عالمی وبا پر وزیراعظم کا مثبت ردعمل

کوروناوائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔دنیا بھر میں گیارہ لاکھ سے زیادہ لوگ اس موذی وبا کا شکار ہوئے ہیں، یہ وائرس ساٹھ ہزار جانوں کو نگل چکا ہے، وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے دنیا لاک ڈاؤن کی طرف جا چکی ہے، لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، جہاں غریب بھوک سے رو رہا ہے وہاں مڈل کلاس بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔سب سے بری حالت ان دہاڑی داراور روزانہ مزدوری کرنے والے لوگوں کی ہے، کیوں کہ ان کا گھر تو روزانہ کی کمائی پر چلتا تھا، مگر اب ان کے گھروں میں فاقے کی نوبت ہے۔

ان حالات میں کورونا سے جنگ پاکستان کے لئے ایک بڑا چیلنج تھا۔جہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک گھٹنے ٹیک چکے ہیں،اسی کورونا کے سامنے پاکستانیوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا سے کم ترین کورونا متاثرین پاکستان میں ہیں۔جن میں بہت سے مریض صحت مند بھی ہوئے ہیں ۔اس پر حکومت پاکستان کو کریڈٹ دینا ہوگا، جنہوں نے چند ایک غلطیوں کے بعد بہرحال بہتر لائحہ عمل سے کنٹرول کر رکھا ہے۔ایک جانب ڈوبتی ہوئی معیشت،سیاسی بحران اور نا اہل ٹیم کے ساتھ عمران خان نے بڑی محنت اور جانفشانی سے کورونا وائرس کے پھیلتے دائرے کو کم سے کم کیا ہے۔عوام نے بھی حکومتی سیکورٹی اقدامات پر ریاستی اداروں اور ان کے اہکاروں سے مکمل تعاون کیا ہے ۔

ویسے کورونا مثبت مریضوں کا علاج ہسپتالوں میں جاری ہے۔کورونا وائرس کے خلاف لڑائی ابھی جیتی تو نہیں گئی،لیکن اب تک جو کامیابیاں ملی ہیں،اس میں عمران خان کا بڑا ہاتھ ہے۔انہوں نے محدود وسائل کے باوجود چند ایسے اقدام اٹھائے ہیں،جن کی وجہ سے عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔کورونا وائرس کی وبا کا قہرصرف متوسط طبقہ کے لئے وبال جان نہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والے بڑی تعداد میں وہ لوگ جو مفلسی اور قلاش زندگی گزار رہے ہیں ان کے لئے عذاب جاں ہے ۔اب دیکھا یہ ہے کہ ریاستی اور حکومتی سطح پر اہم فیصلے اور ان پر عمل در آمد کب تک ہو گا۔دہائیوں سے کرۂ ارض پر غیر منصفانہ عدم مساوات نے جو تباہی مچارکھی ہے اس نے غریب کے کمزور ذریعہ معاش کو تباہ و برباد کر کے رکھا تھا۔ایسے میں انہیں وبا نے آ دبوچ لیا،جس سے رہی سہی کثر پوری ہو گئی۔

پہلے تو حکومت نے وائرس کی پیش رفت کو روکنے کے لئے چند اقدامات اٹھائے ،جن میں لوگوں کو احتیاطی تدابیر کرنے کا کہا گیا، جیسے گھر میں رہیں ،سماجی فاصلہ رکھیں، بار بار ہاتھ دھوئیں ،گرم پانی پینے ،بھاپ لینے ،ماسک پہننے وغیرہ کا اہتمام کیا جائے۔اب تو تحقیق سے  پتہ چلا ہے کہ  سانس اور گفتگو سے بھی کورونا ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں میڈیا نے حکومت  کا بھرپور ساتھ  دیا۔(ویسے میڈیا نے خاص طور پر اس حکومت کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے ،لیکن پھر بھی عمران خان کی میڈیا سے بے جا ناراضگی قائم رہی ہے ۔میڈیا پر بار بار وار کیا گیا، اسے کنٹرول کرنے کی بھرپور کوششیں ہوئی ہیں،یہاں تک کہ آزادی صحافت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے ،کیوں کہ تنقید عمران خان کو برداشت نہیں ہے)۔

ایک وقت پر لاک ڈائون کی باتیں ہوئیں ،جسے عمران خان نے نا پسند کیا تھا،کیوں کہ انہیں اندازہ تھا کہ ریاست غریب لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کو سنبھالنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ،لیکن دنیا بھر کے ممالک کی صورت حال اور اندرونی و بیرونی دبائو میں چودہ دن کا لاک ڈائون کرنا پڑا۔لیکن لاک ڈائون کا حکم دیتے ہوئے حکومت نے کروڑوں مفلس لوگوں کے متعلق کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا۔جو دو وقت کی روٹی کے لئے مزدوری تلاش کرتے ہیں،ان کی یومیہ آمدنی اتنی کم ہوتی ہے کہ اس سے مشکل سے بیوی بچوں کو سوکھی روٹی نصیب ہوتی ہے۔

ایسے میں لوگوں سے حکومت توقع کرتی ہے کہ وہ متعدی مرض کے پھیلائو کو روکنے میں رضا کارانہ طور پر ان کی مدد کریں ۔فاقے کریں،ان کے بچے بھوک سے مر جائیں،مگر وہ گھروں میں بیٹھے رہیں ۔یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے؟حکمرانوں کی صرف لاک ڈائون کی حکمت عملی پر عوام کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے،لوگ ذہنی طور پر تھک چکے ہیں،ان میں مزید قید اور بھوکے مرنے کی سکت نہیں رہی ہے۔حکومت عوام کو واضح ریلیف دے اور کورونا کے علاج کی نا گزیر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ٰبے جا خوف و ہراس پھیلاکر کورونا کے انسانی مسئلہ کو سیاست کی نذر کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا۔یہ وقت اتحاد کی اعلیٰ مثال بننے اور مل جل کر کام کرنے کا ہے۔

اب اگر کورونا وائرس کی وبا سے نبٹنے کے لئے اپنے نظام صحت کی طرف طائرانہ نظر ڈالیں ۔تو دنیا کا کم ترین صحت کا بجٹ پاکستان کا ہے،ملک کے کسی شہر میں مکمل طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔وبائی امراض سے کیا مقابلہ کرنا عام بیماریوں سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔یہ صرف موجودہ حکومت کی غلطی نہیں بلکہ ماضی کی کسی حکومت نے بھی ہیلتھ انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے۔غریبوں کے تحفط ،ان کے روزگاراور خوراک کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔کیوں کہ حکمرانوں کی ترجیحات میں لوٹ کھسوٹ اور ذاتی مفادات اوّل رہے ہیں ۔پاکستان میں اس صورت حال کی اصلاح کے لئے عزم مصمم کی ضرورت ہے۔حکمرانوں کو رحم دل ،عادل و منصف اور مساوات کا امین بننے کی ضرورت ہے۔

یہ وقت متحد ہو کر اس مشکل ترین گھڑی میں ملک اور خاص طور پر غریب،مفلس لوگوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کی مدد کرنا ہو گی۔اس کام کے لئے ہر شعبہ ہائے زندگی کے معتبر شخصیات کو سامنے آنا چاہیے ۔صرف عمران خان یا ریاست کا ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کا فرض بنتا ہے جو صاحب استعاعت ہے۔یہ وقت اللہ تعالیٰ سے کاروبار کرنے کا ہے۔اس کاروبار میں کبھی نقصان نہیں ہوسکتا بلکہ دنیا و آخرت میں فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔ہر کسی کو اپنی طاقت کے مطابق نیک جذبات کا اظہار کھل کر کرنا چاہیے ۔کیوں کہ ہم جس دلدل میں پھنس چکے ہیں اس سے نکلنے کا صرف یہی حل ہے کہ انسانیت کی مدد کی جائے۔

ہم نے اللہ پاک کی نافرمانیوں کو وتیرہ بنا رکھا تھا،زمین کو فساد سے بھر دیا تھا،امن سکون ختم ہو کر رہ گیا تھا،ہرطرف خوف ،دہشت اور موت منڈلاتی دکھائی دیتی تھی۔شاید یہی وجہ بنی کہ قدرت نے ایسی وبا کو دنیا پر مسلط کردیا،تاکہ لوگ گناہوں سے بازآجائیں ،توبہ کر لیں ،اپنی بد اعمالیوں پر نادم ہو ں۔اللہ رب العزت رحمٰن اور رحیم ہے ۔اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ہم خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ۔وہ آخری لمحے تک معافی کا در کھلا رکھتا ہے۔اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ہمیں اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کی توبہ کرنا ہو گی، یہی واحد حل ہے۔

جواب چھوڑ دیں