چین کی مستحکم پالیسیوں کے نمایاں ثمرات

چین کے لئے، گزشتہ دہائی ترقی اور کامیابیوں کا ایک زبردست سفر رہا ہے، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں چینی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے قابل ذکر تبدیلیاں، تاریخی منصوبے اور بے مثال کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ان کامیابیوں کا ایک وسیع جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ چین کی اعلیٰ قیادت کس قدر دوراندیش اور بصیرت افروز ہے جس نے گزشتہ دس سالوں میں قومی ترقی کا ایک نیا منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔

تکنیکی میدان میں چین کی بے مثال کامیابیوں پر نگاہ دوڑائی جائے تو اس نے تکنیکی ترقی اور ادارہ جاتی طاقت کی حمایت سے، متعدد علاقوں میں تیز رفتاری سے منصوبے مکمل کیے ہیں. 2021 میں، چین نے ایک تیز رفتار میگلیو ٹرین متعارف کروائی جو 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز رفتار سے چل سکتی ہے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ ملک ریل ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت جاری رکھے ہوئے ہے۔گزشتہ سال دسمبر میں لانگ مارچ 4 بی راکٹ نے سیٹلائٹس کے ایک نئے گروپ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں لانچ کیا، جو چینی ساختہ لانگ مارچ کیریئر راکٹ سیریز کا 400 واں لانچ مشن تھا۔حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ لانگ مارچ راکٹس کے ذریعہ 400 لانچ مشنز میں سے، پہلے تین 100 لانچ مشنز بالترتیب 37 سال، ساڑھے سات سال اور تقریباً چار سال میں مکمل ہوئے، جبکہ چوتھے 100 مشن صرف 33 ماہ میں انجام دیئے گئے۔ٹیلی مواصلات کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں ترقی کے ساتھ، چین ڈیجیٹل طور پر دنیا میں نمایاں ترین درجے پر فائز ہو چکا ہے۔ ملک نے دنیا کا سب سے بڑا 5 جی نیٹ ورک تعمیر کیا ہے، اور اب ہر انتظامی گاؤں براڈبینڈ سروس تک رسائی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

کووڈ۔ 19 وبا کے خلاف جنگ میں بھی، چین نے چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دنیا کو ”چائنا اسپیڈ” کے مشاہدے کا موقع دیا۔ عارضی ہسپتال تیزی سے تعمیر کیے گئے اور طبی وسائل اور رسد کی کمی کو کم سے کم وقت میں حل کیا گیا۔ ایسا کرنے سے لوگوں کی زندگیوں اور صحت کی ممکنہ حد تک حفاظت کی گئی۔چین کی جانب سے انتہائی غربت کا خاتمہ بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کی قابل ذکر ترقی کا ایک نمایاں پہلو رہا ہے۔ملک نے 2020 کے آخر تک اپنے تمام 98.99 ملین غریب دیہی باشندوں کو غربت سے باہر نکال لیا ہے۔ انسداد غربت امور کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اہدافی اقدامات پر عمل درآمد کیا گیا۔اس نقطہ نظر کی روشنی میں تمام سطحوں پر عہدیداروں نے غربت زدہ افراد کی درست نشاندہی کی اور غربت کے اسباب و عوامل کا جڑ سے خاتمہ کیا تاکہ انسداد غربت کے دیرپا اور حقیقی ثمرات سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔غربت کے خلاف کٹھن جنگ میں تقریباً 20 ملین سرکاری ملازمین اور رضاکاروں کو غریب دیہاتوں میں تعینات کیا گیا تھا تاکہ وہ فرنٹ لائن پر انسداد غربت کے امور کو آگے بڑھا سکیں۔ ہر گھرانے بلکہ یہاں تک کہ خاندان کے ہر رکن کو غربت سے نجات کا ایک منصوبہ دیا گیا۔

اسی طرح چین کی مستقل اور مضبوط اصلاحاتی کوششیں ملک کی تاریخی تبدیلیوں اور گزشتہ دہائی میں نمایاں کامیابیوں کے پیچھے طاقتور محرک رہی ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ مارکیٹ اداروں کی تعداد 160 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے تقریباً 300 ملین افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں. کھلے پن کو فروغ دینے کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے چین نے 2017 کے بعد سے مسلسل پانچ سالوں تک غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے منفی فہرست کو بھی مختصر کیا ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر بیرونی سرمایہ کاری کے قانون سمیت مزید قوانین اور قواعد و ضوابط کو نافذ کیا ہے.آج چین دنیا میں وسیع ترین اور جامع ترین صنعتی نظام کا حامل ملک ہے. یہ 220 سے زائد اقسام کی صنعتی مصنوعات کا دنیا کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے اور اقوام متحدہ کی صنعتی درجہ بندی میں درج تمام صنعتی زمرے رکھتا ہے۔

آج کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 20ویں قومی کانگریس کے تناظر میں دنیا امید کرتی ہے کہ چین ترقی کے نئے اہداف مقرر کرئے گا اور چینی عوام کی بہبود کے ساتھ ساتھ دنیا کی مشترکہ خوشحالی کو مزید نمایاں مقام پر رکھے گا، تاکہ ہر اعتبار سے ایک خوشحال اور ترقی یافتہ دنیا کا وجود عمل میں آ سکے۔