مچھر

دو سال پہلے کی تحریر

کہنے کو اڑتا ہوا کاٹنے والا کیڑا یا اڑ کر کاٹنے والا کیڑا ۔

اڑتے تیر کی طرح ہی سمجھ لیں ہماری اپنی وجہ سے ہی کاٹتا ہے ۔

یہ گندی جگہ پیدا ہوکر صاف جگہ پر کاٹتا ہے ، یاد رہے صاف جگہ پر ، مگر اب اس کو شکایت ہے کہ صاف جسم مل نہیں رہا ۔

یہ سوتے ہوئے لوگوں کو کاٹتا ہے اور جاگتے ہوؤں کو سونے نہیں دیتا ۔

یعنی مچھر زیادہ ہوں تو قوم جاگ جائے گی ، ویسے اب قوم جو جاگی ہے مچھروں کی بھن بھن سے جاگی ہے ۔

مچھر کی خوبی یہ ہے کہ اگر نر ہو تو بیمار نہیں کرتا اگر مادہ ہو تو بیمار کر دیتی ہے مگر تیمارداری اور بیماری کے بعد خدمت نہیں کرتی ۔

ہماری مادائیں یا مادامائیں بیمار کرکے خدمت بھی کرتی ہیں ۔

اگر دیکھا جائے (یعنی خوردبین سے) تو مچھر میں حسن بھی ہے اس کے جسم پر ہلکی ہلکی نرم ریشمی زلفیں بھی ہوتی ہیں ، کبھی ریشمی زلفوں میں انگلیاں ڈال کر سنواریں بہت مزہ آتا ہے ۔

ہم جب کنوارے تھے تو زلفیں بکھیر کر سنوارا کرتے تھے ۔ (اپنی زلفیں)

مچھر کی زلفوں میں انگلیاں نہیں پھیری جاسکتی ہیں وہ مر جائے گا ۔

ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیرنے سے آپ بھی مارے جاسکتے ہیں ، اگر کسی کے بھائی زیادہ ہوں ،

مچھر کافی کمزور کیڑا ہے تالی سے مر جاتا ہے ۔

آپ بھی تالی کے بیچ میں منہ ڈال کر دیکھیں کافی سیلز مر جاتے ہیں ۔

ہمیں اس بات پر اختلاف ہے کہ “ایک مچھر انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے”

اگر ایسا ہوتا تو آفریدی کے چھکوں پر تالیاں بجانے والے کروڑوں لوگ ہیجڑے ہوتے ، شادی کے گیتوں پر تالیاں بجانے والے بھی ہیجڑے ہوتے ، ہاں کسی کے نقصان پر تالیاں بجانے والے ہیجڑے ہوتے ہیں ۔

اور ویسے بھی مچھر انسانی جان کا دشمن ہے ، جنگ اور محبت میں سب جائز ہے ، دشمن کو تالی سے مارا جائے یا محبت کو تالی بجا کر حاصل کیا جائے جائز ہے ۔

اس میں ہیجڑا کہنا صحیح نہیں ۔

مچھر پالتو کیڑا نہیں ہے ، مگر گھر میں بنا اجازت پل جاتا ہے آپ کے ہمارے خون پر ۔

مچھر خون پیتا ہے چاہے کسی انسان کا خون سفید ہوگیا ہو ، چاہے کالا ہو ۔

مچھر کسی کو کاٹنے میں تعصب نہیں برتتا ہے ، یہ رنگ و نسل دیکھے بغیر خون پیتا ہے ۔

اس میں امریکہ والی کوالٹی ہیں ، امریکہ بھی جب کاٹتا ہے تو نہیں دیکھتا کہ چپٹا ، کالا ، گورا کون ہے سامنے ۔

مچھر کی عمر ایک سے ڈیڑھ دن کی ہوتی ہے اس تھوڑے سے عرصے میں وہ بغیر قرضے اور امداد کے اپنی زندگی گذار لیتا ہے ۔

مچھر سے بچنے کے لیے لوگ اسپرے کرتے ہیں بلدیہ والے بھی اسپرے کرتے ہیں اس اسپرے کے بعد اور مچھر بڑھ جاتے ہیں ۔

ہمارے پاس دستیاب اسپرے کے مچھر عادی ہوچکے ہیں ان کو اسپرے کے بعد نشہ چڑھ جاتا ہے اور وہ مزید کاٹتے ہیں ، کہا جاتا ہے ، نشے کے بعد زیادہ بھوک لگتی ہے یہ علیانہ جانے یا عبدو ۔

مچھروں کی ایک نسل ڈینگی بھی ہے یہ ایک خون کے قطرے کے لیے جان لے لیتا ہے ، انسان بھی کبھی کبھار ایسا کرتا ہے ، اس لیے ڈینگی سے شکایت نہیں ۔

نمرود کی موت بھی مچھر کے دماغ میں گھسنے کی وجہ سے ہوئی تھی ۔ بادشاہوں کو چاہئیے ناک سے ایسا کچھ نہ سونگھیں کہ پھر سر پر جوتے پڑیں ۔

ایک زمانے میں مچھروں کو روکنے کے لیے مچھر دانی استعمال ہوتی تھی اب نہیں ہوتی ۔

مچھر دانی میں مچھر سے تو بچاؤ ہوجاتا تھا مگر دو لوگ چھپ کر ایک دوسرے کو کاٹ لیتے تھے ، پکڑے جانے پر منہ کالا ہوجاتا ہے ، اس لیے ہم نے مچھر دانی میں کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا اس لیے پکڑے بھی نہیں گئے ۔

کراچی میں مچھروں کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ایک علاقے کا نام مچھر کالونی رکھا گیا ہے ۔

شاید لیاری ندی کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے وہاں مچھروں کی افزائش کا کوئی فارم ہوتا ہو ۔

مچھروں سے بچنے کے لیے گاؤں میں اوپلے جلائے جاتے ہیں شہر میں گلوب جلائے جاتے ہیں یا جسم پر لوشن لگایا جاتا ہے ۔

مغربی ملکوں کے ساحل پر جو لوشن جسم پر لگایا جاتا ہے وہ مچھروں سے بچنے کا لوشن نہیں ہوتا ہے ، وہ سورج کی روشنی سے بچنے کے لیے ہوتا ہے ۔

ہم پاکستانی اگر ان ساحلوں پر جاتے ہیں تو لوشن لگتے ایسے دیکھتے ہیں جیسے مچھر کہ منہ میں خون بھرے جسم کو دیکھ کر پانی آجاتا ہو ۔

مچھر سے بچیں مچھر نہ بنیں ۔

حصہ
mm
صہیب جمال نے لکھنے لکھانے کی ابتداء بچوں کے ادب سے کی،ماہنامہ ساتھی کراچی کے ایڈیٹر رہے،پھر اشتہارات کی دنیا سے وابستہ ہوگئے،طنز و مزاح کے ڈرامے لکھے،پولیٹکل سٹائر بھی تحریر کیے اور ڈائریکشن بھی کرتے ہیں،ہلکا پھلکا اندازِ تحریر ان کا اسلوب ہے ۔ کہتے ہیں "لکھو ایساجو سب کو سمجھ آئے۔