بینش احمد

1 بلاگ 0 تبصرے

اْستاد ! ایک انمول ہستی

کوئی بھی انسان دْنیامیں تنہا نہیں رہ سکتا ہے ہمیں کسی نہ کسی رشتے کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ رشے خونی ہوتے ہیں جن...

اہم بلاگز

بی ایل اے کی دہشتگردی اور لائق بیگ مرزا کی شہادت

بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناحؒ نے فرمایا تھاکہ ’’بلوچستان بہادر اور حریت پسند لوگوں کی سرزمین ہے‘‘ اس حقیقت سے انکار بھی نہیں بلوچ قیادت قائد اعظم ؒ کا بہت احترام کرتی تھی یہ بلوچستان ہی تھا جہاں قائد اعظمؒکو چاندی میں تولا گیا تھا ۔بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پہ قبضہ کرکے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کیا تو تب اندراگاندھی نے قوم سے خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ آج ہم نے پاکستان کے دوقومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے اس طرح بھارت نے پاکستان کو توڑنے کے اپنے گھنائونے منصوبے میں پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کی ۔مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کرنے کے بعد بھارت کا اگلا ہدف ’’بلوچستان‘‘ کو ہم سے جدا کرنا تھا اور ہے جس کا زندہ اور واضح ثبوت بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیوکی گرفتاری ہے جس نے خود بلوچستان میں دہشت گردی کا اعتراف کیا کہ اس نے کس طرح بلوچ نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لیے انہیں اسلحہ سمیت رقوم بھی فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ بھارت ایک طویل عرصہ سے بلوچستان میں حالات خراب کررہا ہے کل بھوشن یادیوکی گرفتاری کے بعد بھارت حواس بافتہ ہوچکا ہے دہشت گردی کی یکے بعد دیگروارداتوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے ۔بلوچستان آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا اور وسائل کے اعتبار سے پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہے اس وجہ سے دشمن ممالک بالخصوص بھارت اسے پاکستان سے الگ کرکے اس پر قبضہ کرچاہتا ہے جس کی وجہ سے صوبہ بلوچستان ملک دشمن ایجنسیوں بالخصوص بھارتی راء اور موساد اور کا ٹارگٹ بنا ہوا ہے صوبے میں سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملے بھی اس مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔بلوچستان میں علیحدگی کی آگ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گذشتہ 75برسوں سے سلگائی جارہی ہے افسوس اس بات کا ہے کہ ’’آزاد بلوچستان‘‘کی چنگاری کو بھڑکائے رکھنے میں نہ صرف بیرونی بلکہ اپنے لوگوں کا بھی ہاتھ ہے ، ۔23جون 2018کو نئی دہلی میں ’’فری بلوچستان‘‘کے دفتر کا افتتاح کیا گیا تھا افتتاحی تقریب میں50ہندئوستانیوں نے شرکت کی اور یہ تقریب بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے زیر سرپرستی ہوئی دفتر کا افتتاح بی جے پی کے سابق ایم ایل اے مسٹر وجے جولی کی لندن میں ’’فری بلوچستان موومنٹ(FBM)کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد عمل میں آیا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان کی فوج اور ایجنسیوں نے بلوچستان کی محب وطن عوام کی حمایت سے پاکستان کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنادیا ہے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کو ملک دشمن عناصر کا آشیر باد حاصل ہے ۔بلوچستان لبریشن آرمی یا بلوچ لبریشن آرمی (BLA)بھی ایک علیحدگی پسنددہشت گرد تنظیم ہے (BLA)کا نام پہلی بار 2000کے موسم گرما میں منظر عام پر آیا جب اس تنظیم نے بازاروں اور ریلوے لائنوں پر ہونے والے سلسلہ وار بم حملوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا (BLA)نے بلوچستان میں پنجابیوں ،پشتونوں اور سندھیوں کی منظم نسل کشی کے ساتھ ساتھ گیس پائپ...

آزادی کی حنوط شدہ لاش

ہم اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہوگا کہ اس نے ہمیں رہنے کیلئے دنیا جہان کی نعمتوں سے لبریز ایک خطہ زمین ہمارے آباءو اجداد کی قربانیوں کی بدولت عطاء فرمایا۔ اس خطہ کی آزادی کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ ایک الگ داستان ہے، اللہ تعالی نے موقع دیا تو پھر کبھی تفصیل سے لکھیں گے۔ ہم ہندوستان میں ایسے دو پاٹوں میں پس رہے تھے جہاں ناصرف مذہبی بلکہ نظریاتی مفادات کو بھی بری طرح سے مسخ کیا جارہاتھا ۔ مسلمانوں سے انکی سال ہا سال سے ہندوستان پر حکمرانی کا بدلہ لیا جارہا تھا اور ایسا بدلہ لیا گیا کہ ہم حکمرانوں کےلئے غلام بن کر رہ گئے۔ ہم نے احتیاطوں کے، مصلحتوں کے اتنے طوق اپنی گردنوں میں ڈال لئے کے گردن کو اٹھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا اور ہماری سوچ بھی محکوم ہوکر رہ گئی ۔ پاکستان کو ہندوستان سے نکلے (نئی نسل کیلئے لفظ نکلے کی وضاحت کرتے چلتے ہیں کیونکہ مسلمان درحقیقت برصغیر کے حکمران تھے لیکن سازشوں کے ایسے جال بنے گئے کہ جس میں بری طرح پھنس کر اقتدار و اختیار ہاتھ سے ریت کی مانند جاتے دیکھتے رہے اور سوائے اسکے کے نئے سرے سے آزادی کی تحریک چلائی جائے کچھ نہیں کر سکتے تھے)یا آزاد ہوئے پچھتر سال ہونے کو آگئے ہیں اور پاکستانی قوم اس کا جشن ِ خاص(ڈائمنڈ جوبلی) منانے کی تیاریوں میں مشغول ہے، پاکستانی قوم ہر سال بھرپور طریقے سے آزادی کا جشن مناتی ہے اور ہر سال پچھلے سال سے زیادہ رقم خرچ کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کرتی ہے۔ بھوک و افلاس کی ماری یہ قوم پاکستان کی آزادی کا جشن منانے سے کبھی بھی نہیں چوکی، یہ اپنے دلوں میں جلتی ہوئی آزادی کی شمع کو کسی حال میں بجھنے نہیں دینا چاہتی بھلے انکی زندگیوں کے چراغ ہی کیوں نا گل ہوجائیں۔ آج تک زندگی کی بنیادی ضروریات ہی میسر نہیں آسکیں ۔ قوم کی وطن عزیز پاکستان سے اس والہانہ اور اندھی محبت کی پیش نظردشمن نے بڑی خاموشی سے اور منظم طریقے سے ملک کو نقصان پہنچایا ہے ۔ ہم پاکستانیوں کو ایک عرصے تک تو علیحدگی کی خوشی مناتے گزر گئی اور خوشی منانے میں اتنے مگن ہوئے کہ ایک مخصوص ٹولے نے تمام وسائل پر اغیار کی مدد یا پھر سرپرستی کی بدولت قبضہ کرلیا۔ لوگ جشن ِ آزادی مناتے رہے اور وطن عزیز سے محبت کا ثبوت دیتے رہے اور یہ سمجھتے رہے کے پاکستان کی آزادی سے انہیں ایک آزاد مملکت ایک آزاد خطہ زمین مل گیا ہے۔ اس بات کا احاطہ کرنا ذرا مشکل ہے کہ یہ مخصوص ٹولہ حقیقت میں کس کا ساتھ دینے والا ہے اور کس کو آنکھیں دیکھانے والا ہے۔ قوم کی معصومیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ انکی حب الوطنی کو سیاسی بازیگروں نے اپنے سے منسوب کرالیا اور اپنی حمایت کرنے والوں کو حب الوطنی کے اسناد دئیے جانے لگے۔ مختلف مکتبہ فکر کے لوگ پاکستان کی نومولود انتظامیہ کی کشتی میں سوار ہوگئے جہاں اس بات کا تعین...

سبزہلالی پرچم اورگولڈ میڈل

بھارتی ترنگے کے مقابلے میں بلند پاکستانی سبز ہلالی پرچم دیکھ کر میرا دل فخر سے جھوم اٹھا، میری روح فخر شرشار ہوکر فضا کے چکر کاٹنے لگی، مجھے ہر طرف سبز پرچموں کی بہار نظر آرہی تھی۔ پاکستانی قومی ترانہ بج رہا تھا اور ساری دنیا پاکستان کےپرچم اور اس کے سامنے عقیدت کا بت بنے اس نوجوان کو دیکھ رہی تھی جس کی عمر ابھی صرف 24 سال ہے۔ جس کا والد اس بات پر ناراض ہوا کہ ابھی تک اس نے کانسی کا تمغہ کیوں جیتا، گولڈ میڈل کیوں نہیں لیا۔ پھر نوح دستگیر بٹ نے پاکستان کو کامن ویلتھ گیمز میں پہلا گولڈ میڈل دلوا دیا۔ یہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے کہ کسی پاکستانی ویٹ لفٹر نے طلائی تمغہ جیتا ہے۔ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں 16 سال بعد یہ واقعہ دوسری بار ہوا ہے، جس میں کسی پاکستانی ویٹ لفٹر نے طلائی تمغہ جیتا ہے۔ اس سے قبل 2006 میں شجاع الدین ملک نے میلبرن میں ہونے والے مقابلوں میں 85 کلوگرام وزن کے مقابلے میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ نوح دستگیر کا تعلق پہلوانوں کے شہر گوجرانولہ سے ہے، وہی گوجرانوالہ جو پہلوانی، کبڈی، ویٹ لفٹنگ اور چڑے کھانے کے لیے مشہور ہے۔ بچپن سے ویٹ لفٹنگ اس کا شوق ہے، اس نے اپنے والدہ کو ہمیشہ سبز پرچم کو بلند کرنے کے جذبے سے شرشار پایا، نوح دستگیر بٹ کے والد غلام دستگیر بٹ پانچ مرتبہ ساؤتھ ایشین گیمز گولڈ میڈلسٹ اور ریکارڈ ہولڈر ہیں جنھوں نے اٹھارہ مرتبہ قومی چیمپئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اب ان کی پوری توجہ اپنے بیٹوں پر مرکوز ہے۔ وہ انہیں قومی چیمپئین بنانا چاہتے ہیں- نوح کے چھوٹے بھائی حنظلہ دستگیر بٹ بھی پاکستان کے قومی جونیئر چیمپیئن رہ چکے ہیں، پاکستان کا نام روشن کرنے والانوح دستگیر مجھے اس لیے بھی پسند ہے کہ اس نے انڈیا کے گردیپ سنگھ کو اس مقابلے میں پچھاڑ دیا ہے، اسے چت کرکے رکھ دیا ہے، انھیں اپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا، اور اسے تیسری پوزیشن پر گذارا کرنا پڑا۔ یوم آزادی کے اس جشن میں اس سے بڑا انعام کیا ہوسکتا ہے۔ پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں اب تک مجموعی طور پر 26 طلائی، چاندی کے 25 اور کانسی کے 26 تمغے جیتے ہیں جن میں ویٹ لفٹنگ میں جیتے گئے طلائی تمغوں کی تعداد دو ہے جبکہ اس کھیل میں پاکستان نے چاندی کے دو اور کانسی کے تین تمغے بھی جیت رکھے ہیں۔ عجیب سی بات ہے پاکستان کا سارا بجٹ اور ساری توجہ کرکٹ پر ہے، سب سے زیادہ قوم کا پیسہ کرکٹ کے کوچز اور کھلاڑیوں کی تربیت پر خرچ کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے قومی کھیل ہاکی پر کوئی توجہ نہیں، کبھی ہاکی ہمارا فخر تھا، دنیا میں ہماری ہاکی ٹیم کا ڈنکا بجتا تھا۔ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے اس ملک کو اس وقت روشناس کرایا تھا جب دنیا میں پاکستان کا نام کم ہی سنا جاتا تھا، ہماری ہاکی ٹیم نے تین اولمپک گولڈ میڈل جیتے، چار عالمی...

یوم آزادیِ پاکستان اور ہمارے نوجوان‎‎

یوم آزادیِ پاکستان ایک بار پھر آیا ہی چاہتا ہے۔ گویا پون صدی بیت چکی ہمارے نوجوان کو آزاد ہوئے۔ نوجوانوں کی یہ تیسری کھیپ بالغ ہو چکی ہے جو خوش آئند ہے لیکن ملت کے درد سے نا آشنا، کھیلوں کے دلدادہ، قومی مسائل کو غیر سنجیدگی سے لینے والے نوجوان اور تو اور سہل پسند نوجوان۔ بظاہر جن سے کوئی امید بر نہیں آتی۔ مگر۔ یکایک، اقبال کی دھیمی سی سرگوشی دل کے نہاں خانے پر یوں دستک دے کر امید کو جگا دیتی ہے۔ نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی یقیناً قبل از آزادی ہندوستان کے مسلمان بھی کم کوش تھے مگر مسلمانوں کی بیدار مغز تحریکوں، اقبال کی شاعری،اصلاح کی طلب، غلامی سے نجات کی خواہش نے ان نوجوانوں کا ذوق آزادی بیدار کر دیا۔ پھر انہوں نے خلافت کی تحریکوں میں بھی حصہ لیا اور جلسے جلوسوں میں بھی جان ڈال دی۔ گفتار کے غازی کردار کے غازی بن گئے۔باتوں سے من موہنے کی بجائے اولو العزم کردار بن کر ابھرے۔ اور پھر اس بیداری کی سب سے بڑا ثبوت پیارا "پاکستان" معرض وجود میں آیا۔ جس میں آج کا کم کوش نوجوان لہوولعب میں ڈوبا ہوا ہے۔ مگر نوجوان کو کوسوں تو اقبال کی نصیحت بھری آواز ایک بار پھر سنائی دیتی ہے۔ نہیں مایوس اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ اقبال ایسا دور اندیش فلاسفر جب مٹی میں زرخیزی کو پہچان رہا ہے تو پھر مٹی کو نمی فراہم کرنے میں سستی کیسی ! اگرچہ ہمارا نوجوان فارغ البالی کا شکار ہو چکا ہے، تن آسانی اس کے روؤیں روؤیں پر قابض ہو چکی ہے، علم و آگہی کی بجائے معلومات کا خزانہ بن چکا ہے اور غیر کی نقالی نے اس کے رہے سہے قویٰ کو بھی بے کار کر رکھا ہے مگر ، ٹھہریے۔ غیر کی نقالی میں یہ تیسری کھیپ تنہا قصوروار نہیں۔ یہ تو وہ بیماری ہے جو پہلی اور دوسری کھیپ کے نوجوانوں سے ان میں جرثومے کے ذریعے پھیلی ہے، گویا موروثی بیماری ہے یہ۔ لہذا اس کا سد باب بھی حکمت، مواعظہ حسنہ اور جدال بالاحسن کے ذریعے کرنا ہو گا ، تدریج کے اصولوں کے مطابق چلنا ہو گا۔ اقبال کیا خوبصورت درس دے گئے اصلاح خواہوں کو ۔ نہ ہو نومید ، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں یوم آزادی نوجوانوں سے بالخصوص کچھ طلب و تقاضے کرتا ہے جسے پورا کرنا ہمارے نوجوان کی ترجیح اول ہونا چاہیئے۔ نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد نے اپنا تن من دھن آزادی کی بقاء اور اسلام کی سربلندی میں لٹا دیا اور ملک کی سلامتی میں اپنا کردار بحسن وخوبی نبھا دیا، قائد اعظم ہوں یا لیاقت علی خاں۔ قاضی حسین احمد ہوں یا منور حسن۔ حافظ سعید ہوں یا حکیم سعید، ڈاکٹر خواجہ جاوید ہوں، ایم ایم عالم، غازی مقبول ہوں یا ڈاکٹر عبد القدیر خان، نشان حیدر پانے والے نوجوان ہوں یا وطن پر جان نچھاور کر دینے والے 65ء اور 71ء کے...

جدوجہد تیز ہو

صبح صبح پرندوں کی چہچہاہٹ سے اسکی آنکھ کهل گئی۔ فجرکےبعد وہ تهوڑی دیر کے لیئے لیٹی تهی اور آنکھ لگ گئی، پرندوں کے چہچہانے سےآنکھیں کهل گئیں ، شاید وہ سب پرندے مل کر احتجاج کررہے تهے ۔ ذرا غور کیا تو تو کیا دیکها کہ ساری چڑیاں ملکر ایک ہی چڑیا پر چیخ رہی تهیں شاید کوئی بهولی بهٹکی چڑیا اپنے علاقےکو چهوڑ کر دوسرے کے علاقے میں آگئی تهی اور سب احتجاج کے طور پر چیخ چیخ کر اس سے علاقہ خالی کرنے کو کہه رہی تهیں. آخر کار اسکے وہاں سے چلے جانے کے بعد شور کم ہوا. لیکن جب تک وہ خوب بیدار ہوکر کچھ سوچنے میں مگن تهی، کیا انکے بهی علاقے حدود راہداریاں طے ہوتی ہیں ؟ سوچتے ہوئے دوپہر کے کهانے کی تیاری کرنا شروع ہوگئی. شام میں سب گھر والے پارک جانے کی تیاری کرنےلگے۔ باہر گاڑی نکالی تو ایک منظر دیکها محلے کے تمام کتے میدان میں جمع ہوکر زورزور سے ایک کتے پر بهونک رہے تهے اور وہ خاموشی سے کهڑا سب کے شور مچانے کا سامنا کررہا تها وہ حیران تماشا دیکهتی رہی کہ اچانک ایک کتے نے اس نئے آنے والے کتے پر حملہ کردیا اور اسے وہ میدان چهوڑ نے پر مجبور کردیا وہ چیختا چلاتا وہاں سے چلاگیا اور محلے میں دوبارہ سکوت طاری ہو گیا۔ وہ سوچنے لگی کیا جانوروں اور چرند پرند میں بهی یہ شعور ودیعت کیا گیا ہے کہ اپنی زمین اپنی جگہ اپنی حدود کی حفاظت کریں گے اور کسی غیر کی مداخلت معیوب ہی نہیں بلکہ زندگی و موت سے زیادہ اہمیت رکهتی ہے یہاں تک کہ وہ غیر انکی حاکمیت تسلیم کرکے خود کو ان پرانے باسیوں کے سپرد کردے یاپهر وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے چلا جائے یا موت کو گلے لگا لے۔ شاید یہ اسی لیئے ہے کہ کوئی بهی ذی روح اپنی روایات میں ملاوٹ پسند نہیں کرتا، یہ قدرت کا قانون ہے اور انسان تو اشرف الخلق ہے ان تمام چرند پرند حیوانات نباتات ودیگر مخلوقات سے افضل ترین ہے جس کے لیئے قرآن نازل کیا گیا اور اسے ایک ضابطہ اخلاق کا پابند بنادیا گیا اس سے کہا گیا کہ یہی قومیں برادریاں اور قبائل تمہارے تعارف کا ذریعہ ہیں تاکہ تم لوگ ایک دوسرے کو پہچان لو. شاید اسی لیئے دو قومی نظریے کی ضرورت پیش آئی پاکستان کا تصور اچانک پیدا نہیں ہوا اس کے پیچھے صدیوں کی محنت کارفرما تهی اس تمام صورتحال کے پیچھے ہندو مسلم دشمنی علاوہ تہذیب و ثقافت کا فرق ، مذاہب کا فرق ، ذاتوں کا فرق، قبائل کا فرق ، ذہنیتوں کا فرق واضح تها۔ تقسیم ہند سےپہلے ہندو مسلم ساتھ ملکر انگریزوں کے خلاف احتجاج کرتے لیکن انکے جانے سے پہلے ہی بے یقینی کی کیفیت پیدا ہونا شروع ہوئی تو انہی ہندوؤں نے سکهوں ، مرہٹوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں ہی کو ختم کرنے کی کوششیں سازشیں خاموش سازش سازباز شروع کردیئے اور مسلمانوں کے عظیم ترین رہنماؤں احمد شاہ ابدالی، شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید کو قتل کرنے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز