تعلیم اور تربیت

لڑکا/بیٹا ہو یا لڑکی/بیٹی دونوں انسان ہیں اور آج کے انسان کو محض تعلیم نہیں تربیت کی ضرورت ہے ۔

 یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج والدین/ساس سسر کی بھی تربیت ضروری ہوگئی ہے

بلکہ ہر انسانی رشتے کو تربیت کی ضرورت ہے ۔

پہلے ادوار میں تعلیم کم تھی مگر تربیت تھی آج ڈگریوں کے انبار ہیں مگر تربیت نظر نہیں آتی ۔

تربیت محض زبان سے نہیں  بلکہ عمل سے ہوتی ہے ۔اس کے لئے مطالعہ سیرت سے استفادہ کیجئے

تربیت کے لئے انسان کو اپنے اندر محبت،صبر،حکمت،قربانی ،ہمدردی جیسے اوصاف پیدا کرنے ہوں گے جو شاید کہنے میں آسان ہیں مگر آج کے دور کا المیہ ہےکہ انسان کے لئے یہ سب اپنانا مشکل ہوگیا ہے ۔

جلد حاصل کرنا ، اپنی ذات تک سوچنا، ایک محدود دائرے میں زندگی گزارنا ،سب کچھ حاصل کرنے کی طلب ،ناشکری،دینے میں بخیلی  ،شکوہ شکایت،حق دینے میں لیت و لعل اورحق لینے میں تیزی دکھانا ،مطلب پرستی ،مادیت پرستی وغیرہ وغیرہ یہ سب سطحی اوصاف آج کے دور کے انسان کے اندر تیزی سے سرایت کرتے جارہے ہیں اور جس انسان کے اندر یہ اوصاف کم ہیں یا موجود نہیں ہیں اسے آج بے وقوف سمجھا جاتا ہے اور اس کی سادگی سے فایدہ اٹھاکر اپنا مطلب پورا کیا جاتا ہے ۔

اس دوڑ میں  دونوں صنف سے ماوراء ہر انسان مبتلاء ہے یا مبتلا کیا جارہا ہے ۔

لہذا تربیت کی ضرورت سب کو ہے وہ میں ہوں یاآپ،مرد ہو یا عورت،بیٹا ہو یا بیٹی ہر رشتہ ایک رشتے سے جڑا ہے وہ ہے انسانیت ۔

انسان سازی آج کے دور کی ضرورت ہے تاکہ رشتوں کا احساس باقی رہے ،حقوق و فرائض ادا ہوتے رہیں خاندان زندہ رہیں۔محبتیں قائم ہوں ،مضبوط خاندان سے معاشرے مستحکم ہوں اور عورت و مرد دونوں شیطانی حربوں سے محفوظ رہیں ۔