ذلّت کے گڑھے

یوں تو  دستور پاکستان کے نام سے ہی  سیکولر اور لبرل  طبقے کے  پیٹ میں مروڑ  اٹھنا شروع ہوتاہے ۔اور کیوں نہ ہو ۔۔۔ وہ دستور جوکہ اسلامی دستور ہے ۔ دستور کے مطالبے ،دستور کے بننے  کے اور اس کی منظوری  کے پہلے لمحے سے ہی اس کے  خلاف ان کی   ایک منظم جدوجہد شروع ہوچکی ہے ۔ اور اس  کے پیچھے اور کبھی منظر عام پر یہی سیکولر  ازم اور لبرل ازم کے  علم بردار گماشتے ہوتے ہیں ۔ یہ پرلے درجے کے جھوٹے اور دغا باز ہیں انہوں نے ہمیشہ دنیا کو فریب دیا ہے ۔یہ کسی دلیل کو نہیں مانتے ۔ کیونکہ یہ عالمی بے ضمیر انسانوں کا  گروہ ہے ۔ یہ انسانوں کو سبز باغ دکھا نے  کے ماہر ہوتے ہیں۔

قرآن کے مطابق:

 جب  ان سے کہاجاتا ہے کہ زمین پر فساد نہ کرو تو یہ کہتے ہیں کہ  ہم تو صرف اصلاح کر نے والے  ہیں ۔ (سورہ البقرہ)

دیا گیا حوالہ اس پس منظر میں ہے کہ  یہ فسادی گروہ عوام کو ایک بار پھر فریب دینے میں کامیاب  ہوگیا روٹی ،کپڑا اورمکان  ،قرض اتارو ملک سنوارو  ، نیا پاکستان ، تبدیلی آ نہیں رہی آگئی ہے  اور مدینے کی ریاست کے  سبز باغ دکھانے والے ایک بار پھر مسند اقتدار پر قابض ہیں یہ بظاہر  ایک دوسرے سے لڑتے نظر آتے ہیں  اور اقتدار کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچتے ہیں  مگر اسلام کے خلاف ان کا ایجنڈا مشترکہ ہے یہ ظالموں کے ساتھی ،فحاشی و بے حیائی کے رسیا ، جرائم کے پشت بان ہیں ا۔بھی حال ہی میں اس کی مثال  انہوں نے ماضی کی اپنی  روش کے مطابق پیش کی کہ  جناب وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ عورتوں اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو چوک پر پھانسی دینی چاہیئے یا  ان کی آختہ کاری کردینی چاہئیے۔سوال یہ ہے کہ کیا آئین پاکستان میں اس جرم کی سزا موجود نہیں ہے  کہ اس طرح کے واقعات  کی روک تھام کی جائے اور مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے ؟

نہیں بلکہ ایسا نہیں ہے  بلکہ قانون موجود ہے ۔مسئلہ  قانون پر عمل درآمد کا ہے ۔روزانہ  پیش آنے والے ان واقعات  نے ایک طرف تواس بات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے کہ پاکستا ن میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے  تو دوسری طرف یہ بھی واضح کردیا ہے کہ   یہاں  امیروں کو ان کی مرضی کا  انصاف مل سکتاہے  مگر غریب کو  انصاف کے لیے قیامت کے دن کا انتظار کرنا ہوگا  کیونکہ وہاں  مالک یوم الدین پورا پورا بدلہ عطا فرمائے گا۔

دوسری بات یہ کہ وزیر اعظم کا یہ بیان کہ مجرموں کو چوکوں پر لٹکایا جائے یا ان کی آختہ کاری کردی جائے  ۔ یہ بات  کس حوالے سے وزیر اعظم صاحب کہ گئے کیونکہ شریعت میں ایسے تمام جرائم کی سزا  بہت وضاحت کے ساتھ موجود ہے  ۔شرعی قوانین کی موجودگی میں  اپنی منطق  ہانکنا کہا ں کی عقلمندی ہے ۔جب کہ آئین پاکستان کی رو سے کوئی ایسا قانون  نہیں بنا یا جاسکتاجو قرآن و سنت سے ٹکرا تا ہو۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی  جرائم نے پورے ملک میں  عورتوں ،بچوں  کو غیر محفوظ بنا دیا ہے ۔گذشتہ دنوں اس حوالے سے اسمبلی میں بحث ہوئی کہ اس   جرم کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور اسمبلی میں بل پیش کیا جائے ۔ مگر حکمراں پارٹی  خود اس معاملے میں  تقسیم ہے  ۔  ان میں سے کچھ  اراکین کا کہنا ہے کہ اس جرم کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے  اور آدھے  ان مجرموں  کی ساتھ دلی ہمدردی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سزائے موت اس کا حل نہیں ہے ۔اب دیکھئیے کہ اس  جرم کے روک تھا م کے لیے یہ کونسا قانون لاتے ہیں ۔آخر اس طر ح کے سفٗاک  درندوں سے ان کو اتنی ہمددی کیوں ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے پورے ملک میں اسی طرح کے جرائم پیشہ لوگ ہی  اقتدار پر متّمکن   ہیں اور سابق  حکراں ٹولہ بھی  جو آج اپوزیشن  میں بیٹھا ہے ۔ان کے پورے  ماضی کے ریکارڈ کو  پڑھ لیجیے  ان کا ماضی اسی طرح کے جرائم سے بھر پڑا ہے ۔ظاہر  ہے کہ ایک ایسا فرد یا گروہ جس کی گٹھی میں جرائم کا زہر پڑا ہو وہ کیسے ان کے خلاف سخت قسم کے قوانین لائے گا ۔اس کی تو کوشش یہی ہوگی کہ  ایسے قوانین اسمبلی سے منظور کرایا جائے کہ جس میں زیادہ سے زیادہ اس کو اور اس جیسے جرائم پیشہ لوگوں کو  محفوظ  راستہ مل سکے اور جرائم کے لیے زیادہ ماحول سازگار ہوسکے ۔یہ  حکمراں طبقہ بھی اپنے پچھلے پیش روؤں کا چربہ ہے ۔ یہ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے حکمرانوں کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ۔ یہ ایجنڈا  دراصل ان کا بنا ہوا بھی نہیں  ہے آنکھ کھائے اور منہ شرمائے والی بات ہے کہ جہاں سے قرضہ لے کر ان  پیسوں کو  اپنی عیاشی پر خرچ کرتے ہیں وہیں سے اس طرح کے ایجنڈے دئیے جاتے  ہیں اور ان پر قانون سازی اور عمل درآمد  کی ہدایات بھی دی جاتی ہے ۔

عوام  کی بیداری میں جتنی زیادہ تاخیر ہوگی یہ  طبقہ اتنا ہی مضبوط ہوتا جائے گا ۔ اور ہر طرح کے جرائم سے اس ملک کو بھر دے گا   کیونکہ  یہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تمام ملک کے ادارے خرید نے سے دریغ نہیں کرے گا ،یہ عدلیہ ، پولیس ،اسمبلی اور سینٹ تک کو خرید چکا ہے ۔اس کا ثبوت یہ ہےکہ  اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے جو ادارے قانون سازی کررہے ہیں ۔جو اس کو قانونی تحفظ فراہم کررہے ہیں  وہ تو  اس گروہ نے خرید لیے ہیں اور جو ادارے اس طرح  کی کوششوں پر خاموش ہیں  ان پر کام جاری ہے ۔

اے میرے وطن کی بہنوں ! تمہیں اپنے شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ تم اس ملک کی آبادی کا نصف سے زیادہ ہوں  تم کویہ لبرل ازم اور سیکولرزم  ذلت کےگڑھے میں دھکیل رہے ہیں ۔  تم اپنی اہمیت کو پہچانوں  تم کو اگر عزت  ، وقار نصیب ہوگا تو اس نظام سے ہوگا جو رسول ﷺ  لائے تھے ان ہی کے دامن میں امان ہے ۔ اس کے علاوہ کسی نظام نے نہ پہلے عورت کو اس کا حق دیا تھا اور نہ آیندہ دے سکتاہے ۔تمہاری گود میں قوم کا مستقبل پروان چڑھتاہے ۔تمہاری غفلت  پوری قوم کی تباہی  کا پیغام ہے ۔