئے جان جیسی انمول شے بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ یہ تو وہ رہبر و رہنما ہوتے ہیں جن کی حیثیت محض دنیوی ہوا کرتی ہے، جب ان کیلئے محبت کا یہ عالم ہو تو پھر وہ ہستیاں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے خاص طور سے انسانوں کی ہدایت کیلئے مبعوث کی گئی ہوں، ان کی عزت و توقیر کیلئے تو دنیا جہان کی ہر شے قربان کی جا سکتی ہے۔  اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو دنیا کا ہر مہذب اور ہر معتدل سوچ رکھنے والا انسان یہی کہتا نظر آئے گا کہ ہمیں کسی کے بھی مذہبی جذبات کو نہیں چھیڑنا چاہیے اور کم از کم ایسی ہستیاں جو ہر قوم پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجی گئی ہوں، ان کی توہین تو کسی بھی صورت میں نہیں کرنی چاہیے۔ فرانس ہو یا کوئی بھی مغربی ملک، وہ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور مذہب شمار کئے جاتے ہیں۔ پوری دنیا کی ان کے متعلق یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی مذہب والے سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کرتے۔  ایسی اقوام کی جانب سے مذہبی منافرت کا اگر ایسا مظاہرہ سامنے آئے کہ وہ شعائر اسلامی کی اس بری طرح ہتک کریں، توہین آمیز خاکے بنائیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخری کتاب ہدایت کو نذر آتش کریں تو اس عمل کو کسی بھی صورت میں اعتدال پسندانہ قرار دیا ہی نہیں جا سکتا بلکہ یہ انداز مجنونانہ اور غیر امتیازانہ ہی کہلائے گا۔ وہ یورپی اقوام جو مسلمانوں پر مذہبی جنونی ہونے کا الزام عائد کرتی ہیں اور ان کے ہر عمل و رد عمل کو انتہا پسندانہ کہنے میں لمحہ بھر بھی توقف نہیں کیا کرتیں، کبھی اپنے پاگل پن پر غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتیں۔ اس منظر نامے کو سامنے رکھا جائے تو رد عمل کے طور پر تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے حکومت کے سامنے جو مطالبہ رکھا گیا اور حکومت نے اس کی تائید میں فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بے دخل کرنے کا جو وعدہ کیا وہ بالکل بھی غلط نہیں تھا لیکن چار ماہ کے اندر اندر حکومت حسب سابق اپنے وعدے سے منحرف ہو گئی اور بجائے فرانسیسی...

چین کی تحفظ خوراک کے لیےقانون سازی

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس وبائی صورتحال ،تنازعات ،موسمیاتی مسائل اور غربت جیسے مسائل کی بناء پر  پندرہ کروڑ سے زائد لوگوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پچپن ممالک میں صورتحال کے جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو کروڑ سے زائد لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں بھوکا رہنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک شدید طور پر متاثر ہوئے ہیںجہاں  تنازعاتنےتقریباًدس کروڑافراد کوخوراک کےشدیدعدم تحفظ کی جانب دھکیل دیا، اقتصادی بد حالی کے باعث چار کروڑ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا رہا جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد بھی ڈیڑھ کروڑ سے زائد رہی ہے۔ اس صورتحال میں خوراک کے تحفظ کو کلیدی اہمیت حاصل ہو چکی ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ مختلف ممالک میں خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں اور آہستہ آہستہ عوام میں بھی خوراک کے تحفظ کا شعور بیدار ہو رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں چینی قانون سازوں نے کھانے کے ضیاع کے خلاف ایک قانون کی منظوری دی ہے۔ یہ قانون کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لئے ایک طویل المدتی میکانزم کے قیام میں مدد کے لئے تیار کیا گیا ہے جس سے قومی غذائی تحفظ  کو یقینی بنانے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔یہ امر افسوسناک ہے کہ چین کی شہری کیٹرنگ انڈسٹری میں ہر سال لگ بھگ 18 بلینکلو گرام خوراکضائع ہو جاتی ہے جبکہ 35 ارب کلوگرام اناج اسٹوریج ، نقل و حمل اور پروسیسنگ سمیت دیگر مراحل میں ضائع ہو جاتا ہے۔ چین کی سالانہ اناج کی پیداوار 13 ویں پانچ سالہ منصوبے (2016-2020) کے دوران لگاتار پانچ سالوں میں 650 ملین ٹن سے زائد رہی ہے۔اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ چین اپنی 1.4 ارب آبادی کے لئے خوراک کےتحفظ کو یقینی بنانے میں ہر اعتبار سے خودکفیل ہے ، تاہم اس کے باوجود چین غذائی تحفظ کو قومی سلامتی کا ایک اہم ستون قرار دیتا ہے  اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ خوراک کے تحفظ کو قانونی ضمانت فراہم کی جا سکے۔ خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے وضع  کیے جانے والے قانون میں مختلف فریقوں کی ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ریستوران ایسے صارفین سے ڈسپوزل فیس وصول کرسکتے ہیں جو ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھانا ضائع کرتے ہیں۔اسی طرح ایسے صارفین پر 10،000 یوآن (تقریباً 1،546 امریکی ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا جو کھانے پینے کے ضیاع کا باعث بننے یا گمراہ کن طرز عمل کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ چین میں اس قانون کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ معاشرے میں سادگی کے فوائد سے متعلق معاشرتی شعور کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی ، جو ہمیشہ سے چینی قوم کی روایتی خوبی رہی ہے۔سادہ طرز زندگی چینی عوام کا خاصہ ہے اور یہ جھلک تمام شعبہ ہائے زندگی میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس وقت چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور ماہرین...

ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل رات

قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ بیشک ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر یعنی باعزت،خیروبرکت والی رات میںاتارا اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلۃالقدرکیا ہے۔لیلۃ القدر ( اجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے ربّ کے حکم سے( خیر و برکت کے )ہرامر کے ساتھ اترتے ہیں ۔ یہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے۔‘‘ ان آیا ت مبارکہ میں عظمت قرآن کیساتھ شب قدر کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے، اور بتلایا گیا ہے کہ لیلۃ القدر سراسر سلامتی اور خیر ہی خیر ہے ،اس میں کوئی شر نہیں اور یہ خیروسلامتی غروب آفتاب سے طلوع فجر تک رہتی ہے۔ ایک دن جب خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی مجلس میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں دن بھر بغرض جہاد فی سبیل اللہ ہتھیار بند رہتا تھا اور راتوں کو یادِ الٰہی میں قیام کرتا تھا۔ یہ سن کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کچھ کو فکر ہوئی کہ ہماری عمر ہی اتنی طویل نہیں ہے تو ہم اس شخص کی عبادت کے برابر کیسے پہنچ سکتے ہیں؟اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ القدر حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی جس میں اللہ پاک نے واضح فرمایا ہے کہ اس رات کی عبادت ہزار مہینے کی راتوں کی عبادت سے بھی افضل ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مختلف شخصیات حضرت ایوب علیہ السلام ، حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت حزقیل علیہ السلام ، حضرت یوشع علیہ السلام کا تذکرہ آیاکہ ان حضرات نے اسی اسی سال متواتر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی، تو صحابہ کرام کو ان برگزیدہ ہستیوں پر رشک آیا ۔ اس وقت جبرائیل امین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کی امت کے افراد ان سابقہ لوگوں کی اسی اسی سالہ عبادت پر رشک کر رہے ہیں تو آپ کے ربّ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بہتر عطا فرمادیا ہے اور پھر سورۃ القدر کی تلاوت کی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس فرط مسرت سے چمک اٹھا،گویا لیلتہ القدر امت محمدی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بطور تحفہ عطاء کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بہت ہی بڑا انعام ہے کہ اس نے نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو شب ِقدر کی صورت میں ایک بہت عظیم اور بے پایاں نعمت عطا فرمائی۔ ایک مسلمان کی زندگی میں اس رات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے دیگر راتوں پر فضیلت دی ہے، اور یہ بھی بتلایا کہ اس رات میں کیا ہوا عمل ہزار مہینوں کے عمل سے بھی افضل ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مر تبہ...

آخری عشرہ کی فضیلت وخصوصیت‎

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے، جوہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے اور اسی رات کو قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو ملا۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورة نازل فرمائی، جسے ہم سورۃ القدر کے نام سے جانتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے (1) اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ (2) شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے(3) فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں (4) وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔  سورت میں شب قدر کے متعدد فضائل مذکور ہیں: پہلی فضیلت: یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شب میں قرآن کریم نازل فرمایا، جو نوع انسانی کے لیے ہدایت ہے اور دنیاوی واخری سعادت ہے۔ دوسری فضیلت: سورت میں اس رات کی تعظیم اور بندوں پر اللہ کے احسان کوبتانے کے لیے سوالیہ انداز اختیار کیا گیا۔ تیسری فضیلت: یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ چھوتھی فضیلت: اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، فرشتے خیر وبرکت اور رحمت کے ساتھہ نزول کرتے ہیں۔ پانچویں فضیلت: یہ رات سلامتی والی رات ہے، چونکہ اس رات میں بندوں کی عذاب وعقاب سے خلاصی ہوتی ہے۔ چھٹی فضیلت: اللہ تعالیٰ نے اس شب سے متعلق پوری ایک سورت نازل فرمائی جو روز قیامت تک پڑھی جائے گی۔ اللہ تعالی نے سورة الدخان آیت (3) میں یوں بیان فرمایا ہے: ”بیشک ہم نے قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے ،بیشک ہم ڈرانے والے تھے“ اور یہ رات ماہِ رمضان میں تھی، جس کی تصریح اللہ تعالی نے سورة البقرة آیت (58) میں فرمادی ہے : 'رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا'۔ شب قدر کی علامات: حضرت عبادہ بن سامتؓ سے روایت ہے: یہ رات چمکدار اور صاف ہوتی ہے نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے بلکہ بھینی بھینی اور معتدل ہوتی ہے۔ اس رات کو شیاطین کو ستارے نہیں مارے جاتے۔ آسمانوں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے سے آنکھوں میں نور اور دل میں سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ شب قدر کی بعد والی صبح کو سورج میں تیزی نہیں ہوتی۔اس رات میں عبادت کی بڑی لذت محسوس ہوتی ہے اور عبادت میں خشوع و خضوع پیدا ہو تا ہے۔بعض لوگوں نے دیکھا کہ ہر چیز سجدہ کرتی ہے یہاں تک کہ درخت بھی سجدہ کر تے ہیں اوراس رات پانی میٹھا ہو جاتا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ مجھے بتائیں کہ میں لیلتہ القدر کو کیا دْعا مانگوں آپ نے ارشاد فرمایا، یہ دْعا پڑھا کرو ترجمہ اے اللہ تو معاف کر دینے والا اور معافی کو پسند کرنے والا ہے پس مجھے بھی معاف کر دے لیلتہ القدر وہ رات ہے جو صاحبان ایمان کے لیے مغفرت و رحمت اور بخشش کا پیغام لے کر آتی ہے۔ یہ وہ رات ہے، جو رزق مانگنے والوں...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

اچھا استاد شاگردوں کے لیے تحفہ (پہلا حصہ)

ایک زمانہ تھا کہ شاگرد استاد کو بڑی رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور دل میں خواہش رکھتے تھے کہ وہ بھی بڑے ہوکر اپنے استاد کی طرح قابل ہوکرباعزت زندگی گزاریں گےاور تاریخ اس بات کی گواہ ہے جس نے سچائی اور لگن کے ساتھ اپنے اس جذبہ کو قائم رکھا وقت نے انہیں ایسی ہی قابل احترام زندگی عطا کی ۔  لیکن جب اس معاشرے کے جاہل ٹھیکیداروں نے اپنی فرعونیت کی حکمرانی کو خطرے میں دیکھا کہ پڑھ لکھ کر ایک معمولی انسان بھی نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوجاتا ہے بلکہ ہر چھوٹا بڑا اس کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ نہ صرف اپنے بنیادی حقوق وفرائض کی ذمہ داریاں  بخوبی نبھاتا ہے بلکہ دوسروں کی بھی رہنمائی کرکے ایک بہتر زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھادیتا ہے  اوریہ وہ خطرے کی گھنٹی تھی جس کی گونج نے اس بات کو واضح طور پر  روز روشن کی طرح  عیاں کردیا کہ وہ دن دور نہیں جب فرعونوں کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے اور جہالت  کی بنیاد پر غلامی کرنے والے  علم کی روشنی  حاصل کرکے ان کا تختہ الٹ دیں۔ لہذا انہوں نے ایسی سازش کا جال بچھایا کہ کسی کو احساس بھی نہ ہوا کہ ایک معزز قوم کیسے آہستہ آہستہ جہالت کی کھائی میں گرتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ اپنی شناخت ہی کھو بیٹھی ۔ آج کا  وہ استاد جو انسانوں  کو جہالت کے اندھیرے سے نکال علم کی روشنی میں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا تھا اب اپنی زندگی کی ناؤ کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہے کیونکہ  آج  بھی چودہ سو سال پہلے والی قوم علم کے  مدمقابل وہ ہی ہٹ دہرم اور صدی  بنی اسرائیل کی قوم ہے جو علم رکھتے ہوئے بھی دنیا کو اپنا دین وایمان بنائے  ہوئے تھی اور اللہ اور اس کے رسول کی کھلی نافرمانی کرکے دعوہ کرتی تھی کہ وہ ہی جنت کے حق دار ہیں۔ آج کی قوم بھی جہالت کے اسی اندھیرے میں بھٹک رہی ہے اس دنیا کو زندگی کا حاصل سمجھ کر ایسے راستے پر گامزن ہے جس کی کوئی منزل نظر نہیں آ تی۔ پہلے ماں باپ  بچوں کو تعلیم دیتے تھے کہ بیٹا استاد کی عزت کرنا اللہ تمہیں عزت دے گا آج کے ماں باپ کو اپنے بچوں کوتو کیا عزت کرنا سکھائیں گے بلکہ ان کے سامنے استادوں سے اس انداز میں بات کرتے ہیں جیسے فیس دے کر انہوں نے ٹیچر کو خرید لیا ہے تو پھر بچے کیسے اس استاد کی عزت کریں گے۔  ایمانداری سے اللہ کو حاضر وناظر جان کر اپنا محاسبہ کیجئے کہ ایک باپ، بھائی کی حیثیت سے آپ کو یاد ہے کہ آپ نے  کبھی  اپنے بیٹے یا بیٹی کو، اپنی بہن یا بھائی کو ایک مرتبہ بھی یہ کہا ہو کہ استاد کی عزت واحترام آپ پر اسی طرح فرض ہے جیسا کہ ماں باپ کا؟ نہیں کہا کیونکہ ہم استاد کو وہ مقام واہمیت  ہی نہیں  دیتے جس کے وہ حق دار ہیں۔ ہم دولت مند کے قدموں میں بیٹھنا پسند کرلیں گے مگرایک...

رمضان المبارک اور بدنام شیطان

شیطان نے زنا تو نہیں کیا تھا،شراب تو نہیں پی تھی ڈاکہ تو نہیں ڈالا تھا چوری تو نہیں کی تھی ،ایک مسیحابن کر ڈاکٹر کے روپ میں انسانوں کے اعضاء تو فروخت تو نہیں کیے تھے ،سیاست دان بن کر عوام کی خدمت کا نعرہ لگا کر عوام کا خون تو نہیں پیا تھا ،ناپ تول میں کمی تو نہیں کی تھی ،اشیاء خودرنوش میں ملاوٹ تو نہیں کی تھی ،مولوی بن کر شریعت کا کاروبار تو نہیں کیا تھا ، خاوند کو باندھ کر اسکے سامنے اسکی بیوی کی ساتھ گینگ ریپ تو نہیں کیا تھا ،سگا باپ ،بھائی ہوکر اپنی ہی سگی بیٹی ،بہن کو جنسی حیوانیت کا نشانہ تو نہیں بنایا تھا ،ہم جنس پرستی تو نہیں کی تھی ،لوگوں کو کتے ،گدھوں ،چوہوں اور پتا نہیں کون کون سے حرام جانوروں کا گوشت تو نہیں کھلایا تھا ،قاضی بن کر پیسوں کی ہوس میں مجرموں کا ساتھ تو نہیں دیا تھا ،اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی گستاخی تو نہیں کی تھی ،بس صرف ایک کام کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انکار کرتے ہوئے حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہیں کیا تھااور اس کی پاداش میں ذلیل ورسوا ہوکر عرش بریں سے اسے نکلنا پڑا ۔ پہلی قوموں کی تباہی کسی ایک گناہ کی وجہ سے ہوئی اور اس ساری قوموں کے گناہ ہم میں پائے جاتے ہیں اس کے باوجود بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بے قصور اور بے گناہ لوگ ہیں ۔یقین کیجئے وہ تو رب تعالیٰ کا اپنے محبوب سے کیا ہوا وعدہ ہے کہ وہ حضرت محمدؐ کی امت پر مجموعی عذاب نازل نہیں کرے گا ورنہ آج ہماری داستان تک نہ ہوتی داستانوں میں ۔ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ گزر چکا ہے یقین کیجئے کہ ساٹھ روپے کلو بکنے والا خربوزہ سو روپے کلو ساٹھ روپے درجن والا کیلا ایک سو بیس درجن اور اسی روپے کلو والا سیب ایک سو پچاس روپے کلو آٹا ،چینی نایاب ۔یہودی،نصرانی ،ہندو ،سکھ اپنے مذہبی تہواروں پر اشیا سستی کردیتے ہیں اور ہم مسلمان بیس روپے کلو والا ٹماٹر ساٹھ روپے کلو کرکے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب پتا نہیں کیوں آتے ہیں؟ ایک حضرت نے ذخیرہ اندوزی کرکے لاکھوں روپے کمایا پھر انہی پیسوں سے عمرہ وحج کیا ،حاجی صاحب بنے ایک عالی شان گھر بنوایا اور گھر کے باہر موٹے حروف میں لکھوایا ’’ہذامن فضل ربی‘‘چند عالی شان افطار پارٹیاںدیں بلیک منی کو وائٹ کیا اور بن گئے ایک معزز بزنس مین ۔یقین کریں شیطان بھی کبھی کبھی یہ سوچتا ہوگا کہ اتنے گناہ تو اس نے بھی نہیں کیے ہیں جس قدر آج اس پر تھوپے جارہے ہیں ۔ سچ تو یہ ہیں کہ شیطان تو ویسے ہی بدنام ہو رہا ہے وہ کونسا گناہ ہے جو ہم نہیں کرتے ،شیطان نے تو صرف ایک کام سے انکار کیا تھا ہم تو آج اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہی منکر ہوچکے ہیں اس نے ایک سجدہ نہیں کیا تھا تو قیامت تک رسواء ہوگیا اور ہم سالوں سے سجدہ نہیں کررہے ہیں اور اکڑتے ہیں کہ رب ہمارا...

عہد حاضر کا نوجوان

    نوجوان طبقہ کسی بھی قوم کا ایک قیمتی سرمایہ ہوتا ہے جو خیر و بھلائی کے کاموں، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کی ترقی اور خوش حال معاشرے کا قیام تعلیم یافتہ نوجوانوں سے ہی ممکن ہے۔ اگر یہی نوجوان درست سمت پر نہ چلیں تو معاشرہ اور قوم شر و فساد کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔       نوجوان نسل امت کی امید، معاشرے کا سرمایہ، مستقبل کا سہارا اور قومی کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں، تاریخ کا مطالعہ کریں تو جہاں بھی انقلاب آیا وہاں اس قوم کے نوجوانوں کا اہم کردار رہا . مگر عہد حاضر کا نوجوان اپنے وجود سے اپنی ذمہ داری سے ناآشنا ہے۔    عہد حاضر کا نوجوان تعلیم کی بجائے منشیات کی لعنت کا شکار ہے ، عورتوں کا محافظ نوجوان جنسی تسکین کے لیے ان کی عزتیں دبوچ رہا ہے ، جائیدار کے لیے ماں باپ ، بہن بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتا ، مسکراہٹیں بکھیرنے کی بجائے موت کا سامان یعنی منشیات کو فروخت کر رہا ، بیوی کی رضامندی کے لیے ماں باپ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ، غریبوں و مسکینوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے فحش زدہ پروگرامات اور سیاسی لیڈروں پر خرچ کر رہا ، محکوم  کی آواز بننے کی بجائے ان کی آواز کو دبوچ رہا ، اپنی زبان و ثقافت کو ترجیح دینے کی بجائے مغربی فحش زدہ تہذیب و ثقافت ک فروغ دے رہا ۔    عہد حاضر کا نوجوان اپنے اندر تعصب اور فرقہ پرستی لیے گھوم رہا اس کے خون میں تعصب اور فرقہ پرستی تیزی سے بہہ رہی آہ ! یہ نوجوان نسل جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں آج وہ فحش و عریانی کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ نوجوان طبقہ تعلیم حاصل کر کے بھی اخلاقیات سے محروم ہیں . آخر یہ زوال پذیری کب تک رہے گی ؟      جب ہم اسلامی اقداروں کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب و ثقافت کو اپنائیں گے تو نتائج یہی ہوں گے۔  اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے مگر آج ہماری نوجوان نسل اس سے دور ہے وہ تعلیم کو روزگار کے لیے حاصل کر رہی ، کسی غریب کی مدد لوگوں کی نظر میں شان شوکت بنانے کے لیے کر رہا، نماز دھکاوے کے لیے پڑھ رہا ، پڑوسی کو ووٹ کے لیے استعمال کر رہا غرض یہ کہ ہر جانب اپنا مفاد دیکھ رہا ۔    نوجوان نسل سے گزارش کروں گا اپنے وجود کو سمجھیں اس دنیا میں آپ کو بےمقصد نہیں بھیجا گیا ایک خاص مقصد تھا جس سے ہم ناآشنا ہیں .امت مسلمہ کو دوبارہ عروج کی جانب نوجوان نسل ہی لے جا سکتے ہیں یہ سب تب ہی ہو گا جب ہم اپنے مفاد کو ترک کریں کسی دوسرے کے حققوق کو غضب نہ کریں سوشل میڈیا کا استعمال مثبت کریں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔  ورنہ یہ زوال ہمیں ختم کر دے گا۔  اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔

آئیں رشتوں کو محفوظ کریں

رشتوں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے۔ اس میں صرف عورت ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ مرد بھی برابر کا شریک ہے۔  کیونکہ جب اللہ نے مرد کوکفیل بنایا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ  کفالت کے ساتھ ساتھ اپنے ان حقوق وفرائض کا بھی خیال رکھے جو اس پر اسی اللہ نے عائد کئے ہیں  جس نے اسے عورت کا محافظ بنایا ہے۔ ہر مرد کو یہ بات تو اچھی طرح یاد رہتی ہے کہ وہ عورت کا قوام ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ اسے یہ برتری کس وجہ سے دی گئی ہے۔ اگر فیملی میں کسی سے کوئی اختلاف ہوجاتا ہے تو زیادہ تر باپ ،شوہر ، بھائی یا بیٹا گھر کی عورتوں پر پابندی  عائد کردیتا ہے کہ وہ بھی اس سے کوئی تعلق نہ رکھے ۔ جس کی وجہ سے وہ رشتہ اور کمزور ہوجاتا ہے اور غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں۔   اسی طرح اگر عورت کو کسی پر غصہ آجائے تو یہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر بھی اس سے نہ ملے  چاہے وہ اس کی ماں ہی کیوں نہ ہو  اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو میاں بیوی کے آپس کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ یہی وہ بنیادی خرابی ہے جو  نہ صرف ایک خاندان کا توازن بگاڑنے کا سبب بنا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بدنظمی پھیلانے اور برائیوں کو پھلنے پھولنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ۔ کیونکہ ہم برائی کرنے والے کو تو نشانہ بنالیتے ہیں مگر برائی کرنے کی وجہ جاننے یا اسے ختم کرنے کی نہ تو کوشش کرتے ہیں اور نہ اس کار خیر کو کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی وہ سچ ہے جس کو قبول کرنے سے ہم ڈرتے ہیں اوراس   حقیقت سے آنکھیں چرانا ایسا ہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر یہ سوچ کر اپنی آنکھیں بند کرلےکہ وہ بلی سے بچ جائے گا یا شطر مرغ کسی خطرے کو دیکھ کر ریت میں منہ چھپاکر یہ سمجھ لے کہ خطرہ ٹل جائے گا اور وہ بچ جائے گا تو یہ عقلمندی یا ہوشیاری نہیں ہے بلکہ بیوقوفی اور حماقت ہے۔ ہمارے معاشرے کے افراد بھی ایسے ہی طرز عمل کو اختیار کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں کے نہ تو ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ان کو ختم کرنا ہمارے اختیار میں ہے ۔ اگر دنیا کا نظام اسی تصور کے ساتھ چلتا تو آج نہ تو اسلام کی روشنی ہم تک پہنچتی اور نہ اللہ کی وحدانیت کا تصور ہمیں ایک اللہ کی عبادت کرنے والا بناتا۔رشتوں کو جوڑنا مرد اور عورت  دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔  رشتوں  اور محبتوں کو قائم رکھنے کےلئے ضروری ہےکہ چند باتوں لپیٹ کاخیال رکھیں۔ جب کوئی ایک شخص غصہ میں ہو تو دوسرے کو تحمل کے ساتھ معاملے کو سنبھالنا چائیے تاکہ رشتوں میں کوئی تلخی پیدا نہ ہو۔ کیونکہ بعض اوقات بہت چھوٹی سی غلط فہمی بہت بڑے فساد  کا سبب بن جاتی...

عنوان: 2021 نفاذ اردو کا سال

پاکستان کو اللہ نے جہاں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے وہیں ایک نعمت قومی زبان اردو بھی ہے. اردو میں فارسی عربی ترکی کے الفاظ موجود ہیں اور اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ دنیا پھر میں بولی جاتی ہے اور  1999ء  کی مردم شماری کے مطابق دس کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کہ نویں بڑی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے۔  اردو زبان میں فارسی کا کافی رنگ نظر آتا ہے جس کہ وجہ یہ ہے کہ محمود غزنوی کے دور سے لے کر مغل بادشاہوں کے دور تک اسے دفتری زبان کا درجہ حاصل رہا. برصغیر پر برطانوی تسلط کے بعد انگریزی کو دفتری زبان بنا دیا گیا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ابھی تک غلامی کا طوق گلے میں ڈالے انگریزی کو ہی پوجتے آ رہے ہیں جو کہ غلام زدہ قوم کی نشانی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے اور اسی زبان کو تعلیم و تعلم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ہم سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں قومی زبان کی بجائے فرنگی زبان کو تریح دیتے ہوئے اسے تعلیم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بیوی کے پاؤں تلے زمین نکل گئی. . ..  مزید پڑھیے : رانگ نمبر  اسی قومی زبان اردو کے بارے پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ " پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے اور یہ آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر ملک میں رائج ہو جانی چاہئیے". پاکستان کا آئین 1973 میں رائج ہوگیا لہذا اصولً 1988 تک اردو کو مکمل طور پر پاکستان میں ہر شعبہ میں رائج ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اتنے لمبے عرصے میں ہمارے حکمران اردو کو مکمل طور پر رائج کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں. ایک بڑی وجہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کی حکمرانی ہے جو اپنی اولادوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہیں اور وطن واپسی پر پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے. یوں یہ انگریزی زبان میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے بابو جن کو اردو ٹھیک طرح سے بولنا نہیں آتی اور الفاظ کا حلیہ بگاڑ کر بولتے ہیں وہ ان افراد پر حکمرانی کرتے ہیں جو ان سے ہزار گنا زیادہ قابلیت رکھتے ہیں۔  ہمارے ہاں انگریزی کو اعلی معیارِ زندگی کے نشان کے طور سمجھا جاتا یے. حالانکہ تمام ترقی یافتہ اقوام بشمول چائنہ کوریا وغیرہ نے اپنی زبان میں ترقی کی ہے.ہم کم انگریزی جاننے اور بولنے والے افراد کو جاہل قرار دیتے ہیں. لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ قاصد علی رحمن جو کہ صرف پانچ جماعتیں پڑھے ہیں اور ایک کتاب کہ مصنف ہیں وہ خود کو ان پڑھ کہتے ہیں. جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں انگریزی نہیں جانتا اسی لئے دوسروں کی نظر میں ان...

ہمارے بلاگرز