آخر کورونا چاہتا کیا ہے؟

کورونا نے دنیا کو انگریزی میں پاوز (pause)اور اردو میں توقف یعنی روک دیا ہے ، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ پاوز یا توقف کرنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں اور قدرت نے ایسا کیوں کیا یا کروایا ہے ۔ یعنی ،آخر کورونا چاہتا کیا ہے;238;مجھے یقین ہے کہ دنیا کہ ماہرین (تھنک ٹینک ) ضرور اس بات پر سر جوڑ کر نا صحیح لیکن جہاں کہیں بھی ہونگے ضرور سوچ بچار کر رہے ہونگے، اور جلد ہی اسکے جواب یہ ہوسکتا ہے وہ ہوسکتا ہے کی صورت میں آنا شروع ہوجائینگے ۔ کورونا سے نجات کیلئے لگائے جانے والے اندازے اس وقت تک غلط ثابت ہوتے رہینگے اور انسانی جانیں اس مرض کی وجہ سے ضائع ہوتی رہینگی، جب تک پاکستان کی عوام کورونا کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرلیتی اور اسکے سد باب کیلئے سو فیصد احتیاط کرنا شروع نہیں کردیتی ۔

کورونا کی وجہ سے ساری دنیا میں خوف ہو ہراس پھیلا ہوا ہے اسی طرح سے پاکستان میں بھی ایک خوف دندناتا پھر رہا ہے اور یہ خوف ان آنکھوں کو نمایاں دیکھائی دے رہاہے جوکرونا کے پھیلاءو پر دھیان رکھے ہوئے ہیں ۔ اس خوف کی بھینٹ انسانی زندگیوں کے بعد سب سے زیادہ معیشت کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کرونا کی ابتداء اور انتہاء صدیوں پر محیط علم کی تحقیق میں موجود نہیں ہے یہ بھی موجود نہیں کہ اس سے بچا کیسے جاسکتا ہے ، غور طلب بات ہے کہ سیاروں کو دریافت کرنے والا انسان ان سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کرنے والا انسان ایک کرونا نامی وائرس سے چھپتا پھر رہا ہے ۔ قران اور حدیثوں کی مدد سے کچھ ایسے علاج منظر عام پر آچکے ہیں کہ جن کی مدد سے لوگ مستفید ہورہے ہیں ۔

جدت کی بلندیوں پر پہنچنے والی دنیا کے جدید ترین لوگ ایک اندیکھے ۔ یہ ایک الگ معمہ ہے کہ کتنے لوگ کرونا سے مر رہے ہیں اور کتنے اسکے خوف سے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں ۔ ہر چیز سمٹتی محسوس ہورہی ہے ۔ انہیں کہتے ہیں تھنک ٹینک کہ جن کی بصیرت کی بدولت موجودہ حالات میں استعمال ہونے والے وہ تمام آلات جن میں خصوصی طور پر ایسی خصوصیات رکھی گئیں تھیں کہ سماجی فاصلہ کا خیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے رابطہ کیا جاسکے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں سوچا گیا کیا سوچنے والے لوگوں نے کورونا جیسی وباء کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسی مصنوعات متعارف کروائیں یا پھر کچھ اور(کچھ اور سے مراد کہ کیا آنے وقت میں کوئی اس کورونا سے بھی زیادہ کوئی مہلک ہتھیار ہوسکتا ہے) ۔

تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں ، محدود تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو ان حالات سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں (سوائے سرکاری تعلیمی اداروں کہ) اوریہی وہ ادارے ہیں جوکہ موجودہ حالات میں درس و تدریس کہ عمل کو جاری رکھنے کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ،جیسا کہ آن لائن کلاسوں کا سلسلہ ہے ۔ پاکستان میں بچوں کی اکثریت تو گلی محلوں میں کھلے ہوئے اسکولوں میں پڑھتی ہے جو صر ف انگریزی میڈیم ہونے کا جھانسا دے کر معصوم لوگوں سے پیسے بٹور تے رہتے ہیں اور یقینا اب مشکلات کا شکار ہوکر تقریباً بند ہونے والے ہونگے ۔ ہم نے ایسے اسکولوں کے حوالے سے کئی برس قبل اس موضوع پر ایک بحث اٹھائی تھی کہ تعلیمی نظام کی پائیدار ی اور ایک بہترین نسل کیلئے بہت ضروری ہے کہ ایسے اسکولوں یا تعلیمی اداروں کو ایک مخصوص(تعداد کا تعین) آبادی پر مشترک کر کے کھولنے کی اجازت دی جائے ۔

یہاں جو تلخ بات ہے وہ یہ کہ درس و تدریس سے کہیں زیادہ ایسے اسکول کاروبار کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں تھے ۔ اب اس حوالے سے کورونا کا یہ چاہنا بہت حد تک سمجھ آرہا ہے کہ ارباب اختیار خصوصی طور پر جہاں سے ان تدریسی اداروں کی رجسٹریشن کی جاتی ہے اپنے کار ہائے نمایاں پر خصوصی نگاہ ڈالیں اور ملک کے سب بچوں کو اپنے بچوں کی جگہ رکھ کر سوچیں ۔ اس طرح سے تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھنے کا ایک انتہائی اہم وقت کورونا کی بدولت میسر آچکا ہے ۔ یوں تو حکومت وقت بھی تعلیمی اصطلاحات پر کام کر رہی ہے جیسا کہ یکساں تعلیمی نظام کا نفاذ ہے اس طرح سے طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے میں بھی بہت مدد ملنے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ یہ تو کورونا تعلیم کے شعبے سے وابسطہ اسر و رسوخ رکھنے والوں سے چاہتا ہے ۔ ایک قابل ذکر نقطے پر بھی نظر ڈال لیجئے کہ ہمارے تدریسی اداروں (دینی و دنیاوی) میں دیگر ایسی سرگرمیاں شروع ہوچکی تھیں کہ جن کی وجہ سے انکا تقدس بھرپور طرح سے پامال ہورہا تھا جسکی وجہ سے انکا بند ہونا بنتا ہی تھا ۔

کورونا نے عبادت گاہیں بھی بند کروادیں ، مسلمانوں کو اسوقت اتنہائی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جب خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کو بند کیا گیا اور دنیا جہان سے آنے والے زائیرین کی آمد پر مکمل طور پر پابندی لگا دی ۔ اسی طرح سے ویٹیکن سٹی پر بھی اسی طرح کی پابندیاں لگا دی گئیں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔ رمضان کے ماہ مبارک میں ایک مسلمان کیلئے اس بڑی اور کیا تکلیف کی بات ہوسکتی ہے کہ اسے مسجد جانے سے روک دیا جائے کیونکہ اس ماہ مبارک میں وہ مسجد کا رخ کرلیتے ہیں جنھیں باقی سارے سال مسجد کی شکل دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی ۔ ان عبادت گاہو ں کہ بند ہونے سے تعلق کو توڑنے یا یہ سمجھانے کیلئے کہ جن کی عبادت کرنے ان عمارتوں میں آتے ہو اب وہ کسی کو ان میں آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتا ۔

تقسیم کانظام دنیا نے اپنے طور سے کر رکھا ہے اور جس کے پاس مال و دولت ہے چاہے وہ انفرادی ہو یا پھر اجتماعی اس کی صحیح تقسیم سے ناواقف ہے یا پھر تقسیم کرنا ہی نہیں چاہتا ۔ دنیا میں بھول افلاس یعنی غربت کا بول بالا ہوچکا ہے لوگ بھوک کی وجہ سے خود کشیاں کررہے ہیں لوگ اس بھوک کی وجہ سے اپنے پورے پورے خاندان کو موت کی نیند سلا رہے ہیں ، یہ بھوک چور ڈاکو بنا رہی ہے ، یہ بھوک اپنی عزتوں کو بیچنے پر مجبور کر رہی ہے غرض یہ کہ اس بھوک کی وجہ سے آج دنیا میں کیا کچھ نہیں ہورہا ، جو اس بھوک کو قدرت کی دی گئی دولت سے ختم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں وہ کسی خاموش تماشائی کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں اور اسے قدرت کی منشاء کہہ کر آگے بڑھتے جا رہے ہیں ۔ کورونا نے ایسے لوگوں کی راتوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کب تک اپنے دولت کیساتھ اس دنیا میں رہ سکتے ہیں ، اس خوف نے انہیں دولت خرچ کرنے پر اکسایا ہوا ہے در حقیقت یہ دنیا کوآخیر تک دیکھنے کے خواہشمند ہیں ۔ کورونا چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں بھوک اور افلاس کی جھلک پیدا کرے کہ یہ اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کریں معاشرے میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔

موبائل کی دریافت نے انسانوں کے درمیان طبعی فاصلے بڑھا دیئے اور لوگ ملنے جلنے سے زیادہ چلتے پھرتے فون پر اپنے پیاروں اور اپنے دوستوں سے باتیں کرنے کو ترجیح دینے لگے اس سے جو دیرینہ نقصان ہوا وہ یہ کہ ہم بھول گئے کہ ملنے جلنے کیلئے دیکھ بھال کیلئے اور سب سے بڑھ کر بیماروں کی عیادت کیلئے گھر بھی جایا سکتا ہے (یہ میل جول بچوں کی تربیت میں بھی کار آمد ثابت ہوا کرتے تھے، آج ہمارے بچے میل جول کے طور طریقوں سے بہت حد تک دور ہوچکے ہیں انہیں یہ تو پتہ ہے کہ بڑوں کا ادب کرنا ہے لیکن ادب کیسے کیا جاتا ہے شائد وہ اس میل جول کے خاتمے کی وجہ سے بھول چکے ہیں )ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا بھی کیا جاسکتا ہے گھر کے حالات کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے اور زندگی کا گزربسر کیسے ہورہا ہے اس طرح سے کوئی مدد کرنے میں آسانی ہوسکتی تھی ۔ کورونا نے سب کچھ جیسا ہم کرتے تھے اسے حتمی کرکے رکھ دیا ایسے اسباب بنا دئیے کہ اب چاہتے ہوئے بھی مل نہیں سکتے ۔

کورونا چاہتا ہے کہ اب جب وہ ختم ہوجائے تو اپنے پیاروں سے بل مشافہ ملیں انکے دکھ درد میں باقاعدہ شریک ہوں ۔ کوروناہ میں اپنے رب سے قریب کرنا چاہتا ہے کورونا ہ میں نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل کروانا چاہتا ہے درحقیقت دنیا کو اسکی اصل حالت میں واپس لانا چاہتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت قدرتی ماحول میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی ہے ۔ مندرجہ بالا امور کے علاوہ اور بہت کچھ ہے جو کورونا دنیا میں رہتے ہوئے کرنا چاہتا ہے ، آپ لوگ بھی سوچیں اور اگر ممکن ہو تو ہمارے بھی ارسال کریں ۔ اللہ تعالی دنیا و آخرت میں آسانی کا معاملہ فرمائیں اور ایک سچے امتی ہونے کی توفیق عطاء فرمائیں ، آمین یا رب العالمین ۔

حصہ
mm
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔

جواب چھوڑ دیں