کراچی والے جینے کا ہنر جانتے ہیں

دکان دار نے اپنے دکاندار دوست سے پوچھا تماری دکان تو اتنی چھوٹی ہے، تم اتنی جگہ میں آنکھوں کے ٹیسٹ کا انتظام کیسے کرو گے؟ عینک کی دکان میں تو ٹیسٹ کا انتظام لازمی ہے۔ دوست نے مسکراتے ہوئے کہا، میں نے اپنے سامنے والی دیوار میں شیشہ لگوایا ہے، نظرٹیسٹ کرانے آنے والے کو اصل چارٹ کی بجائے سامنے لگے آئینے میں دیکھنے کو کہیں گے، اصل چارٹ کے بجائے بجائےآئینہ کے ذریعے عکس میں پڑھوایا جائے گا تو پڑھنے والے شخص اور پڑھی جانے والی چیز کے درمیان کا فاصلہ خودبخود دگنا ہوجائے گا۔ میری دکان نو فٹ کی ہے، آدمی کی نگاہ نو فٹ کا فاصلہ طے کرکے پہلے آئینہ کو دیکھتی ہے، پھر آئینہ کی مدد سے اس کی نگاہ مزید نو فٹ کا فاصلہ طے کرکے چارٹ تک پہنچتی ہے۔ اس طرح کل اٹھارہ فٹ ہوجاتے ہیں، دکان چھوٹی ہے تو کیا ہوا، آنکھوں کے ٹیسٹ کا انتظام ایسا ہی ہوگیا ہے، جیسا بڑی دکانوں میں ہوتا ہے۔

یہ اصول ساری زندگی اپنائیں، آپ کے لیے مواقع محدود ہوں، آپ کے لیے پھیلنے کا دائرہ تنگ ہو، تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، آپ اپنی عقل کو استعمال کرکے اپنے نو فٹ کو اٹھارہ فٹ بناسکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس سرمایہ کم ہے تو دیانت داری اور امانت داری کی دولت سے اس کی تلافی کرسکتے ہیں، آپ کی تعلیم کم ہے تو خوش اخلاقی ، اچھے رویئے اور برتاؤ سے اپنی قدر و قیمت بڑھاسکتےہیں۔ لڑ کرجیتنے کا موقع نہیں ہے تو حکمت کا طریقہ اختیار کرکے اپنے حریف سے مقابلہ کرسکتے ہیں، تعداد کم ہے تو اتحاد اور تنظیم سے اپنی ٹیم کو آگے لے جاسکتے ہیں، بہترین پلاننگ آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے، ہر چھوٹی دکان بڑی دکان بن سکتی ہے۔ بس اپنے عقل کو استعمال میں لانا سیکھیئے۔

نئے سال کے پہلے دن میں نے یہ سبق ایک بوڑھے کی کہانی سے بھی سیکھا ہے۔ یہ بوڑھا شخص کانچ کے برتنوں کا بڑا سا ٹوکرا سر پر اٹھائے شہر بیچنے کے لئے جارہا تھا۔ چلتے چلتے اسے ہلکی سی ٹھوکر لگی تو ایک کانچ کا گلاس ٹوکرے سے پھسل کر نیچے گر پڑا اور ٹوٹ گیا۔ بوڑھا آدمی اپنی اسی رفتار سے چلتا رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ پیچھے چلنے والے ایک راہگیر نے دیکھا تو بھاگ کر بوڑھے کے پاس پہنچا اور کہا، بابا جی! آپ کو شاید پتہ نہیں چلا پیچھے آپ کا ایک برتن ٹوکرے سے گر کر ٹوٹ گیا ہے،

بوڑھا اپنی رفتار کم کیے بغیر بولا، بیٹا مجھے معلوم ہے،،، راہگیر ، حیران ہو کر بولا بابا جی! آپ کو معلوم ہے تو رکے کیوں نہیں؟بوڑھا شخص بولا بیٹا جو چیز گر کر ٹوٹ گئی اس کے لیے اب رکنا بےکار ہے، بالفرض میں اگر رک جاتا، ٹوکرا زمین پر رکھتا، اس ٹوٹی چیز کو جو اب جڑ نہیں سکتی کو اٹھا کر دیکھتا، افسوس کرتا، پھر ٹوکرا اٹھا کر سر پر رکھتا تو میں اپنا ٹائم بھی خراب کرتا۔ ٹوکرا رکھنے اور اٹھانے میں کوئی اور نقصان بھی کر لیتا اور شہر میں جو کاروبار کرنا تھا افسوس اور تاسف کے باعث وہ بھی خراب کرتا۔ بیٹا، میں نے ٹوٹے گلاس کو وہیں چھوڑ کر اپنا بہت کچھ بچا لیا ہے۔

ہماری زندگی میں کچھ پریشانیاں، غلط فہمیاں، نقصان اور مصیبتیں بالکل اسی ٹوٹے گلاس کی طرح ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیں بھول جانا چاہیے، چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔کیونکہ یہ وہ بوجھ ہوتے ہیں جو آپ کی رفتار کم کر دیتے ہیں، مشقت بڑھا دیتے ہیں، نئی مصیبتیں اور پریشانیاں گھیر لاتے ہیں، مسکراہٹ چھین لیتے ہیں، آگے بڑھنے کا حوصلہ اور چاہت ختم کر ڈالتے ہیں۔ اس لیے اپنی پریشانیوں، مصیبتوں اور نقصانات کو بھولنا سیکھیں اور آگے بڑھ جائیں۔

ڈیل کارنیکی کا کہنا ہے کہ زندگی میں سب سے زیادہ اہم چیز کامیابیوں سے فائدہ اٹھانا نہیں ہے۔ یہ کام تو بیوقوف آدمی بھی کرسکتا ہے۔ حقیقی معنوں میں اہم بات یہ ہے کہ تم اپنے نقصانات سے فائدہ اٹھانا سیکھو۔ اس دوسرے کام کے لیے ذہانت درکار ہے۔ اور یہ چیز ایک سمجھ دار اور بے وقوف کے درمیان فرق ظاہر کرتی ہے۔ اس دنیا میں اتفاقاً ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی صرف کامیابیوں کے درمیان ہو۔ اور وہ بس کامیابیوں ہی سے فائدہ اٹھاتا رہے، زندگی میں بیشتر انسان اپنے آپ کو مشکلات اور نقصانات میں پاتا ہیں، لیکن پھر بھی ہمت نہیں ہارتے اور ان ہی مشکلات سے گزرتے ہوئے وہ اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔

اس دنیا میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ہوش مندی کا ثبوت دیں وہ مشکل اور ناموافق حالات کا خوش دلی اور ہمت سے استقبال کرتے ہیں۔ جو مشکلات کی شکایت کرنے کے بجائے، مشکلوں کو حل کرنے کی تدبیر کرتے ہیں۔ نقصان سے فائدہ اٹھانا ہی وہ چیز ہے جو انسان کو کامیاب کرتی ہے۔ اس دنیا میں کامیاب وہ نہیں جس کو مشکلات پیش نہ آئیں، یہاں کامیاب وہ ہے جو مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیاب ہو۔ یہاں منزل پر وہ پہنچتا ہے۔ جو مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے دشواریوں کے باوجود سفر کرتا ہے اور اپنی منزل پر پہنچتا ہے۔

کراچی والے زندہ دل لوگ ہیں، مشکلات سے نمٹنا جانتے ہیں، زندہ دلی اور مشکلات کو سہنے کا حوصلہ نہ ہوتا تو کراچی کی بارشوں میں ڈوب جاتے، کے الیکٹرک کے بلوں کے بوجھ تلے دب کر مرجاتے، سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے ٹھنڈے چولہےکو تکتے رہتے، ٹوٹی سڑکوں، کھلے مین ہول، ہر طرف مٹی اور کچرے کے ڈھیر سے بیزار ہوجاتے۔ بے روزگاری اور ملازمت نہ ہونے سے مایوس ہوجاتے۔ لیکن یہ زندہ دل کرکٹ سے بھی لطف اندوز ہونا جانتے ہیں، دسمبر کی سردیوں میں ہوٹلوں اور ریسٹورینٹ، فوڈ اسٹریٹ کو بھی آباد رکھتے ہیں۔ نئے نئے کاروبار، آن لائن بزنس، نئے اسٹارٹ اپ، جانے کیسے کیسے انداز سے جینے کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔

ایک حافظ نعیم الرحمن ہیں کہ تمام تر سازشوں، محلاتی لوٹ مار، بلدیاتی انتخاب سے فرار کے باوجود ایک طرف نوجوانوں کو بنو قابل کا نعرہ دے کر ان کی عملی تربیت میں مصروف ہے تو دوسری جانب کراچی کے بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے بھی ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑے اپنے مخالفین کو للکار رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بیانات کے مطابق کراچی پر توجہ دینی شروع کی ہے، لیکن جو کراچی کے وارث بنتے تھے، 30 سال سے حکومت کے شریک ہیں۔ وہ اپنا بستر گول ہوتا دیکھ کر آئے دن نئے نئے انداز، نت نئی سازش، اور دھمکیاں دیتے ہیں، روز پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ لیکن کراچی والے ان بہروپیوں کو پہچانتے ہیں اور بہت جلد وہ ان کو ووٹ کے ذریعے شکست دیں گے۔ کراچی والے واقعی زندہ دل ہیں اور جینا جانتے ہیں۔

حصہ
mm
عطا محمد تبسم سینئر صحافی، کالم نگار ہیں،وہ خرم بدر کے قلمی نام سے بھی معروف ہیں اور ان کئی کتابیں، قاضی حسین احمد انقلابی قیادت، محبتوں کا سفر رپوژ تاژ کاروان دعوت و محبت،سید مودودی کی سیاسی زندگی، پروفیسر غفور احمد،محبتوں کا سفیر سراج الحق عوام میں پذیرائی حاصل کرچکی ہیں، مارکیٹنگ کے موضوع پر ان کی تین کتابیں فروخت کا فن، مارکیٹنگ کے گر، اور مارکیٹنگ کے 60 نکات اور 60 منٹ ان کے ان کے اصل نام سے شائع ہوچکی ہیں۔وہ ایک ٹی وی چینل کی ادارت کی ٹیم کا حصہ ہیں۔جنگ، جسارت، نوائے وقت ایکسپریس، جہاں پاکستان میں ان کے کالم اور مضامین شائع ہوتے ہیں۔ وہ ایک اچھے بلاگر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ بیمہ کار میگزین اور بیمہ کار ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔