علامہ اقبالؒ جدید فکر کے ترجمان

ہرسال 9نومبر کو پاکستان کے علمی، ادبی اورسیاسی حلقے برصغیر کے مایہ ناز فلسفی شاعر حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا یوم پیدائش بڑے عقیدت واحترام سے مناتے ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمداقبالؒ کو دنیائے آب وگل میں آئے اس سال بالترتیب144برس گزرگئے، یومِ اقبال تو ہم ہرسال اپنے اپنے روایتی انداز میں منالیتے ہیں مگر، کبھی اقبال کی تعلیمات پر غور نہیں کرتے اور اگر کرلیں تو عمل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے، عصرِ حاضرمیں فلسفہِ اقبال کوسمجھنا، سمجھانا بہت ضروری ہے، بحثیت قوم یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم اپنے صاحبِ قدر  لوگوں  کی قدر تک نہیں کرتے نہ ہی ان کی زندگی میں اورنہ ان کے مرنے کے بعد۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال برصغیر کی وہ عظیم شخصیت تھے جنہیں انگریز سرکار کی جانب سے “سر” کا خطاب دیا گیا، ہماری قوم نے انہیں علامہ تو تسلیم کرلیامگر انکے اصلاحی پندونصائح کو شرفِ قبولیت بخشنے کی کبھی زحمت نہیں اٹھائی، آج بھی علامہ صاحب کی کتابیں کتب خانوں کی الماریوں اورچیدہ چیدہ گھروں کے اند ر موجود طاقوں تک محدود ہیں، معلوم نہیں کیوں ہماری قوم نے اپنے محسن شاعر کے افکار سے استفادہ نہیں کیا، وہ محسن جس نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کاخواب دیکھا اورخوابِ غفلت میں سوئی ہوئی امت مسلمہ کو بیدار کرنے کے لیے ان تھک محنت اورکوشش کی، مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلاکر جگاتے رہے، جہالت اوربے علمی کے اندھیروں کو ختم کرنے کی دعوت دیتے رہے، علامہ صاحب نے ایام جاہلیت کی وحشیانہ رسموں کا قلع قمع کرنے کی طرف رغبت دلائی، اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی، حالاتِ حاضرہ کی عبرتناک خاکہ نگاری کرتے ہوئے مغرب کی سامراجیت اوروحشیانہ نظام کی بربریت، جمہوریت کی پھٹکار کے اثرات، لادینیت اورفرقہ واریت کے محرکات کی نشاندہی کی، اقبال کی اقبالیات پر وقت کے کم فہم علمی حلقوں نے طعن وتشنیع کی، شکوہ لکھنے پر تو بعض کی طرف سے اقبال پر بھرپورشکوہ کیاگیا جس کے جواب میں حضرت اقبال نے جواب شکوہ تحریر کیا اقبال کا انداز کلام بہت پیچیدہ مگر بہت زیادہ معنی خیز ہے۔

حضرت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے امت مسلمہ کو اصل کو طرف پلٹنے کی طرف دعوت دی، قوم کو توحید خالص اپنانے اورشرک کی غلاظتوں سے دور رہنے کی وصیت کی، اتباع سنت اختیار کرنے اورشخصی تقلید سے اجتناب پر زور دیا۔

ہوجن کو نام قبروں کی تجارت کرکے

کیا نہ بیچوگے اگر مل جائیں صنم پتھر کے

امت مسلمہ کی وحدت کے لیے اقبال قوم سے مخاطب ہوئے تم سیّد، مرزا، افغان سبھی کچھ ہو مگرکیا سچّے مسلمان بھی ہو،کبھی قوم کا نفع نقصان، اللہ رسول، دین ایمان اور حرم پاک سب ایک ہی ہونے کے باوجود مسلمانوں کے ایک نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کیا۔ قانون کے معاملے میں عموماً اور عائلی معاملات میں خصوصاً ملّت نے جامد تقلید کی جوروش اپنا رکھی تھی، اقبال کا دل اس کی وجہ سے غمگین تھا،کہیں اقبال نے نگاہ ہمیشہ سوئے کوفہ و بغداد رکھنے سے انکار کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ آئین نو سے ڈرنا اور طرز کہن پہ اڑناہی قوموں کی زندگی میں سب سے کٹھن منزل ہوتی ہے، بال جبریل ضرب کلیم اور ارمغان حجاز وغیرہ کے صفحات پر بھی قوم کے معاشرتی امراض کے علاج کیلئے پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے نسخہ کیمیا کے مطابق دوائیں تجویز کیں، لیکن قوم کو اپنی بیماریوں کا علاج منظور کہاں تھا، اس نے تو الٹے وقت کے اس حکیم پرہی ملامت کی اورکفر تک کے فتوے صادر کیے، مگر اقبال ڈٹے رہے، اصلاح کا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہے، بعض تو آج تک اقبال کا پیچھا نہیں چھوڑتے، طعن تشنیع کے تیر برساتے رہتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کی تنقید وتنقیص کے مستحق تو ہم بھی ہیں جو اقبال کے فرمودات یادکرکے ان پرمہر ثبت تصدیق کرتے رہتے ہیں، ناقدین جانتے ہیں شورش کاشمیری، علامہ احسان الٰہی ظہیر سے لے کر آج تک باکثرت مولوی حضرات ومفتیان کلامِ اقبال سنا کر ناظرین سے داد وصول کرتے ہیں، قارئین کرام! اقبال نے اپنے وقت میں ہمارے معاشرے کی سماجی زبوں حالی اورقانونی پسماندگی کاجونقشہ کھینچا تھا آج بھی ہمارا معاشرہ صد فیصد ویسا کا ویسا ہے، قدامت پسندی اورذہنی پسماندگی فرقہ واریت، انتہاپسندی،جہالت، عدم برداشت اسی حالت میں موجود ہے، اگر ہم بہ حیثیت قوم صحیح معنوں میں ترقی کرنا چاہتے ہیں توضروری ہے کہ فکر اقبال کا مطالعہ کرکے اسے نسل نو تک صحیح معنوں میں منتقل کیا جائے، ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اقبال جدید اسلامی فکر کا ترجمان تھا،ہے اوررہے گا۔