باپ کی بپتا

ماں کی ممتا پر بہت کچھ تخلیق کیا گیا۔ شاعری ادب ناول افسانے مصوری کیا نہیں ہے جو لکھا نا گیا ہو۔ اور کیوں نا ہو جب ماں کا درجہ باپ سے تین گنا بڑھا دیا گیا ہے۔ اسکی نسبت باپ کی بپتا پر بہت کم لکھا گیا۔ آج کچھ بات ہو جائے باپ کی بپتا پر بھی۔

باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک

ماں دعا ہے جو صدا سایہ فگن رہتی ہے ۔

باپ وہ بے غرض ہستی ہے جو بغیر کسی غرض کے اپنی اولاد کے لئے دن رات مصروف رہتی ہے ۔ اسے اس سے کوئی غرض ہی نہیں ہے کہ بچے اس کی دوڑدھوپ (efforts) کو سراہتے ہیں یا نہیں؟ اسے اس سے بھی غرض نہیں ہوتی کہ بچے اس سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ شاید باپ کے پاس محبت کے معیار کے باٹ مختلف ہوتے ہیں۔ اسے بس بچوں کو زندگی کی وہ تمام سہولتیں فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ جو شاید اس کو بھی میسر نا آ سکیں تھیں۔اس کے لئے وہ کام کیے چلا جاتا ہے۔ دن رات ، سردی گرمی، بہار، خزاں کی پرواہ کئے بغیر۔ سال آتے ہیں گزر جاتے ہیں۔ اسے اپنے لئے سوچنے کا وقت نہیں ملتا وہ اپنے بچوں اور بچوں کی ماں کو آسانی اور سہولت فراہم کرنے میں جت جاتا ہے۔

 گھر سے باہر زمانے کے گرم و سرد تھپیڑے سہنے والا اور کچھ نا کہنے والا شحض باپ ہوتا ہے۔ بچوں کو ہر سرد و گرم سے بچائے رکھتا ہے۔  ؎

ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں

باپ گھر کے درخت  ہوتے  ہیں

باپ وہ گھنا درخت ہوتا ہے جس کے سائے میں سب سستاتے ہیں اور وہ دھوپ روکے سایہ کئے کھڑا رہتا ہے۔ درخت سے بچے فیض اٹھاتے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بچے سمجھتے ہیں ان کی ماں ہی ان سے محبت کرتی ہے۔ وہ ان کے لئے مصروف رہتی ہے، ماں کے کام  ان کے سامنے ہوتے ہیں، ان کو نظر آتے ہیں۔ ماں زبان سے کہتی ہے اظہار کرتی ہے مگر  باپ خاموش رہتا ہے زبان سے کچھ بھی اظہار نہیں کرتا۔ باپ کا کوئی کام ان کے سامنے نہیں ہوتا ،ان کو لگتا بس باپ ایک مشین ہے۔ جس میں کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ جس نے ان کے اسکول، کالج، یونیورسٹی  کی بس فیس بھرنی ہے۔ ان کے گھر کا سودا سلف پورا کرنا ہے۔ ان کے لئے گھر بنانا ہے بینک بیلنس چھوڑنا ہے۔

باپ کے لئے یہی کافی ہوتا ہے کہ اس کی اولاد کچھ اچھا بن جائے۔ کچھ کر دکھائے۔وہ منزلیں بھی سر کرے جو وہ نہیں کر سکا۔ وقت کی تپتی ہوا لگنے نہیں دیتا جو اولاد کو۔  ؎

مجھکو سائے  میں رکھا  خود جلتا رہا  دھوپ میں

میں نے دیکھا ہے ایک  فرشتہ باپ کے روپ میں

پھر بیٹا باپ کے قد کر برابر آجاتا ہے۔ باپ نظر بھر کر دیکھتے ہوئے بھی ڈرتا ہے۔ وہ محبت کے اظہار کو کورا ہوتا ہے۔ ماں اولاد کے ذہن میں باپ کا ایک سخت خاکہ مضبوط کرتی جاتی ہے۔ باپ کو ویسا بننا پڑتا ہے۔ بچوں کو شیر کی نظر سے دیکھنا پڑتا ہے۔ سب کچھ کر کے بھی سارا کریڈٹ ماں لیتی ہے۔ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت(ماں ) جا کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اور باپ سائیڈ پر کھڑا مسکرا رہا ہوتا ہے۔ اس کے لئے بس یہی احساس کافی ہوتا ہے کہ جس پودے کی آبیاری اپنے خون پسینے سے کی وہ اب تناور ہو گیا ہے۔

میں کہ تنہا عدو پہ  بھاری تھا

اب  تو  بیٹا  جوان  ہے  میرا

یہ بات بہت تکلیف دہ ہے جب اولا باپ سے سوال کرتی ہے ،آپ نے ہمارے لئے ِکیا ہی کیا ہے؟ تب باپ ٹوٹ جاتا ہے۔ جس کو زمانے کے سرد و گرم نہ توڑ سکے اس کو اولاد کے ایسے جملے توڑ دیتے ہیں۔ اسلام میں باپ کا اعلی مقام ہے۔ جو ماں سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ باپ کو جنت کا درمیانی دروازہ فرمایا گیا ہے۔اور  باپ کی رضا کو اللہ کی رضا قرار دیا ہے۔

وہ باپ تو یاد ہو گا جس کے بیٹے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر شکایت کی تھی کہ میرا مال میرا باپ ضائع کر دیتا ہے۔۔ اسے جب بلایا گیا تو اس باپ کے دل میں کچھ اشعار تھے جو وہ پڑھتا آ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے بتا دیئے گئے۔ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮئے ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و الہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿں ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭﺳﻨﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﻮﭼﺘﮯ ہوئے ﺁﺋﮯ ہیں۔ ﻭﮦ ﻣﺨﻠﺺ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ بھی ﻧﮩﯿﮟ ہوئے، ﻣﯿﺮﮮ اپنے ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ابھی ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﮯ ،ﺁﭖ کے ﺭﺏ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﺌﮯ اور آپ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ کو بتا بهی دیا. ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺗﮭﮯ؟ ۔۔۔۔۔ (ان اشعار کا ترجمہ ) ؎

ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ !

ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺍ

ﮨﻤﺎﺭﯼ محنت ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ.

ﺗﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﮨﻢ ﺳﻮ ﻧﮩﯿﮟﺳﮑﺘﮯﺗﮭﮯ.

ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ.

ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ لیئے  ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻃﺒﯿﺐﮐﮯ ﭘﺎﺱ علاج معالجے

کے لیے مارے مارے پھرتے تھے ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ تجھے کچھ ہو نہ جائے.

ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ حالانکہ ﻣﻮﺕ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ۔

ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎﺭﮨﺎ

ﮐﮧﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎؤﮞ ﻣﻞ ﺟﺎئے۔

ﭨﮭﻨﮉ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺗﻮﮌﮮ

ﺗﻐﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﺮمی ﻣﻞ ﺟﺎئے۔

ﺟﻮ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﺟﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ۔

ﺗﯿﺮﯼ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ اب

ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮉﯾﺎﮞ تک کمزور ﮨﻮ گئی ہیں

لیکن تو کڑیل جوان ہو گیا ہے….

ﭘﮭﺮ….

ﻣﺠھ ﭘﺮ ﺧﺰﺍﮞ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ڈال ﻟﺌﮯ لیکن ﺗﺠھ ﭘﺮ ﺑﮩﺎﺭ ﺁﮔﺌﯽ…

ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ

ﺍﺏ میری خواہش اور ﺍﻣﯿﺪ پوری ہوئی

ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ

ﭼﻞﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﮭﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ

ﮔﺰﺍﺭﻭﮞ ﮔﺎ۔

ﻣﮕﺮﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺗﮯہی ﺗﯿﺮﮮ ﺗﯿﻮﺭ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ….

ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﯿﮟ….

ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ہے ﮐﮧ جیسے ﻣﯿﺮﺍ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ ہے۔

ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐوئی غلام ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿں کرتا…

ﭘﮭر ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ساری زندگی کی ﻣﺤﻨﺖ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ ﺩﯾﺎﮐﮧ

ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮ ﮬﻮﮞ….

ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮئی ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ…

ﺗﻮ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﻤﺠھ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﺮ….

ﯾﮧ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے چہرہ مبارک ﭘﺮ پڑی تو دیکھا کہ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ جلال ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺖ ﺁﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻦ ﻟﻮ… (تین مرتبہ فرمایا) …ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ.

جواب چھوڑ دیں