میں کس گناہ پر ماری گئ

ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک صحابی آئے اور اپنے جس عمل پر وہ سخت شرمندہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا دور جہالت کا واقعہ سنایا جس میں اپنی نو عمر بچی کو زندہ دفن کر دیا تھا چونکہ اس وقت بیٹی کا پیدا ہونا شرمندگی کا سبب سمجھا جاتا تھانبی صلی اللہ علیہ السلام اس بات کو سن کر سخت رنجیدہ اور دکھی ہوئے۔

 وہ دور جہالت کا واقعہ تھا اس پر سخت نادم بھی تھے اور آئندہ کرنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔

 ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں روز روز ایسے واقعات کا تیزی سے بڑھنا  ان کا سد باب نہ کرنا

 قوم کی بیٹی اور بہن یہ سوال کرے گی: میں کس گناہ پرماری گئی تھی؟

ہر طرف شور ہے۔ خوف ہے ۔ٹاک شوز میں روز روز نئے سرے سے بحث کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جن کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر بحث جہاں سے شروع ہوئی تو وہیں جگھڑے میں ختم بھی ہوگئ اور،

ہوئے تم دوست جسکے

 دشمن اسکا آسماں کیوں ہو

کی مصداق۔ ٹاک شوز میں معصوم کلیوں کے کچلے جانے کے بعد والدین کو بلا کر ان سے بار بار ایسے سوالات کرنا کہ یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟ کس طرح وقوع پذیر ہوا ؟اسی طرح کے بہت سے نا مناسب سوالات کی بھرمار، والدین کے دل پر کیا بیتی ہو گی ایک تو معصوم اولاد کا اس طرح ختم ہو جانا ۔ بجائے ان کی دلجوئی کی جاتی ان کی فوری دادرسی کی جاتی ۔

 مجرم الگ دندناتے پھر رہے ہیں ا ور روز بروز ایسے واقعات تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور یہ ٹاک شو والی بیبیاں اور صاحب ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کو موجود ہیں۔ نیوز چینل پر خبریں ایسی ایسی۔کہ آج اس کا DNA ہوگا مجرم پکڑا ، مجرم چھوڑا ، مجرم کو نا مرد بنائیں گے۔

 ایسی باتوں سے صرف چینل کا ہی پیٹ بھرا جا رہا ہے اور کچھ نہیں

 جن کو سدباب کرنا ہے وہ صرف کہ دیتے ہیں۔ مجرم کو پکڑا جائے گا ۔قرار واقعی سزا دی جائے گی مگر  جب کچھ کرنے کا وقت آتا ہے تو مدینہ جیسی ریاست کا نعرہ دینے والی، وہی قرآن و سنت پر عمل کرنے کے بجائے نت نئے قانون بنانے لگتے ہیں ۔پتہ نہیں انہیں کس کو خوش کرنا ہے جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ

” میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جنہیں اگر تم تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت”

اور جو سزائیں قرآن و سنت میں موجود ہیں کوئی بھی اسمبلی اور کوئی بھی حکمران اپنی طرف سے سزا مقرر نہیں کر سکتا

لیکن ہم دیکھتے ہیں کے سانحہ ساہیوال کے قاتلوں کو سزا نہ ہو سکی سب رہا ہو چکے۔

زینب الرٹ بل بنایا۔بس عمل درآمد ناممکن ۔۔کیا وجہ ہے؟؟؟حکومت نے اپنا مستقبل IMF کے ہاتھ میں رکھ کر مغرب کی روایتی درآمد شدہ پالیسی منظور کروا کر اپنی مغربی غلامی ثابت کردی ہےبقول شاعر

ایے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

یہی وجہ ہے کہ یہ مسائل یونہی چلتے رہیں گے جب تک ہم اپنا نظام ٹھیک نہیں کر لیتے ۔خوف خدارکھنے والے لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں دیتے کیونکہ جس طرح کے لوگوں کے ہاتھوں میں ہم نے اپنے نظام کی باگ دوڑ دی ہے ۔اس سے ہمیں یہ ہی ملے گا کیونکہ کیکر کے درخت میں کیکر ہی اگتے ہیں۔

اس لئے اچھے لوگوں کو اقتدار دینا ہوگا ۔یہ اب کوئی نیا کام نہیں ہوگا نبیوں کی سنت سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ اقتدار کی قوت ضروری ہے۔

طاقت کے ذریعے سے ہم تعلیمی نظام کو اسلامی اخلاقیات کی بنیاد پر کھزا کرسکتے ہیں

عدلیہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکتی ہے

میڈیا کو قوت سے تربیت دینا ہوگی

خوف خدا کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل نو کرنی ہوگی

سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام اپنا طرز انتخاب بدلے گے تو ظلم کا خاتمہ ہوگا اور مظلوم کو انصاف ملے گا نظام جب بدلا تو اس کا کیا اثر ہوا

مالک بن دینار کہتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ مقرر ہوئے تو چرواہےکہنے لگے کہ کون لوگوں پر حکمران ہوا ہے کہ۔۔۔ اب بھیڑیے  بھی ہماری بکریوں کو کچھ نہیں کہتے

اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خبری

” جب اسلام آئے گا اکیلی عورت صنعاء سے حضر موت تک سونا اچھالتی جائے گی اور اسے کسی کا ڈر نہ ہو گا۔۔

یہ ہمارے لیے سوچنے کا مقام ہے