مسلم معاشرہ عورت کے حقوق کا محافظ

ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اس دور میں دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے نیٹ سرچنگ اور شیئرنگ کے ذریعے مخصوص موقع پر مختلف اقوام کے رسومات، کلچر اور روایات ہر چیز دنیا کے سامنے آچکی ہے۔ چند صدیوں پہلے دنیا گھوم کر مختلف ممالک کے سفر نامے تحریر کرنا انسانیت کی خدمت تھی اور ایسے افراد کا تاریخ میں بہت بڑا نام بھی تھا اب یہ کام بھی انٹرنیٹ کے ذمے ہے۔

2001ء میں جب ٹوئن ٹاور پر حملہ ہوا اور اس کے نتیجے میں مسلمان قوم پر دہشت گردی کا لیبل لگایا گیا اسوقت انٹرنیٹ پرلفظ اسلام اور مسلمان گوگل سرچنگ پر سرفہرست رہے پوری دنیا کے انسانوں کو اسلام اور مسلمانوں کو جاننے کا موقع فراہم ہوا۔

انٹرنیٹ کے ذریعے قومیں اپنی تہذیب اور طرز معاشرت کے ذریعےدوسری قوموں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اگر اسلامی تہذیب کی بات کی جائے تو اس کی بنیاد وحدانیت پر ہےاسکا عقیدہ و نظریہ اور طریقہ شریعت محمدی کی بنیاد پر قائم ہے اور آج اسلامی معاشرے کا قیام مسلم ممالک کی اولین ضرورت ہے۔

جب مسلمانوں نے للہیت چھوڑ کر مادیت پرستی اختیار کی تو غیر مسلم تہذیب و تمدن کے اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے مسلم حکمران بےراہ روی کا شکار ہوئے اور شاندار تاریخ رکھنے والی مسلم سلطنتیں زوال پذیر ہوئیں جسکے نتیجے میں دنیا کے رہنے والے مسلمان مغربی تہذیب کے زیر اثر آگئے یا یوں کہہ لیں کہ مغربی تہذیب کے غلام بن گئے۔

مغربی سکالرز نے مغربی تہذیب کا غلبہ صدیوں پر محیط رکھنے کے لیے لانگ ٹرم پلاننگ کی اور مسلمانوں پر اپنا نصاب تعلیم مسلط کیا۔ تعلیمی اداروں اور دفتری زبان کو انگریزی سے تبدیل کیا گیا۔ انگریزوں نے اسوقت مغلیہ سلطنت کا تختہ الٹا۔مغلیہ سلطنت کے خاتمے سے لاکھوں خاندان متاثر ہوئے اور اس کے نتیجے میں بے شمار عورتیں اور بچیاں بےگھر ہوئیں اور قرآن بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب ملکہ سبا کہتی ہیں کہ بادشاہ جب کسی ملک پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے عزت داروں کو ذلیل و خوار کر دیتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں بھی یہی کچھ ہوا۔ ان بےکس اور مجبور عورتوں کو قحبہ گری کے لیے استعمال کیا گیا اور پھر انہیں عورتوں کے ذریعے فلم، آرٹ اور کلچر کی صنعت کو فروغ حاصل ہوا۔ ساتھ ہی مغربی کلچر کو فروغ حاصل ہوا۔ مغرب کی عورت کو آزاد اور با اختیار دکھایا گیا کہ کیسے وہ گھر کی ذمہ داری سے بے پرواہ مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبے میں فرائض سرانجام دے رہی ہیں لیکن یہ سب نظر کا دھوکہ تھا۔

اگر اس وقت کی انگریزی فلموں پر نظر ڈالی جائیں جو غالبا پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں بنائی گئی تھیں اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے ہے کہ ان فلموں میں ادھورے لباس پہنی عورتیں میدان جنگ میں جانے والے اپنے فوجی مردوں کو یونیفارم پہناتی اور اتارتی نظر آتی ہیں یعنی وہاں کی عورت بھی مرد کے زیر اثر ہی تھی۔

ڈراما آرٹ اور کلچر کے ذریعے انگریزوں نے مسلم معاشرے میں بے حیائی کاطوفان برپا کردیا اور مسلم معاشرے انگریزوں کے زیر اثر ہونے کے باعث کے اس کلچر کو اپنانے لگے۔ پھر انگریز تو دنیا بھر سے چلے گئے۔ مگر عورت کی آزادی اور فیمنزم کے نعرے کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے گئے بلکہ اس کو نیا رنگ دیا گیا کہ مسلم معاشرے کی عورت جاگ چکی ہے اسے بھی آزادی چاہئے اسے بھی مردوں کے برابر حقوق چاہییں جبکہ اسلام عورت کو مردوں سے زیادہ حقوق فراہم کرتا ہے اگر وہ جانےتو۔

اسلام نے عورت کو چار مردوں کے حصار میں رکھا ہے اسے نکاح کی صورت میں نان نفقہ اور تحفظ فراہم کرتا ہے، مہر، حق وراثت اور حق ملکیت کی صورت میں مال فراہم کرتا ہے۔تعلیم، حق رائے آزادی اور خلع کے حقوق دیتا ہے۔ ہے کوئی معاشرہ جو آج عورتوں کو اتنے حقوق فراہم کرتا ہو۔ مغربی معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کی عورت تنہا ہے اس کے پاس کچھ نہیں۔ میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگانے والی ایک بات سمجھ لیں کہ ان کی جگہ مسلم معاشرے میں ہرگز نہیں۔

عورتوں کے مخصوص دن کیٹ واک کرکے،چار ٹی وی چینلز پر طوفان بدتمیزی مچا کر اگر وہ یہ سمجھ رہی ہیں کہ پاکستانی معاشرے کی عورت کی آواز بن جائیں گی تو یہ ان کی بھول ہے۔ وہ مغرب کی عورت سے سبق حاصل کریں جو تنہائی رہ چکی ہے۔ اس کا اپنے جسم کے علاوہ کسی پر کوئی اختیار نہیں اس کے پاس گھر ہے نہ شوہر ہے نہ اولاد ہے نہ بھرا پورا خاندان ہے۔

جبکہ اسلامی معاشرے کی عورت کے پاس آج سب کچھ ہے۔ مسلم معاشرے کا مرد آج بھی اپنی 75 سالہ ماں سے ڈرتا ہے اس کی عزت کرتا ہے اس کی ایک آواز پر دوڑا چلا جاتا ہے پھر اپنی چھ سالہ بیٹی سے ڈرتا ہے ہے اس کی ہر ادا پر خوش ہوتا ہے اس سے محبت کرتا ہے اپنے خاندان کی بڑی بوڑھی عورتوں کی عزت کرتا ہے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہے۔

سیرت پاک سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب حضرت علی کی والدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا انتقال فرماتی ہیں تو حضرت علی اپنی چادر کفن کے لیے دیتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے قبر کو صاف کرتے ہیں پھر قبر میں لیٹ کر اطمینان کرتے ہیں کہیں کوئی جھنکار تو نہیں رہ گیا۔ آج مغرب کے علمبردار جو عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں ان میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی ماں کی قبر میں لیٹنے اور ان کی قبر کو صاف کرنے کے لیے تیار ہو۔ کیا یہ اپنی عورتوں کو اس طرح کی عزت دے سکتے ہیں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے عورت کو دی۔

مغربی ممالک میں بیٹا دس سال تک اولڈ ہاؤس میں پڑی اپنی ماں سے ملنے تک نہیں جاتا یہی وجہ ہے کہ مغرب میں مدرز ڈے اور فادرز ڈے منایا جاتا ہے یہ حال ہے مغرب کا ۔اگر ہماری مشرقی روایات کا اور مغربی معاشرے کا موازنہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ جو عزت معاشرے میں عورت کو اسلام نے دی وہ کسی صورت مغرب نہیں دے سکتا۔

جبکہ مغرب عورت کو چوراہے میں لا کر اسے مردوں کے کام کروا کر اسے مصنوعی مرد تو بنا سکتا ہے مگر اسے عزت و وقار کسی صورت نہیں دے سکتا وہ عزت و وقار جو ایک مسلم عورت کو مسلم معاشرے میں حاصل ہےیہ سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے مسائل بے پناہ ہیں۔ لیکن اس کی اصل وجہ اسلام نہیں بلکہ اسلام سے دوری ہے اسلامی نظام کے قیام کا نہ ہونا ہے۔

آج معاشرے میں عورت اپنے اصل حقوق حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے بھی اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی۔اپنے دائرے کار میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرنا ہوگی اور خصوصا اپنے بیٹوں کی تربیت پر توجہ دینا ہوگی۔اسلام کےزیر سایہ جب مسلم معاشرے کی عورت کے مسائل حل ہوں گے تو دنیا ایک ایسے معاشرے کا قیام دیکھے گی کہ جب ایک عورت اکیلے سفر کرے گی اور اسے جنگلی جانوروں کے علاوہ کسی کا ڈر نہ ہو گا۔

جواب چھوڑ دیں