آج معاشرے میں عورت کا لباس پھر مرد کی نظر

یہ ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ ھے وہ ھے آج کی عورت کا لباس، اور بے پردگی جو کہ تقریباً تمام ھی مسائل کی اصل وجہ ہے. شروعات عورت سے ھے اگر عورت اسلامی طرز پر زندگی بسر کرے اور شرعی لباس و پردہ کو اہمیت دے گی تو یہ معاشرہ سدھر سکتا ھے. اسی لیے قرآن میں اللّه نے پردے کا حکم دیا ہے. اور مردوں کو ہر نامحرم عورت پر نظر پڑنے پر نظر جھکا دینے کا حکم دیا گیا. یہ کسی ملا کا فتوا نہیں. یہاں میں سورہ النور کا حوالہ دوں گی، عورتوں کی حدود بتا دی اللّہ سبحان و تعالیٰ نے اس سورہ میں، کیونکہ  نظر ہی شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے.
‏شیطان کا اولین وار ہی حضرت آدم و حوا علیہ السلام کو بےلباس کرنا تھا اور آج تک اس کا محبوب ترین ہتھیار یہی ھے کہ وہ بے حجابی اور بے لباسی کو آراستہ و پیراستہ کر کے عورت کو دھوکہ دیتا ہے. ‏‎گناہ کی اصل وجہ اللّہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ھے جو دونوں طرف سے ہو رہی ھے.‏‎عورت اگر ایسا لباس پہنے جو مرد کو اپنی طرف متوجہ کرے تو گناہ اس میں عورت کا ہے جبکہ مرد بھی گناہ گار تو ہوگا ہی اور اگر کوئی حجاب والی عورت کو بھی گندی نگاہ سے دیکھے تو مجرم مرد ہی ہے۔
اگر گوشت کو ڈھانپ کر رکھو تو مکھیاں نہیں آئيں گی،اس میں غوروفکر کرنے کی بات ھے کیونکہ ‏‎عورت کا لباس اسلامی طریقے کے مطابق ھو تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی غیر مرد اس عورت کی طرف بری نظر سے دیکھے کیونکہ ‏‎مرد کا ذہن عورت کے لباس سے ھی منسلک ھوتا ھے. عورت کا لباس جتنا مختصر ھوتا جاتا ھے مرد کا ذھن اتنا ھی گناہ کی جانب مائل ھوتا ھے. عورت کی شمولیت کے بغیر یہ گناہ نہیں ھو سکتا۔ ‏‎حیا کی کمی ھی ھوتی ھے جب عورتیں میک اپ کر کے چست لباس پہن کر گھروں سے باہر نکلتی ھیں اگر عورت میں حیا ہوگی تووہ پردہ کرے گی اور مرد میں حیا ہوگی تو اپنی نظریں جھکا کررکھے گا. دونوں اپنا فرض پورا کریں تو گناہ کا سوال ہی نہیں اٹھتا بلکہ نسلیں پاک اور مہذہب معاشرہ ہوگا۔
‏‎عورت کا آج کل کے دور میں حد سے زیادہ فیشن والا لباس پہن کر باہر جانا جس لباس کو دیکھ کر ہمارے بڑوں کی نظر جھک جائے ایسی بے پردگی تو اخلاقی اور اسلامی تعلیمات دونوں سے ہی غلط ثابت ھوتی ھے، مجھے ‏نہیں معلوم کہ وومنز ڈے کی تاریخ کیا ہے، مگر اتنا جانتی ہوں کہ 1500 سال قبل “حکمِ ربی” دیا گیا کہ عورت اپنی آرائش(جسم) چھپائیں اور مرد اپنی نگاہ نیچی رکھیں. لیکن افسوس بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا کہ آج اس کا الٹ ہو رہا ہے. آج کی عورت چست تر لباس سے اپنے نشیب و فراز دکھا رہی ہے، اور مرد بے غیرتی کی مثل تماش بین بنا ہوا ہے۔
‏ایک عورت جب گھر سے چست لباس پہن کر یا باریک لباس میں نکلتی ھے جس کو” So Called ” فیشن کا نام دیا جاتا ھے آج کے اس پُر فتن دور میں توایسی عورت غیر ارادی طور پر یہ ارادہ کر کے نکلتی ہے کہ آج راستے میں آنے والے ہر مرد کو جہنم کا ایندھن بنا کر چھوڑوں گی کیونکہ ‏آج کی عورت طرح طرح کے طریقوں سے حیا کا لباس اتارنے کی کوشش کر رہی ہے. ‏تعجب اس بات کا نہیں کہ عورت تنگ اور بیہودہ لباس کے ساتھ گھر سے نکلتی ہے تعجب یہ ہے کہ وہ شرمندہ بھی نہیں اپنے اس گمراہ کن فعل سے۔
‏توجہ طلب بات یہ بھی ھے کہ اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے اُسکے والد اور بھائی اور خاوند اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں کیا؟ گناہ کی پہلی وجہ عورت کا لباس ہے اور مرد اُس گناہ میں برابر کا شریک بنتا ہے. اسی عورت کو زندہ دفن کرنیوالا بھی تو مرد تھا. پھر جب دینِ اسلام نے عورت کو عزت دی، زندگی دی، حقوق دیئے اور اسی رب سے بغاوت پےاترآئی یہی عورتیں،عورت کا اپنی زیب وزینت عیاں کرنا جاہلیت کی علامت تھی آج جتنا مختصر لباس اتنے ہی آپ ترقی یافتہ۔
‏سلطان صلاح الدین ایوبی کا قول ہے کہ مرد کی غیرت کا اندازہ اس کے گھر کی عورت کے لباس سے ہوتا ہے اب اس قول کی روشنی میں سب اندازہ لگائیں کہ کون کتنا غیرت مند ہے. ‏لِباس کا مختصر ہوتے چلے جانا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہم ترقی یافتہ ہو رہے ہیں، بلکہ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ ﷲ ہم سے ناراض ہے۔عورت کے لغوی اور لفظی معنی کیا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ہی سب سوالات کا جواب موجود ھے!!!

جواب چھوڑ دیں