نا شکرا شہری

شیروز اپنی کرسی پر بیٹھا تیزی سے پرچیاں لکھی جا رہا تھا اور اپنے ملازموں کے ہاتھوں میں دیے جا رہا تھا۔وہ سب ملازم اس کے ریستوران کے ویٹزز تھے۔شیروز کا ریستوران لاہور کا سب سے مشہور ریستوران تھا۔اس کا باپ اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اس کے چار چچا تھے۔وہ اپنے باپ کا دوسرا بیٹا تھا۔ دو چار چار منزلہ عمارتیں ملتی تو اس کا ایک ریستوران بنتا تھا۔یہ سارا کاروبار اس کے باپ اور چچا کے اتفاق کا نتیجہ تھا۔شیروز خود بھی نمازی تھا اور کاروبار میں شوق بھی رکھتا تھا۔

وہ گاہکوں کو آڈرز کی پرچیاں بنائے جا رہا تھا۔اچانک شیروز نے اپنی گولڈن رنگ کی گھڑی گھوماتے ہوئے کہا “میں اس ملک کو خیر باد کہ دوں گا اور انگلینڈ شفٹ ہو جاوں گا”۔ نذیر جو بوتل کے مزے لوٹ رہا تھا۔شیروز کی بات پر اس کے کان کھڑے ہوگے اور کہنے لگا”کیا ہوگیا ہے تجھے اتنا بڑا کاروبار ہے تمہارا اگر کچھ نہ بھی کرو تو سکون کی زندگی گزار سکتے ہو اپنا ملک چھوڑ کر کہا دھکے کھاؤ گے”نذیر نے کہ کر پھر سٹرا منہ میں ڈال لیا اور بوتل کو آہستہ آہستہ گلے میں اتارنے لگا۔شیروز نے ناک چڑا کر کہا”نہیں اس ملک کے حالات نہیں ٹھیک، یہاں کے لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں ہے اور مجھے پیسوں کا لالچ نہیں ہے میں زندگی سکون کی گزارنا چاہتا ہوں یہاں کے حالات دیکھو آپ ٹریفک میں پھنس جاؤ تو دو گھنٹے تک نکل نہیں سکتے،آپ ادھر کسی سے بات میں الجھ جاؤ تو اس سے جان نہیں چھڑا سکتے،یہاں پر ماحول میں بہت آلودگی ہے اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں میں ادھر رہ کر کیا کروں گا”شیروز بات کرنے کے دوران پیسے بھی وصول کر رہا تھا اور پرچیاں بھی لکھ رہا تھا۔نذیر کے کان کبھی اس کی باتوں اور کبھی نگاہیں اس کے پیسے گنتے ہاتھوں کی طرف جاتی۔مگر شیروز یہ سب کام بڑی تیزی سے کر رہا تھا اور بغیر کسی غلطی کے سارے کام سر انجام دے رہا تھا۔

شیروز اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا۔”ستر سال سے جس ملک کے حکمران بہتر نہیں ہوئے اس ملک کو اور کتنے سال لگیں گے بہتر ہونے کی امید کرنے والا اس ملک میں بیوقوف ہے میری نظر میں یہ ملک ہمیں کیا دے گا ادھر بریانی کے عوض ووٹ خرید لیا جاتا ہے،کم از کم انگلینڈ ایک پڑھا لکھا ملک ہے ادھر کسی کو کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں وہ ایک سمجھدار قوم ہے وہ لوگ اپنے شہریوں کی بہت عزت کرتے ہیں میرا ایک دوست باہر کے ملک گیا اور ادھر کا ہی ہو کر رہ گیا میں بھی وہاں جاؤں گا اور شادی کر لوں گا اِدھر کی عورت سے شادی کر کے بھی میرا معاملہ بہتری کی طرف نہیں جا سکتا یہاں کی عورت کا ذہن جلدی ایڈجسٹ نہیں ہوتا وہ مجھے اور میرے بچوں کو کیا سنبھالے گی ادھر ایک خوشحال زندگی گزاروں گا ادھر ہی اپنا گھر بار بساؤں گا، یقین کرو نذیر جب سے میں ایم فل کیا ہے میرا ذہن کھل گیا ہے تعلیم انسان کو بہت کچھ دیتی ہے اب میں وہاں سے پی ایچ ڈی کروں گا یہاں کا ماحول میرے اور میں اس ملک کےمطابق نہیں ہیں ایک پڑھا لکھا شخص اس طرح کے ماحول کا مستحق نہیں ہوتا تم خود بتاوں یہاں ہم ستر سال سے ایک ہی ڈگر پر زندگی گزار رہے ہیں کیا حاصل کیا ہم نے، نہ کبھی ترقی کرے گے اور نہ ہی کبھی ترقی یافتہ کہلائے گے”شیروز خاموش ہوگیا اور پین گھمانے لگا۔

نذیر نے آدھی بوتل پی تھی اور اس کا بوتل پینے کا شائد بالکل دل نہیں کر رہا تھا اس نے بوتل میز پر رکھ دی اور گہری سانس لی اس کا چہرہ ایک دم اداس ہو گیا تھا”تم سچ کہتے ہو شیروز ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے جب تک تم جیسے اس ملک میں ہے ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے”شیروز مسکراتا ہوا ایک دم حیرانگی سے نذیر کو دیکھنے لگا۔نذیر اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا”ایسے مت دیکھو سچ کہ رہا ہوں تم اس ملک میں پیدا ہوئے تمہیں اس ملک کا شکر گزار ہونا چاہئے یورپ کے لوگ شائد اس لئے ترقی کر رہےکہ وہ اپنے ملک میں پیدا ہو کر اس ملک کا سوچ رہے ہیں تمہیں اس ملک نے عالی شان بنا بنایا کاروبار دیا ہے جو تمہیں اور تمہارے سارے خاندان کو پال رہا ہے،تمہیں یہ نوکروں کی فوج دی ہے جو تمہیں بیٹھے بٹھائے پیسے تہارے ہاتھ میں دے رہی اور یہ سب اسی ملک میں پیدا ہوئے ہیں تمہیں اس ملک نے تعلیم دی ہے تمہیں اس ملک نے زندگی گزارنے کے لئے چوبیس سال دیے ہیں تم نے اس ملک کو کیا دیا کیا تم بتا سکتے ہو شیروز”نذیر کہتا ہو ا خاموش ہوا تو شیروز کی آنکھیں خاموش تھی۔

“تم نے جب اس ملک کو کچھ نہیں دیا تو تم اس ملک کو برا کیسے کہ سکتے ہو تم تعلیم یافتہ ہو تو اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالو تم صاحب مال ہو تو ادھر کی غریبی کو کم کرنے میں تعاون کرو،ماحول کی آلودگی کو کم کرنے میں کتنا کردار ادا کیا ہے کیا میں جان سکتا ہوں،تم نے ہوا کی آلودگی کو کم کرنے میں کتنے درخت لگائے جس ملک نے سانس دی ہے تم اس ملک کی ہوا کو برا کیسے کہ سکتے ہو شیروز،یہاں کے حکمران اسی ملک کی عوام میں سے نکل کر ہی بنتے ہیں،تم میں بیڑا ا ٹھانے کی سکت نہیں تو بیڑا ا ٹھانے والوں پر تنقید کرنے کا بھی تمہیں کوئی حق نہیں،باپ کا مال کھانے اور اپنا مال کمانے میں فرق ہوتا ہے،ہماری ماؤں نے اسی ملک میں ہماری تربیت کی ہے اور اب ہم اس ملک کی عورت سے بے زار ہے،تم صحیح کہتے ہو تمہیں اس ملک سے چلے جانا چاہئے نا شکرا شہری بھی اس ملک کے لئے خسارہ ہے ایک ناشکرے شہری کا اس ملک سے چلے جانا اس ملک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ فائدہ ہی ہوگا،یاد رکھنا شیروز جو اپنے ملک کی مٹی کو ٹھکرا دے اسے کسی ملک کی مٹی قبول نہیں کرتی اور اس کا نصیب در بدر ہوتا ہے”نذیر کہتا ہوا وہاں سے ا ٹھ گیا اور شیروز کو مسکراتے چہرے کے ساتھ بولا”میری بات کا برا مت سمجھنا تم نے اپنا نظریہ بیان کیا اور میں نے اپنا ہم دونوں ایک ہی ملک میں رہتے ہیں ہمیں اپنے ملک کا دفاع کرنا آنا چاہئے بس میں نے بھی اپنے ملک کا دفاع کیا ہے”نذیر نے شیروز سے ہاتھ ملایا اور وہاں سے چلا گیا مگر شیروز نذیر کو جاتا دیکھ رہا تھا۔وہ کب کا چلا گیا تھا مگر شیروز کی نگاہیں ابھی بھی نذیر کو دور جاتا دیکھ رہی تھی۔

شیروز نے زور سے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولا”بول نذیر اسمبلی میں کیسی رہی میری تقریر پوری دنیا کو بتا دیا ہمارا ملک کسی سے کم نہیں کوئی میلی آنکھ سے تو دیکھیں اس کی آنکھیں نکال لے“ شیروز ایک لمحے کے لئے خاموش ہوا اور بولا“نذیر میرے بھائی اس دن اگر میری آنکھیں نہ کھولتا تو آج میں اس مقام پر نہ ہوتا اب میں اس مٹی کا قرض اتار کر اس دنیا سے جاؤں گا”شیروز نے کہا۔ نذیر نے شیروز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا“بس اس ملک کا شکر کرنا اور یاد رکھنا نا شکرا شہری اس ملک کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے“۔