سنت رسولؐ اپناؤ راحت ہی راحت پاؤ

ظہر کی نماز کے بعدسمرہ نے ابھی قرآن پاک کی تلاوت شروع ہی کی تھی کہ موبائل فون بج اٹھا ….سمرہ نے قریب پڑے موبائل کی اسکرین پر جگمگاتے “بریرہدانش” کے نام کو دیکھ کر جلدی سے فون اٹھا لیا …..” بریرہ” اس کی چھوٹی اور عزیز از جان بہن کا نام تھا ایسا کوئ دن نہی گزرتا تھا کہ جس دن وہ اپنی پیاری سمرہ آپی سے فون پر بات نہ کرتی ۔۔۔۔۔ ” سمرہ آپی جلدی سےمجھے” بیکڈ الفریڈو ” اور” عریبین پائن ایپل ڈیزرٹ” کی ریسیپی ( recipe دے دیں ۔۔۔ آج مجھے افطاری میں ضرور یہی دونوں ڈشیز بنانی ہیں ۔۔۔۔اور وقت ھی کم ہے ڈھیر سارے کام ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔” بریرہ بہت جلدی میں تھی ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کیا افطار پارٹی ہے گھر میں جس کی خاطر اتنا اہتمام کیا جا رہا ہے ” ، سمرہ نے کہا ارے نہی آپی آپ تو جانتی ہیں کہ میرے سسرال والے کتنے خوش خوراک ہیں ، یہاں افطاری ہیوی (heavy)ہی کرنے کا رواج ہے ،،،،،،روزانہ نئے سے نئے پکوان پکانے پڑتے ہیں ،آدھا دن تو باورچی خانے کی نظر ہو جاتا ہے ۔۔” بریرہ نے بوجھل سے لہجے میں جواب دیا !!!

” لیکن میری پیاری بہن ان ڈشیز میں تو cream (بالائ )اور پنیر cheeseکا کافی زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ،ور پورے دن کے روزے کے بعد اسقدر ثقیل پکوان کھانے سے معدہ انہیں برداشت نہی کر پاتا اور پھر پیٹ درد اور گیس ،بد ہضمی وغیرہ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ،،،،،،” سمرہ ۔ے بہت پیار سے چھوٹی بہن کو سمجھایا۔۔۔دونوں بہنوں کی آپس میں بہت اچھی زہنی مطابقت تھی ،،سمرہ سات سال بڑی ہونے کے ساتھ سمجھدار بھی بہت تھی ، ۔۔۔۔بریرہ کی شادی اسی سال ہوئ تھی اور اس کے سسرال میں اس کا یہ پہلا رمضان تھا،اسی لیے وہ اپنی طرف سے افطاری کے انتظامات میں کوئ کسر اٹھا نہیں رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔

سمرہ آپی آپ کو نہی پتہ ایک بہت بڑی پرابلم بھی ہے ،،،، میری جٹھانی نے بہت سارے “کوکنگ کورسیز ” کر رکھے ہیں ،ہم دونوں کی باری طے ہے ،ایک دن وہ افطاری کا اہتمام کرتی ہیں اور دوسرے دن سب مجھے کرنا ہوتاہے ،،،اگر میں نے ان کی طرح ڈھیروں ڈشیز نہ بنائیں تو میری” ویلیو ڈائون ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔” اوہو،، بریرہ یہ تو اور بھی بری بات ہے کہ تم افطاری جیسا باعث برکت کام اپنی جٹھانی سے مقابلے کی نیت سے کرو گی ” سمرہ اپنی بہن کی بات سن کر خفا ہوگئیں ،” ارے آپی وہ تو میں نے ویسے ہی کہ دیا تھا ،اصل میں تو مجھے اپنے شوہر صاحب کی خاطر زیادہ اہتمام کرنا پڑتا ہے کیونکہ جب تک تین چار قسم کے پکوان نہ ہوں انہیں کھانے میں لطف نہں آتا ۔۔۔

اب بریرہ نے دبے ہوئے شکایت بھرے لہجے میں کہا ” میری پیاری بہن ہمارے لیے تو رہنمائ کے لیے ہمارے آقائے دوجہان ّ ہیں اور کیا آپ نہی جانتی ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر کبھی دوطرح کے سالن اکٹھے نہ کھائے تھے ،، آپؐ کی خوراک بہت سادہ تھی ،بعض اوقات تو صرف کھجور اور دودھ سے روزہ افطار کرتے تھے ” ہمیں آپّ کی ان سنتوں کو بھی اپنانا چاہیےسمرہ آپی نے دھیمے لہجے میں بہن کو سمجھایا ۔۔۔۔۔ آپی یہ تو نا ممکن ہے ،میرے سسرال میں تو عام دنوں میں بھی کھانے پینے کے اہتمام کا رواج ہے تو پھر بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں سادہ افطاری کریں ؟؟؟

بریرہ نے پریشان لہجے میں سوال کیا ۔۔۔ میری پیاری بہن ہمارا اصل مسلۂ یہی ہے کہ ہم نے کھانے پںنے کو اپنی زندگیوں میں اس طرح سے حاوی کر لیا ہے کہ لگتا یہ ہے کہ بس سب سے زیادہ اہم اورضروری کام کھانا ہی ہے۔۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہی ہے، صحت کے اصولوں اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جب تک بھوک نہ لگے کھانا نہی کھانا چاہیے اور معدے میں ایک حصہ پانی اور ایک حصہ سانس کا بھی چھوڑ کر کھانا چاہیے”…روزے کی حالت میں انسان کی روحانی طاقت کو تقویت ملتی ہے اور ہم دلجمعئ سے عبادات کرتے ہیں . ۔۔۔مگر جب ہم افطار میں ڈھیروں خوراک ،فرائ اشیاء اور مشروبات سے شکم بھر لیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بوجھل ہو کر عبادات بھی ٹھیک طرح سے انجام نہی دے پاتے …۔

سمرہ نے اپنی بہن کو تفصیل سے سمجھا یا ۔۔سمرہ آپی میں آپ کی بات اچھی طرح سمجھ گئ ہوں ،آپ نے بلکل درست کہا ہے باورچی خانے میں اتنا زیادہ کام کرنے سے تھکن کے باعث میں بھر پور عبادت بھی نہی کر پا رہی ہوں ۔۔۔پر میں کیا کر سکتی ہوں ،آپ ہی مشورہ دیں ۔” بریرہ نے فرمابردادی سے اپنی آپی سے کہا ،،،سب سے پہلے تو جٹھانی سے مقابلے والی بات زہن سے نکال دو افطاری بنانا بہت ثواب کا کام ہے،ہم عورتیں اپنے گھر کے روزے داروں کے لیے اہتمام کرتی ہیں ان کا روزہ کھلواتی ہیں اللہ تعالی نے اس کااجر بھی ہمیں دینا ہے ،کیونکہ اہل خانہ کا ضروریات کا خیال رکھنا ہم پر فرض ہے …..آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضااور خوشنودی کے حصول کو ہی مد نظر رکھیں ۔

اس کے علاوہ جہاں تک خوش خوراکی یا زائد خوراکی کا تعلق ہے تو اس کے لیے صبر اور استقامت سے محنت کرنی ہوگی ،سمرہ نے کہا ” جی بالکل آپی آپ مجھے بتائیں مجھے کیا کرنا ہوگا ۔۔۔” بریرہ نے پرجوش لہجے میں کہا ……..” میری پیاری بہن اس کے لیے آپ کو آج ہی سے یہ کام شروع کرنا ہے کہ کھانے سے متعلق سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی اہمیت ، افادیت اور برکت کا شعور گھر والوں میں اجا گر کر نا شروع کردیں ، اور ان پر عمل کرنے کی ترغیب دیں ، یہ آسان کام نہی پر ناممکن بھی نہی ہے ، ۔۔۔ہم مسلمان ہیں اور ہم سب اپنے نبی ّ سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں ، اور آپّ کی ہر سنت ہمیں دل و جان سے عزیز ہے …اور اچھا مومن وہی ہے جو دوسروں کو بہترین مشورہ دے اور انکی بہترین رہنمائ کرے ۔

یہ کام آپ کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ ثابت ہوگا ……”سمرہ نے بہن کو تفصیل سے سمجھایا ،،ضرور سمرہ آپی میں پوری کوشش کر کے “سنت رسول ” اپنے سسرال مںں اجاگر کروں گی ۔۔۔” بریرہ نے پر عظم لہجے میں کہا ” ” شاباش میری پیاری بہن مجھے تم سے یہی توقع تھی ۔۔۔، اور ہاں یہ یاد رکھنا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نرم خو تھے ، وہ حکمت وسلیقہ کے ساتھ نہایت اپنائیت اور خیر خواہی کے جزبے سے مد مقابل کی اصلاح کرتے تھے ” سمرہ نے پیار سے اپنی بہن کو تبلیغ کا اہم نکتہ سمجھا تے ہوئے کہا ,.” انشا ء اللّٰہ ” ضرور …….آپی اب فون بند کر تی ہوں…. جزاک اللّہ خیرا” کثیرا “،اللہ حافظ.. میری پیاری بہن”، اور سمرہ مطمئن دل کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت میں دوبارہ مشغول ہو گئ !

جواب چھوڑ دیں