چین کی نئی اعلیٰ قیادت کی ترجیحات

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) نے ابھی حال ہی میں اپنی نئی اعلیٰ قیادت کو متعارف کروایا ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کو ہر لحاظ سے ایک عظیم جدید سوشلسٹ ملک کی جانب گامزن رکھنے کے نئے سفر میں ملک و قوم کی قیادت کرے گی۔چینی صدرشی جن پھنگ کو ایک مرتبہ پھر سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کا جنرل سکریٹری منتخب کیا گیا ہے۔600 سے زائد ملکی اور غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے نئی مرکزی قیادت پر پوری پارٹی کے اعتماد پر اظہار تشکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پارٹی کی نوعیت اور مقصد اور اپنے مشن اور ذمہ داری کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں گے ،پارٹی اور اپنے عوام کے عظیم اعتماد پر پورا اترنے کے لئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں تندہی سے کام کریں گے۔

شی جن پھنگ نے واضح کر دیا کہ چین ایک جامع اعتدال پسند خوشحال معاشرے کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد اب ہر لحاظ سے ایک جدید سوشلسٹ ملک میں ڈھلنے کے لئے ایک نئے سفر پر پراعتماد انداز سے قدم اٹھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سفر جو ”عظمتوں اور خوابوں سے بھرا ہوا ہے”، چین کو دوسرے صد سالہ ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھے گا، اور جدیدیت کے چینی راستے کے ذریعے تمام محاذوں پر چینی قوم کی عظیم نشاتہ الثانیہ کو اپنائے گا۔

اپنے تزویراتی منصوبے کے تحت سی پی سی کا مقصد بنیادی طور پر 2020 سے 2035 تک سوشلسٹ جدیدیت کا ادراک کرتے ہوئے چین کو ایک عظیم جدید سوشلسٹ ملک بنانا ہے جو 2035 سے لے کر اس صدی کے وسط تک خوشحال، مضبوط، جمہوری، ثقافتی طور پر ترقی یافتہ، ہم آہنگ اور خوبصورت ہو گا۔دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت جدیدیت کے ایک ایسے ماڈل پر چل رہی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔یہ ایک بڑی آبادی کی حامل جدیدیت ہے، سب کے لئے مشترکہ خوشحالی پر مبنی جدیدیت ہے، مادی اور ثقافتی اخلاقی ترقی کی حامل جدیدیت ہے اور انسانیت اور فطرت کے مابین ہم آہنگی اور پرامن ترقی کی حامل جدیدیت ہے۔شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ سی پی سی اور چینی عوام نے جدیدیت کی جانب چینی راستے پر چلنے کے لئے طویل اور سخت محنت کی ہے، اور پارٹی کو آئندہ سفر میں بھی ہمیشہ عوام کے لئے کام کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہیں گے، ان کی ترجیحات کا بھرپور ادراک کریں گے اور ان کی خواہشات پر عمل کریں گے. ہم بہتر زندگی کے لئے عوام کی خواہش کو ایک زندہ حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے سخت محنت جاری رکھیں گے۔شی جن پھنگ کا عوام پر زور ان کی جانب سے 20 ویں سی پی سی قومی کانگریس میں پیش کردہ ایک رپورٹ کی کڑی ہے، جس میں نئے دور کی عظیم کامیابیوں کی تعریف کی گئی ہے، جو سی پی سی اور چینی عوام کی ”اجتماعی لگن اور سخت محنت” سے آئی ہیں۔

چین کی کامیابیوں کا اندازہ یہاں سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دہائی میں چین کی جی ڈی پی 54 ٹریلین یوآن (تقریبا 7.6 ٹریلین امریکی ڈالر) سے بڑھ کر آج 114 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی ہے جو عالمی معیشت کا 18.5 فیصد ہے۔یوں چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کہلاتا ہے اور اس کی فی کس جی ڈی پی 39,800 یوآن سے بڑھ کر 81,000 یوآن ہو چکی ہے۔ملک نے مطلق غربت کا خاتمہ کیا ہے، اور دنیا میں سب سے بڑا تعلیم، سماجی تحفظ، اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی تعمیر کی ہے.چین بدعنوانی کے خلاف جنگ میں ایک زبردست فتح کے حصول اور حاصل شدہ کامیابیوں کو مکمل طور پر مستحکم کرتے ہوئے دنیا کے سرفہرست جدت طرازوں کی صف میں بھی شامل ہو چکا ہے۔لیکن اس سب کے باوجود شی جن پھنگ نے کہا کہ پارٹی کو ابھی بھی عوام کے مفاد کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔

حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی 20 ویں سی پی سی قومی کانگریس ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا ایک صدی میں نظر نہ آنے والی تبدیلیوں، غیر یقینی صورتحال اور تبدیلی کے ایک نئے مرحلے سے گزر رہی ہے۔شی جن پھنگ نے کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا کہ چین ترقی کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جس میں تزویراتی مواقع، خطرات اور چیلنجز ایک ساتھ ہیں اور غیر یقینی صورتحال اور غیر متوقع عوامل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ چین آئندہ سفر میں نئے چیلنجوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے انتہائی چوکس رہے گا اور مزید سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے۔اس کانگریس کے دوران چین کی جانب سے یہ توانا پیغام بھی دیا گیا ہے کہ وہ دیگر تمام ممالک کے عوام کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ انسانیت کے بہترین مفاد میں امن، ترقی، انصاف، شفافیت، جمہوریت اور آزادی کی مشترکہ اقدار کو فروغ دیا جا سکے، عالمی امن کا تحفظ اور عالمی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دیا جا سکے۔