کون سا نظام حکومت؟

لڑائی جھگڑے، ضد بحث سے اختلاج ہے۔ ایسی بحث اور ایسی لا یعنی گفتگو جس کے نتائج برآمد نہ ہوں،یا جو سوچ سمجھ کر نہ کی جارہی ہو ،ہمیشہ ناگوار گزری اور اپنا دامن بچا لیا،اب تک کی زندگی میں ہر ایسے شخص سے کنارہ کیا جو کہ فضول موضوعات نکال کر متنازعہ صورت حال پیدا کردے۔ تعلق نہیں توڑا مگر لکیریں کھینچ لیں کہ کہاں کتنا ملنا ہے۔

میں سوچتی ہوں،غور کرتی ہوں مگر عموما فیس بک پر سیاسی ایشوز پر لکھنے سے گریز کرتی ہوں۔ بہت ہی کم لکھتی ہوں لیکن ابھی جب خان صاحب کی رخصتی کا معاملہ ہوا تو بے اختیاری میں کچھ لکھ دیا۔ وہ میری سوچ میرے نظریات میرا غور و فکر تھا جس سے کسی بھی دوسرے کا اختلاف رائے رکھنا اس کا جائز حق ہے۔ مگر سوچ فکر اور نظریات کی مخالفت کرنا کسی کا حق نہیں ہوتا۔اور وہ ابھی ایسی اندھی اور اندھا دھند مخالفت کہ بس لگے کہ جیسے برسٹ پر برسٹ مارے جارہے ہوں۔

ایک لمحے میں اس صورت حال سے دل اکتا گیا۔سوچ نے صحیح غلط ،حق نا حق اور ہنسی مذاق کے دائرے سے نکل کر جائزے کے کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ اور پھر دل مضطرب نے آہستہ آہستہ ہماری تباہی،شکست اور زوال کے اسباب پر روشنی ڈالنی شروع کی۔ جواب آیا تو کیا آیا کہ ہماری شکست و ریخت کے اصل اسباب بیرونی ہیں نہ محض تخت شاہی کی دین بلکہ کچھ عوامی بھی ہیں۔

ہم جلد باز لوگ ہیں

ہم تھڑدلے لوگ ہیں

ہم برداشت سے عاری لوگ ہیں

ہم اندھی عقیدت رکھنے والے لوگ ہیں

ہم اپنی سوچ اور فہم کو مسلط کرنے والے لوگ ہیں

ہم نئی راہیں نکالنے کے بجائے پرانی روش پر مرجانے والے لوگ ہیں

ہم تباہی کے ملبے سے نئی عمارت کا خواب دیکھنےاس کے لیے بحیثیت قوم مل کر کچھ کرنے کے جذبے سے عاری ایک دوسرے کو طنز اور طعنوں کی مار مارنے والے لوگ ہیں۔ہم خود اپنی تباہی کا باعث ہیں۔

اسی لیے بچپن سے اب تک منظرنامہ وہی کا وہی ہے۔

مہنگائی

گرانی

رشوت ستانی

بدعنوانی

لوٹ مار

اقرباء پروری

کمزور پر ظلم

ظالم طاقت ور

غرض ہوش سنبھالنے سے لے کر اب تک یہی دیکھا کہ حکومتیں بدلیں،چہرے بدلے،نعرے بدلے،بڑے بڑے پریشر گروپ ٹوٹتے دیکھے۔ مگر ایک چیز نہیں بدلی اور وہ ہے اس ملک کی حالت۔

دنیا ترقی کر رہی ہے،ہم تنزلی کا شکار ہیں۔۔۔تمام محکموں کو دیکھ لیں،سارے نظام کو دیکھ لیں کہ اس جدید دور میں پاکستان کتنا پیچھے جا چکا ہے۔۔۔ہمارے بڑوں نے ہم سے اچھا اور صاف ستھرا ملک دیکھا ہوگا۔ہمیں تو گندگی کا ڈھیر ملا۔

اور یہ سب حماقتیں نہ صرف حکمرانوں کی ہیں نہ بیرونی عوامل کی۔۔۔بلکہ ہماری ہیں ہمارے راستوں کے انتخاب کی ہیں۔ اسی سوچ میں وہ تمام پوسٹیں ڈیلیٹ کردیں جو منہ چڑا کر کہہ رہی تھی کہ بیٹا بدلا اب بھی کچھ نہیں ہے ۔خان ہو لوہار ہو یا زردار یہ ملک اور تم سب وہیں کے وہیں کھڑے ہو۔

تب دل بے چین ہوا، سوال ابھرا دماغ تک جا پہنچا

کہ آخر ہم کب اور کیسے اس صورت حال سے باہر آئیں گے؟

وہ کون سا نظام حکومت ہوگا جو حقیقت میں اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائے گا؟

کب یہاں امن انصاف اور عدل کا بول بالا ہوگا؟

کب یہاں کی ہوائیں گیت گائیں گی؟

کب یہاں چین کی بنسی بجے گی؟

تو جواب آیا کہ وہ بس ایک ہی نظام ہے،جو اس شکست و ریخت کو فتح و نصرت سے بدل سکتا ہے۔

جو باطل کے کو بے اماں کرکے حق کو امان دے سکتا ہے۔

جو ہر غم کا مداوا ہوگا

جہاں کسی کی عزت نفس پامال نہ ہوگی

جہاں ہر شہری اپنا بنیادی حق پالے گا

اور وہ نظام وہی ہے جو کوہ فاران کی چوٹیوں سے ابھرا تھا۔جس نے نہ صرف قیصر و کسری کی بنیادیں ہلا دی تھیں بلکہ ہندوستان کے بت پرست معاشرے میں شمع اسلام روشن کردی تھی۔ آج اگر ہم مدینے جیسی اسلامی ریاست کے سچے دل سے خواہاں ہیں تو ہمیں تمام باطل قوتوں سے ناتے توڑنے ہوں گے۔ اور مکے مدینے کو دل میں بسا کر اس نظام کا نفاذ کرنا ہوگا جو آقائے دوجہاں کا لایا ہوا نظام ہے۔ جس میں صرف پاکستان نہیں ساری اُمت کی بقا ہے۔