الخدمت اسپتال پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کا دست و بازو

پاکستان میں زلزلہ آئے، بارش تباہی مچائے یا کہیں کوئی حادثہ پیش آجائے، سب سے پہلے فلاحی ادارے ہی حرکت میں آتے ہیں۔ ہمارے ہاں حکومتی تعاون کے بغیر درجنوں کی تعداد میں فلاحی ادارے اپنی مدد آپ کے مصداق کام کر رہے ہیں۔ ان کی اہمیت اور خدمات کو کسی طور بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ریاست کا نصف بوجھ انہی اداروں نے اٹھا رکھا ہے۔ گویا یہ ریڑھ کی ہدی کے مانند ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن کا شمار بڑے فلاحی اداروں میں کیا جاتا ہے۔ کورونا وبا کے دوران الخدمت فاؤنڈیشن کی امدادی سرگرمیاں ہر گلی کوچے میں دیکھنے کو ملیں۔ رضاکار ضرورت مندوں کی مدد کرتے نظر آئے۔ الخدمت کی خدمات کو ملکی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ گزشتہ سال حکومتِ پاکستان کی جانب سے الخدمت فاؤنڈیشن کو “شانِ پاکستان” کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

“خیبر پختونخوا میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد الخدمت فاؤنڈیشن کا صدر دفتر اور اسپتال ایک منٹ کے لیے بھی بند نہیں ہوا، یہاں تک کہ ہمارا 70 فیصد عملہ بھی کورونا کا شکار ہوا مگر الخدمت نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔”

یہ کہنا ہے خالد وقاص کا جو الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر ہیں۔

صدر الخدمت خیبر پختونخوا خالد وقاص

کورونا ایمرجنسی کی صورت حال میں الخدمت نے اپنی ریلیف سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی بھی مدد کی۔ خالد وقاص کے مطابق کورونا وبا کے دوران الخدمت نے اپنی 91 میں سے 48 ایمبولینس صوبائی حکومت کو فراہم کیں۔ پشاور کی سڑکوں پر سفر کے دوران الخدمت ایمبولینس کی آمد و رفت ہر کوئی دیکھتا ہے۔

چترال اور چارسدہ کی سرکاری اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے وینٹی لیٹر کی سہولت موجود نہیں تھی۔ الخدمت نے صوبائی حکومت کی درخواست پر ان علاقوں میں وینٹی لیٹرز کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

اس کے علاوہ الخدمت نے صوبے بھر کے اسپتالوں، بشمول لیڈی ریڈنگ اسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، خیبر ٹیچنگ اسپتال، کے میڈیکل اسٹاف کو کورونا سے بچاؤ کا حفاظتی سامان (پی پی ای) فراہم کیا۔ یہاں تک کہ جو ہیلتھ ورکرز کورونا کا شکار ہوئے ان کے لیے الخدمت نے آغوش پشاور کے دروازے بھی کھول دیے۔ آغوش کو آئسولیشن سینٹر میں تبدیل کر کے متاثرین کو وہاں منتقل کیا۔

کورونا لاک ڈاؤن میں الخدمت نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد خاندانوں کو راشن فراہم کیا۔ گلیوں، تعلیمی اداروں، مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر انسداد کورونا اسپرے کیے۔

صوبائی صدر الخدمت خالد وقاص کے ہمراہ نشتر آباد میں قائم الخدمت اسپتال کا دورہ بھی کیا جو شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ اس اسپتال میں 20 سے زائد ڈپارٹمنٹس ہیں جو ماہر ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی کام کرتے ہیں۔

یہاں سالانہ 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2021 میں 34 ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔

پشاور کے رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ اور نارتھ ویسٹ بڑے نجی اسپتال ہیں جہاں غریب آدمی تو علاج کرانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان اسپتالوں میں کافی مہنگا علاج کیا جاتا ہے۔

لیکن سستے اور معیاری علاج کی تلاش میں مریضوں کی بڑی تعداد الخدمت اسپتال کا رُخ کرتی ہے۔ الخدمت اسپتال میں روزانہ ایسے درجنوں مریضوں کا بھی مفت علاج کیا جاتا ہے جو مہنگا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

الخدمت کووڈ -19 ٹیسٹنگ لیب

الخدمت اسپتال میں کورونا سینٹر بھی موجود ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ دوسرے نجی اسپتالوں میں ایک کورونا ٹیسٹ کرانے کی فیس 7 ہزار سے 10 ہزار تک ہے جب کہ الخدمت فلاحی ادارے کے طور پر یہی ٹیسٹ صرف 3 ہزار میں کرتا ہے۔

الخدمت اسپتال کے سینئر ڈاکٹر فضل رحیم کے مطابق الخدمت اسپتال پشاور کے رہاشیوں کے لیے بڑی نعمت سے کم نہیں۔ اسپتال 24 گھنٹے علاج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز خود سہولیات کی کمی کے باعث مریضوں کو الخدمت اسپتال سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر فضل رحیم کا کہنا ہے کہ “پشاور کے سرکاری اسپتال دنیا سے 100 سال پیچھے ہیں۔ ”

اسپتال انتظامیہ کے مطابق اسپتال میں جنرل او پی ڈی، اسپشلسٹ او پی ڈی، مڈفیکل اسپشلسٹ ، آرتھوپڈک سرجن، گائنا کالوجسٹ، ڈینٹل سرجن، ای این ٹی سرجن، چلڈرن اسپشلسٹس، لبرے روم، ایکسرے، ریڈیو لوجسٹ، نرسری، فزیو تھراپی، ڈائلاسئسزے، اسکن، اسپشلسٹی، آئی یونٹ، شوگر اینڈ بلڈ پریشر اسپشلسٹ، ماہر امراض جگر، آنت، معدہ، ایکو سمیت الٹرا ساؤنڈ، فارمیل ، لیبارٹری، بلڈ بنک کے ڈپارٹمنٹ موجود ہیں۔

ڈاکٹر فضل رحیم

ڈاکٹر فضل رحیم کے مطابق تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے سرکاری اسپتالوں میں کافی ڈاکٹرز بھرتی کر رکھے ہیں لیکن سہولیات کی کمی مریضوں کے علاج میں رکاوٹ بنتی ہے۔ پشاور کے کسی اسپتال میں بچے کے دل میں سوراخ کا آپریشن نہیں کیا جاتا۔ والدین مجبوراً بچے کو نجی اسپتال منتقل کرتے ہیں۔

سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے لیے انکیوبیٹر کی سہولت موجود نہیں، اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے باعث مریض انتقال کر جاتے ہیں۔

فلاحی ادارے حکومت کا دست و بازو ہوتے ہیں۔ جو کام حکومت کو کرنا چاہییں وہ فلاحی ادارے کرتے ہیں۔ اگر یہ ادارے اپنی سرگرمیاں ختم کر دیں تو غریب آدمی رُل جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ الخدمت فاؤنڈیشن جیسے اداروں کو وسائل فراہم کرے، ان کے لیے فنڈز کا بندوبست کرے، ان کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ضرورت مندوں کی مدد جاری رکھی جاسکے۔

حصہ
mm
یاسین صدیق صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان دنوں ایک روزنامے کی ویب سائٹ پر سب ایڈیٹر ہیں اور پڑھنے لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔