ڈاکٹر اسامہ شفیق

mm
2 بلاگ 0 تبصرے
ڈاکٹر اسامہ شفیق جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل وہ وفاقی جامعہ اردو میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر رہ چکے ہیں۔انہوں نے برطانیہ سے فلم اینڈ ٹی وی ڈائریکشن میں ماسٹرز کیا۔جامعہ کراچی سے ابلاغ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔قومی اور بین الاقوامی جرائد میں ان کے تحقیقی مقالے شایع ہوتے رہیے ہیں۔انہیں ملکی اور غیر ملکی نشریاتی اداروں میں کام کا بھی تجربہ حاصل ہے۔

زندگی کیسے گزاریں؟

زندگی کے ہنگامے میں کچھ وقت اپنی لیے نکالیں۔ اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں جب سب کا ہدف خوب سے خوب تر کی تلاش...

بیت المقدس، یروشلم، امت مسلمہ کی بے حمیتی کا المیہ اور...

ایک صدی قبل 1917 میں جس ناپاک منصوبے کی بنیاد پر اسرائیل کے قیام کا آغاز کیا گیا وہ اب اپنے منطقی انجام کی...

اہم بلاگز

قوام مرد ہی کیوں‎‎؟

عام طور پر سنا اور بولا جاتا ہے 'مردوں کا معاشرہ'۔ اگر چہ یہ الفاظ بعض اوقات کسی احساس محرومی کا نتیجہ ہوتے ہیں اور بعض اوقات نظریے اور فکر کی نا پختگی یہ الفاظ کہلاتی ہے،کبھی فیمینزم کے زیر اثر یہ کہا جاتا ہے اور کبھی حقیقتا مرد کے غیر منصفانہ رویے کے رد عمل میں کہا جاتا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم رائے قائم کرنے میں کتنے پختہ ہیں۔ کیا ہم فرد کی کسی ایک کمزوری کو اس کی ساری خوبیوں پر حاوی کر کے پیش کرتے ہیں یا اس کی شخصیت کا بحثیت مجموعی جائزہ لے کر ایک متوازن رائے بناتے ہیں۔ دراصل،ایک مرد کے غیر منصفانہ رویے کو بنیاد بنا کر اللہ سے شکوہ کناں ہو جانا بچگانہ اور احمقانہ رویہ ہے۔ یہ تو عام فہم بات ہے کہ کسی بھی ادارے کی بنیاد جب رکھی جاتی ہے تو ایک فرد اونر، سربراہ، نگران کی حیثیت سے مقرر کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت ہی نہیں۔ اللہ نے جب دنیا بنائی تو سب سے پہلا ادارہ جو قائم ہوا وہ 'خاندان' تھا۔ خاندان کے معاملات پر ایک نگران مقرر کیا جانا ادارے کی فعالیت اور بقاء اور شناخت کے لئے ضروری تھا۔ اللہ ! جس کی حکمت کا کوئی ثانی نہیں۔، نے مرد کو اس ادارے کا سربراہ بنا دیا تا کہ وہ حالات کے سرد و گرم میں خاندان کا تحفظ کر سکے۔ جہاں تک عورت کی بات ہے تو اس کی بنیادی ذمہ داری اولاد کی پیدائش، پرورش، تربیت تھی۔ ان نازک ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونا مرد کے بس کا روگ نہیں تھا۔ یہ مشقت پر صعوبت لیکن اجر وثواب سے بھرپور کام قیام، مستقل مزاجی اور چار دیواری کا متقاضی تھا، اخفاء اس کی خوبصورتی تھی۔ جذبات سے بھرپور عورت اس ذمہ داری کی اہل تھی۔ مرد کو اللہ نے سخت کوش اور مضبوط بنایا لہٰذا اس کی سوچ میں جذبات سے زیادہ حکمت کا دخل ہے، اس کے فیصلے مضبوط مگر غیر جذباتی ہوتے ہیں، اس کا مؤقف توازن سے بھرپور ہوتا ہے۔ وہ ان تمام پہلوؤں پر غور کر کے فیصلہ کرتا ہے جن پر ایک عورت جذباتی، نرم دلی اور صنف نازک ہونے کی وجہ سے غور نہیں کیا کرتی۔ کیا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جسمانی، ذہنی اور جذباتی لحاظ سے اس مخالفت کا براہ راست سامنا کر سکتی تھیں جس کا سامنا خود محمد ﷺ کو کرنا پڑا؟ کیا وہ مضبوط اور مستحکم فیصلے کر سکتی تھیں اس صورتحال میں؟ ہاں، تشفی ودلجوئی اور ڈھارس بندھانے کا کام ان کی فطرت اور مزاج کے عین مطابق تھا اور وہ انہوں نے بخوبی کیا۔کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک میں اپنے ہر بہتان کی خبر پا کر چارپائی سے نہ لگ گئیں؟ کیا محمد ﷺ نے اس پورا عرصہ میں کوئی جذباتی قدم اٹھایا؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر شک کیا یا بہتان لگانے والوں کے خلاف فوری ایکشن لیا؟ نہیں، کیونکہ اپنی بیوی کی پاکدامنی کا یقین ہونے کے باوجود ایسا کرنا منافقین کو غیر اخلاقی حملے کرنے پر شہ...

مساجد میں چوری، وجہ کیا ہے؟

ہمارے گھر کے قریب تین جامع مساجد ہیں۔ سوئی گیس آفس کے پاس طلحہ مسجد (مادر علمی) ، منگل مارکیٹ میں غوثیہ مسجد اور جاوا چوک میں علی المرتضی مسجد ہے۔ اول الذکر مادر علمی ہے جہاں ہم نے قریبا 13 برس گزارے، اس کے علاؤہ گھر کے قریب ترین مساجد میں غوثیہ اور علی المرتضی مسجد ہے۔ تینوں مساجد میں چپل چوری کی وارداتوں کے علاؤہ دیگر انتہائی سطح کی وارداتوں کی اطلاع بھی گاہے بگاہے ملتی رہتی ہے۔ گزشتہ ہفتے دو دفعہ چپل چوری کی کارروائی بذات خود ہمارے ساتھ ہوئی، خیر یہ بات تو ہمارے سماج کا ایسا جزو لا ینفک بن چکا ہے کہ اس بنا اب گزارا نہیں، بھلا ہو مسجد کے خادم کا ، ایمرجنسی بنیادوں پر ہمیں ایک جوڑا فراہم کیا۔ کل ظہر کے بعد جب باہر نکلا تو وہی خادم صاحب کسی صاحب کے ساتھ انتہائی سنجیدہ لہجے میں گفتگو فرما رہے تھے، پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ رات کو مسجد کا ہیٹر چوری ہو گیا، خادم مسجد انتہائی لاچاری کی حالت میں کہنے لگے دیکھیں اب ہم کیا کریں، ہمارا کام نمازیوں کے لیے سہولیات کا خیال رکھنا، رات کو بر وقت مسجد کے دروازوں کو لاک کرنا ہے، لیکن پھر بھی کسی نے کارروائی ڈال دی۔ چونکہ بات مساجد سے متعلق ہے تو انہوں نے مزید ایک خبر سنائی کہ یہاں تو رات کو کارروائی ڈالی گئی لیکن غوثیہ مسجد میں دن دیہاڑے ساؤنڈ سسٹم غائب ہو گیا۔طلحہ مسجد نہ صرف ایک جامع مسجد ہے بلکہ وہ ایک عظیم جامعہ (یونیورسٹی) بھی ہے، جہاں ملک کے دور دراز علاقوں سے علم کے پیاسوں کو سیراب کیے جانے کی شب و روز سعی کی جاتی ہے۔ وہاں مسجد کے اندر سے چوری ہونا(جوتوں کے علاؤہ) ممکن نہیں، کیوں کہ ہر لمحہ طلباء وعلماء کی آمدورفت رہتی ہے، لیکن مسجد سے باہر چیزیں پھر بھی خطرے سے دو چار ہیں، خاص کر چندے کے ڈبے ، جو کئی دفعہ وارداتوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ اس ساری صورت حال کو جب انسان دیکھتا ہے تو لا محالہ ایک سوال دماغ کے گوشوں سے انگڑائی لیتا ہے، مجھے قوی امید ہے کہ عوامی حلقوں میں بھی ایسے واقعات کے بعد اس قسم کے سوالات کی گونج ہو گی کہ ان لوگوں کو خدا کا خوف بھی نہیں آتا کہ وہ خدا کے گھر سے چوری کرتے ہیں؟ یعنی چوری کی وجہ صرف خدا کے خوف کے نہ ہونے کو قرارا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک بنیادی سوال ہے اور یقینا اگر ہمیں سردی کے موسم میں گرم بستر مہیا ہو، ہمارے بچوں کو موسم کے لحاظ سے تمام سہولیات میسر ہوں، تین یا کم از کم دو وقت کا کھانا بڑی آسانی سے مل رہا ہے ، ہمارے بچوں کے لیے روز مرہ کی ضروریات پوری ہو رہی ہوں ، ہمارے چولہے گرم ہوں، ہماری رہائش اچھی ہو، ہمیں کل کی فکر نہ ہو کہ آنے والے کل کا کہاں سے ، کیسے بندو بست ہو گا؟ تو ہم بیٹھ کر آرام سے دیگر مقامات کے علاوہ خاص کر مساجد میں چوری کی وراداتوں...

رحمت سے منہ نہ موڑیئے‎‎

آپ نے بارہا دیکھا ہو گا کسی بظاہر تعلیم یافتہ کو جو رحمت کے نزول پر عجیب دل گرفتگی کا شکار ہو گیا ہو،جس کے جذبات کا اتار چڑھاؤ اس کے چہرے سے عیاں ہوتا ہو۔کتنی حیرت کی بات ہے نا کہ نعمت کا خالق اور دینے والا بھی وہی ہے اور رحمت کا نزول کرنے والا بھی وہی ہے مگر ہم انسان کتنے کٹھور بن جاتے ہیں نا خود اپنے لئے ہی جب ہم رحمت کے عطا کیے جانے پر ذلت محسوس کرتے ہیں تو کبھی بے چین ہو جاتے ہیں،کبھی رحمت قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں تو کبھی خوش ہونے اور مبارک باد وصول کرنے میں عجیب تناؤ کی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔کیا اناج اور دودھ،گوشت اور بے شمار نعمتوں کے حصول کے لئے ہم رحمت(بارش) ہی کے منتظر نہیں رہتے؟ جب نعمتوں کے حصول کا راز پوشیدہ ہی رحمت کے انتظار میں ہے تو ہم بیٹی کی پیدائش پر غمزدہ کیوں ہو جاتے ہیں؟ کیا ہم اللہ کی تقسیم وعطا پر راضی نہیں؟کیا اللہ جو ہماری رگ رگ سے واقف ہے،شہ رگ سے بھی قریب ہے جب اس سے مانگیں تو کیا وہ ہماری خواہشات سے بے خبر رہ سکتا ہے؟نہیں نا! اللّٰہ تو یوں بھی آزماتا ہے نا اپنے بندوں کو۔دے کر بھی آزماتا یے،نہ دے کر بھی،بیٹیاں دے کر بھی اور بیٹے دے کر بھی۔کیا ہم بیٹی کی پیدائش پر اس لئے رنجیدہ ہوتے ہیں کہ ہمیں امتحان میں پرچہ ہماری پسند کا کیوں نہ دیا گیا؟کیا دنیا کے ممتحن ہمیں وہ پرچہ دیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں؟اللہ جو لطیف و خبیر ہے جس کی نظر ہر معاملے اور ہر پہلو پر ہے کیسے ہمیں ہماری پسند کا پرچہ دے سکتا ہے۔ایسا بھی نہیں کہ ہم دعائیں مانگنا چھوڑ دیں۔کیا بیمار بچہ ماں سے ایسی چیز کا تقاضا کرتا ہے جو اس کی صحت کو خراب کرے گی تو بار بار مانگنے پر کیا ماں اسے دے دے گی؟ نہیں بلکہ وہ متبادل چیز دے گی،اس کی صحت مند ہونے کے بعد اس کی خواہش پوری کر دے گی،بچے کے یوں ماں سے مانگنے سے دونوں کا قلبی تعلق بڑھے گا۔اللہ،جو ماں سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کو جاننے والا ہے کیسے ان کے حق میں ضرر رساں فیصلہ کر سکتا ہے؟ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہم تھڑدلے انسان جو دنیا میں رحمت(بیٹی) کی آمد پر اغماض برتتے ہیں آخرت میں کس منہ سے 'رحمت'(الٰہی)کے طلبگار ہوں گے؟ آپﷺ نے فرمایا: بیٹیوں کو بُرا مت سمجھو ، بےشک وہ مَحَبَّت کرنے والیاں ہیں۔ (مسند امام احمد) آئیے ان محبت کرنے والیوں کی حق تلفی روز پیدائش ہی کرنے کی روش ترک کر دیں،آئیے بیٹیوں کی پیدائش پر خوشیاں منائیں ویسی ہی جیسی بیٹے کی پیدائش پر مناتے۔یقینا ہم بیٹیوں کی پیدائش والے دن سے ہی ان کی حق تلفی سے بچیں گے تو ہی وہ ہمارے لئے جہنم سے آڑ ثابت ہو سکتی ہیں۔اللہ ہمیں روز قیامت آپ صہ کا ساتھ یوں نصیب فرمائے جیسے دو انگلیاں۔آمین

اُمت مسلمہ کے مسائل اور انکا حل

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے نیلگوں آسمان سے بھی بلند تر جس قوم کی منزل ہے وہ آج پستیوں میں کیوں گھری ہوئی ہے؟ وہ ان گنت مسائل کا شکار کیوں ہے ؟ اپنے مسائل کے حل کے لیے غیروں کی محتاج کیوں ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے مالک و خالق و رازق پر ہمارا یقین کمزور ہو گیا ہے جبکہ ہماری صفت تو یہ ہے کہ گماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی یاد کیجیئے ایک قندیل ہماری اماں حاجرہ نے بھی عرب کے لق و دق صحرا میں روشن کی تھی جب وہ ننھے معصوم بچے اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں تشریف فرما ہوئی تھیں۔ کتنا کامل یقین تھا انہیں رب باری تعالیٰ کی مدد پر۔ اور پھر عالم نے دیکھا کہ اسی مقام پر نہ صرف ایک شہر ( مکہ مکرمہ) آباد ہوا بلکہ عالم اسلام کا روحانی مرکز وجود میں آیا ۔ آج امت مسلمہ میں نہ صرف ایمان محکم کی کمی ہے بلکہ حب دنیا غالب آ گئی ہے ۔ سستی، کاہلی اور عیش پرستی ان کا عام شیوہ ہے۔ دیانت دار قیادت کا فقدان ہے اور جب رہبر رہزن بن جائیں تو قافلے منزل کا پتا نہیں پا سکتے۔ اس وقت ۵۷ اسلامی ممالک ہیں مگر بد قسمتی سے زیادہ تر کی باگ ڈور ایسے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے جو عالمی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ مصر، تیونس، شام، لیبیا اور یمن طویل عرصہ سے ایسے حکمرانوں کے ماتحت ہیں جو باطل قوتوں کی خوشنودی کے لئے اپنے ہی عوام کا خون بہا رہے ہیں۔ کشمیر و فلسطین میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ برما و روہنگیا کے مسلمان مہاجرین کی صورت جگہ جگہ دھکے کھا رہے ہیں۔ آج دنیا میں جس قوم کی اکثریت مغلوب و مظلوم ہے وہ مسلمان ہے۔ مجھے بتا دیجیۓ ایسی کوئی قوم جو مسلمانوں کی محکوم ہو۔ اس کی وجہ ہماری باہم نا اتفاقی ہے۔ حیرت ہے کہ جن کے بہت سے خدا ہیں وہ اسلام کے خلاف متحد ہیں جبکہ خدائے واحد کے پرستار فرقوں، گروہوں اور علاقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے وسائل اور معدنی ذخائر کی دریافت کے لئے غیروں کے دست نگر ہیں جو ہمارے سرمائے کا بیشتر حصہ اسی بہانے ہتھیا لیتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے تعلیمی ادارے اب تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے تکنیکی اور تحقیقی ماہرین تیار نہیں کر سکے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ان سارے مسائل کا حل کیا ہے؟ ایک ہی آسان اور قابل فہم حل ہے کہ ہم علاقائی، گروہی اور لسانی تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہم متحد ہو جائیں، اپنی قوتوں اور وسائل کو اکٹھا کریں۔ وہ مسلم ممالک جو مضبوط معیشت کے مالک ہیں وہ اپنا سرمایہ لگائیں جن کے پاس باصلاحیت اور ذہین نوجوان ہیں وہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر سیکھیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں مہارت حاصل کریں، قدرت کے سربستہ رازوں سے پردہ...

ویل کم جماعت اسلامی

لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی۔ 1987 اور 2023 کے درمیان بہت سے دریا اور پہاڑ اور خون کی ندیاں ہیں، جن کو عبور کر کے آج جماعت اسلامی کراچی میں پھر سے سرخ رو ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی نے اس شہر کو لاالہ کے نور سےجگمگانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن کچھ قوتیں ایسی تھیں، جو جماعت اسلامی کو اس شہر سے نکالنا چاہتی تھی، لیکن جماعت اسلامی اس شہر سے نہیں نکل سکی۔ اس نے اپنے کارکنوں کے لہو کی قربانی دی، لاشیں اٹھائیں اور اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑی رہی، اس عرصے میں درمیان میں اسے جب بھی کام کرنے کا موقع ملا، اس نے اپنا فرض ادا کیا، نعمت اللہ خان کی سٹی گورنمنٹ نے اس شہر میں وہ انمٹ نقوش قائم کیے کہ کوئی بھی انھیں نہ بھول سکا۔ میئر عبدالستار افغانی کے ترقیاتی کام آج بھی اس شہر کے لوگوں کو یاد ہیں۔ کراچی شہر حریت ہے، اپنا فیصلہ خود کرتا ہے، اس کے نفع نقصان کو بھی برداشت کرتا ہے، لیکن یہ شہر جن کو ووٹوں سے منتخب کرتا ہے، انھیں ووٹوں ہی سے شکست بھی دیتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کی صورت میں جماعت اسلامی کو ایسی بے باک اور ویژن رکھنے والی قیادت ملی، جس نے اس شہر کی تعمیر نو کا ایک خواب دیکھا، اس کے نوجوانوں کو پان گٹکا، منشیات، لوٹ مار، بھتہ خوری سے نکال کر باعزت شہری بنانے کا عز م کیا اور پھر اس کام میں جت گیا، سردی گرمی، بارش، طوفان، رات دن، اندھیرا اجالا، اس نے کچھ نہ دیکھا اور لوگوں کی مدد سے حالات کو بدلنے محکموں کو لگام ڈالنے، بھتہ خوری کو روکنے، کے الیکٹرک کی چیرہ دستیوں، اور سوئی گیس کی لوٹ مار، کرونا کی مصیبت، سیلاب کی تباہ کاریوں، بارش کی تباہی، سب میں اپنا کردار اد کیا۔ آج کراچی میں جماعت اسلامی ووٹوں کی طاقت سے ایک بار پھر قومی دھارے کی سیاست میں داخل ہوئی ہے، حافظ نعیم نے مسلسل محنت اور یکسوئی سے اس شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے بساط بھر کوشش کی۔ لیکن ان کا ویژن ہے کہ یہ کام حکومتی وسائل سے زیادہ بہتر طور پر ہوگا اور اسی لیے انھوں نے کراچی کی مئیر شپ کے حصول کو سامنے رکھ کر ایک ایسی جدوجہد کا آغاز کیا، جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جماعت اسلامی کی کامیابی کر چرانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن یہ سب کرنے والوں کے منہ پر کالک ہی ملی گئی۔ جماعت اسلامی کو کراچی کے بلدیاتی انتخاب میں 94 نششتوں پر کامیابی ہوئی ہے، لیکن اس کی نشستوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے کم کیا گیا، لوٹی ہوئی ان سیٹوں پر دو دن تک پیپلز پارٹی نمبر ون پارٹی ہونے کا جشن بھی مناتی رہی۔ لیکن حافظ نعیم الرحمان اور ان کے کارکنوں نے جن کے پاس مصدقہ دستخط والے فارم11 تھے، پیپلز پارٹی کے حلق سے یہ سیٹیں نکلوالی ہیں اور کچھ پر ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ ابھی دوسرا مرحلہ تقریبا آٹھ سیٹوں کا باقی ہے، جہاں دوبارہ گنتی ہونی ہے،...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کہاں کی بات کہاں نکل گئی

قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔ دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔ گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔ 2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

ہمارے بلاگرز