یو م آزادی سے جشن آزادی تک۔۔۔۔۔

ارے بیٹا  رمضان کہا ں تھے اتنی دیر تک ؟

رمضان : ماں آج میں  دوستوں کے ساتھ کانگریس کے جلسے میں گیا تھا  ۔

ماں :  ارے بیٹے آج کل حالات ٹھیک نہیں ہیں  کچھ پتا نہیں ملک کب تقسیم ہو جائے گا  اور پھر کیسے حالات ہوں کچھ پتا نہیں  نہ جایا کروں جلسے جلوسوں میں ۔

رمضان : اما ں اسکول کے ایک ٹیچر  مجھے کہتے ہیں کہ یہ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک ہے ۔ ہم مسلمان اور ہندو دونوں قوموں کو مل کر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیئے۔

ماں: مجھے تو اتنا نہیں معلوم  مگر بیٹے اگر ہندوؤں کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد کریں تو کیا مسلمانوں کو آزادی ملے گی بلکہ اس کے بعد تو وہ ہندوؤ کے غلام بن جائیں گے ان کو کیا فائدہ ہوگا ؟

یہ باتیں کافی دیر تک ماں اور بیٹے کے درمیا ن ہوتی رہی  اس  شام کو جب رمضا ن کے والد گھر آئے تو رمضان کے ذہن میں جو سوالات تھے تحریک آزادی کے متعلق وہ اس کا تسلی بخش جواب چاہتاتھا  ۔وہ سوالات اس نے اپنے والد سے کئے کیوں کہ وہ اسکول میں آٹھوں جماعت کا طالب علم تھا  اور بہت سی با تیں اس کے ذہن میں سوالات پیدا کرتیں تھی کیونکہ کچھ دوست مسلمان تھے اور کچھ دوست ہندو تھے وہ   مسلمان او ر ہندو دوستوں کے درمیان کئی سالوں کی دوستی کے باوجود  رہن سہن ،غرض کھانے پینے اور تہذیب و تمّدن ثقافت ہر ایک معاملے میں بہت بڑا فرق محسو س کرتا تھا  حتیٰ کہ وہ یہ بھی  دیکھتاہے کہ جہاں یہ دو قومیں  ایک دوسرے سے یکسر جدا ہیں ان کی کوئی چیز ایک دوسرے سے نہیں ملتی یہاں تک کہ ان کے تو لوٹوں کی شکلیں بھی ایک  دوسرے سے نہیں ملتی ۔

رمضان کے والد  کا تعلق آل انڈیا مسلم لیگ سے تھا وہ ایک تاجر تھے اور تحریک پاکستان کے ایک مخلص کارکن تھے ۔ انہوں نے رمضان  کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ بیٹا  ہم    انگریزوں  سے بھی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہندوؤ ں سے بھی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ درمیان میں رمضان نے کہا کہ انگریزوں سے  ہم آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر آخر ہم ہندوں کے ساتھ کیوں مل کر نہیں رہ سکتے ؟ حالانکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہےکہ ہندوستان میں مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ رہ  رہے ہیں ۔آخر کیا حرج ہے کہ ہم ایک ساتھ جدوجہد کرکے آزادی حاصل کریں اور پھر سے ساتھ رہیں ہندوستان میں ؟

والدنے کہا کہ بیٹا بات آپ کی ٹھیک ہے کہ ہندواور مسلمان ہندوستان میں  صدیوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں  مگر آج تک  یہ ایک  قوم نہیں بن سکے ان کے درمیان  سب سے بڑا فرق دین و مذہب  کا ہے  پھر ان کی ہر ایک چیز جدا ہے  جس کی وجہ سے یہ دونوں الگ الگ  قومیں ہیں ۔پھر ہم آزادی کے بعد ہندوؤں کے ساتھ کس طرح  اپنے دین و مذہب کے مطابق اپنی   پوری زندگی  گزاریں گے  ، ہمارا قانون کیا ہوگا؟ ہماری سیاست کیا ہوگی ؟ ہماری عدالت کیسے  اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے کرے گی ؟

 ہندوؤ کے ساتھ رہنے میں ہمارے سارے کاروبار میں سود شامل ہوتا ہے مگر اسلام میں تو سود حرام ہے  وہاں (پاکستان ) میں تو  سود اور رشوت  کو حکومت  ختم کردے گی اور ہماری  آمدنی حلال ہوگی  بس بیٹا یہ سمجھو کہ جس طرح آپ نے  اپنی اسلامیات کی کتاب میں پڑھا کہ  مدینہ میں ہمارے پیارے نبیﷺ نے  جو حکومت  قائم کی  کہ ہر طرف امن تھا  ۔ لوگ ایک خدا کی بندگی کرتے تھے اور مکمل طور پر اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزارتے تھے  ۔ ہم بھی  ویسا ہی خطہ زمین حاصل کریں گے اور ہم سب  ملکر ویسی ہی زندگی گزاریں کے انشا اللہ۔

رمضان : مگر با با جان  کچھ لوگ کہتے  ہیں کہ  دین کا سیاست  اور وطن کے حصو ل سے کیا واسطہ یہ تو سیاسی باتیں ہیں ان میں حصہ لینا کوئی دینی کام نہیں ۔

والد:  بیٹا یہ نادان لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی کتاب یعنی قرآن  اور اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت نہیں پڑھی  اور اسلام کو ٹھیک سے سمجھا ہے ۔ اللہ ان بھائیوں کو دین کی سمجھ عطا فرمائے ۔

رمضان : آمین

رمضان : با با جان یہ باتیں آپ کو کس نے بتائیں ؟

والد: بیٹا جب میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں میں جاتا ہوں تو یہ باتیں وہاں  قائد اعظم  اور ان کے ساتھیوںکی تقاریر میں سنتا ہوں ۔

رمضان : یہ قائد اعظم کون ہیں؟

والد : قائد اعظم ! بیٹا یہ ہندوستان کے مسلمانوں  کے رہنما ہیں ان ہی کی قیادت میں ہم ان شاء اللہ ایک ایسا خطّہ زمین حاصل کرنے  میں کامیاب ہونگے  جس میں ہم اپنی زندگی  اسلام کے مطابق  گزارنے میں آزاد ہونگے ۔

رمضان : پھر تو با با جان یہ جدوجہد ہمارے ایمان کا حصّہ ہے  کیونکہ ہم اگر انگریزاور ان کے بعد ہندوؤں کے غلام ہوگئے تو ہم اپنے دین کے مطابق کیسے زندگی گزایں گے اور کل قیامت میں اللہ کو کیا جواب دیں گے؟

والد : بالکل بیٹا

کچھ ہی عرصے بعد ایک دن رمضان کے والد گھر میں داخل ہوئے اور آکر کہا کہ بس اب آج   کل میں تقسیم ہند ہونے والی ہے رمضان کی ماں !  ضروری سامان اور نقدی ایک جگہ جمع کرلو ،ہمیں پاکستا ن روانہ ہونا ہے ۔

رمضان کی والدہ : ارے یہ کیا کہ رہے ہو؟ سارا خاندان  ، گھر بار  اور دوکان سب کچھ چھوڑ چھاڑ جاؤ گے ؟

رمضان کے والد: ہاں ہاں صدیوں کے بعد اپنا وطن حاصل ہونے والا ہے جہاں  اسلامی قانون ہوگا امن سکون سے رہیں گے ۔اے ہے رمضان کے ابّا ! وطن تو وہ ہوتا ہے جہاں انسان پیدا ہوتاہے  ہاں ہاں تم ٹھیک کہ رہی ہو مگر قائد اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان ہر اس انسان کا وطن ہے جو کہ کلمہ پڑھنے والا ہے  ۔ اچھا۔۔۔۔۔۔رمضان کی ماں نے حیرت سے کہا۔

آج  رمضان کی ستائیس ویں شب تھی  لوگ شب بیداریوں اور  دعاؤں میں مصروف تھے کہ اعلان ہوگیا  کہ وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں رہتے ہیں ان تمام علا  قوں کو ملاکر ایک آزاد ریاست بنادی گئی ہے اور اس کا نام پاکستان ہے  ۔ ایسا  لگ رہا تھا کہ صدیوں کی جدجہد اور دعائیں آج قبول ہوئیں اور پاکستان وجود میں آیا ہر مسلمان کا  چہرے خوشی سے دمک رہا تھا ۔ ہر طرف  ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا ا للہ  ، آدھی روٹی کھائیں گے پاکستان جائیں گے ۔

یہ چھوٹا سا خاندان    رمضان اس کے والدین اور چھوٹے بہن بھائی اپنی متاع  کے ساتھ  اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا ۔ دل ارمانوں سے بھرا تھا آنکھیں خوابوں سے معمور تھیں ایسے  سینکڑوں خاندان اپنے اپنے گھروں سے نکل کر اپنی منز کی طرف  جارہے تھے ۔ راستے میں رمضان اور اس کے چھوٹے بہن بھائی  اپنے معصوم سوالات کررہے تھے ۔ بابا ہمارے وطن پاکستان میں کوئی  جھوٹ نہیں بولے گا ۔ بابا پاکستان میں اسلام کا قانون چلے گا؟بابا وہاں رشوت اور سود تو نہیں ہوگا ؟بابا وہاں ہمارے محلّوں اور گلیوں میں ہندوؤ کے حملے تو نہیں ہوں گے ؟اس طرح اور بہت سے سوالات تھے جو وہ اپنے والدین سے کرتے تھے اور وہ ان کے جوابات دیتے جاتے ۔

آدھی رات گزرچکی تھی  اچانک ٹرین رک گئی اور شور کی آواز سے لوگ چونک گئے کسی نے آواز لگائی کہ ہندوؤں اور سکھوں نے ٹرین کو کاٹ دی ہے اور  قتل عام کررہے ہیں سب اپنی اپنی جانیں بچائیں۔ابھی یہ  آواز آہی رہی تھی کہ  سینکڑوں حملہ آوروں نے  بوگی پر حملہ کردیا  لیکن وہ لوگ مسلح  تھے رمضان کو سر پر ایک ڈنڈا لگا اور وہ بیہوش ہوکر زمین پر آرہا ۔۔۔۔۔۔پھر معلوم نہیں کتنی دیر بعد ہوش آیا تو اس کے سر سے خون بہ رہا تھا لاشیں بکھری پڑی تھیں  پاکستان کے ان پروانوں کی جنہوں نے  اپنی جان ، اپنی دولت اوراپنی عزتیں  سب کچھ  قربان کردی تھی۔اور پاکستان کی سرحدوں سے میلوں دور  پاکستان کے خواب لئیے ابدی نیند سو چکے تھے۔ان لاشوں    میں  رمضان نے اپنے والدین اور  چھوٹے بھائی بہنوں کو تلاش کیا  جو ہمشہ کے لیے بچھڑ چکے تھے ۔ مگر رمضان کے والد شدید زخمی حالت میں ملے  انہوں نے  دم توڑتے ہوئے رمضان سے کہاکہ بیٹا پاکستان کو میرا سلام کہنا  یہ کہ کر  وہ بھی داعی اجل کو لبیک کہ گئے ۔

عجیب منظر تھا لوگ    اپنے وطن  میں داخل ہورہے تھے  زخمی تھے لٹے پٹے تھے مگر دل ارمانوں سے بھرے تھے آنکھیں خواب لیئے تھیں  ۔اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالا رہے تھے ۔

آج تہتّر  سالوں کا سفر ہے اور اس سفر کے دوران ، وطن عزیز کا ایک بازوں کٹ چکا ہے ۔ ہماری شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہے  ملک کے تمام اداروں کو بدعنوانی کی دیمک نے اچھی طرح چاٹ لیا ہے ۔اس  کے بعد بھی وطن کے دشمن چین سے نہیں بیٹھے ہیں  مسلسل سازشوں کی بدبودار ہوا چل رہی ہے  ہمارے حکمران دشمن سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کے لیے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے کبھی کلبھوشن یادو کو اور کبھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی   کو کبھی بین الاقوامی سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر دوست ملک کے سفیر کو دشمن کے حوالے کرنے کے پانچ پانچ ہزار ڈالر وصول کرکے اس کا سر عام اظہار کررہے ہیں۔جس ملک  کو اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا ۔آج وہا ں اسلامی دستور پر حملے ہورہے ہیں ۔ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے محفوظ ہیں اور ناموس رسالت کا دفاع کرنے والے پھانسیوں پر جھول رہے ہیں ۔ وطن عزیز کے خلاف  وا شگاف  سازشیں کرنے والے ملک میں سیاسی  طاقت حاصل کرچکے ہیں ۔ آج کا جشن آزادی  ہم سے یہ سوال کررہا ہےکہ کیا رمضان کے ننھے بھائیوں کا خون اس لیے   بہایا گیا تھا ؟ کیا رمضان کی والدہ نے اپنی جان اور اپنی عزت اس پاکستا ن کے لیے نچھاور کی تھی ؟ کیا رمضان کے والد نے اپنی جان کاروبار گھر پار اس لیے قربان کیا تھا ۔ وہ لاکھوں جانوں کے نذرانے ، بہنوں کی عزتیں  ہم سے سوال کرتی  ہیں کہ کب تک اس ملک میں یہ سب کچھ ہوتا رہے گا ؟ کب ہم جاگیں گے اور پاکستان  کو وہ پاکستان بنائیں گے جس کا وعدہ ہمارے آباو اجداد نے اللہ سے کیا تھا؟  ہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ  وعدہ خلافی اللہ تعالٰی کا ہرگز پسند نہیں ۔آیئے اللہ تعالٰی سے توبہ کرکے عزم نو کریں اور پاکستان کو  وہ پاکستان بنائیں جس کا خوا ب  ہمارے آباو اجداد نے دیکھا تھا۔

جواب چھوڑ دیں