مفتی منیب کی کارگر تحمل مزاجی

بالاآخر حکومت پاکستان اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدہ ہوگیا۔ جو کام حکومت سے 15 روز سے حل نہیں ہورہا تھا اور روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا تھا۔ علما کی مدد لیتے ہی دو دن میں معاملہ حل ہو گیا، مفتی منیب الرحمن کی تحمل مزاجی کارگر ثابت ہوئی۔ امن وامان بحال ہوگیا، تصادم کے خطرات ٹل گئے ، معاشی سرگرمیاں بحال ہوگئیں، اس معاہدے میں گرفتار شدگان کی رہائی، کچھ مطالبات کی منظوری کچھ کو موخر کرنا اور کچھ سے دستبرداری شامل ہے۔

جس انداز میں یہ معاملہ کھڑا ہوا تھا اس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ حکومت خود حالات خراب کرے گی تاکہ اپوزیشن کی تین بڑی جماعتوں کو احتجاج اور اسلام آباد پہنچنے سے روکا جاسکے ۔ یہ جماعتیں پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی ہیں۔ تینوں نے احتجاج کی کال دی تھی اور جماعت اسلامی نے تو 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دی تھی۔ حکومت نے ازخود تشدد کو ہوا دی، کھلی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں، جوابی تشدد میں پولیس والوں کی ہلاکتیں ہوئیں، پھر مقدمات درج کیے گئے ، پورے دس بارہ دن احتجاجی مارچ روکنے ، طاقت کے استعمال، مذاکرات وغیرہ کی باتیں چلتی رہیں۔ لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ 29 اکتوبر کو علما کی کمیٹی بننے کا اعلان ہوا، بتایا یہی گیا کہ وزیراعظم نے علما سے معاملات سدھارنے کی اپیل کی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر علما کا وفد جس میں عقیل کریم ڈھیڈی بھی تھے ، جنرل باجوہ سے ملتا ہے اور پھر پریس کانفرنس میں مذاکرات کے نتائج کا اعلان ہوتا ہے۔

علما کی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کچھ وزرا اور مشیروں کو باہر بھیج دیا جاتا ہے ، یہ لوگ بڑی توپ چیز ہیں لیکن ساری توپیں بوجوہ خاموش رہیں۔ اور معاملے کے بعد شکریہ بھی جنرل باجوہ کا ادا کیا گیا۔ اگلے دن مفتی منیب الرحمن نے معاہدہ ہونے کا اعلان کردیا، جس میں گرفتار شدگان کی رہائی کچھ کو عدالت کے ذریعے رہائی کا طریقہ بتایا گیا۔ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ ختم ہوگیا۔ ٹی ایل پی نے آئندہ دھرنا نہ دینے کا وعدہ کیا۔ مفتی منیب معاہدے کے ضامن ہوں گے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت پھر کس مرض کی دوا ہے کہ اس میں اتنی صلاحیت بھی نہیں کہ معاملات سنبھال سکے۔ دوسرے یہ کہ اگر اتنا سنگین اور نازک مسئلہ علما دو دن میں حل کرسکتے ہیں تو حکومت علما کو کیوں نہیں دے دی جاتی۔ حکومت میں موجود گروہ سے مہنگائی کنٹرول نہیں ہورہی، اس سے روزگار فراہم کرنے کا کام نہیں ہورہا، اس سے عوام کو مکان فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہورہا، تعلیم کے میدان میں بھی پیچھے ہی جارہے ہیں، جس چیز پر ہاتھ رکھتے ہیں وہ تباہ ہوجاتی ہے ، لیکن دنیا نے دیکھا کہ علما نے بگڑا ہوا کام دو دن میں ٹھیک کردیا۔ تو پھر یہ لوگ حکومت چھوڑیں گھر جائیں اور علما کو موقع دیں۔

ایک اور بہت واضح اشارہ سامنے آیا ہے کہ ملک کا تمام اختیار کنٹرول اور فیصلے کے مراکز وزیراعظم ہائوس نہیں کہیں اور یہ مراکز ہیں۔ اب تو وزیر بھی جھگڑ رہے ہیں کہ وزیراعظم کو مذاکرات اور معاہدے کا علم تھا اور جو یہ کہتا ہے کہ انہیں معلوم نہیں تھا وہ جھوٹا ہے ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔ اس معاہدے کا اعلان بھی پراسرار انداز میں ہوا۔ پہلے کہا گیا کہ تفصیلات کل بتائی جائیںگی، پھر رات ہی کو تفصیلات سامنے آگئیں۔ لیکن ایسے معاہدوں میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت تین برس سے بحرانوں اور مسائل میں گھری ہوئی ہے اور دلچسپ یا افسوسناک بات یہ ہے کہ تمام بحرانوں اور مسائل کا کھرا اس حکومت کے لوگوں یا اس کے سرپرستوں کی طرف اشارہ کررہا ہوتا ہے ۔ پاکستان میں اقتدار پر نئے نئے چہرے مسلط کرنے اور باریاں لگانے کا کھیل جب تک چلتا رہے گا یہ خرابیاں ہوتی رہیں گی۔ اور یہ سارے کام اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتے۔

معاہدے کی خطرناک بات یہ ہے کہ مفتی منیب الرحمن اس کے ضامن ہیں۔ایک وزیر نگراں ہیں اور جن لوگوں نے دستخط کیے ہیں ۔ ان کی بھی خیر ہے ، یہ لوگ کسی بھی وقت اپنی بات سے پھرجاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی قرآن وحدیث تھوڑا ہی تھا ۔ لیکن مفتی منیب الرحمن کی حیثیت مختلف ہے ۔ ان کو بھی علم ہے کہ پاکستانی حکمران صبح کو معاہدہ کرتے ہیں اور شام کو مکر جاتے ہیں اس کا انہوں نے ذکر بھی کیا ہے ۔ لہٰذا انہیں بہت چوکنا رہنا ہوگا ۔ کیونکہ وہ معاہدے کے ضامن ہیں، لیکن ان کے ہاتھ میں حکومت کی لگام ہے نہ ٹی ایل پی پر کوئی کنٹرول۔