دین کا مذاق اڑاتی رمضان ٹرانسمیشن

رمضان کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ جسمیں ہر ایک فرض کے ادا کرنے پر ستر( ۷۰) گنا زیادہ اجر ہے جبکہ نفل کا ثواب فرض کے برابر ہے اور روزے کی الگ ہئ فضیلت اور ثواب ہے جسکا ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ ہر عبادت کا غرض کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا بھی کئ گنا زیادہ اجر ہے۔اللہ سبحانہ وتعالی اس ماہ مقدس میں خاص اپنی رحمتوں کے دروازے کھولتا ہے۔ جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
                   ادا ایک فرض کرنے پر اجر ستر کا ملتا ہے      عمل کا بیج لگتے ہئ اجر کا پھول کھلتا ہے
انسان نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں اسے نیکی لکھ لیا جاتا ہے صرف ارادے اور نیت پر۔ کتنا مہربان ہے وہ رب جو ہمیں اتنا مبارک مہینہ عطا کرتا ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ رمضان مہمان ہے لیکن درحقیقت مہمان تو انسان ہے رمضان تو تا قیامت اپنے رب کے حکم سے اتے رہیں گے مگر انسان چلے جائیں گے کتنے ہئ لوگ ہیں جو پچھلے رمضان میں ہمارے ساتھ تھے مگر اب دنیا میں نہیں رہے۔
اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اتنا رحمتوں اور برکتوں  والا مہینہ عطا کرتا ہے اور صرف یہئ نہیں اس مہینے کے اختتام پر روزہ داروں کیلئے انعام کے طور پر عید الفطر کا مہینہ بھی اتا ہے جسے شرعی حدود میں رہتے ہوئے منانا ہر مسلمان کے لیے باعث مسرت و راحت ہے۔اللہ کا احسان ہے کہ اسنے رمضان عطا کیا لیکن کیا ہم اس مہمان کا حق اچھے سے ادا کرتے ہیں؟ کیا اس مہینے کو وہئ احترام دیا جاتا ہے جسکا یہ حق دار ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان اتا ہے تو اسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دی جاتا ہے (صصحیح بخاری۔۱۸۹۹)
مندرجہ بالا حدیث میں فرمایا گیا کہ شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں لیکن اپنے اندر جھانک کر دیکھیں تو کیا واقعی ہم اپنے اندر کے شیطان (نفس)کو بھی جکڑ دیتے ہیں یا پھر یہ اور سرکش ہوجاتا ہے؟ہمارے اندر کا شیطان ہے جسے ہمیں جکڑنا ہے۔ کیونکہ اللہ نے تو رمضان میں شیطان کو جکڑدیاممگر جاتے جاتے یہ شیاطین اپنے چیلے اس دنیا میں چھوڑ جاتے ہیں اور ان میں سر فہرست ہے ٹی وی ہر سال رمضان ٹرانسمیشن کے نام پرایسی خرافات و بےحیائی دیکھائ جاتی ہے جسے دیکھ کر شیطان بھی شرماجائےنام رمضان کا ہے تو پروگرام بھی رمضان کے شیان شان ہونا چاہیے ہے یعنی کہ دین سے متعلق پروگرام ہوں جسمیں مستند علماء و مفتیان کرام شامل ہوں۔
مگر ہوتا اسکا الٹ ہے نام رمضان کا ہوتا ہے اور اسمیں کام شیطان کے، پورے دو تین گھنٹے کی خرافات، ہلڑ بازی ،کھیل تفریح کے بعد ایک ادھ گھنٹہ دین جے نام پر دیکھا کر سمجھتے ہیں کہ ذمہ داری پوری ہوگئ اور پروگرام دیکھنے والی عوام بھی ان کے ہاتھوں بے وقوف بن جاتی ہے کہ جیسے یہ پروگرام دیکھ کر کوئ نیکی کرلی ہو۔
جبکہ وہ نام نہاد دینی سیگمنٹ بھی دین کا مذاق اڑاتا نظر اتا ہے۔میک اپ سے سجی ماڈلز اور ادکارائیں کسی باشرع علماء کے سامنے بیٹھ کرسوال جواب کرتی ہیں کیا وہ انکی محرم ہیں جو اسےان کے سامنےلا کر بٹھادیا؟؟؟جب انگریزی پڑھنے کے لیے انسان انگریزی کے ہئ استاد کے پاس ہئ جاتا ہے ،بیماد اپنا علاج کرانے ڈاکٹر ہئ کے پاس جاتا ہے نہ کہ وکیل کے پاس کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وکیل کے پاس اس کا مرض تشخیص کرنے کی صلاحیت نہیں ہے بیماری کاعلاج ڈاکٹر ہئ بتا سکتا ہےتو دین کے معاملے میں اتنی لاپرواہی کیوں ؟ کیا دین اتنا غیر اہم معاملہ ہے کہ اسے کسی بھی اناڑی کے حوالے کردیا جائے؟یہ تو گویا دین کی تذلیل اور مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
رمضان کے  پروگرام رمضان اور قرآن و احادیث کے حوالے سے ہی ہونے چاہییں ہیں نہ کہ گیم شو اور کھیل  تفریح  اور  بجائے ادکاراوں اور ماڈلز کے مرد اینکرز ہوں اور علماء اور ماہر عالم دین کے ساتھ مل کر ایسے پروگرام کریں جو رمضان کے تقدس کو برقرار رکھیں۔

جواب چھوڑ دیں