محّمدؐ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے

اللہ کے فضل وکرم سے ہم خوش نصیبوں میں شامل ہیں کیونکہ اللّہ پاک نے ہمیں اپنے محبوب نبی محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی امت میں پیدا کرکے انکا امتی بنا دیا،  اس پر اللہ کا جتنا شکر کیا جائے اتنا کم ہے۔

اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا

جو کرم مجھ پر میرے اللّٰہ نے کیا

مجھ کو اپنے محبوب کا امتی کردیا

مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ امتی ہونے کے کچھ تقاضے ہیں ؟ کیا ہم وہ تقاضے پورے کر رہے ہیں؟

‌ہمارے پیارے نبیؐ اللہ کے محبوب نبیؐ، نبی آخر الزماں خاتم النبیین محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنی امت سے محبت کا ہر حق ادا کیا یہاں تک کہ وہ راتوں کو اٹھ کر رو رو کر اپنے گھر والوں کے لیے نہیں بلکہ اپنی امت کے لیے بخشش مانگا کرتے تھے انکو اپنی امت کا غم کھائے جاتا وہ اسی فکر میں رہتے کہ کہیں میری امت کے لوگ جہنم میں نہ چلے جائیں۔اللہ اللہ ایسی محبت اپنی امت سے جس کی مثال موجود نہیں۔ بحیثیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کے کیا ہم نے وہ محبت کا حق ادا کیا ؟زرا سوچ کے گھوڑے دوڑائیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ سڑکوں پر چراغاں کر لیا جائے یا میلاد و جشن منالیا جائے؟چاہےسارا سال نبیؐ کی سنتوں کے خلاف ورزی ہوتی رہے مگر ایک مہینے چراغاں کرکے اور میلاد منا کر محبت و عقیدت ظاہر کردی یہ کیسی محبت ہے؟ جو نہ دلوں کو گرما رہی ہیں نہ لہجوں سے چھلکتی ہے۔ یہ تو گویا وہی بات ہوگئی

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا

تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

 

‌گزشتہ دنوں فرانس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی ہے  جو نا صرف ایک سچے عاشق رسول بلکہ ایک نام نہاد مسلمان کے لیے بھی ناگوار ہے ۔نبیؐ کی شان میں گستاخی کرنے کی جرات کی گئی اور مسلم امہ خاموش بیٹھ کر صرف چراغاں کرتی رہی تو اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے ؟؟؟

‌اگر کوئی ہمارے ماں باپ کو گالی دے تو ہم اس کی جان لینے پر تُل جاتے  ہیں تو یہاں تو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو ہمیں جان،  مال،  اولاد اور  والدین سب سے زیادہ عزیز تر ہونے چاہیے اسی صورت میں ہمارا ایمان مکمل ہوگا ورنہ تو ایمان کی تکمیل ہے ہی نہیں۔

محّمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے

اس  میں اگر خامی توسب کچھ نامکمل ہے 

‌اگر ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے واقعی دعویدار ہیں تو ہمیں گستاخانِ نبی اور دشمنان اسلام کو یہ بتلانا ہوگا کہ

“غیرت مسلم زندہ ہے”

ہر تھوڑے دن بعد یہ کچھ نہ کچھ گستاخی کر کے چیک کرتے ہیں کہ واقعی مسلمان اپنے نبیؐ سے محبت رکھتے ہیں یا  ان کی محبت صرف گلی کوچوں میں چراغاں کرنے اور میلاد منانے تک ہی محدود رہ گئی ہے۔جو نبیؐ اپنی امت کے لیے تڑپتا تھا راتوں کو روتا تھا کیا اس کی امت صرف چراغاں کرکے ہی اس کی محبت کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے  ؟؟؟؟؟کچھ زیادہ نہیں کر سکتے تو دشمنوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ تو کر ہی سکتے ہیں ان کے خلاف احتجاج تو کر ہی سکتے ہیں اپنے احتجاج سے حکومت کو مجبور تو  کر سکتے ہیں کہ ان سے سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔

‌اور یہی چھوٹا سا کام شاید میرے اور آپ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ بن جائے اسی کام کی بدولت مجھے اور  آپ کو حوض کوثر  نصیب ہو جائے۔میں یہ سوچو ں کہ یہ کوئی چھوٹا سا کام ہے اس سے بہتر ہے کہ  میں وہ چڑیا ہی کیوں نہ بن جاؤں جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ بجھانے میں  اپنا حصہ ڈالا تھااس نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کے ایک چھوٹے سے قطرے سے کیا ہوگا بلکہ وہ اس نے  یہ سوچا کہ اللہ کے ہاں اس کا یہ چھوٹا سا قطرہ گواہ بن جائے گا کہ اس نے آگ لگانے میں نہیں بلکہ اس کو بجھانے میں مدد کی تھی۔

 ہماری بھی اتنی اوقات تو نہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک رات کا بھی حق ادا کرسکے جو انہوں نے امت کی لیے روتے ہوئے گزاری مگر ہم اپنی محبت کو نبھانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں اور اس کے لیے یہ چھوٹا سا کام ہی شاید اللہ کے ہاں بڑا بن جائے ہمارا کام صرف اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنا ہے باقی کام اللہ کا ہے۔

میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

دونوں جہاں میں انکا چرچا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔

‌گستاخ رسول یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ جتنی بھی وہ فضول  کوششیں کرلیں میرے نبیؐ کا چرچا دونوں جہاں میں تاقیامت ہوتا رہے گا کیونکہ نبی کا دشمن ہی نامراد ہونے والا ہے بیشک ۔