انڈیا کو جان کے لالے کیوں پڑ گئے؟

جب دنیاکرونا وائرس کے خوف میں مکمل طور پر مبتلا تھے تو دنیا کی دو قدیم ترین تہذیبوں،معاشرت اور ثقافت کی حامل قوموں نے خامشی کے ساتھ ایک ایسے معاہدہ پر دستخط کر لئے جس نے اپنے حریفوں کے ساتھ ساتھ قریبی مخالف انڈیا کی راتوں کی نیند اڑا دی۔یہ دو تہذیبیں ہیں چین اور ایران۔چین کے اس معاہدہ سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ کبھی بھی خواب خرگوش کے مزے نہیں لیتا بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی انہیں اپنی قوم ،ملک اور معاشی فکر ہوتی ہے۔

اس فکر کا نتیجہ ہے کہ چین نے ایران کے ساتھ 25 سالہ ایسا معاہدہ کیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی،تحقیقی،معاشرتی اور تجارتی ترقی ممکن ہو گی۔اگرچہ اس معاہدہ کی تفصیل سرکاری سطح پر ایران نے نشر نہیں کی البتہ نیویارک ٹائمز نے اسے شہ سرخی میں شائع کیا ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق چین ایران میں 400 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے۔اس معاہدہ کے مطابق اگلے پچیس سال میں چین،ایران کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری گا۔

اگرچہ ایران انڈیا کے ساتھ بھی پہلے ایک ریل کا معاہدہ کرچکا ہے جس کے بعد دنیا میں ایک خبر تیزی کے ساتھ گردش کرنے لگی تھی کہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ جو کہ پاکستان کی گوادر کی بندرگاہ کا نعم البدل سمجھا جاتا ہے اس پر انڈیامکمل کنٹرول کئے ہوئے ہے۔لیکن اس معاہدہ کی حقیقت تب کھل کر دنیا کے سامنے آگئی جب ایران نے خود ہی اس معاہدہ کو یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ انڈیا نے اس پراجیکٹ کے لئے وقت پہ سرمایہ کاری نہیں کی۔

چین اور ایران نے ایسے وقت میں جب کہ دنیا کرونا کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے معاہدہ کیوں کیا،اس وقت جب امریکہ اور ایران کے تعلقات کی نوعیت بھی کشیدہ ہے،یا پھر ایسے وقت میں جبکہ امریکہ مکمل طور پر انڈیا کو سپورٹ بھی کر رہا ہے،کیا یہ معاہدہ کا صحیح وقت تھا یا چین کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔اس پر ہم پھر کبھی بات کریں گے۔اس وقت دیکھتے ہیں کہ اس معاہدہ کی شرائط کیا ہیں اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

نیویارک ٹائمز نے اٹھارہ صفحات کی جو دستاویز حاصل کی اس کے مطابق دو قدیم ایشیائی ثقافتیں،تجارت،سیاست،سیکیورٹی کے شعبے میں یکساں نظریات کے حامل دو اتحادی کثیر الجہاتی مفادات رکھنے والے ایک دوسرے کو اپنا اسٹریٹیٹجک اتحادی سمجھیں گے۔ان کے مطابق چین اور ایران درج ذیل شعبوں میں سرمایہ کاری کریںگے۔

چین ،ایران کے تیل و گیس کے شعبے میں دو سو اسی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔کیونکہ ایران سعودی عرب کے بعد کیس پروڈیوس کرنے والا بڑا ملک ہے تو چین چاہ بہار بندرگاہ کا استعمال کرتے ہوئے سستی گیس اور تیل درآمد کرے گا۔ایران آئندہ پچیس سالوں تک چین کو باقاعدہ سستی قیمتوں پر خام تیل اور گیس فراہم کرے گا۔فائیو جی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے چین ایران کی مدد کرے گا۔چین بڑے پیمانے پر بنکاری،ٹیلی مواصلات،بندرگاہوں،ریلوے اور کئی درجنوں منصوبوں میں اپنی شرکت میں اضافی کرے گا۔دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں اور تحقیق کے میدان میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا کے تو ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں باوجودیکہ کہ ایران امریکہ کی مخالفت سے پوری دنیا واقف ہیں۔اور سبھی جانتے ہیں کہ موجودہ پاکستانی حکومت نے جب انڈونیشیا کانفرنس میں جانے کی حامی بھری تو سعودی مخالف اتحاد کے پیش نظر امریکہ نے پاکستان کو مختلف طرح سے منع کیا۔لیکن انڈیا کو ایران کے ساتھ معاہدات اور تعلقات میں کبھی رکاوٹ بن کر سامنے نہیں آیا بلکہ اس سلسلہ میں خامشی اختیار رکھے۔

انڈیا کو اس لئے بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ امریکہ مخالفت کے باوجود ایران نے چین کے ساتھ معاہدہ کیوں کرلیا۔اس طرح تو ایران اور چین کے تعلقات بھی بہتر ہو جائیں گے اور آئندہ پچیس سال تک وہ چاہ بہار کو بھی زیر استعمال میں لائیں گے تو انڈیا کون سا راستہ درآمدات کے لئے استعمال میں لائے گا۔دوسری بات یہ کہ چین کے اس خواب کی تعبیر میں اور آسانی ہو جائے گی جو اس نے BRI منصوبے کے ذریعے دیکھا ہے۔

کیونکہ اسی منصوبہ کے تحت string and pearl policy ایک ایسی پالیسی ہے جس میں چین دنیا کی مختلف بڑی بندرگاہوں کے ذریعے سے اپنی درآمدات کرنے کا خواہاں ہے اور گوادر بندرگاہ کی لیز بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔اب اگر چاہ بہار بھی چین کی لیز میں چلی جائے گی تو بحر ہند اور گلف عربیہ میں اسے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نیں کرنا پڑے گا۔کہ اگر انڈیا بحر ہند میں کوئی مشکل پیدا کرتا ہے تو چین کے پاس چاہ بہار،گوادر اور سری لنکا کی بندرگاہیں لیز پر ہونگی جس کے ذریعے سے وہ بحری اور بری دونوں راستوں سے اپنی تجارت کر سکتا ہے،یعنی اگر بحری راستوں میں کوئی رکاوٹ یا مشکل ہوگی تو وہ کاریڈور کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔

ایک اور بات کہ امریکہ کے دؤبائو میں آکر انڈیا نے چین کو تیل کی برآمد بند کر دی تھی۔اب اس معاہدہ کے تحت چین گیس اور تیل ایران سے خریدے لے گا۔اس طرح انڈیا کے زرمبادلہ میں بھی کمی آئے گی۔ڈر یہ بھی ہے کہ انڈیا اس خطہ میں اکیلا ہی رہ جائے گا۔کیونکہ پاکستان کے ساتھ اس کی خوامخواہ کی دیرینہ دشمنی چل رہی ہے،چین کے ساتھ بھی پاکستان کی طرح جنگیں لڑ چکا ہے۔ایران بھی اب انڈیا کو چھوڑ کر چین سے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے۔

اور تو اور بھوٹان اور نیپال کو بھی انڈیا اپنے خلاف پہلے ہی کر چکا ہے۔رہ گئی بات روس کی تو جب سسٹم کی بات چلے گی تو روس بھی اپنے ہی پیٹی بند بھائی یعنی چین کو سپورٹ کرے گا۔سنٹرل ایشیا سے بھی چونکہ بی آر آئی کے کاریڈور گزریں گے تو وہ بھی انڈیا کا ساتھ دینے سے کترائیں گے۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا خطے میں عنقریب تن تنہا رہ جائے گا۔اکیلا نہ بھی رہے پھر بھی چین ایران معاہدہ نے ایک بار تو انڈیا کی راتوں کی نیند حرام کی ہوئی ہے۔یہاں اس کا چین اور ایران کو فائدہ ہوگا وہاں اسٹیٹیجک لحاظ سے پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا۔

وہ یہ کہ چاہ بہار بندرگاہ جب سے انڈیا کو دئے جانے کی باتیں گردش کر رہی تھیں تب سے ہم سمجھ رہے تھے کہ گوادر بندرگاہ کی اہمیت اور حیثیت کہیں کم نہ ہو جائے۔لیکن اس معاہدہ نے ہمارا یہ مسئلہ بھی حل کردیا ہے کہ اب سی پیک کو کم از کم ایران،انڈیا سے چاہ بہار کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔اگرچہ کہا یہ جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی لیکن حالات انہیں کا ساتھ دیتے ہیں جو وقت کے ساتھ چلتے ہیں۔اور وقت اس وقت چین کا چل رہا ہے۔ہمارے سیاستدانوں کو بھی اب یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہمیں اپنے مفادات کو عزیز رکھنا ہے۔اسی میں ملک کی بہتری مضمر ہے۔

حصہ
mm
مراد علی شاہد کا بنیادی تعلق کمالیہ پنجاب سے ہے ،تاہم بسلسلہ روزگار عرصہ بیس سال سے دوحہ قطر میں مقیم ہیں ،اور ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں بطور ہیڈ آف سوشل اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں ۔سنجیدہ موضوعات کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح پر لکھنا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کی طنزومزاح پر مشتمل مضامین کی کتاب "کھٹے میٹھے کالم"منصہ شہود پر آ چکی ہے۔دوسری کتاب"میری مراد"زیرطبع ہے۔قطر کی معروف ادبی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن قطر میں بحیثیت جنرل سیکرٹری اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔

جواب چھوڑ دیں