دو نکاح ،  دو رویّے

کل مجھے دو نکاحوں میں شرکت کا موقع ملا ۔ دونوں کا تعلق جماعت اسلامی ہند کے خاندانوں سے تھے۔ پہلا نکاح ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی مرحوم کے پوتے زید بن شاہد فریدی کا  ڈاکٹر کوثر یزدانی ندوی مرحوم کی پوتی طوبی عائشہ بنت ساجد عمیر سے ہوا ۔ دونوں جماعت کے اکابر میں سے تھے  ان کے صاحب زادگان بھی جماعت سے وابستہ ہیں  اور اب تیسری نسل کے درمیان میں خاندانی روابط بھی استوار ہوگئے ہیں ۔

لڑکے کے ساتھ والدین اور ایک درجن کے قریب رشتے دار آئے ۔ مرکز جماعت کی مسجد اشاعتِ اسلام میں ظہر کی نماز کے بعد نکاح کی تقریب منعقد ہوئی ۔ میں نے نکاح پڑھایا اور مختصر تذکیر کی ،اس کے بعد پڑوس کے ہوٹل میں مہمانوں کی تواضح کی گئی تھوڑی دیر کے بعد وہ لوگ واپس علی گڑھ ، جہاں سے آئے تھے ، روانہ ہوگئے۔نہ کوئی لین دین ، نہ میرج ہال کے مصارف ، نہ باراتیوں کی فوج ، نہ دعوتِ شیراز۔

دوسرے نکاح میں دولہن والے ، جن کی تعداد دس سے زیادہ نہ تھی ، 1200 کلومیٹر کا سفر کرکے رائے پور (چھتیس گڑھ) سے دہلی آئے ، جب کہ دولہا کے ساتھ 50 سے زائد افراد میرٹھ سے تشریف لائے ۔ معلوم ہوا کہ باراتی میرٹھ سے اتنا لمبا سفر کرکے رائے پور جانے پر رضا مند نہ تھے ، اس لیے لڑکی والوں کو یہ تقریب دہلی میں منعقد کرنا پڑی ۔ انھوں نے یہاں پہنچ کر ایک ہوٹل بک کرایا ، باراتیوں کی ضیافت کا انتظام کیا اور وہیں نکاح کی سادہ تقریب منعقد ہوئی ۔ برادر گرامی ڈاکٹر محی الدین غازی نے نکاح پڑھایا اور مختصر و مؤثر تذکیر کی۔

اگرچہ آج کل مسلمانوں کے یہاں بھی نکاح کی جو مُسرفانہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں ان کے مقابلے میں یہ مؤخر الذکر تقریب کچھ بھی نہ تھی ، لیکن اسے مزید آسان اور سادہ بنایا جاسکتا تھا۔باراتیوں کی تعداد کو مزید محدود کیا جاسکتا تھا ، لڑکی والوں کے مصارف مزید کم کیے جاسکتے تھے ۔ میرے نزدیک کسی نکاح کے سادہ اور آسان ہونے کا پیمانہ یہ ہے کہ اس میں لڑکی والوں کے کتنے کم مصارف ہوئے ہیں ، جتنے کم مصارف ہوں اتنا ہی اسے سادہ نکاح قرار دیا جاسکتا ہے۔

آج کے ماحول میں قابلِ مبارک باد ہیں وہ لوگ جو زندگی کے ہر معاملے میں بے جا مصارف اور فضول خرچی سے بچتے ہیں ، خاص طور سے نکاح کے موقع پر۔