پکوڑوں کا مہینہ

رمضان کی آمد آمد ہے۔ہر طرف زور و شور سے رمضان کی تیاریاں جاری و ساری ہیں۔ ایسے میں دو طرح کے مزاج ہیں ایک تو وہ جو رمضان کو حقیقتا روزے اور عبادات  کے لئے خالص کر رہے ہیں۔ اور دوسرا اکثریتی گروپ جو افطاری کے تصورات سے ابھی سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ جن کا موٹو ہے *ہمیں افطاری سے پیار ہے*۔

رمضان کے سحری و افطار کے کیا ہی کہنے۔ اسی سلسلے میں  خواتین رمضان سے پہلے ہی بہت سی چیزیں بنا کر فریز کر رہی ہیں جن میں کئی قسم  رول، سموسے، بڑے ، شامی کباب،  پراٹھے، پائے وغیرہ شامل ہیں تاکہ رمضان میں وقت اور محنت بچائی جا سکے اور دھیان روزے پر ہی رہے۔

 رمضان میں ایک جوڑا ایسا ہے جس کے بغیر افطاری سونی سونی لگتی ہے۔ جی ہاں لال شربت اور پکوڑے۔ ان کے بغیر افطار کا تصور کم از کم ہمارے ہاں مفقود ہے۔ لال شربت میں اختلاف ہے کچھ افراد روح افزاء کے حق میں ہیں اور کچھ جام شیریں کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔  مگر ایک چیز جس پر تمام قوم کا اجماع ہے وہ ہیں پکوڑے ان کو رمضان کا برانڈایمبسیڈر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

پکوڑے کا وجہ تسمیہ کے بارے  میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں ۔ کچھ افراد کہتے کہ کسی مکرانی شخص نے گھی میں بیسن کی ٹکیاں ڈالیں ۔ بھوک کی شدت تھی اور پکنے میں دیر ہو رہی تھی تو اس نے جھنجلا کر کہا پکو رےے۔ جو کثرت استعمال سے پکوڑے ہو گیا مگر اندر کی بات ہے کہ اس شخص کے گھر آٹا ختم ہو گیا تھا، بیوی بہت سخت مزاج تھی اس نے محلے کی “خبرگیری” کے لئے جانے سے پہلے ، واپسی پر کھانا تیار ہونے کا حکم دیا تھا۔ بازار جانے کا وقت نہ تھا چنے کی دال نظر آئی وہی پیس کر آٹا بنایا۔ بیوی کے آنے کا وقت ہو چلا تھا گھبراہٹ میں اس نے گوندھنے کی کوشش کی تو پانی زیادہ ڈال دیا  اب وہ لئی بن چکی تھی۔ اس نے جلدی سے اس میں نمک اور دستیاب مصالحے ڈال دیئے اور گھی میں پکنے کو ڈالا ۔ باہر بیوی کی پڑوسن سے لڑنے اور بچوں کو پیٹنے کی آواز آنے لگی۔ تو اس نے کڑاہی میں پڑے مرکب کو دیکھا  اسی دوران بیوی گھر میں داخل ہوئی اور کڑک کر بولی کیا پکایا ہے میاں گھبرا کر بولا پکو ڑےےےے۔ بس اسی سے اسے پکوڑے کا نام ملا۔ آگے کی کہانی میں بیوی کو پکوڑے  بہت پسند آئے اور وہ بہت خوش بھی ہوئی۔

کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آدمی کوئی بلوچ تھا۔مگر ہمیں یہ شبہ ہے کہ ان صاحب کا تعلق لاہور سے تھا کہ کیونکہ وہاں”ڑ” کا بکثرت استعمال پایا جاتاہے۔

کچھ مورخین  کا کہنا ہے کہ ”پکوڑا“ سنسکرت زبان کے لفظ ”پکواتا“ سے ماخوذ ہے، پکواتا معنی ”پکا ہوا“ اور واتا کا معنی ”سوجن“۔ ’پکوڑا‘ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔  ادبی حیثیت  سے  اس  1780 ء کو “کلیاتِ سودا ”میں پہلی بار استعمال ہوتے ہوئے سنا گیا۔ کسی محاورے یا ضرب مثل میں پکوڑے کا استعمال تاحال نہیں سنا۔ خدا معلوم ” باتیں بڑی بڑی اور دکان پکوڑوں کی” کس کیٹیگری میں شمار کیا جائے گا؟ البتہ لڑائی میں ناک پکوڑے جیسی کرنے کی دھمکی ضرور  سنی گئی ہے۔

وہ ملکہ جس نے لوگوں کو بھوک سے مرنے کی بجائے کیک کھانے کا مشورہ دیا تھا اگر ہمارے ہاں ہوتی تو ضرور پکوڑے کھانے کا مشورہ دیتی۔

ہمارے شاعر حضرات نے پکوڑوں کو بھی نہیں بخشا ذرا پکوڑا شاعری ملاحظہ ہو

وہ افطاری سے پہلے چکھتے چکھتے

کهجوریں اور پکوڑے کھا چکا ہے

محبت کے پکوڑے کھا رہا ہوں

ذرا چاہت کی چٹنی ڈال دینا

سوچو تو کیا لمحہ ہو

بارش، شاعری اور پکوڑے

اردو اور پنجابی کو ملا کر مزاحیہ شاعری کرنے والے امام دین گجراتی سے کون واقف نہیں۔ ہمارے ہاں شاعروں کو عموما ان کی وفات کے بعد ہی عزت و شہرت ملتی ہے امام دین گجراتی کے بارے میں ایک رائے یہ ہے کہ عمر کے آخری حصے میں وہ کسی سکول یا کالج کے باہر پکوڑے بیچتے رہے۔ سُنا ہے اِن پکوڑوں کے ساتھ اُن کی کافی یادیں بھی وابستہ ہیں۔

 پکوڑوں کے حوالے سے اُستاد امام دین کے اس شعر کی وجہ بھی ہے۔

کوئی تَن بیچے، کوئی مَن بیچے

امام دین پکوڑے نہ بیچے تو کیا بیچے

ویکی پیڈیا کے مطابق” پکوڑا برصغیر پاک و ہند کے مشہور پکوانوں میں سے ایک ہے۔ مختلف اشکال میں برصغیر کے تمام علاقوں میں مقبول ہے۔ جنوبی بھارت کے بیشتر علاقوں میں پکوڑوں کو بھجّی بھی کہتے ہیں۔ “

انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا پکوڑے کی تعریف یوں بیان کرتا  ہے  “انڈین پکوڑے گوبھی، بینگن، یا دیگر سبزیوں پر مشتمل تیل میں تلے ہوئے چٹ پٹے کیک ہوتے ہیں۔”

اس کے نام یا ابتداء کے بارے میں اگرچہ اختلاف ہے البتہ مورخین اس بات  پر متفق ہیں کہ یہ برصغیر یا جنوبی ایشیائی پکوان ہے۔ اسی لئے یہاں اسے کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔ بھارت کے کئی علاقوں  صوبہ مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور کرناٹک میں ان کو’’بھجی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں بنائے جانے والے پکوڑوں میں سبزی کا استعمال لازمی کیا جاتا ہے۔ یہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں بھی شوق سے کھائے جاتے ہیں۔جنوبی افریقہ کے کئی علاقوں میں انہیں ’’دھلجیس‘‘ کہا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ ’’ پکوڑا‘‘یا’’ پکووڑا‘‘ کہلاتے ہیں۔ چین اور نیپال میں انہیں پکوڈا ،جب کہ صومالیہ میں انہیں’’ بیجیئے‘‘ کہا جاتا ہے۔ بہرحال پاکستان میں ان کو پکوڑے یا  پکوڑی  ہی پکارا جاتا ہے۔ البتہ کچھ انگریزی میڈیم افراد اس کو ” پکوراس” بھی کہتے ہیں۔

اگرچہ ہمارے ہاں اکثر و بیشتر اسے کھانے کا بہانہ ڈھونڈا  جاتا ہے مثلا برسات کی شام، سردیوں کی چائے، بہار کی آمد یا عزیز مہمان کی آمد کے ساتھ۔ مگر رمضان کے مہینے میں تو پکوڑے لازم و ملزوم ہیں۔ ہر گھر میں پکوڑے کی مختلف قسم پسند کی جاتی ہے۔ کہیں صرف آلو کے پکوڑے، پیاز کے پکوڑے،  پالک پکوڑے، ہری مرچ پکوڑے، بینگن پکوڑے، آلو پیاز ٹماٹر مکس پکوڑے،پھول گوبھی اور بند گوبھی کے پکوڑے۔ جیسے جیسے ہمارے گھروں میں  بدیسی کھانے کا رحجان بڑھ ریا ہے اسی کے ساتھ پکوڑے میں مزید ورائٹی آئی ہے۔ جیسے  انڈا پکوڑے، پنیر پکوڑے، چکن پکوڑے، وغیرہ۔ رمضان گرمی میں ہو یا سردی میں پکوڑے اپنی جگہ کسی کو نہیں لینے دیتے۔ کچھ سال سے رمضان گرمیوں میں آ رہا ہے تو ہمارے ایک  بھائی ہیں وہ کہنے لگے کہ گرمی کی شدت نے اس قدر پریشان کیا کہ افطار کے وقت آئس کیوب نکال کر ان پر بیسن کا کوٹ کر کے کڑاہی میں ڈال کر ٹھنڈے پکوڑے بنانے کی کوشش کی۔ (نتیجتا جو کڑاہی میں بھونچال آیا ہو گا آپ تصور کر سکتے ہیں) مگر اب  سنا ہےکہ آئس کریم پکوڑا بھی کچھ شہروں میں دستیاب ہے۔ ہر قسم کے پکوڑوں کی اپنی خاص اہمیت اور مزہ ہے۔ ان کے ساتھ اگر ہری چٹنی ہو تو کیا ہی کہنے۔ سوشل میڈیا میں کچھ عرصہ پہلے بحث چلی کہ کونسے پکوڑے نمبر ون ہیں تو پکوڑے پکوڑے ہیں ان کی درجہ بندی زیادتی ہے جس کو جو پسند ہیں کھائے۔۔ جاتے جاتے ایک ضروری ٹوٹکا حاضر ہے۔

پکوڑے کے لئے تیار مصالحہ لینے کی بجائے اپنا مصالحہ خود تیار کریں جو تیار مصالحے کی نسبت کم قیمت اور بہتر ہو گا۔ سفید زیرہ ( بھنا ہوا) ، سرخ کوٹی مرچ، اناردانہ/لیموں پاووڈر، کشمیری مرچ پاوودڑ/ پیپریکا پاووڈر ،  قصوری میتھی، کوٹا دھنیا،  ہلدی، اجوائین ،  کلونجی( آدھی چائے کی چمچ سے زیادہ نہ ہو۔) گرم مصالحہ پسا ہوا۔ ان سب خشک مصالحوں کو ملا کر ایک ڈبے میں رکھ لیں۔ جب بیسن گھولنے لگیں تو ایک چائے کا چمچ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کر لیں۔

باقی پکوڑوں کے ساتھ ہری چٹنی ضرور استعمال کریں۔ کیونکہ ان دونوں کی کیمسٹری آپس میں خوب ملتی ہے۔ بہت زیادہ پکوڑے کھانے سے پرہیز کریں۔ اس سے پیٹ جلدی بھر جاتا ہے( سنا ہے کہ عید قربان کے جانوروں کو فربہ کرنے کے لئے چنے و بیسن کھلایا جاتا ہے )  اور انسان باقی اشیاء کھانے سے رہ جاتا ہے۔ تو اگر دسترخوان کے تمام اشیاء سے انصاف کرنا ہے تو سمجھداری کا مظاہر کریں۔