اللہ تعالی کے نزدیک دنیا کی حقیقت

“حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گاؤں (جو کہ مدینہ کے اطراف میں بلندی پر واقعہ ہے) سے آتے ہوئے (مدینہ طیبہ کے) بازار سے گزر ہوا۔ کچھ لوگ آپ کے ہمراہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے کان والی بکری کے مردہ بچہ کو پڑا دیکھا تو اسے کان سے پکڑ کر حاضرین سے سوال کیا کہ تم میں سے کون ہے جو اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے؟ انھوں نے عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو اسے مفت میں بھی لینا پسند نہیں کرتے، یہ ہمارے کس کام آئے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (نہیں بلکہ) تم اسے اپنے لیے ہی پسند کرتے ہو؟ انھوں نے عرض کیا “خدا کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو معیوب ہونے کی وجہ سے خریدنے کے لئے موزوں نہ تھا اب تو یہ کانوں کے عیب کے باوجود مردہ بھی ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا “خدا کی قسم اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر اور بے وزن ہے جتنا یہ مردہ بچہ تمھاری نگاہ میں بے وزن اور حقیر ہے”.(مسلم عن جابر بن عبداللہ ، کتاب الزھد)۔

آج ہمارے گھر درس تھا مدرسہ اللہ کے نذدیک دنیا کی حقیقت واضح کر رہیں تھیں۔ ان کا لہجہ اتنا پر خلوص تھا سب خواتین کی توجہ مدرسہ کے خوبصورت انداز و بیان پر تھی انھوں نے حدیث کی تشریح کرتے ہوئے مزید بتایا “اللہ کے نزدیک دنیا کی کوئی وقعت نہیں ہے اور اس کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال معیوب، مردہ بکری کے بچے سے دی کہ اس کو کوئی پسند نہیں کرتا تو دنیا بھی ایسے ہی اللہ کے نزدیک حقیر ہے اللہ پاک کے لئے اپنے بندوں کا چھوٹا سا عمل جو خالص اللہ پاک کے لیے، آخرت کے لئے کیا گیا ہو وہ اہمیت کا حامل ہے۔ اچھا یہ بتائیں کیوں اللہ کے نزدیک دنیا حقیر ہے کبھی سوچا آپ نے.

باجی نے حاضرین میں سے سوال کیا ان میں سے ایک خاتون نے جواب دیا “کیوں کہ اللہ کے نزدیک سب سے اہم اخرت ہے دنیا تو چند روز کے لیے ہے، کچھ دن کے لیے ہی آئے ہیں آخرت دائمی ہے اس کے لئے عمل کرو.

“جی بلکل صحیح ہم یہاں نظر جمائیں بہت سے لوگوں کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کریں اس مال ومتاع کے لیے لوگ کوشش کئے جاتے ہیں جیسے یہی مقصد حیات ہو، کہیں نہ کہیں ہمارا اپنا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہوتے ہیں بہت سا مال متاع ، سونا چاندی ،جائدادیں ہمارے ہاتھ میں ہوں اس کے لۓ دن رات صرف کردیتے ہیں بعض دفع حلال حرام بھی نہیں دیکھتے اور یہ سوچتے ہیں اسی سے ہماری عزت ہوگی اور سب احترام سے پیش آئیں گے ایسا نہیں ہے بلکہ اس سے تو اکثر دل سخت ہو جایا کرتے ہیں۔ حقوق العباد کو بھول جاتے ہیں حسد ،کینہ اور جھوث کے جراثیم ہمارے اندر پرورش پانے لگتے ہیں اور انسان تباہ ہو جاتا ہے۔

اسی لئے اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی محبت کی مزمت فرمائی ہے۔

ایک اور حدیث میں آپ کے سامنے لاتی ہوں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک دنیا کی کوئی وقعت نہیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!”اللہ کی نگاہ میں اگر دنیا مچھر کے برابر بھی ہوتی تو پانی کا ایک گھونٹ بھی کسی کافر کو نہ پلاتا”( ترمزی عن سہل بن سعد ،ابواب الزھد).

“مدرسہ سامعین کو درس دے رہی تھیں میں سوچ رہی تھی “واقعی سچ ہی تو ہے ہم اس دنیا کے لۓ کیا کچھ کرتے ہیں اپنا کچھ اسی کے لۓ لگا دیتے اکثر ہمیں صلہ ہی نہیں ملتا خالی ہاتھ ہی رہتے ہیں اگر ہم اپنی نیت خالص کر لیں اپنے عمل اللہ کے حکم کے مطابق کر لیں تو جنت یقینی ہے”

باجی نے حدیث کو اور واضح کرتے ہوئے بتایا!

” اکثر ہم دیکھتے ہیں اللہ پاک اپنے کچھ بندوں کو بہت مال ومتاع عطا کرتا ہے، نوازے جاتا ہے تو ہم یہی سمجھتے ہیں شائد اللہ پاک اسی پہ مہربان ہے لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہو یہ دنیا اللہ پاک نے آزمائش کے لئے پیدا کی ہے کہ کون کس راستے پر چلتا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں میں انسان کو ہر طرح سے آزماؤں گا مال کی کثرت سے مال کی کمی سے اولاد کو والدین سے والدین کو اولاد سے شوہر کو بیوی سے بیوی کو شوہر سے۔ مطلب ہر طرح سے اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔

اور سوچنے کی بات ہے اگر اللہ تعالی کی نظر میں دنیا کی اہمیت ہوتی تو وہ کافروں کو تو کچھ دیتا ہی نہیں ان کو تو عیش و عشرت دی ہے بہت مال و متاع سے نوازہ ہے لیکن آخرت میں ان کے لۓ کچھ نہیں۔

رسول اللہ نے فرمایا!”اللہ کی قسم! آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حقیقت صرف اتنی ہے جیسے کوئ سمندر میں انگلی ڈالے پھر نکال کر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے؟”(مسلم عن المستورو کتاب الجنة.ترمزي ايوب الزهد).

یعنی دنیا اہسی ہی ہے جیسے سمندر میں انگلی ڈالنے سے جتنا پانی انگلی میں آتا ہے وہ دنیا اور باقی سمندر آخرت ہے۔

تو پس آج سے اپنے آپ پر غور کریں اپنے عمل میں ریاءکاری تو نہیں ،دنیا کی محبت تو نہیں ہے جس کے دل میں ذرہ بھی محبت دنیا کے لۓ ہوگی تو خسارہ ہی خسارہ نقصان ہی نقصان ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !مجھے تمھارے بارے میں سب سے زیادہ خطرہ شرک اصغر کا ہے بعض صحابہ نے غرض کیا کہ یا رسول شرک اصغر کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ریاء (یعنی کوئی نیک کام لوگوں کے دکھاوے کے لیے کرنا)۔ (مسند احمد)

دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے اگر ہم ہر طرح کی مادی فائدہ عیش وعشرت سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے تو آخرت میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ اگر ہمارے اندر۔

کہیں کوئی کمی ہے تو تھوڑی سی کوشش سے اپنے آپ کو بدلیں اپنی نیت اللہ کے لیے خالص کرلیں جو کام بھی کریں اس میں یہ تصور ہو کہ اللہ پاک ناراض نہ ہو یہ کام ہمیں جہنم کے گڑھے کی طرف تو نہیں لے جاۓ گا۔اللہ پاک سے ہر دم ہدایت مانگیں اللہ پاک ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے آمین۔

معلمہ نے آخر میں دعا کرائی اور سب نے عہد کیا کہ اپنی کمزوری پر قابو پانے کی کوشش کریں گے اور اپنے عمل میں آخرت کو مد نظر رکھیں گے۔