تحریک لبیک کا احتجاج اور اصل حقائق

تحریک لبیک پاکستان پنجاب میں تیسری بڑی سیاسی پارٹی ہے، اس کے بانی و امیر شیخ الحدیث والتفسیر فنا فی الخاتم النبیین امیرالمجاہدین علامہ خادم حسین رضوی تھے جوکہ گزشتہ سال نومبر میں وفات پا گئے۔

ختم نبوت اور ناموس رسالت کے بارے پاکستان و بیرون ممالک میں کوئی گستاخی ہو تو ان کی جانب سے بھرپور جواب دیا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ سال فرانس کی جانب سے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے معاذ اللہ سرکاری عمارتوں پر اویزاں کئے گئے تو پوری امت مسلمہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اسی اثنا میں مرد قلندر علامہ خادم حسین رضوی نے پی ٹی آئی حکومت سے فرانس کے سفیر کو نکالنے اور فرانسیسی اشیائے خردونوش کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

حکومت وقت کی جانب سے ہٹ دھرمی دکھانے کے بعد علامہ صاحب نے کارکنان کو لیاقت باغ راولپنڈی جمع ہونے کا حکم دیا گیا۔ پوری حکومتی مشینری استعمال کرنے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں عشاقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام آباد کا رُخ کیا۔ حکومت کی جانب سے کھنہ پُل اور دیگر مقامات کو مکمل کنٹینرز لگا کر سیل کیا گیا تا کہ کسی قسم کی ٹریفک اسلام آباد میں داخل نہ ہوسکے۔ ہوٹلوں میں بحکم SHO کے نام سے مراسلے آویزاں کر دیے گئے کہ کسی کو فی الوقت تین یوم تک کمرا کرایہ پر ہرگز نہ دیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔

 دوسری طرف مقررہ دن ہزاروں لوگ لیاقت باغ سے فیض آباد تک پیدل سفر کرتے فیض آباد کے مقام پر پہنچے۔ ہزاروں شیل حکومت وقت کی جانب سے برسائے گئے اور واٹر کینن سمیت تمام حربوں کا استعمال کیا گیا مگر وہ قافلہِ عشق مستی کا راستہ نہ روک سکے۔ فیض آباد کے مقام پر جمع شدہ لوگوں پر جبکہ وہ تہجد کی نماز ادا کرنے میں مصروف تھے شیلنگ کی گئی اور گرینڈ آپریشن کیا گیا۔  اللہ کی مدد شاملِ حال رہی اور حکومتی حملہ ناکام ہوا۔ حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور علامہ خادم حسین رضوی صاحب کی جماعت سے معاہدہ طے پایا جس کے تحت حکومت نے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سمیت اشیائے خردونوش و ہر قسم کی تجارت کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

بعدازاں علامہ صاحب وفات پا گئے اور ان کے چہلم پر انکے صاحبزادے نے وعدہ پورا کروانے کے بارے لاحے عمل کا اعلان کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر شیخ رشید اور دیگر وزراء نے منت سماجت کر کے معاہدے کے وقت میں اپریل تک توسیع کروائی جس کا اعلان عمران خان نے خود ٹی وی پر کیا۔ اپریل میں حافظ سعد حسین رضوی کو غیر قانونی طور پر نظر بند کر دیا گیا اور حکومت نے کارکنان کے خلاف پکڑ دھکڑ کا بازار گرم کر دیا۔ حکومت چونکہ معاہدہ سے منحرف ہوگئی لہذا ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ کریک ڈاؤن اور ہزاروں گرفتاریوں کے بعد بھی یہ احتجاج یتیم خانہ چوک میں جاری رہا۔ بجائے دستخط شدہ مطالبات کو ماننے کے حکومت نے کمال چالاکی سے دو یوم کے اندر تحریک لبیک کو کالعدم قرار دے دیا۔

حالانکہ کے بے نظیر کی وفات پر PP نے جو گُل کھلائے اور جو کچھ عمران خان صاحب  اپنے دھرنے میں کرتا رہے سب کو معلوم ہے۔ ماضی میں یہ کہنے والے کہ میرے پُر امن ساتھیوں کو جن پولیس والوں نے ہاتھ لگایا ان کو خود پھانسی دوں گا انہوں نے ماہ صیام میں پولیس گردی کی انتہا کر دی۔ چوک یتیم خانہ کو لہو لہان کر دیا گیا۔  پنجاب پولیس کی غنڈہ گردی سے تحریک لبیک کے دو درجن سے زائد لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ پولیس نے وحشیانہ انداز اپناتے ہوئے نہتے شہریوں پر سیدھی گولیاں برسائیں۔

 ایک بار پھر حکومت کمال منافقت کے ساتھ مزاکرات کرنے پہنچی اور شیخ رشید نے وڈیو بیان میں امیر محترم حافظ سعد رضوی سمیت تمام کارکنان کی فی الفور رہائی کی نوید سنائی جس کے بعد دھرنہ ختم ہوا۔حکومت وقت نے ہر بار کئے گئے معاہدوں کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ جب 90 دن کی نظر بندی کی مدت پوری ہوئی اور کورٹ سے مزید منظوری نہ کروائی جا سکی تو ڈی سی لاہور کے دستخط کے ساتھ آرڈر جاری کر کے نظر بندی میں توسیع کر دی گئی۔

 حافظ سعد رضوی کی رہائی کے بابت تین فیصلے اب تک آ چکے ہیں جن کو حکومت قبول کرتی نظر نہیں آتی۔ اسی اثناء میں کارکنان اپنے قائد کا استقبال کرنے لاہور پہنچے اور رہائی نہ ہوئی تو وہ وہیں سڑکوں پر ٹھہر کر رہائی کا انتظار کرنے لگے۔ CPO لاہور کی جانب سے وکلاء نے جو مچلکے جمع کروانے تھے وہ وصول نہ کئے گئے۔ کارکنان کا پر امن احتجاج جاری رہا اور ٹریفک بھی بحال رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی یوم ولادت پر جمع ہونے والی عوام کی پرزور فرمائش پر تحریک لبیک کی شوری نے حکومت کو دو دن کا وقت دیا اور بعدازاں دو دن بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا۔

 ان سارے واقعات میں پولیس اور حکومت عام شہریوں کے حقوق کو پامال کرتی نظر آتی ہے۔ پر امن احتجاج ہر پاکستانی شہری کا قانون حق ہے جبکہ تحریک لبیک کے دو کارکنان گولیاں مار کر چوک یتیم خانہ سے داتا صاحب جاتے ہوئے شہید کر دئے گئے۔ بھرپور انداز میں شیلنگ کی گئی جس سے رہائشی علاقوں کے مکینوں کو بھی سانس لینا دشوار ہوگیا۔ اسلام آباد راولپنڈی سمیت جی ٹی روڑ پر ہر جگہ کنٹینرز کھڑے کر دئے گئے جس کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہوگیا ہے۔ اب پھر حکومت کی جانب سے ایک طرف مذاکرات کا راگ الاپا جا رہا ہے تو دوسری طرف باقی صوبوں سے اضافی نفری منگوا کر ڈپلائے کی جا رہی ہے۔ فی الوقت تحریک لبیک کے درجن بھر افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ شیخ رشید اور دیگر وزراء جو دستخط شدہ معاہدوں سے مُکر جائیں کیا وہ صادق و امین ہیں؟ ملک اور اسکی اسمبلی کو آگ لگا دوں گا کہنے والے کیا وزارت کے حق دار ہیں؟ درجن بھر لاشیں گرچکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجائے معاملات کو گشیدہ کرنے اور مزید لاشیں گرانے کے، معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ اگر حکومت کی جانب سے معاملات کو بگاڑا جائے گا تو ملک میں اکثریتی طبقہ اھلنست ہرگزاسکو برداشت نہیں کرے گا۔