لکھاری کی سرمایہ کاری

لکھاری کا تعلق لکھنے کے شعبے سے ہے۔ لکھنے کے لیے خیالات اور الفاظ چاہیے ہوتے ہیں۔ خیالات کے لیے سوچ اور تفکر لازمی امر ہے جبکہ الفاظ کے لیے مطالعہ۔

مطالعہ اچھا ہو تو سوچ اچھی بنتی ہے، سوچ اچھی ہو تو خیالات بھی اچھے ہونگے۔ گفتگو میں نکھار پیدا ہوگا اور الفاظ میں جادو۔ آپ بات کریں گے اور لوگ سننے کے لیے بیٹھ جائیں گے

الفاظ ادا کیے جائیں تو یہ صوتی شکل ہے اور اگر لکھاری قلمکاری کردے تو یہ مکتوبی۔

اچھے الفاظ تو دیپ ہیں جو روشن ہوجاتے ہیں۔ یہ نوک زبان سے ادا کیے جائیں یا نوک قلم سے بیاں، یہ اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ دیپ روشن ہوجاتے ہیں یہ لکھاری کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتے ہیں۔ یہ لکھاری کی سوچ کو عیاں کرتے ہیں، یہ لکھاری کے مطالعہ کا پتہ دیتے ہیں۔اس نفسا نفسی کے دور میں دیپ جلانا مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں۔ مشکل کام ہے؟ کیونکہ یہ دیپ گُل کردیے جاتے ہیں، بجھا دیے جاتے ہیں۔ ادھر آپ ایک دیپ جلائیں وہاں حضرت انساں اسے گُل کرنے کی ہزاروں ترکیبیں لیے بیٹھے ہیں۔

دیپ جلانے والے کو مار دیا جاتا ہے جو اپنے خون سے دیپ روشن کرتا ہے۔ اس کے الفاظ کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسے فاقوں سے مرنے کی سزا دی جاتی ہے۔اسے طنزاّ فلاسفر، اور مفکر کے نام سے راہ چلتے بے عزت کیا جاتا ہے۔

اس کے جلائے ہوئے دیپ سے روشنی حاصل کرنے کے باوجود اسے بےقدری و بے توقیری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بظاہر لگتا ہے یہ گھاٹے کا سودا ہے لیکن اس کے باوجود وہ لفظوں کی سرمایہ کاری کرتا رہتا ہے۔

وہ ایک الجھی ہوئی قوم کی تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔

اپنے خون سے جلائے گئے دیپ سے روشنی دینا چاہتا ہے، لکھاری بھی سرمایہ کاری چاہتا ہے۔