زنا کی بڑھتی ہوئی وجوہات.. آخر ذمہ دار کون؟؟

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان میں سالانہ اوسطاﹰ ایک ہزار سے زائد بچے بچیاں اغوا کر لیے جاتے ہیں۔

 ریپ اور اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے معصوم لڑکے لڑکیوں کی اوسط تعداد بھی ہزار سے زائد ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایسے جرائم کے ہیں، جو پولیس کو رپورٹ کیے جاتے ہیں جب کہ ایسے بہت سے جرائم سماجی بے عزتی کے خوف یا مجرموں کی طرف سے دھمکیوں جیسی وجوہات کے باعث پولیس کو رپورٹ کیے ہی نہیں جاتے۔ مجرم جرم کرنا کبھی نہیں چھوڑتا خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں مجرموں پر رحم کیا جاتاہو، انکو سزائیں نہ دی جاتی ہوں، مظلوموں کی داد رسی کرنے کے بجائے انصاف کی فراہمی کو ہی ان کیلئے دردسر بنایا جائے، اور آخر میں بے بسی کے عالم میں وہ شخص مایوسیوں کے دلدل میں جا گرے گا اور ظالم، جابر، زانی، ڈاکو، چور، قاتلوں کی حوصلہ افزائی ہوگی جس سے جرائم کا ریشو بجائے کم ہونے کے بجائے بڑھےگا بلکہ بڑھتا ہی چلاجائیگا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مبارک “ظالم کو معاف کر دینا مظلوموں پر ظلم ہے”

 یہ فقرہ آج بھی انسانی حقوق کے چارٹر کی حیثیت رکھتا ہے، جو حکمران ظالموں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں وہاں کی رعایا(عوام) بہت بے دردی سے قتل کئے جاتے ہیں۔

 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لنوا بھا، الا فشا فیھم الطاعون والاٴوجاع التی لم تکن مضت فی اٴسلا فھم الذین مضوا۔ ’’جب بھی کسی قوم میں بے حیائی (بدکاری وغیرہ) اعلانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے لوگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔

‘‘ بدکاری(زنا) تو وہ ذلیل حرکت ہے جس کا ارتکاب کرکے انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا، نفسانی خواہشات کی پیروی میں مگن یہ شخص اللہ رب العزت کی نظروں سے گرجاتاہے اور انتہائی درجے کے عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے. اللہ تعالیٰ نے بے حیائی ، فحاشی وعریانی کے کام کرنا ہی صرف حرام قرار نہیں دئیے بلکہ بلکہ ان کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے ۔

قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر بے حیائی اور فحاشی کی مذمت کی گئی ہے ۔

وَلا تقر بو الفواحشِ مَا ظاہَرَمنھاَوَمَا بَطن ”اور بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جا(خواہ) وہ ظاہر ہوں اور (خواہ) وہ پوشیدہ ہوں۔

 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی قوم میں فحاشی کا غلبہ ہواہو اور اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا نہ کرے۔

جس طرح شیطان کا سب سے مؤثر ہتھیار فحاشی وعریانی ہے بلکل اسی طرح شیطان کے پیروکار باطل قوتوں کا بھی ہمیشہ یہی ہتھیار مؤثر رہاہے آج پاکستان میں مورننگ شوز ہوں یا پھر پاکستانی ڈرامے، کسی کے جیب میں پیسے میسر ہوں یا نہ ہوں لیکن اسمارٹ-فون انٹرنیٹ پیکج کے ساتھ ضرور دستیاب ہوگا جس کے نتائج انتہائی سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

دنیا علم و عمل تحقیق وتمدن میں اپنا جوہر دکھارہی ہے جبکہ ہم ابھی تک A for Apple اور B for Ball سے آگے نہ بھڑسکے بچپن میں سنتے تھے کہ اسکول کالجز میں تعلیم وتربیت کیلئے بھیجا جاتاہے لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ موجودہ دور تعلیم سوائے ایک پیپر کے ٹکڑے کے اور کچھ نہیں۔

 جہاں تک تربیت کا سوال ہے تو اسکا دور دور تک نام و شان نظر نہیں آتا۔ عدل و انصاف، بدقسمتی سے پاکستان میں برطانیہ کا دیا ہوا پارلیمانی نظام جتنا ناسور ہے بلکل اسی طرح، برطانیہ کا دیا ہوا عدالتی نظام بھی اتنا ہی بھیانک ہے کہ اگر کسی کو بچانے کا عہد کیا جائے تو ہرحال  میں آزادی اسکا مقدر ہوگی اگرچہ کتنے ہی سنگین مقدمات اور وارداتوں میں ہی کیوں نہ ملوث ہو،جبکہ اگر کوئی بے گناہ ہی کیوں نہ ہو اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا ۔

یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ہمارے ملک کی اکثر و بیشتر حکمران جماعتیں اس بوسیدہ پارلیمانی نظام اور عدالتی نظام کو ختم کرکے اللہ  کے دیے ہوئے نظام کو اپنانا ہی نہیں چاہتے۔

اللہ تعالیٰ نے شریعت تو پہلے ہی نازل فرمادی ہے قرآن مجید صرف چھومنے اور فاتحہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ پورے دنیا میں ذندگی کے ہر گوشے میں نافذ کرنے کیلئے ہے۔ ریاست

ریاست ِمدینہ کی علمبردار حکومت: یعنی اب ریاستِ مدینہ کی طرز پر قائم ہونی والی ریاست میں ۔۔۔۔۔ ریاستِ مدینہ کے بانی اور اس بانی کے مالک و خالق کی تجویز کردہ سزا کو پہلے بہیمانہ و انسانیت سوز قرار دے کر مسترد کر دینے کے بعد ۔۔۔۔۔ اب اپنی تجویز کردہ سزاہو گی ۔۔۔۔۔ شاید یہ انسان دوست سزا ثابت ہو ۔۔۔۔۔ ہمیں تو سمجھ نہیں آتا کہ جب

” ایاک نعبد وایاک نستعین “

پڑھنے والی اور “ریاستِ مدینہ “ کا نعرہ لگانے والی زبانیں احکامِ خداوندی کو بہیمانہ سزا اور درندگی سے بھرپور فعل کہہ کر مسترد کر دیں اور اپنے فیصلوں کو اللہ کے فیصلوں سے بہتر اور مؤثر جانیں تو

بزبانِ شاعر

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

 زنا کیلئے بھی قوانین موجود ہیں اور قتل کیلئے بھی واضع احکامات موجود ہیں تو اب اللہ رب العالمین کے واضح احکامات کو نظر انداز کر کے اپنی طرف سے قوانین بنانا کہ “جو کوئی زنا کا مرتکب ہوا تو اسے بجائے شریعت کے مطابق سزادینے کے اب اسے نامرد بنانے کا بل اسمبلی سے منظور کیا جا رہا ہے”۔

زینب الرٹ بل  میں  جماعت اسلامی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جنسی درندوں کو سزائے موت دینے اور قصاص کا قانون لاگو کرنے کی ترمیم پیش کی جسے تحریک انصاف،  ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے منظور نہیں ہونے دیا. یورپ اور مغربی ممالک کو ہمیشہ سے مجرموں سے ہمدردی رہی ہے اس لئے وہ ہمیشہ سزا دینے کے بجائےمجرم کو پالتے ہیں اور اب لگتا ہے ہمارے حکمران انہی سے متاثر ہیں۔

 عشق قاتل سے ،بھی مقتول سے ہمدردی بھی

 یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا

 سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی

حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا