دل مندر کی طہارت کون کرے گا؟

مذہب اسلام کو دینِ فطرت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اصولِ فطرت اور قوانین قدرت کے تحت کسی انسان سے کوئی مذہبی،معاشی،معاشرتی یاتعصب روا نہیں رکھا جاتا ہے۔یہ خاصہ صرف دین اسلام کا ہی ہے۔ریاست مدینہ میں ہر انسان کو بلا تعصب بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کے ذمہ قرار پائی۔یعنی انسان تو کجا تاریخ اسلام کا مطالعہ اگر کریں تو بیسووں مثالیں ایسی مل جائیں گی کہ جس میںآقاﷺ اور اصحاب رسول ﷺ نے جانوروں کو بھی ان کے حقوق سے نوازا۔بنی نوع کی اگر بات کی جائے تو اگر انہیں اسلام میں آزادی اظہارَ رائے،حق زندگی،حق عبادت اور حق ِ کاروبارکی آزادی نہ ہوتی تو فتح مکہ کے موقع پر صحن کعبہ میں بیٹھے خباب بن اسید کبھی بھی آقاﷺ کے سامنے اونچی آواز میں بات کرنے کی جرات نہ کرتا۔باوجودیکہ میرے پیارے حبیب ﷺ کا ظرف اور احترام انسانیت کا اندازہ لگائیں کہ اعلانِ لا تثریب علیکم الیوم کے بعد اسی شخص کو مکہ کا گورنر متعین کردیا،حقِ زندگی کی بڑی مثال بھی فتح مکہ سے ہی لی جا سکتی ہے کہ جب آپ ؐفاتح کی حیثیت سے مکہ کی وادی میں داخل ہو رہے تھے تو اعلان فرمایا جا رہا تھا کہ بوڑھوں کو قتل نہ کرنا،خواتین کی حفاظت کرنا،بچوں کو تہہ تیغ نہ کرنا ،جو صحن ِ کعبہ اور سفیان کے گھر پناہ لے اسے چھوڑ دینا،جو اپنے گھر کے دروازے بند کرلے اسپہ بھی تلوار نہیں اٹھانا،الغرض جانوروں،مویشیوں اور درختوں کو بلا وجہ اذیت نہ دینا۔اسی طرح سے حقِ عبادت اور غیرمسلموں کو باعتبار مذہب جتنا تحفظ دینِ اسلام نے عطا فرمایا ہے اس کی نظیر کسی اور مذہب میںنہیں ملتی۔یہ سب محض زبانی دعوے نہیں بلکہ عملا ان کی کئی مثالیں عہد رسالت اور خلفائے راشدین میں مل جاتی ہیں۔آقاﷺ نے اپنے مواثیق،معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرمائی۔

عہدِ نبوی میں اہلِ نجران سے ہونے والا معاہد،مذہبی تحفظ اور آزادی کے ساتھ جملہ حقوق کی حفاظت کی عملی وضاحت فرماتا ہے۔اس معاہدہ میں آقائے دوجہاں ؐ نے یہ تحریر ی فرمان جاری فرمایا تھا کہ

اللہ اور اس کے رسول ؐ،اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کے لئے ان کے خون،جانوں،مذہب،زمینوں،اموال،مویشی،راہبوں،پادریوں،موجود اور غیر موجود افراد،قافلوں اور مذہبی ٹھکانوں کے ذمہ دار ہیں، جس دین پہ وہ ہیں ان کو پھیرا نہ جائے گااور عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔نہ کسی پادری کو اور نہ ہی کسی راہب کو،سردار اور نہ ہی کسی عبادت گاہ کے خادم کو خواہ اس کا عہدہ معمولی یا بڑا ہو اس سے ہٹایا نہیں جائے گا۔اور ان کو کوئی خوف وخطر نہیں ہوگا‘‘

یہی معاہدہ خلفائے راشدین کے ادوار میں بھی چلتا رہا۔

اسی سے مربوط ایک اور واقعہ پیش گزار ہے کہ حضرت خالد بن ولیدؓ بیان فرماتے ہیں کہ وہ حضور ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے،مجاہدین جلدی میں یہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے آئے۔آپ ؐنے مجھے ازان دینے کا حکم صادر فرمایا،نماز سے فراغٹ کے بعد فرمایا کہ اے لوگو تم جلدی میں یہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے آئے ہو،خبردار سوائے حق کے غیر مسلم شہریوں کے اموال سے لینا حرام ہے۔گویااسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے اموال پہ ناحق قبضہ کرنا حرام ہے۔لہذا دور نبوی ﷺ میں کئے گئے معاہدات،دستاویزات اور اعلانات سے اقلیتوں کے حقوق کا جو نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے اس سے مراد ہے

اسلامی حکومت کے تحت زندگی گزارنے والے غیر مسلموں کو قانونی حق ملے گا۔انہیں مذہبی آزادی حاصل ہوگی لیکن انہیں مذہبی تبلیغ کی آزادی نہیں ہوگی۔ان کے مال،آبرو اور عزت کا تحفظ ۔اپنے مذہبی نمائندوں کا انتخاب خود کرنا۔عبادت گاہیں قابل احترام اور ان کی حفاظت کرنا یہ سب اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔یہ تو غیر مسلموں کے ساتھ سلوک روا رکھنے کے بارے میں ہے ذرا اس حدیث شریف کی اہمیت کا بھی اندازہ لگائیں اور پھر ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم بطور مسلمان کہاں کھڑے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود۔۔حضور اکرم ؐکے ساتھ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے کہ آنحضور ﷺ نے کعبہ کی طرف نگاہ کی اور فرمایا کہ اے کعبہ ۔۔۔تو کتنا مقدس،مکرم اور معظم ہے۔پھر عبداللہ بن مسعود سے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایک مسلمان کی جان ومال اور آبرو کا تقدس کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔کسی دوسرے کی جان ومال اور آبرو پر ناحق حملہ آور ہونا کعبہ کو ڈھا دینے سے بھی بڑا جرم ہے۔کیا خیال ہیکہ ہم بحثیت مسلمان صرف اس ایک حدیث مبارکہ پر کتنے عمل پیرا ہیں۔کہ ایک انسان کی عزت وآبرو اور جان ومال پرناحق قبضہ جما لینا کعبۃ اللہ کے گرانے سے بھی بڑا جرم ہے۔باقی معاشی ومعاشرتی مسائل تو بعد کی بات ہے۔ہم نے اپنے ہی دلوں میں اپنوں کے لئے اس قدر نفرتیں،کدورتیں۔لوبھ اور کرودھ پال رکھے ہیں کہ اس دل میں اللہ کے بسنے کی گنجائش ہی کہاں رہنے دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ارے مسلمان تو وہ ہیں جن کے بارے میں ارشاد گرامی ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہے۔ذرا اپنے اردگرد صرف اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ہی اپنے رویوں کا جائزہ لے لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہم کتنے مومن ہیں۔جب ہمارے اپنے ہم سے محفوظ نہیں تو اقلیتوں کی حفاظت کیسے ہم کرسکتے ہیں۔ہمیں اپنی مثال دے کر انہیں دائرہ اسلام میں شامل کرنا ہے جیسے کہ اسوہ حسنہ اور سیرت صحابہ نے کیا۔ہم ایک مندر کے بنانے یا نا بنانے پر اتنا شور اور واویلا مثا رہے ہیں تو جو اپنے دل کے مندر میں طرح طرح کے بت ایستادہ کر رکھے ہیں ان کو گرانے کے لئے کس غزنوی کے انتظار میں ہیں۔یہ غزنوی باہر سے نہیں بلکہ اپنے اندر سے ہی جنم لے گا۔بلھے شاہ نے کیا خوبصورت خیال پیش کیا کہ

مسجد ڈھا دے،مندر ڈھا دے

ڈھیندا جو کجھ ڈھا دے

اک بندے دا دل ناں ڈھاویں

رب دلاں وچ رھیندا

اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ نحن اقرب من حبل الوریداور دل میں رہے تو پھر من کے اس مندر کو ویسا ہی بنانا ہے جیسا کہ آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ؐنے اپنی احادیث میں بیان فرمایا ہے۔اپنے اعزا واقربا،اہل محلہ،بستی اور ریاست میں موجود اقلیتوں کے ساتھ سلوک روا رکھنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔مندر کی تعمیر اور رکاوٹ جیسے سوالوں کا جواب خود بخود مل جائے گا۔

حصہ
mm
مراد علی شاہد کا بنیادی تعلق کمالیہ پنجاب سے ہے ،تاہم بسلسلہ روزگار عرصہ بیس سال سے دوحہ قطر میں مقیم ہیں ،اور ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں بطور ہیڈ آف سوشل اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں ۔سنجیدہ موضوعات کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح پر لکھنا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کی طنزومزاح پر مشتمل مضامین کی کتاب "کھٹے میٹھے کالم"منصہ شہود پر آ چکی ہے۔دوسری کتاب"میری مراد"زیرطبع ہے۔قطر کی معروف ادبی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن قطر میں بحیثیت جنرل سیکرٹری اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔

جواب چھوڑ دیں