بچوں کے ساتھ زیادتی کی روک تھام

اگر بات کی جائے معاشرے کی تو معاشرہ اجتماعیت کا نام ہے لیکن اس کو نقصان انفرادیت سے ہوتا ہے، جس کا نشانہ پوری اجتماعیت ہوتی ہے۔ اگر نظر دوڑائی جائے معاشرے کی چند برائیوں کی کہ جن میں ٹی وی، انٹر نیٹ کا غلط استعمال، ماں باپ کی نا فرمانی، اساتذہ کے ساتھ بد سلوکی، ایک دوسرے کے مذہب و عقیدہ کی بے حرمتی ہے۔

 لیکن آج جس برائی اور جس جرم کی نشاندہی کی جارہی ہے وہ ہے بچوں کے ساتھ زیادتی، بدفعلی اور قتل جیسے سنگین جرم کی۔

جیسا کہ ہم سب کے علم میں ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل جیسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیۓ گورنمنٹ کو ٹھوس قانون کے ساتھ ساتھ اس پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سزا کا نفاذ اسلامی قوانین کے مطابق ہو۔

اس جرم کی روک تھام کے دیگر پہلوؤں کی بات کی جائے تو اس میں کلیدی کردار والدین ادا کرسکتے ہیں۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بچوں کے والدین کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی تربیت اور درس گاہ سب سے پہلے اس کا اپنا گھر ہونا چاہئے۔ بظاہر ماں باپ کو لگتا ہے کہ وہ بچہ کو صبح اسکول, مدرسہ اور پھر ٹیوشن والی باجی کے سپرد کر کے اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ تین، چار اور پانچ سال کے بچوں کی اپنے والدین سے دوری ہی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ جو ناجائز اور نامناسب کاموں میں ملوث ہیں۔

بحیثیت استاد (ٹیچر) میں والدین کو بھولا ہوا سبق دوبارہ یاد دلانا چاہتا ہوں، چونکہ اب تعلیم و تدریسی عمل کا آغاز ہونے جارہا ہے جس کے ساتھ ساتھ بچوں کی دیگر سرگرمیوں کا ایک طویل عرصہ کے بعد آغاز ہوجائے گا۔ بچے علم کی غرض سے مختلف مقامات میں جانا شروع کریں گے تو ان کا واسطہ جان پہچان کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اجنبیوں سے بھی ہوگا۔ بچوں کو صرف اجنبی شخص سے محتاط رہنے کا درس نہ دیا جائے بلکہ ان کو یہ بھی بتایا جائے کہ ان کے قریبی رشتہ دار، پڑوسی اور ان کے اساتذہ میں سے بھی کوئی ان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان تمام پہلوئوں پر نظر رکھنی ہوگی اور بچوں کو کتابی سبق کے ساتھ ساتھ یہ سبق بھی دینا ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اللّٰہ سے دعا ہے کہ اللّٰہ پاک ہمارے لئے سال 2020 کے آخری چند مہینے، چند ایام خیر و عافیت کے ساتھ گزار دے۔ ہمارے بڑوں کی، ہماری اور خصوصاً ہمارے بچوں کی تمام شر سے اور اس معاشرے کے درندوں سے حفاظت فرمائے۔

آمین