ہمارے جمہوری نظام کی پسِ پردہ خامیاں

 جمہوریت اب تک آزمائے گئے تمام  نظاموں میں سب سے مقبول طرزِ حکومت ہے۔ اس کی باقاعدہ کوئی تعریف نہیں کیونکہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ خود میں ترمیم کرتا ہے۔یوں کہہ لیجئے یہ ایک ایسا سفر ہے جس کی منزل کو ابھی طے نہیں کیا جاسکا۔ سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کے مطابق جمہوریت سے مراد “وہ ملک جہاں عوام کی حکومت عوام کے ذریعے، عوام کیلئے کی جائے جمہوریت کہلاتی ہے۔”جہاں دنیا اس طرزِ حکومت کے گن گاتی  نظر آتی ہے  اورعہد حاضر میں بھی  کئی ممالک میں اس سیاسی نظام کو اپنایا گیا ہے وہیں اس میں بہت سی خامیاں بھی پوشیدہ ہیں۔

آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں :

یکساں ووٹ کا حق جمہوری نظام میں انتخابات ایک لازمی جزو ہے۔ ان انتخابات کا طریقہ انتہائی واضع ہے، ملک کے ہر شہری کو یہ  حق حاصل ہے کہ وہ اپنے پسند کے سیاسی جماعت یا امیدوار کو ووٹ دے اور اسے اقتدار تک پہنچائے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک اوسط ووٹر کو پتہ ہی نہیں ہوتا کے ووٹ کرتے کس طرح ہیں؟ ملک کا سیاسی نظام چلتا کس طرح ہے؟ آیا سیاسی امیدوار اس قابل ہے یا نہیں کے وہ ملک کی باگ ڈور سنبھال سکے۔ مگر ایسے شخص کے پاس بھی ووٹ دینے کا اتنا ہی اختیار ہے جتنا ایک قابل شخص کو جو یہ سارے معاملات بخوبی سمجھتا ہو۔ انتخابات میں حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی اہلیت کا تعین اس کی اٹھارہ سالہ عمر سے نہیں بلکہ تعلیمی قابلیت اور سیاسی شعور کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

غیر فعال اور غیر مستحکم حکومت جدید طرزِ جمہوریت میں کسی بھی سیاسی جماعت کو پانچ سال کے لیے ملک کی کنجی دی جاتی ہے۔ اگر حکومت صحیح طریقے سے کارکردگی نا دکھا رہی ہو تب بھی پانچ سال سے پہلے احتساب ممکن نہیں، جس سے ملک بتدریج پستی کی جانب جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت اگر سیاسی جماعت یا امیدوار کو واضح اکثریت نا ملے تو اسے آزاد امیدوار اور دیگر چھوٹے سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرنا پڑتا ہے، اور ان ہی اتحاد کی بنیاد پر حکومت قائم  ہوتی ہے صرف چند منتخب شدہ نمائیندوں کے علیحدگی پوری حکومت کی کایا کو پلٹ دیتی ہے یہی وجہ ہےکہ  ملک میں ہمیشہ ایک غیر یقینی سی صورتحال موجود  رہتی ہے۔ اسی طرح اگر حکومت کھڑی ہو تو اسے کوئی بھی فیصلہ لینے کے لیے ایک طویل اور سست نظام سے گزرنا پڑتا ہے، بعض اوقات اگر اسمبلی میں اپوزیشن کا اتحاد مضبوط اور اکثریت میں ہو تو حکومت کا کوئی بھی فیصلہ لینا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

 جمہوریت کی بنیاد ہی  اکثریت پر ہے۔ اکثریت جس طرح کا بھی فیصلہ کرے وہ ہی قابل قبول ہوگا۔ اس نظام میں کسی بھی بات کو صحیح اور غلط کے بجائے تعداد کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ یہ ان ممالک کے لیے تو اچھی ہے جہاں لوگ تعلیم یافتہ اور با شعور ہیں، وہ صحیح فیصلے لے کر اہل شخص کو ہی اپنی قیادت دینگے مگر ایک ایسا معاشرے جہاں تعلیم کی پہلے ہی کمی ہو وہ یقیناً ایک کرپٹ اور نا اہل شخص کو اسمبلی تک پہنچائیں گے اور وہ شخص کبھی بھی اس معاشرے کے فلاح و بہبود کیلئے کام نہیں کریگا۔ لوگوں میں تعلیم کی کمی اسی طرح برقرار رہے گی اور اگلے انتخابات میں پھر ایسا ہی شخص اقتدار میں آئےگا اور یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا اور ملک کبھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ اس نظام کے تحت اکثریت، اقلیت پر غالب آجاتی ہے اور ان کے حقوق سلب ہونے لگتے ہیں۔ اقلیت میں احساس محرومی شدت اختیار کر جاتی ہے اور بعض اوقات ملک خانہ جنگی کی طرف بھی چلا جاتا ہے۔

آزادی اظہار کا غلط استعمال جمہوریت کے علمبردار ہمیشہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اس نظام میں ہر شخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ اپنی بات لوگوں کے سامنے رکھ سکے ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ آزادی اظہار رائے جمہوریت کا ایک نگینہ ہے۔ جمہوری ملک اپنے ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دیتا  ہے مگر اس باؤنڈری بتانے سے قاصر ہے۔ کب؟ کون؟ کس پر؟ کس طرح بات کر سکتا ہے اسکے لیے ریاست کی جانب سے کوئی احکامات واضح نہیں ہیں۔ مشہور فلسفی ارسطو بھی آزادی کا قائل تھا مگر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس آزادی سے سے جہاں لوگ جائز تنقید اور تعمیری خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہی اس کا بے حد غلط استعمال بھی ہوتا ہے۔ کوئی کسی پر بھی کیچڑ اچھالتا ہے تو کوئی کسی پر  تہمت لگا دیتا ہے اورکسی کو بھی مذہبی اور نسلی تعصب کا شکار بنا دیتا ہے۔

 جمہوریت میں سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلی جاتی ہیں۔ انتخابات میں کروڑوں، اربوں روپے کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ پیسہ انتخابی مہم سے لے کر آزاد امیدوار خریدنے تک کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض دفع سیاسی مخالفین کے خلاف بھی پیسے کی گرمی دیکھائی جاتی ہے۔ اس میں اکثر پیسہ ناجائز ذرائع سے حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ جب کوئی سیاسی جماعت اقتدار حاصل کرنے کے لیے اتنی کثیر رقم کا استعمال کرے گی تو ظاہر سی بات ہے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے وہ مختلف کرپشن کے ذریعے اس خسارے کو پورا کرے گی۔ ملکی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پہلے اپنے ذاتی مفادات کو رکھے گا۔ جس کے باعث بدعنوانی کا ایک نہ  تھمنے والاسلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان  ملک میں جمہوری عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے ان تمام نقائص کا سدباب کریں تاکہ عوام کوجمہوریت کے بہترین فوائد حاصل ہوسکیں۔