فرحین منصوری

mm
1 بلاگ 0 تبصرے
فرحین منصوری جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغِ عامہ میں بی اے اونرز کی طالبہ ہیں،مطالعہ اور کرنے اور بلاگ لکھنے کا شوق رکھتی ہیں

بچوں کی تربیت

بچےکا پہلا تربیتی ادارہ گھرہوتا ہے،ابتدائی تربیت ماں اور باپ دونوں کرتے ہیں۔آج سے تقریباً١٠ سال قبل کی بات ہےکہ والدین بچوں کویہ تربیت...

اہم بلاگز

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

پیارے بچو! ہمارے پیارے نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک نہایت دلیر اور بہادر ساتھی ’’ حضرت عمر فاروق  ؓ بھی تھے۔ آپ کا نام عمر اورکنیت ابو حفص تھی ، جبکہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے آپ ؓ کو فاروق کا لقب عطا کیا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ   ہجرتِ مدینہ سے تقریباً ۴۰ سال قبل مکے میں پیدا ہوئے ۔ آپ ؓ کے والد کا نام خطاب بن نفیل جبکہ والدہ کا نام حنتمہ بن ہاشم تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے انتقال کے بعد مسلمانوں نے انہیں اپنا خلیفہ منتخب کرلیا۔ خلیفہ بننے کے باجود آپ نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے،ہمیشہ بن چھنے آٹے کی روٹی کھاتے و ہ بھی کبھی زیتون کے تیل، کبھی سرکہ اور کبھی کسی سبزی کے سالن کے ساتھ۔ ایک بار مکہ اور مضافات میں سخت قحط پڑا تو اس زمانے میں آپ نے زیتون کے تیل ، گھی اور گوشت کا استعمال بالکل بند کردیا تھا۔ لباس کے معاملے میں بھی بہت سادگی اختیار کرتے تھے۔عام طور سے آپ موٹے کھدر کے کپڑے پہنتے تھے، جب وہ پرانے ہوکر پھٹنے لگتے تو ان میں پیوند لگا لیتے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے حضرت عمرؓ کے کپڑوں میں بائیس پیوند لگے دیکھے۔ آپ ؓ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو عزت اور شان و شوکت عطا کی ہے وہ شاندار کپڑوں اور عالی شان مکانا ت کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلام کی وجہ سے ہے۔ ایک دفعہ ملک روم کا سفیر مدینہ آیا اور اس نے لوگوں سے دریافت کیا کہ ’’تمہارے خلیفہ کا محل کہاں ہے؟ ‘‘ لوگوں نے کہاکہ’’ ہمارے خلیفہ محل میں نہیں رہتے بلکہ عام سے مکان میں رہتے ہیں ، اس وقت وہ شہر سے باہر کی جانب گئے ہیں تم ان کو دیکھو گئے تو پہچان لوگے، ان کے ایک ہاتھ میں درہ ہوگا، موٹے کھدر کے کپڑے پہن رکھے ہونگے۔ ‘‘ سفیر شہر کے باہر کی جانب چل دیا، کچھ دور جاکر اس نے دیکھا کہ مسلمانوں کے خلیفہ ایک درخت کے نیچے اینٹ پر سر رکھ کر سورہے ہیں، آس پاس کوئی پہرے دار نہیں ہے۔ یہ دیکھ کر اس کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے’’ آپ  اپنے لوگوں کے سچے خیر خواہ ہیں اسی لیے آپ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیںاور آپ کو کسی سپاہی اور پہرے دار کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ آپ ؓ بہت دیانت دار انسان تھے ، خاص طور سے بیت المال کی چیزوں کے استعمال میں تو بہت زیادہ محتاط رہتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ؓ نے دیکھا کہ بازار میں ایک نہایت موٹا اور صحت مند اونٹ بیچا جارہا ہے، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ آپ ؓ کے صاحب زادے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا ہے، انہوںبتایا کہ ’’ ابا جان یہ اونٹ میں نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا تھا ، پھر میں نے اس کو سرکاری چراگاہ میں چھوڑ دیا تھا، اب یہ خوب صحت مند ہوگیا ہے تو اس کو بیچنا چاہتا ہو ں تاکہ اس کے اچھے دام ملیں‘‘ ،...

زہے مقدر۔۔۔

مسجدِ نبوی میں کچھ گھڑیاں کئی ہفتوں سے بننے والے پروگرام میں ہر بار ہی کوئی مشکل آڑے آجاتی، اور ہم مدینہ کی پر نور فضاؤں سے محروم رہ جاتے، ہم نے افسردگی سے ذکر کیا ، تو کسی نے جواب دیا کہ اس کا بلاوہ تو وہاں سے آتا ہے، جب بلاوہ آگیا تو ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا۔ ہماری حالت یہ تھی کہ دل کا درد بار بار آنکھوں سے بہنے کی کوشش کرتا، بس اپنے ہی جزبوں کی کمی کا احساس غالب تھا، جمعرات کی رات نصف شب اچانک شوہر صاحب نے کہا کہ بچوں سے پوچھ لیں اگر وہ تیار ہوں تو صبح سویرے مدینہ کے لئے نکل جاتے ہیں، ہفتے کو واپس آجائیں گے، بیٹے کی آمادگی کے بعد ہم نے بیٹی کو جگانا بھی مناسب نہ سمجھا اور ساری تیاری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا، (جو صنفِ نازک کے کندھے تو ہیں، مگر رب نے انہیں مضبوطی دی ہے، الحمد للہ)۔ سب کے کپڑے استری کر کے بیگ تیار کیا، پانی کی بوتلیں فریزر میں لگائیں، اور باقی کے انتظامات کر کے ایک گھنٹہ سونے کا موقع بھی مل گیا۔ فجر سے کافی پہلے ہماری گاڑی عنیزہ شہر سے نکل چکی تھی، عین فجر کے وقت ہمیں پٹرول اور باجماعت نماز دونوں مل گئے، اور تیار شدہ ناشتا بھی! بلاتاخیر سفر دوبارہ شروع ہو گیا۔ یہ جمعہ کی خوبصورت سہانی صبح تھی، گاڑی میں اجتماعی دعاؤں کے بعد اب سورۃ الکہف سنی جا رہی تھی، اسی دوران پاکستان میں بچوں سے رابطہ ہوا، اور دعاؤں کی ایک پوٹلی بھی مل گئی۔ القصیم سے مدینہ کا سفر بہت خوبصورت ہے، راستے میں زمین کے مختلف خطوں کے اتنے مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں کہ دل مسرور ہو جاتا ہے، کئی وادیوں میں اونٹ یہاں وہاں پھیلے تھے، کہیں سفید اونٹ، جسن وجمال کے شاہکار، کہیں بھورے بالوں والے اونٹ اور کہیں سیاہ مشکی گھوڑے کے رنگ کے۔ اللہ کی بہترین صناعی: ’’افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت، والی السماء کیف رفعت، والی الجبال کیف نصبت، والی الارض کیف سطحت‘‘، (کیا یہ اونٹوں کی جانب نہیں دیکھتے کہ کیسے تخلیق کئے گئے؟ آسمان کو نہیں دیکھتے، کیسے اٹھایا گیا؟ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟)۔ زمین پر کہیں کھجور کے درخت، کہیں سبزہ زار، کہیں کھجور کے درختوں سے گھرا قطعہ اراضی، اور بیچ میں سبز کھیت، اور کہیں صحرا میں جھاڑی نما درخت اور وہیں پر اونٹوں اور بکریوں کے گلے بھی!! میں جب بھی یہاں سے گزرتی ہوں عجب تازگی کا احساس ہوتا ہے، ان علاقوں کی تاریخ اور جغرافیہ پڑھنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ سڑک کے ایک جانب پہاڑ پر ’’قصرِ عقیل‘‘ دیکھ کر ہمیشہ ہی اسے جاننے کا دل چاہتا ہے، پہاڑ کی چوٹی پر بنا قلعہ کسی اہم حفاظت اور حصار کی نشانی لگتا ہے۔ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے بلکہ کافی پہلے پہاڑیوں کے اوپر بھر بھرے سے پتھر ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے زمانہ قدیم میں کسی آتش فشاں کے پھٹنے سے پھیل جانے والی...

پیرنٹس،ٹیچرزمیٹنگ ایسی بھی ہونی چاہیے

وہ صاحب روز اسکول آتے اور سارے اسکول کو سر پر اٹھا لیتے۔پرنسپل، وائس پرنسپل، کورڈینیٹر اور اردو کے ٹیچر بھی روز بیٹھ کر ان کی چیخیں سنتے رہتے۔ وہ استاد سمیت پرنسپل صاحب کو بھی صیح سے "رگڑے" دیتے، تمام مینجمنٹ انھیں سمجھانے کی ناکام کوشش کرتی اور پھر وہ چلے جاتے۔ تقریبا 3 دن بعد اسکول انتظامیہ کو ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ مجھے نہیں معلوم یہ قانون کہاں سے آیا ہے لیکن ہم نے اپنے بچپن سے اور ہمارے بڑوں نے اپنے بچپن سے یہی سنا ہے کہ لینگویج کے مضمون میں پورے نمبر نہیں دئیے جاتے ہیں اور اسی "غیبی قانون" کے تحتاردو کے ٹیچر نے بھی اس بچے کا آدھا نمبر پورا پیپر ٹھیک ہونے کے باوجود کاٹ لیا تھا اور وہ صاحب ہاتھ پاؤں دھو کر اس بات پر "لہو" ہوگئے کہ جب میرے بچے نے پیپر ٹھیک کیا ہے، اس کی خوشخطی بھی خوبصورت ہے تو یہ آدھا نمبر کس "خوشی" میں کاٹا گیا ہے؟ اور سب مل کر انھیں لینگویج والا "غیبی قانون" سمجھا رہے تھے۔  میرا خیال ہے کہ ان نمبروں کے جتنے بد اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں اساتذہ بھی ان کی زد میں آئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں اور اسی کو "مکافات عمل" کہتے ہیں۔میرا ماننا یہ ہے کہ اب پی – ٹی – ایم کے رائج الوقت طریقے کو بھی ختم ہونا چاہئیے۔  پی –ٹی –ایم کا مطلب یہ ہے کہ والدین یا تو بچوں کی شکایتیں سننے آئینگے یا پھر اساتذہ کی شکایتیں لگانے آئینگے۔پی- ٹی – ایم سے جتنے کوفزدہ بچے ہوتے ہیں میرا تجربہ ہے کہ اساتذہ بھی اس سے کم خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں کیونکہ اگر کسی استاد کے بارے میں والدین نے کوئی منفی تبصرہ کردیا تو پھر اس "استاد" کی شامت آکر رہتی ہے۔ مجھے تو بعض دفعہ یہ لگنے لگتا ہے کہ بچوں کے والدین اور اساتذہ کے درمیان دوکاندار اور گاہک والا تعلق ہے اور بچے وہ پروڈکٹ ہیں جن کی خریدو فروخت کے لئیے پی – ٹی –ایم کے نام پر بولی سجائی گئی ہے۔ ملائشیاء کے ایک اسکول نے پی – ٹی – ایم والے دن تمام بچوں کی ماؤں کو بلایا اور ایک بڑے سے لان میں انھیں کرسیوں پر بٹھا دیا گیا۔ سب کے سامنے پانی کے تب رکھ دئیے گئے اور ان کے بچوں کو حکم دیا گیا کہ اپنی ماؤں کے پاؤں دھلائیں یعنی پیڈیکیور کریں۔ خواتین کی خوش قسمتی تھی کہ انھیں پیڈیکیور کی سہولت مفت میسر آگئی اور بچوں کو یہ احساس بھی منتقل کردیا گیا کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے"۔ کوئی پی –ٹی – ایم ایسی بھی ہونی چاہئیے کہ جس میں اساتذہ خاموش ہوں اور سہہ ماہی، ششماہی یا سالانہ بنیاد پر کئیے گئے کاموں کو بچے اپنے والدین کے سامنے خود پیش کریں۔ بچے اپنے والدین کو خود بتائیں کہ انھوں نے سال بھر کیا سیکھا؟ انھوں نے ایک سال میں کتنی نئی کتابیں پڑھیں، روزانہ کتنے صفحوں کا ہدف انھوں نے طے کر رکھا ہے جس کا وہ مطالعہ کرتے ہیں، انگریزی کے کتنے الفاظ نھوں نے...

سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات

موجودہ دور میں ملکی و غیر ملکی حالات سے باخبر رہنا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا اتنا مشکل نہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو سمیٹ کر ہمارے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں دو سو کروڑ سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور 2021 تک یہ تعداد بآسانی تین سو کروڑ سے تجاوز کرجائے گی۔ سوشل میڈیا معلومات حاصل کرنے کا ایک قیمتی ذریعہ ہے۔ اساتذہ اور شاگردوں کے لیے یہ پلیٹ فورم یکساں مفید ہے۔ دنیا بھر کے حالات سے باخبر رہنا اور ملک سے باہر بیٹھے اپنوں سے بات کرنا پہلے کی طرح اب مشکل نہیں رہا۔  اس کے ذریعے مختلف ملکوں اور قوموں کی تہذیب و ثقافت سے واقفیت بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اپنی رائے کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی آواز اعلیٰ عہدیداران تک بھی پہنچائی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں عاطف میاں کے مسئلے کو حل کرنے میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ واٹس اپ پر کورسز کا ٹرینڈ نہایت تیزی کے ساتھ مقبول ہورہا ہے۔جس کے ذریعے آپ نہ صرف گھر بیٹھے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے گھر بیٹھے پیسے بھی کما سکتے ہیں۔ مفتیانِ کرام سے فتویٰ لینے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بیٹھے ڈاکٹرز کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اسکائپ و دیگر وڈیو کال سافٹ ویئرز کی بدولت قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ مختلف کورسز بھی کیے جاسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے ملک و اسلام دشمنوں کی سازشوں کو روکا جاسکتا ہے۔ ملحدین و دیگر اسلام بیزار لوگوں کے خلاف سوشل میڈیا پر بہترین انداز میں کام ہورہا ہے۔ اسلامی، سیاسی، سماجی و دیگر حلقوں سے تعلق رکھنے والے احباب اپنے نظریات کی بخوبی پرچار کررہے ہیں۔ کاروبار کی تشہیر کرنا، نوکری تلاش کرنا، ادب کو فروغ دینا یا کسی غریب کی مدد کرنا سوشل میڈیا کی بدولت آسان بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے نقصانات کی فہرست بنسبت اس کے فوائد کے زیادہ ہے۔ نوجوانوں میں فحاشی و عریانی پھیلانا اسلام دشمن قوتوں کا مقصد ہے۔ ان کے اس مقصد کی تکمیل کے لیے سوشل میڈیا ایک اہم ہتھیار ثابت ہورہا ہے۔ دور بیٹھے احباب سے رابطہ تو آسان بن چکا ہے لیکن قریبی تعلقات دور ہوتے چلے گئے ہیں۔ بنا سوچے سمجھے تصاویر وغیرہ شیئر کرنے کے  کئی نقصانات سامنے آچکے ہیں۔ بے مقصد شہرت اور زیادہ لائیکس حاصل کرنے کے چکر میں اسلامی و اخلاقی اقدار کو روندا جاتا ہے۔ نازیبا تصاویر اور  وڈیوز شیئر کرکے کئی گناہوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ بواء فرینڈ اور گرل فرینڈ کلچر بھی سوشل میڈیا کی رہینِ منت ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کی بدولت خودکشی کو فروغ ملا ہے۔ ایک سروے کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک رپورٹ شیئر کی گئی کہ ہائڈروجن سلفائڈ کے ذریعے بآسانی خودکشی کی جاسکتی ہے۔ تھوڑے ہی عرصے بعد 220 لوگوں نے اس طریقے سے خود کو مارنے کی کوشش کی جن میں سے 208 کامیاب بھی ہوئے۔ اس کے علاوہ...

حجاز ریلوے سے حرمین ریلوے تک‬

؍گیارہ اکتوبر 2018ء کو مملکت سعودیہ عربیہ کی طرف سے مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ’’حرمین ریلوے‘‘ کے نام سے ایک ریلوے سروس شروع کردی گئی ہے ،جس نے حرمین شریفین کے ساتھ ساتھ حجاز کے ساحلی شہر جدّہ کو بھی ایک ٹرین نیٹ ورک سے منسلک کردیا ہے۔ اس طرح عازمین حرمین شریفین حج اور عمرے کے لیے ’’حرمین ریلوے ‘‘ استعمال کریں گے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے ٹرین سروس شاید پہلی مرتبہ شروع کی گئی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تاریخ میں تقریباً ایک سو دس سال قبل عازمین حج اور عمرے کے لیے ٹرین سروس قائم کی گئی تھی جو گردش زمانہ تلے آکر جلد ہی بند ہوگئی اور آج بہت کم لوگ اس ٹرین سروس کے بارے میں علم رکھتے ہیں جسے تاریخ کی کتابوں میں ’’حجاز ریلوے‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حجاز ریلوے: حجاز ریلوے حرمین شریفین کے ساتھ ساتھ عظیم ’’سلطنت عثمانیہ ‘‘ کی تاریخ کا بھی ایک روشن اور تابناک باب ہے۔ یہ وہ سروس تھی کہ جس نے زائرین حرمین کا دو ماہ کا سفر کم کر کے یکایک 55گھنٹوں تک محدود کردیا تھا اور اس مناسبت سے سفری اخراجات بھی دس گنا گھٹا دیے تھے۔ ’’حجاز ریلوے‘‘ کی تعمیر کا آغاز یکم ستمبر 1900ء میں عثمانی فرمانبردار سلطان عبدالحمید ثانی کے تخت نشین ہونے کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا اور آٹھ سال بعد اسی تاریخ یعنی یکم ستمبر1908ء کو دمشق سے مدینہ منورہ تک 1320 کلو میٹر طویل ریلوے لائن مکمل ہوئی اور پہلی ٹرین عثمانی عمائدین سلطنت کو لیے دمشق سے روانہ ہوئی۔ مکمل منصوبہ دمشق سے لے کر مکہ مکرمہ تک ریلوے لائن بچھانے کا تھا۔ مگر پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے یہ لائن مدینہ منورہ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ حجاز ریلوے کا پسِ منظر: دور جدید میں حجاج کرام کا حرمین شریفین کے لیے سفر جتنا آرام دہ اور پُرسکون ہے، دورِ قدیم کے حجاج اتنی سہولیات کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ دورانِ سفر بے شمار آزمائشیں حجاج کرام کی منتظر ہوتی تھیں۔ لق و دق صحرا، بپھرتے دریا، فلک پوش پہاڑ، لٹیروں کے گروہ، سامانِ خورد و نوش اور پانی کی کمیابی اور جنگلی جانوروں سے ٹکراؤ جیسی مشکلات سے نبردآزما ہو کر حجاج کے قافلے سفر حج مکمل کرکے جب گھر واپس لوٹتے تو اہل خانہ خوشیاں مناتے۔ سفر حج سے قبل اہل خانہ اور دوستوں سے معافی تلافی کروانے کا رواج اسی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اکثر اوقات بادشاہ جب اپنے کسی امیر سے نالاں ہوجاتا اور اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرلیتا تو اسے حرمین کے سفر پر روانہ کردیتااور راستے میں ہی بادشاہ کے کارندے اس امیر کو قتل کرکے کسی ویرانے میں ڈال دیتے اور اس کے اہل خانہ اس کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے۔ (مغل شہنشاہ اکبر اعظم نے اپنے اتالیق بیرم خان سے یہی سلوک کیا تھا۔ ) زمانہ قدیم میں بلادِ عرب اور اس کے اطراف کے علاقوں سے حجاج کے قافلے شام کا رُخ کرتے اور...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

رن مرید

رن مرید،زن مرید،جورو کا تابع یا جورو کا غلام جسے پنجابی میں ”تھلے“لگا بھی کہا جاتا ہے،ایک ایسا عنوان ہے جسے مردکے چہرے سے ہی پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ مرد اپنی یا کسی اور کی جورو کا غلام ہے،دنیامیں زیادہ تر لوگ رن مرید ہی ہیں بس کوئی مان لیتا ہے تو کسی کی رن اسے تھلے لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہے گویا کان دائیں ہاتھ سے پکڑو یا بائیں سے بات ایک ہی ہے،تو عافیت اسی میں ہے کہ اس فعل کا برملا اظہار کر دیا جائے۔جیسے کہ ایک روائت ہے کہ ایک گاؤں سے تین لوگ گزرتے ہوئے مشکوک پائے گئے تو گاؤں والوں نے انہیں پکڑ کر نمبردار کے سامنے پیش کر دیا،پہلے شخص سے پوچھا کہ تم کہاں اور کس سے ملنے جا رہے تھے اس نے ڈرتے ہوئے کہا کہ میں فلاں پیر کا مرید ہوں ان کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں،نمبردار کو غصہ آیا اور کہا کہ اسے الٹا لٹا کر جوتو ں سے خاطر تواضع کی جائے،یہی حال دوسرے آدمی کا بھی کیا گیا،جب یہ سارا ماجرا تیسرے بندے نے دیکھا جو قدرے چالاک تھا وہ چالاکی دکھاتے ہوئے کہنے لگا کہ سر میں کسی پیر کا مرید نہیں ہوں میں تو بس ”رن مرید“ ہوں اب آپ کی مرضی جو چاہیں سزا تجویز کر دیجئے،نمبردار نے یونہی یہ بات سنی اپنوں بیٹوں کو بآواز بلند پکارنے لگا کہ بچوں جلدی آؤ تمہارا ”پیر بھائی“آیا ہوں اور اس کی کھانے پینے سے خوب خاطر تواضع کرو اور دیکھو مجھے کوئی شکائت نہیں آنی چاہئے۔ اتفاق رائے سے دنیا نے اب اس بات پہ مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ اقسام خاوند میں سب سے اعلیٰ پائے کا خاوند رن مرید ہی ہوتا ہے۔رن مرید ایسا خاوند ہوتا ہے جو بیوی کے کہنے پر تو کہیں بھی بیٹھ جاتا ہے اور اگر سسرال سے کوئی کہہ دے تو مزید بیٹھ جاتا ہے۔قبول ثلاثہ کے بعد ساری زندگی جی حضوری میں ہی گزار دیتا ہے اس پہ شرمندہ نہیں ہوتا کہتا ہے بیوی کی جی حضوری نہیں کرتا بس ویسے ہی وہ مجھے بولنے نہیں دیتی۔رن مرید چپ رہنے پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ مزید چپ میں ہی عافیت خیال کرتا ہے،دوستوں میں سے ایک بار کسی نے اسکی غیرت جگانے کے لئے فقرہ چست کردیا کہ یار تمہاری کیا زندگی ہے تمھاری تو بیوی تمہیں گھاس بھی نہیں ڈالتی،کمال دلیری سے بولا”شیر گھاس نہیں کھاتا اور گوشت وہ مجھے کھانے نہیں دیتی“کہتا ہے کامیاب ازدواجی زندگی کے دو ہی فلسفے ہیں کہ بیوی کے سامنے کبھی نہ بولو اور دوسرا ہمیشہ بیوی کی ہی سنو۔رن مرید بیوی کے سامنے کبھی کوئی سوال نہیں اٹھاتا بس دست سوال دراز ہی ہوتا ہے۔رن مرید ہمیشہ اپنے خاندان والوں سے بیوی کی زبان میں بات کرتا ہے اور بیوی کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتی کیونکہ بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بات بیان کرنے کے لئے خاوند کے منہ میں زبان دے رکھی ہے اور یہ بات وہ اپنی سہیلیوں میں برملاکہتی ہے کہ میں نے اپنی ساس...

لاچا بمقابلہ ٹائٹ(چست پاجامہ) 

لباس کا پہننا جسے انگریزی میں Dress up ہونا کہا جاتا ہے،میرے نزدیک انسان کے dress کاup ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پتہ چل سکے کہ لباس بھی پہنا ہوا ہے۔لباس کے بارے میں میری رائے بالکل واضح اور شفاف(transparent )لباس جیسی ہی شفاف ہے،کہ انسان کو لباس ضرور پہننا چاہئے چا ہے اس میں’’شفافیت‘‘جھلکتی،چھلکتی ہوئی نظر ہی کیوں نہ آرہی ہو۔اچھا لگنااور دکھنا ہربنی نوع انسان کی فطرت میں شامل ہے اوریہ لباس ہی ہے جس نے انسان کو جنگل سے شہر میں آ کر آباد ہونے کی ترغیب دی وگرنہ آج بھی انسان ’’قدرتی حالت‘‘ میں جنگل میں ہی مسکن پذیر ہوتا۔شہر میں بسنے سے ہی انسان کی حسِ جمالیات پروان چڑھی جس نے انسان کو سکھایا کہ میرج پارٹی،ایوننگ پارٹی،ڈنر پارٹی،نائٹ پارٹی میں کس طرح کا سوٹ پہن کر جاناچاہیے،ہاں اگربرتھ ڈے پارٹی ہو تومیری نظر میں ایسی پارٹی میں نہیں جانا چاہیے کہ برتھ کے وقت انسان کسی سوٹ میں ملبوس نہیں ہوتا ۔ لاچا کرتہ صوبہ پنجاب کا مقبول لباس ہے،کرتہ پر پھر کبھی قلم چلایا جائے گا ۔ابھی لاچے کے ’’مصائب و محاسن‘‘کا تذکرہ ہی مناسب رہے گا،اگرچہ لاچا پہننے والا خود کو مناسب خیال کرتا ہے تاہم دیکھنے والا کسی طور خود کو ‘‘مناسب‘‘محسوس نہیں کرتا۔لاچا وہ واحد لباس ہے کہ اسے پہننے کے لئے کسی اوزار بند یا بیلٹ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بس دو کناروں کو تھاما اور آپس میں گھتم گھتا کر دیا یعنی باندھ دیا ،میرے ایک دوست کا پوچھنا ہوتاہے کہ یار یہ لاچا باندھا جاتا ہے کہ پہنا جاتا ہے تو میرا اس کو جواب ہوتا ہے کہ یہ واحد لباس ہے جسے باندھ کر بھی پہنا جا سکتا ہے اور پہن کر بھی باندھاجا سکتا ہے۔ہاں باندھ کر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کب کھل جائے اور آس پاس کے لوگ آپ پر کھلکھلا پڑیں۔لاچے کے کثیر المقاصد ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ دونوں موسموں میں پہنا،باندھا،اوڑھا اور بچھایا جا سکتا ہے یعنی اسے موسم سرما میں اوڑھ کر سویا جا سکتا ہے جبکہ موسم گرما میں اسے بچھا کر بھی آپ استراحت فرما سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ وقت رات کا ہووگرنہ دن کے اجالے میں ایسی حرکت آپ پہ برا وقت بھی لا سکتی ہے۔لاچے کو سونے سے قبل باندھا جائے تو بہتر ہے اور اٹھتے ہی سب سے پہلے لاچے کو ہی باندھنے میں آپ کی عزت ہے۔باقی یہ ہے کہ لاچے کو کوئی جوڑ نہیں ہوتا ،اسے سلوانا نہیں پڑتا،بس پہننا ہی پڑتا ہے اور اور اگر پہنا ہو تو اسے اتارنا بھی نہیں پڑتا کہ پہنا اور اتارا ہوا ایک سا ہی دکھائی دیتا ہے۔لاچے میں ایک نہیں دو دو پاکٹ ہوتی ہیں جسے پنجابی میں ’’ڈب‘‘ کہا جاتا ہے ۔ڈب ایسی محفوظ جیب(پاکٹ) ہے جس میں رکھے پیسے سمجھو ڈوب ہی جاتے ہیں۔اور اگر پیسے کم رکھے ہوں تو ڈب کی سلوٹوں میں انہیں تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوہ قاف کی کسی غار میں گم ہوگئے ہوں ۔لاچا پہننے والوں کو بس ایک بات کا از بس...

جگتوں کی سر زمین ۔۔۔۔۔فیصل آباد 

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب 1962 کا آئین پیش کیا گیا تو ملک کے کونے کونے سے احباب فکرو ادب اور ارباب سیاست نے آئین پر تنقید کو اپنا حق سمجھتے ہوئے ایسے آڑے ہاتھوں لیا کہ جیسے رضیہ غنڈوں میں پھنس کر رہ گئی ہو۔بلکہ چائے کے کھو کھے پہ بیٹھنے والا وہ بندہ جسے گھر والے چولھے کے پاس بھی نہیں بیٹھنے دیتے وہ بھی کہتا پھر رہا تھا کہ ایوب خان نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔تنقید کی بڑی وجہ آئین کا صدارتی ہونا تھا کہ جس کے مطابق اختیارات کا منبع صدرِ محترم کی ذات کو خیال کیا گیا۔ایک سیاستدان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق صدر کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ اگر مرد کو عورت اور عورت کو مرد ڈکلئیر کردے تو آئینی اختیارات کی رو سے عوام کو اس آئینی حق پر تسلیم بجا لانا ہوگا۔اس آئینی اختیارات کے بارے میں جسٹس کیانی سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آئین میں صدر کو وہی حیثیت حاصل ہے جو فیصل آباد کے آٹھ بازاروں میں گھنٹہ گھر کو حاصل ہے‘‘گویا انگریزوں کے بنائے ہوئے اس گھنٹہ گھر کو شہرت دوام 62 کے آئین نے بخشی۔ویسے فیصل آبادتین باتوں کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے،نصرت فتح علی خان،جگت اور گھنٹہ گھر۔آٹھ بازاروں میں سے کسی ایک میں بھی قدم رنجہ فرما ہو جائیے گھنٹہ گھر ہر بازار سے منہ چڑاتا ہوا ایسے نظر آئے گا جیسے محبوب کے گھر کسی گلی سے بھی داخل ہونے کی کوشش کر لیجئے ایک خاص قسم کا مخصوص کھانسی والا بابا ہر بار آپ کے سامنے آ جائے گا۔بلکہ کبھی کبھار تو وہ پوچھ بھی لے گا کہ کاکا تیرا تیسرا چکر اے ایس گلی دا،سب خیر تے ہے نا۔فیصل آباد میں کسی بھی دکان میں تشریف لے جائیں ہر بندہ جگت کے لئے ہمہ وقت تیار ملے گا۔ایسے ہی اگرکسی بچے سے بھی نصرت کے بارے میں بات کر کے دیکھ لیں تو وہ گیان پہلے لگائے گا تعارف بعد میں کروائے گا۔ پرانی بات ہے کہ جب کمپیوٹر نیا نیا پاکستان میں متعارف ہوا تھا ،مجھے ڈیٹا کیبل کی خریداری کے لئے کچہری بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ایک دکان سے کیبل لیتے ہوئے میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ بابا جی ذرا مضبوط سی ڈیٹا کیبل دینا،بابا جی معا میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے گویا ہوئے کہ’’بیرے توں ایہدے نال لیپ ٹاپ چلانا اے کہ کھوتا ریڑھی کھچنی اے‘‘یعنی تم نے اس کیبل سے لیپ ٹاپ چلانا ہے یا گدھا گاڑٰی کھینچنی ہے۔اس دن مجھے اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا کہ واقعی فیصل آباد میں اتنی فصل نہیں ہوتی جتنی کہ جگت ہوتی ہے۔یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ لفظ ’’بیرا‘‘ ویر کی بگڑی شکل ہے جو برادر یا بھائی کے معنی میں مستعمل ہے۔یہ لفظ فیصل آباد میں اس قدر بولا جاتا ہے کہ کبھی کبھار تو بیوی اپنے سکے شوہر کو بھی ’’بیرا‘‘ کہہ کر ہی مخاطب کر دیتی ہے،بیرے کے اس بے محل استعمال کے بعد اب ضلعی حکومت کو...

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

ایام جوانی میں جب ہم نے یہ شعر پڑھا تو تادیر یہی خیال کرتے رہے کہ اسے دو شاعروں غالب اور آتش نے مل کر لکھا ہے،بعد از عقد، یہ عقدہ کھلا کہ نہیںیہ دو نہیں بلکہ ایک ہی شاعر کی کارروائی ہے۔کیونکہ آتش لگانے کے لئے دو شاعر نہیں بلکہ ایک بیوی ہی کافی ہوتی ہے۔شاعر دو ہی کام کرتے ہیں خوبصورت گل اندام سے واسطہ ہو تو خود کو جلاتے ہیں اور ہم عصر شاعروں کا سامنا ہو تو انہیں جلاتے ہیں۔بقول جالب’’ؔ مجھے اتنا ٹارچر پولیس والوں نے نہیں کیا جتنا کہ شاعروں نے کیا‘‘ان شاعروں کے نام تو منظر عام پہ نہیں آ سکے البتہ جالبؔ کی شاعری سے جلنے والوں کی تعداد سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ حسد کی بوُ کتنی بد بو دار ہوتی ہے۔ایک بار میرا تحقیق کرنے کو دل چاہا کہ پتہ کیا جائے کہ غالبؔ اور آتشؔ میں سے کون قد آور شاعر ہے لیکن دونوں کی ایک ساتھ تصویر کی عدم دستیابی سے یہ تحقیق پایہ تکمیل نہ ہو سکی۔ویسے غالبؔ کی شخصیت کے حوالے سے جو بھی تحقیق کی جائے حاصل جمع کسمپرسی،افلاس اور لاچارگی ہی نکلتا ہے۔کیونکہ غالبؔ نے ساری زندگی نہ کچھ جمع کیا اور نہ حاصل۔آج کل کسی بھی اچھے شاعر کو اگر غالبؔ سے تشبیہ دی جائے تو وہ فوراً اپنا ظاہری حلیہ دیکھنا شروع کر دیتا ہے کہ شائد میں بھی غالبؔ کی طرح مفلس و لاچار نظر آتا ہوں۔غالبؔ کے ساتھ اصل میں گھر والوں نے کچھ ایسا ہاتھ کیا کہ اسے کسی حال کا نہ رہنے دیا یعنی نو عمری میں ہی ان کو شادی کی عمر قید سنا دی گئی جس کا تذکرہ وہ ہمیشہ اپنے خطوط میں کرتے رہے۔یعنی اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ پر کاٹ دیے غالبؔ کو اس بات کا افسوس ہمیشہ رہا کہ نوعمری میں ہی انہیں رشتہ ازدواج میں باندھ دیا گیا اور جب شادی کی عمر کو پہنچے تو شادی میں کوئی مزہ باقی نہ رہا۔اسی لئے انہوں نے اپنی شاعری سے یا تو دوسروں کو مزے دیے ہیں یا ہنستے بستے گھروں کو شاعری کی آتش میں ایسے جلایا کہ نہ’’ جنوں‘‘ رہا نہ’’ پری‘‘ رہی غالبؔ نے ساری زندگی مشاعرہ پڑھا ،کرایہ کے مکان میں مقیم رہے اور ایک ہی بیوی پہ قناعت و توکل رکھا،مزے کی بات یہ ہے کہ ساری زندگی نہ گھر کا کرایہ دیا اور نہ بیوی کو طلاق دی۔کہتے ہیں غالبؔ سے باوجود چاہنے کہ نہ بادہ خوری چھوٹی ،نہ بیوی۔خود پسندی غالبؔ کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،اتنا ہم عصر شعرا انہیں پسند نہیں کرتے تھے جتنا وہ اپنے آپ کو خود پسند کرتے تھے۔اپنے آپ کو نواب آف لوہارو خاندان کا چشم و چراغ بتاتے تھے۔صرف بتاتے ہی نہیں تھے عادات و شوق بھی نوابوں جیسے ہی تھے اسی لئے ساری زندگی کوئی کام نہیں کیا،ادھار پہ گزارہ کیا،جس سے لیا اسے واپس نہیں کیا،ہوئی نا ،نوابوں والی خصلت۔ شادی کے بعدمرد کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقی خوشی کیا ہوتی ہے ؟اور عورت کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب اسے سہاگ رات کو...

ٹیکنالوجی اور ہم

تحریر: گل اندام خٹک ہماری والدہ ماجدہ جب بھی ہمارے ہاتھ میں موبائل فون دیکھتی ہیں انہیں وہ دن یاد آجاتے ہیں جب لوگ ہاتھ میں بٹیرے لئے گھوم رہے ہوتے تھے۔ یہ بٹیرے آپ کو آج کل ہر ایک کے ہاتھ میں نظر آئیں گے۔ کسی کے لیے دوسرے سے رابطے کا ذریعہ، کسی کے لئے مشغلہ، کسی کے لیے چلتا پھرتا کاروبار، تو کسی کے لیے ٹشن دکھانے کا سامان۔ دوسروں کے لیے اس کا کوئی بھی مطلب ہو، والدین کے لیے یہی بچوں کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ یہ اور بات ہے کے آج کل کے والدین خود اس مرض کے شکار ہیں۔ ایک دہائی کے اندر اندر ٹیکنالوجی کی دنیا میں آنے والی ڈرامائی تبدیلوں نے معاشرے کی سوچ اور طرز زندگی کی صورت پلٹ کے رکھ دی ہے۔ اس کے مثبت اثرات میں گھر بیٹھے کارونار کرنا، دور دراز کے علاقوں سے رابطہ اور خبردار رہنا، کام کی رفتار میں تیزی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے عوض ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمیں ان گنت نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ ان میں سے ایک نقصان کا سامنا چند روز پہلے میرے بھائی کو ہوا۔ موصوف کو والدہ نے دن کے تقریباً 10 بجے سودا لانے کو کہا حضرت ’’ابھی جاتا ہوں‘‘ کہہ کر 2 گھنٹے تک موبائل کی اسکرین پہ نظریں جمائیں، کے پیڈ کو طبلے کی مانند پیٹتے رہے۔ جب اماں جان نے طیش میں آکے جوتے سے ڈرون حملہ کیا تب بھائی صاحب کو ہوش آیا، سودا لائے اور گھر میں کھانا بنا۔ رات کو ہاسٹل کا منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ کوئی فرش پہ بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے لائیو ڈرامہ دیکھ رہی ہے تو کوئی کونے میں بیٹھی سوشل میڈیا سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ کوئی سیڑھیوں پر بیٹھی واٹس ایپ پہ بات کررہی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ قابل رحم وہ لڑکیاں ہیں جو موبائل ہاتھ میں لیے سگنلز کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہوتی ہیں تاکہ وہ ٹھیک سے بات کر سکیں پھر بھی وہ اکثر کہتی سنائی دیتی ہیں تو ’’کیا اب بھی آواز نہیں آرہی، اب کیا تمہارے لیے ٹاور پر چڑھ جاؤں‘‘۔ کسی روایتی پھپھو کے اندازے کے مطابق یہ بے چاریاں جیسے ہی ’’کیمرے سے پیا گھر‘‘ پہنچتی ہیں ان کے ساتھ’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ایک بار ہم 3 دوست گول گپے کھانے گئیں۔ آڈر دیتے ہوئے غلطی سے منہ سے نکل گیا ’’کاکا! ہم 3 گول گپے ہیں‘‘۔ اس وقت تو بے چاری کا جو مذاق اڑا سو اڑا۔ ہاسٹل پہنچ کے واٹس ایپ دیکھا تو تیسری دوست نے اس بات کا اسٹیٹس بنا کر لگایا ہوا تھا۔ اب حالات ایسے ہیں کے لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں اسٹیٹس کے نام پر بریکنگ نیوز نہ بن جائیں۔ تیزی سے بدلتے اس دور میں اگر نہیں بدلے تو وہ والدین ہیں۔ انہیں آج بھی اپنے بچوں سے شکایات ہیں حالانکہ آج کل کے بچے انتہائی امن پسند ہوگئے ہیں۔ شرافت سے اپنے لیپ ٹاپ اور فون لیے بیٹھے رہتے ہیں جب...

ہمارے بلاگرز