انا…(میں)۔

انا كیا هے”-تكبر، خود پرستی، میں اور میرا هونا”- اَنا اُس زهر كی مانند هے جو انسان كو هلاك كر دیتا هے- جب تك انسان میں اَنا(میں) نهیں هوتی وه سكون سے رهتا هے- لیكن جیسے هی اس میں اَنا آجاتی هے اسكا سكون برباد هو جاتا هے-بچه چاهے امیروں كا هو یا غریبوں كا- جب تك اُس كے پاس ذهنی طور پر “میرا” كا تصورنهیں هوتا وه سكون سے رهتا هے- لیكن جیسے هی اُس میں “میرا” كا تصور پیدا هوتا هے تو وه اپنا سكون كھو بیٹھتا هے- جیسے هی بچه ذهنی طور پر “میرا” سیكھ لیتا هے، جیسا كه یه كھلونا “میرا” هے اور اگر وه كھلونا گم هو جائے تو شدید دُكھ هوتا هے- اسلیے نهیں كه وه بهت قیمتی تھا یا اسلیے كے اس كے متبادل اور نهیں مل سكتا بلكه اس لیے كے اس كے ساتھ هماری “میں” جُڑی هوتی هے-

اَنا اس سانپ سیڑھی كی مانند هے جو انسان كو همیشه نیچے كی طرف دھكیلتی هے- پیار، محبت، دوستی اور كامیابی كبھی بھی اَنا كے ساتھ نهیں چل سكتے كیونكه كسی ایك چیز كو پانے كے لیے دوسری كو چھوڑنا پڑتا هے- “اَنا” كی وجه سے انسان بهت سے رشتوں كو پیچھے چھوڑ دیتا هے- جسكی وجه سے “اَنا” تو جیت جاتی هے لیكن رشتے هار جاتے هیں- “اَنا” انسان كو كبھی جھكنے نهیں دیتی-تعلقات كے وه مضبوط دھاگے جنهیں باندھنے میں برسوں لگتے هیں , “اَنا”جیسے ہتھیار كا ایك وار بھی برداشت نهیں كر پاتے۔

“انا پرست” لوگ “خود پرست” هوتے هیں جو خود كی پرستش كرتے كرتے انسانوں سے بهت دور نكل جاتے هیں- اور آخر میں خود كو اس بند گلی میں تنها پاتے هیں- جهاں وه دیواروں كے ساتھ سر ٹكرانے كے سوا كچھ نهیں كر سكتے- همدردی جتانے كیلے نہ کوئی زبان ملتی هے نه هی درد محسوس كرنے کے لئے کوئی دل- کیوں کہ اپنی خدائی میں وہ ان چیزوں کو بہت پیچھے چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔اپنی “میں” میں مبتلا آگے بڑھتے ہوئے نہ جانے کتنے دلوں كو اپنے تلخ جملوں سے زخمی كر چكے هوتے هیں۔

جواب چھوڑ دیں