بھوک کا وائرس

اللہ بخش دیہاڑی دار مزدور تھا۔ روز کماتا اور روز کھاتا تھا، 6 چھوٹے چھوٹے معصوم بچے روز صبح اپنے باپ کو جاتا دیکھتے اور شام کو امید بھری نظروں سے دروازے کی طرف دیکھتے رہتے۔ بچے ہی کیا اب تو اس کی بیوی بھی امید سے تھی، گھر میں ساتویں بچے کی ولادت ہونے والی تھی۔ اللہ بخش فکر مند تھا، لیکن پریشان نہ تھا۔

پرندے بھی تو روز ہی اپنے ٹھکانوں سے نکلتے ہیں اور پھر اللہ انکی چونچوں اور پیٹوں کو بھی بھر کر ہی واپس بھیجتا ہے۔ اسے بھی اپنے زور بازو پر پورا بھروسہ اوراللہ کی ذات پر کامل یقین تھا۔ روزانہ گھر واپس جاتے ہوئے 50 روپے کا دودھ، 20 روپے کی پتی، 30 روپے کا آٹا اور کبھی کبھار تھوڑے بہت پھل فروٹ یا پھر کھانے کی کوئی چیز لیتا ہوا چلا جاتا۔

26 فروری 2020 کو پاکستان میں پہلا کروناوائرس کا کیس رپورٹ ہوا۔ اللہ بخش کا کورونا سے کیا لینا دینا تھا، اسے تو صبح جانا، دن بھر اپنے بچوں کے چہروں کو یاد کرنا، ماتھے سے پسینہ پونچھنا اور پھر مسکراتے ہوئے اپنے کام میں لگ جانا۔ اس کو تو صرف ایک ہی وائرس کا معلوم تھا اور اسے “بھوک”  کہتے ہیں، اور یہ بھی لگنے والا وائرس ہی ہوتا ہے۔ باپ سے اولاد کو اور شوہر سے بیوی کو لگنے والا وائرس۔

 دنیا میں ایک یہی وہ وائرس ہے جو انسان سے ہر کام کروا لیتا ہے۔ ویتنام میں لوگ کتے “روسٹ” کر کے کھاتے ہیں، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ امریکا اور ویتنام کی جنگ میں جب کھانے کے لئے کچھ بھی نہ تھا تو کتے  کاٹ کر کھا لیتے تھے اور اب وہ ایک “ڈش” کے طور پر وہاں موجود ہے۔

بہرحال آج 35 دن ہوچکے تھے، اللہ بخش مسلسل گھر پر تھا۔ بچے تو شاید خوش تھے کہ باپ گھر پر ہے لیکن میاں بیوی سخت پریشان تھے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ صغریٰ کی طبیعت بگڑ رہی تھی۔ صغریٰ اب اکیلی جان نہیں تھی، اس کے ساتھ مزید ایک اورجان لگ چکی تھی لیکن یہاں تواس کی اپنی جان کے ہی لالے پڑ گئے تھے۔ اللہ بخش کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔

کچھ نہ کچھ کرکے اس نے ایک وقت کی روٹی کے ذریعےسے اس زندگی کے دھاگے کو مضبوطی سے تھام رکھا  تھا۔ ہرآنے والےدن کے ساتھ گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہورہا تھا لیکن وہ بےچاری 30 سالہ کمزور اور لاغر عورت شاید صرف ایک وقت کی روٹی پر گزارا نہیں کر پا رہی تھی۔

 بالآخر 20 اپریل کو صغری بی بی اپنے چھ بچوں کو دنیا میں اور ایک کو اپنے پیٹ میں لے کر کورونا کی وجہ سے موجود “بھوک” کےوائرس کے ہاتھوں اس دارفانی سے کوچ کرگئی۔ اللہ بخش میرپورخاص میں موجود تحصیل جھڈو میں اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا کہ میری بیوی “بھوک” کے وائرس سے مر گئی ہے لیکن میرے پاس اس کو کفنانے اور دفنانے تک کہ پیسے نہیں ہیں۔

محلے والے خود بھی اسی کی طرح غریب تھے اوراس کے درد کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے،کسی طرح انہوں نے پیسے جمع کرکے بخشو کی بیوی کے کفن دفن کا انتظام کیا اور دوبارہ “کورونا”سے بچنے کے لیے اپنے اپنے گھروں پر چلے گئے۔

آپ یقین کریں یہ سارا “افسانہ” اوراس کا درد ہم جیسے پیٹ بھروں کو کبھی بھی سمجھ نہیں آ سکتا۔ جو لوگ اپنے گھروں میں تین وقت اپنی “پسند” کا فرمائشی کھانا پکواکر کھا رہے ہوں، جو صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ چگتے رہتے ہوں، گپے مارکر، کولڈرنکس اور چائے  پی پی  کررات دیر سے سوتے ہوں اور دوپہر تک اپنا بستر توڑتے ہوں اور جن کو یہ  تک سمجھ نہ آئے کہ کیا کھایا جائے اور کیا بچایا جائے، ان کو اس تکلیف کا احساس کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔

 ویسے تو اس ملک میں غریبوں کو ان حالات میں جو کچھ بھی مل رہا ہے وہ اس ملک کے مخیر عوام سے ہی مل رہا حکومت  صرف تقریروں اور کاروبار زندگی کو معطل کرنے میں مصروف ہے۔ اس سلسلے  میں وفاقی حکومت کا “احساس “پروگرام کسی حد تک غریبوں کا مداوا کررہا ہے لیکن یہ بھی بہت معمولی رقم ہے، اگرچہ اس پروگرام میں کرپشن کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔

لیکن اس سے بھی زیادہ  فکرمندی کی بات یہ ہے کہ  پھر بھی ایک بہت بڑی تعداد مستحقین کی ایسی ہے جس کو یقینا اس سروس میں”نااہل” قرار دے دیا گیا۔ اس ساری صورتحال میں اصل المیہ تو یہ ہے کہ “مستحق” کی تعریف بھی بدل چکی ہے اور احساس پروگرام میں صرف وہی لوگ مستحق بن پارہے ہیں جو  شاید خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

احساس پروگرام کا آن لائن سرورجوکہ نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہے اوراس کے ذریعے سے ہر شناختی کارڈ رکھنے والے کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کو خودکار ذریعے سے چیک کرتا ہے اور پھراس کے اہل نا اہل ہونے کا فیصلہ سناتا ہے۔ وہ شخص جو دو مہینے پہلے تک نوکری پر تھا، دوکان پرملازم تھا یا چھوٹی موٹی دوکان چلاتا تھا اب وہ “مستحق” بن چکا ہے لیکن احساس پروگرام اس حوالے سے “بےحس” ہے۔

 عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی ریکارڈ 30 سال کی کم ترین سطح پر آچکی ہیں۔ اسوقت تیل 11 ڈالر فی بیرل ہوچکا ہےاور اس لحاط سے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں ناصرف قابل ذکر حد تک کمی ہونی چاہئیے بلکہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے  حکومت کو دو مہینے کے بجلی کے بل معاف بھی  کردینے چاہئیے۔

اس سلسلے میں آپ “دلی ماڈل” بھی کاپی کرسکتے ہیں جس طرح اروند کیجروال نے 200 یونٹس والے تمام لوگوں کے بل معاف کررکھے ہیں اور400 یونٹس والوں کے بل آدھے کردئیے ہیں ویسے تو”دلی سرکار” نے یہ فارمولہ عام حالات میں لگا رکھا ہے لیکن آپ مہربانی کرکے کم ازکم دو مہینوں کے لئیے  یہ فارمولہ ضرور نافذ  کردیں۔ اصولی طور پر تو اس وقت پیٹرول کی قیمت بھی30 روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیے لیکن پھر بھی حکومت کو تیل کی قیمتیں 50 روپے تک ضرور لانی چاہئیے۔

 بہرحال ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ملک میں مردم شماری کروائی گئی تھی حکومت کے پاس تو سارے ملک کا ڈیٹا ہوگا کہ کس گھر میں کون دیہاڑی  داررہتا ہے ،  کون تنخواہ دار  اورکس کے کتنے بچے ہیں؟  اس ریکارڈ کو  ہی استعمال کرلیں ۔ یہ وقت خان صاحب اور ان کی ٹیم کی آزمائش کا بھی ہے، یہ آپ کے پاس سنہری موقع ہے کہ آپ اس ملک میں ” فلاحی ریاست” کا تصور کسی درجے میں تو پیش کردیں۔

ورنہ دوسری صورت اس ملک کے فلاحی ادارے ہیں ،آپ راشن بیگز انھیں بانٹ دیں۔ ہر علاقے، تحصیل، ڈسٹرکٹ شہر اور گاؤں میں وہاں کی کسی  بھی فعال رفاہی تنظیم(الخدمت، سیلانی، ایدھی) کے حوالے راشن بیگز کر دیں اور تقسیم کروانے کے لیے وہاں کی مقامی حکومتی مشینری کا استعمال کیا جائے ۔ اس سلسلے میں مقامی مسجد، مندر اورگرجا گھروں میں وہاں کےآئمہ کرام،  پنڈتوں اور پادریوں کو راشن بیگز فراہم کردئیے جائیں  تاکہ ضرورت مند آدمی اپنی عزت نفس کو برقرار رکھے اور خاموشی سے جا کر اپنے علاقے کی مسجد سے اپنا راشن لے لے۔

یہ بھی اللہ کا کرم ہے کہ پاکستان میں اس مرض کی شدت اور پھیلاؤ بےانتہا کم ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ  ایران کےعلاوہ  پورے عالم اسلام میں اس مرض کی شدت  وہ نہیں ہے جو یورپ اور امریکا میں ہے ، اور اس کی بہت بڑی وجہ پاکی کا خیال اور فطری تعلقات ہیں۔ وفاقی حکومت عموماً اور حکومت سندھ کو خصوصاً  لوک ڈاؤن میں بھی نرمی کرنے کی ضرورت ہے اورانہی حالات میں کیا ویسے بھی ہرقسم کے کاروبار کیلئے فجر سے شام 5 بجے تک کا وقت مقرر کر دیا جائے اس سے نہ صرف حالات قابو میں رہیں گے بلکہ لامحالہ لوگوں کےوقت اور رزق دونوں میں برکت بھی پیدا ہو جائے گی۔

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں