مُڑ کر دیکھنا منع ہے

غلطی کون کرتا ہے؟ وہی جو میدان میں نکلتا ہے، عمل کو شعار بناتا ہے اور دنیا کو کچھ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ جو لوگ کچھ نہیں کرتے وہ کوئی غلطی بھی نہیں کرتے۔ غلطی کے خوف سے کچھ نہ کرنا انتہائی خطرناک ذہنی مرض ہے۔ اس مرض کا تدارک صرف عمل سے کیا جاسکتا ہے۔

عمل پسند سوچ ہی انسان کو کچھ کرنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔ یہ سوچ فطری طور پر بھی پائی جاتی ہے تاہم کم ہی لوگوں میں۔ بیشتر کو یہ سوچ سیکھنا پڑتی ہے۔ اس حوالے سے تحریک دینے والے لٹریچر کی کمی ہے نہ مقررین کی۔ اب تو یہ باضابطہ شعبہ بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں تحریک دینے والے مصنفین اور مقررین پائے جاتے ہیں جو ترقی و کامیابی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کو نئے سِرے سے کچھ کرنے کا حوصلہ دینے کے حوالے سے کام کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں عام آدمی اگرچہ خاصے قابلِ رشک انداز سے زندگی بسر کر رہا ہے مگر وہ بھی زندگی کی یکسانیت سے تنگ آ جاتا ہے اور بیزاری دور کرنے کے لیے شخصی ارتقا کے ماہرین سے ملتا ہے، مشاورت کرتا ہے، کچھ نیا کرنے اور معمولات میں کچھ رنگینی بڑھانے کے حوالے سے کچھ نیا کرنے کا ذہن بناتا ہے۔

کچھ بھی نیا کرنے کے لیے بنیادی طور پر کیا درکار ہوتا ہے؟ بہت کچھ مگر سب سے بڑھ کر عمل پسندی۔ عمل پسندی اُسی وقت کارگر ثابت ہوسکتی ہے جب آپ گزرے ہوئے زمانوں کے بارے میں سوچنے سے گریز کریں، اپنے آپ کو لمحہ موجود میں رکھتے ہوئے جینے کے بارے میں سنجیدہ ہوں اور ساری توجہ اس بات پر دیں کہ جو کچھ اب آپ کریں گے وہ آپ کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی اہم ہونا چاہیے۔

انسان اپنی غلطیوں کو آسانی سے ہضم نہیں کر پاتا۔ ایک طرف تو وہ غلطیوں کی ذمہ داری تسلیم کرنے سے گریز کرتا رہتا ہے اور دوسری طرف اپنی غلطیوں کو بھولنے میں بھی مشکل سے کامیاب ہو پاتا ہے۔ یہ دُہرے عذاب جیسی کیفیت ہے۔ ماضی کو ذہن سے مکمل طور پر کُھرچنا کسی کے بس کی بات نہیں مگر لازم ہے کہ ماضی کو ایک خاص تک ہی آگے بڑھنے دیا جائے۔ جو کچھ بھی گزر چکا ہے وہ ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں بناسکتا۔ ہاں، اُس کے حوالے سے سوچنے اور لائحۂ عمل بدلنے سے کچھ نیا اور بہتر ضرور ہوسکتا ہے۔

شخصی ارتقا سے متعلق موضوعات پر لکھنے والوں میں ڈینس ویٹلے بھی نمایاں ہیں۔ اُن کی تحریروں سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ڈینس ویٹلے کہتے ہیں کہ اگر کچھ غلط ہوگیا ہے تو انسان کو اُس کے آس پاس بھٹکنا نہیں چاہیے بلکہ آگے بڑھ جانا چاہیے۔ جو کچھ ہوچکا ہے وہ اب مٹایا نہیں جاسکتا۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے اور اُسے بہتر بنایا جائے اور جو کچھ مزید کرنا ہے اُس کے اعلٰی معیار کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔ ڈینس ویٹلے کا استدلال ہے کہ ماضی کے بارے میں سوچ سوچ کر کُڑھنے سے کہیں بہتر ہے کہ انسان اپنی تمام توانائیاں سوالوں کے جواب تلاش کرنے پر صرف کرے۔

کسی بھی معاشرے میں بیشتر افراد کا مخمصہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی گزر چکا ہے اُس کے بارے میں سوچ سوچ کر ہلکان ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عمل اُنہیں زمانۂ حال پر متوجہ ہونے سے روکتا ہے اور مستقبل تو بے چارہ ایک طرف پڑا رہ جاتا ہے۔ شخصی ارتقا کی کتابیں اس نصیحت سے بھری پڑی ہیں کہ انسان صرف لمحۂ موجود میں جی کر ہی کچھ کرسکتا ہے۔ گزرے ہوئے زمانے کی اصلاح ممکن نہیں اور جو زمانہ ابھی آیا ہی نہیں اُس کے بارے میں زیادہ سوچنا لاحاصل مشق ہے۔

کامیابی کے بارے میں سوچنا، لائحۂ عمل ترتیب دینا اور اپنے آپ کو عمل کی کسوٹی پر کھرا ثابت کرنا اُسی وقت ممکن ہو پاتا ہے جب انسان گزرے ہوئے زمانوں کو ذہن سے جھٹک دے اور لمحۂ موجود میں رہنے کی مشق میں پختہ ہو جائے۔ زندگی ہم سے قدم قدم پر توجہ چاہتی ہے۔ ہر معاملہ اور مسئلہ ہماری توجہ کی بہ دولت ہی حل ہو پاتا ہے۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہم گزرے ہوئے زمانوں کے گلیاروں سے نکل کر لمحۂ موجود کی شاہراہ پر گامزن رہیں۔

ماضی کو ذہن سے کُھرچ پھینکنا کسی کے لیے آسان نہیں۔ جو لوگ ایسا کرنے کی نصیحت اور تربیت کرتے ہیں خود اُن کے لیے بھی ایسا کرنا ممکن نہیں۔ ہاں، ماضی کو محدود رکھا جاسکتا ہے۔ ماضی کی حسین یادوں کو ہر وقت تازہ رکھ کر اُن سے کچھ زیادہ اور اچھا کرنے کی تحریک ضرور پائی جاسکتی ہے۔ گزرے ہوئے زمانوں میں ہم نے بہت سے اچھے دن بھی گزارے ہوتے ہیں۔ وہ اچھے دن ہمیں بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ اُن دنوں کو تادیر یاد رکھا جاسکتا ہے۔ انسان کبھی کبھی ”مینٹل ٹائم ٹریول“ کے ذریعے اُن اچھے دنوں کے زمانے کا سفر کرے تو اپنے وجود میں تھوڑی بہت مطلوب تازگی پیدا کرسکتا ہے۔ یہ کسی حد تک ناگزیر ہے۔ زمانۂ حال کی ہماہمی اور شدت کبھی کبھی انسان کو شدید بیزاری سے دوچار بھی کردیتی ہے۔ ایسے میں بے دِلی کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ تب اچھے دنوں کو یاد کرکے اُن سے معاملات درست کرنے کی تحریک حاصل کی جاسکتی ہے۔

نفسی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ ماضی سے تعلق انسان کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو زندگی کے ہر معاملے پر محیط ہونے کی اجازت دینا خطرناک ہے۔ اگر کوئی ماضی کی یادوں سے چُھٹکارا پانے میں مکمل ناکام ہے تو نفسی امور کے ماہرین سے ملے، مشاورت کے ذریعے اپنی ذہن کی گِرہیں کھولنے پر متوجہ ہو۔ ماضی کو یونہی اٹھاکر ردی کی ٹوکری میں بھی نہیں پھینکا جاسکتا۔ اُس میں ہمارا بہت کچھ ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں، تنظیم و ترتیب کے ذریعے ماضی سے حسین حصے کشید کرکے زمانۂ حاضر کو بارآور ضرور بنایا جاسکتا ہے۔ یوں ہم اپنی ایک اہم نفسی الجھن کو بہ خوبی دور کرسکتے ہیں۔