ہم زندہ قوم ہیں

ہر سال 14 اگست کے دن یوم آزادی انتہائی جوش جذبے سے منایا جاتا ہے۔ فوٹو لائبریریوں سے نہایت رقت آمیز اور دل کو چیر دینے والی تصاویر نکال کر اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنائی جاتی ہیں۔ برقی و پرنٹ میڈیا کہیں دور دراز سے ڈھونڈھ ڈھانڈھ کر کچھ ایسے لوگوں کے انٹرویو شائع کرتا ہے جنہوں نے وہ دلخراش مناظر دیکھے یا پھر جو اس سلطنت نومولود کے ایام اوائل کے شاہد ہیں۔

 ہر سال صرف اور صرف 14 اگست کو من حیث القوم ہمارا ملی جوش وجذبہ دیدنی ہوتا ہے۔ اتنی جوشیلی قوم ! کہ جو راہ میں آئے خس و خاشاک ہو جائے۔ اس قدر غیرت اور حمیت! کہ جو ٹکرائے پاش پاش ہو جائے۔ اتنا اتحاد! کہ سیسہ پلائی دیوار۔ افسوس صد افسوس! 13 اگست کی رات بارہ بجے شروع ہونے والا یہ ڈراما 14 اگست کی شام مغرب سے پہلے پہلے اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔

مجھے یاد آتی ہے وہ قالین میں لپٹی ہوئی نوجوان لڑکی! جس نے دودن کا سفر ایسی حالت میں کیا کہ جان پر بن ائی۔ وہ جوان لڑکیاں! جو محلے کی مسجد کے کنوئیں میں گم ہو گئیں۔ وہ مائیں! جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے شیرخواروں کے سانس گھونٹ دئیے کہ کہیں پورا قافلہ ہی تہہ تیغ نہ ہو جائے۔ وہ جوان بھائی! جو بہنوں کی برہنہ لاشیں سر راہ چھوڑ ائے۔ وہ بوڑھے باپ! جو کل سرمایہ حیات لٹا کر اس سر زمین تک پہنچے۔ کچھ سنے سنے سے قصے ہیں نا! ہر سال سنائے جاتے ہیں۔ اللہ ! یہ قصے ہر سال دہرائے جاتے ہیں۔ ابھی دو سال قبل ہی کی بات ہے سیالکوٹ کا90 سالہ خیر دین بلک رہا تھا کہ کیسے اس نے اپنی تین سالہ کی معذور بیٹی کو تنہا چھوڑا تھا کہ باقی کنبے کی جان بچا سکے۔، کیونکہ وہ اسے قتل کرنے کی ہمت نہ کر سکا تھا۔ اور پھر اس نے ستر سال اس آگ میں جلتے ہوئے گزارے تھے کہ کیا ہوا ہو گا اس معذور و مجبور کے ساتھ؟ مر گئی ہو گی؟ پر! کیسے مری ہو گی؟ شاید مجھے پکارا ہو گا؟ کاٹ دی گئی ہو گی یا جلا دی گئی ہو گی؟ یا پھر روند دی گئی ہو گی؟ یا ہو سکتا ہے زندہ بچ گئی ہو اور بھوک پیاس سے بلک بلک کر جان دے دی ہو؟

اس وقت ہندوستان میں تقریباً 22 کروڑ مسلمان آباد تھے، جن کی ایک ہی خواہش، ایک ہی خواب، ایک ہی تمنا، ایک ہی چاہت تھی “پاکستان”۔ اور پھر انہوں نے دس لاکھ جانوں کا نذرانہ دے کر اپنے خواب کی تعبیر کو پا لیا۔ آج ایک بار پھر ہم 22 کروڑ ہیں، لیکن کتنے مختلف! ہمارے 22 کروڑ خواب ہیں،22 کروڑ خواہشات،22 کروڑ تمنائیں ہیں اور 22 کروڑ چاہتیں! مگر پھر بھی تہی دامن اور خالی ہاتھ ہیں۔وجہ! وجہ ہے ایمان! جو اس وقت مضبوط تھا اب تار تار ہے۔ وجہ ہے اتحاد! جو اس وقت قائم تھا اب زمین بوس ہو چکا۔ وجہ ہے تنظیم! جو اس وقت نہ صرف رہنماؤں میں تھی بلکہ قوم میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری تھی اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا کہتے ہیں آپ ؟؟؟

آپ کہیں گے کہ اس قوم کو کوئی نہیں سدھار سکتا. ٹھیک کہتے ہیں۔ شاید آپ وہ شعر بھی دہرائیں گے کہ ‘ خدا نے آج تک اس قوم کے حالت نہیں بدلی’ ٹھیک ہے آپ کو اپنا دل پشوری کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ آپ گنگنا سکتے ہیں بلکہ ناچ سکتے ہیں  ، ‘ ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار’  اور پھر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس قوم کو کوس سکتے ہیں۔ مگر معذرت! یہ حق آپ کو نہیں دیا جا سکتا۔ آپ ہوتے کون ہیں اس قوم پر انگلی اٹھانے والے۔ آپ کو کس نے ٹھیکہ دیا ہے اس قوم کو سدھارنے کا۔آپ مامے لگتے ہیں اس قوم کے۔ آپ ہیں کون؟ جی جی! کانوں سے دھواں نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ پاکستانی ہیں۔ لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ واقعی پاکستانی ہیں؟ پچھلی 14 اگست سے لے کر اس 14 اگست تک آپ نے کتنی بار سوچا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی نیشنیلٹی کے لیے درخواست دی جائے اور آپ تو صرف سوچ رہے ہیں کچھ لوگ تو ایک قدم آگے بڑھ چکے۔ جب کینڈا، امریکہ ، آسٹریلیا اور حتی کہ مڈل ایسٹ میں رہنے والے پاکستان آ کر سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں نا کہ ہمارے کینیڈا میں تو یوں ہوتا ہے، ہمارے کویت میں تو ایسا ہوتا ہے، ہماری کیوی  وزیراعظم کو دیکھا تھا مسلمانوں کے دکھ میں رو ہی پڑی تھی۔ تو دل چاہتا ہے کہ ان کو جہاز پر بٹھا کر نہیں بلکہ دھکے دے کر پاکستان سے نکال دیا جائے، مگر جب نگاہ آئینے پر پڑتی ہے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں