اپنوں کو بچائیے‎‎

دنیا انواع و اقسام کے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔کوئی جیو اور جینے دو پر یقین رکھتا ہے تو کوئی دوسروں کی زندگی اجیرن کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے،کوئی اپنی راہ نجات کا متلاشی ہے تو کوئی دوسروں کی زندگیاں بھی سنوارنے کی لگن رکھتا ہے،یہاں،برائی کرنے والے بھی ہیں اور بھلائی کرنے والے بھی،کوئی برائی پر چلنا پسند کرتا ہے تو کوئی نیک کی راہ پر چلنا۔پھر نیکی کی راہ پر چلنے والوں میں بھی گروہ پائے جاتے ہیں کوئی خود تو نیک پر عامل ہے لیکن معروف کا حکم دینے سے گھبراتا ہے یا اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا یا بے فائدہ سمجھتا ہے،کچھ کم ظرف اکیلے جنت کمانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اللہ الصمد کو بھول جاتے ہیں اور یہ بھی کہ اللہ تنگ ظرف نہیں ہے۔

یہ تو درست رویہ ہے کہ انسان اپنی نجات کی فکر کرے کیونکہ دوسروں کی گمراہی کی ذمہ داری اس پر نہیں ہے مگر یہ درست نہیں کہ امر بالمعروف کے پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے اور اس گروہ میں شامل ہوا جائے جو خود تو نیک روش پر چلتا ہے مگر دوسروں کو نہیں روکتا۔بے شک یہ روش اختیار کرنے والے بھی عذاب کے ہی مستحق ہیں۔ یہ درست ہے کہ جب معاشرے میں بد چلنی،بے راہ روی اور بے عملی زور پکڑ جائے تو ہر وقت دوسروں میں کمزوریاں ڈھونڈھنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے اور اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیئے۔دوسروں کی بد عملی پر دھیان دینے کی بجائے فتنوں کے دور میں اپنی اصلاح ترجیح اول ہونی چاہیئے۔

کون کیا کر رہا ہے؟کیوں کر رہا ہے؟ جیسی سوچوں سے پریشان ہونے کی بجائے اور دوسروں کی نیت کو اپنے دماغ کے ترازو میں ٹٹولتے رہنے اور بے عملی اور منافقت،ریاکاری کے خطابات جاری کرنے کی بجائے یہ فکر کرنی چاہیئے کہ جنت کا ٹکٹ ہمیں ملتا ہے یا نہیں۔دوسروں کی گمراہی کی ذمہ داری سے تو نبیوں کو بھی مثتثنیٰ رکھا گیا کیونکہ دارالامتحان میں کوئی کسی کو کھینچ کر ہدایت کا راستے پر تو لا نہیں سکتا۔

تا ہم یہ بھی درست نہیں کہ تبلیغ کا مستحق صرف غیر مسلموں کو سمجھا جائے۔اگر چہ تبلیغ کی اصطلاح غیر مسلموں کو دعوت توحید دینے سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے مگر، شعائر اسلام کو اپنانے میں جب شرم محسوس کی جارہی ہو،پردے کے قرآنی مفہوم کو سمجھنے کی بجائے خود شارع بننے کی کوشش کی جا رہی ہو،نماز وقرآن محفل سے تنہا اٹھ کر پڑھنا معیوب خیال کیا جا رہا ہو،دین کی روش پر چلنے والے پر پھبتیاں کسی جا رہی ہوں، کبھی نیک انسان کی راہ تنگ کی جا رہی ہو اور کبھی اچھائی کی روش پر چلنے والوں سے متنفر کیا جا رہا ہو۔ یہ سو چے بناء کہ اچھائی کی راہ پر چلنے والا بھی بہرحال انسان ہے،جذبات واحساسات رکھتا ہے،غلطیاں اس سے بھی ہو سکتی ہیں۔مگر نہیں،ہم تو لٹھ لے کر ایسے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نشانہ تنقید بناتے ہیں جو خیر کا نفاذ چاہتے ہیں۔ تو ایسے میں یہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والا ہر کلمہ گو ایک ہی چھلنی میں نتھارے جانے کا مستحق ہے۔

اللہ نے بے عمل داعی کے اعمال کے بارے میں ہم سے پوچھ نہیں کرنی بلکہ ہم سے ہمارے اعمال کا سوال ہو گا۔لہذا اس دن کی تیاری کر لیجئے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا،فدیہ دے کر چھوٹنا ممکن نہیں ہو گا اور سفارش اور شفاعت کی امید میں جینے والو،سفارش وہی کر سکے گا جس کے لئے اللہ چاہے گا اور اسی کے لئے کر سکے گا جس کے لئے اللہ چاہے گا۔اپنوں کو غلط روش سے بچانا ہمارا فرض ہے مگر خیر خواہی کے ساتھ،حکمت کے ساتھ۔دوسروں پر بے جا تنقید اور خیر خواہی سے نصیحت میں بہت فرق ہے۔اللہ ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے بچا لے جس کا ایندھن انسان اور پتھر بنیں گے۔آمین