الھم بلغنا رمضان

عروسہ کے کاموں میں تیزی آ گئی تھی وہ اپنے کام جلد ازجلد مکمل کر لینا چاہتی تھی آج بھی اپنے شوہر اظہار کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہی تھی سنئے آپ اپنے اور بچوں کے کپڑے سلنے کے لئے دےآئیں اظہار نے ہوں کہا اور عشاء کی نماز پڑھنے نکل گئے۔

اظہار اورعروسہ کی شادی کو دس سال ہوچکے تھے اور ان کے تین بچے تھے دو بیٹے اور ایک بیٹی اظہار کے والد کا انتقال ہوچکا تھا والدہ حیات تھیں اور ان کے ساتھ ہی رہتیں تھیں۔

اظہار اور بچے نماز کے لئے نکلے تو عروسہ نے اپنی ساس جو اس کی چچی بھی تھیں پوچھا چچی جان آپ بھی بتادیجئے جو کپڑے آپ نے سلوانے ہیں میں اپنے کپڑے سلنے دینے جارہی ہوں۔ سلمی بیگم نے کہا ہاں بیٹا میرے بھی سوٹ لے جاؤ اور درزن سے کہنا میرے بازو کھلے رکھے جی چچی جان عروسہ درزن کی طرف نکل گئی جب واپس آئی تو بچے اور شوہر نماز پڑھ کرآچکے تھے۔ عروسہ نے جلدی سے کچن کارخ کیا رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی ساتھ ساتھ وہ راشن کی لسٹ کا بھی سوچ رہی تھی کہ وہ جلدی سے مکمل کر کے اظہار کے حوالے کرے تاکہ یہ کام بھی مکمل ہو۔

دوسرے دن سارے گھر کے پردے اتار کردھولئے کل کادن گھر کی صفائی کا رکھا۔صفائی کرکے وہ بہت تھک چکی تھی لیکن ابھی بہت سارے کام باقی تھے کچھ گفٹ خریدنے تھے کچھ پیکٹ بنانے تھے اور دعوتیں بھی دینی تھی اگلا پورا ہفتہ یہ سارے کام نپٹاتے گزر گیا۔ عروسہ کے کاموں میں تیزی آ چکی تھی آج اسے بازار جانا تھا اپنی باقی کی خریداری مکمل کرنے کے لئے بازار سے لوٹنے کے بعد کچھ دیر آرام کیا پھر کچن کارخ کیا۔

آج عروسہ کافی مطمئن تھی وہ صاف ستھرے گھر اورخوشگوار موڈ کے ساتھ آنے والی خواتین کا استقبال کررہی تھی آج اسکے گھر استقبال رمضان کا پروگرام تھا  پروگرام کے اختتام پر دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اس کے دل سے الفاظ نکل رہے تھے اے اللہ میری ساری دوڑ دھوپ تیری رضا کے لئے ہے چند آنسو اسکی آنکھ سے نکل کر اسکے ہاتھوں میں جذب ہوگئے اور زبان الھم بلغنا رمضان کاورد کرنے لگی۔