اسلام نے ہی اصل میں عورت کو مقام دیا

قبل از اسلام جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی سوائے اسکے کہ عورت محض دل بہلانے کا سامان سمجھی جاتی تھی۔ پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردی جاتی اور جو خوش قسمتی سے بچ جاتی وہ زندہ لاش کی مانند ہوتی، کیونکہ اسکی کوئی عزت نہیں تھی، مرد اپنے پیر کی جوتی بنا کر رکھتا تھا یا پھر استعمال کی کوئی شے، جسے جتنا چاہا استعمال کرلیا اور پھر اٹھاکر کچرے کی طرح پھینک دیا۔

وراثت سے محروم ، نحوست کی علامت، ماں باپ کےلیے بوجھ۔ جسے عزت دی اسلام نے،نام دیا،مقام دیا ،اسلام نے جو محض عورت تھی اسے “ماں، بہن، بیوی”،بیٹی کا درجہ دیا اسلام نے۔

دین اسلام پوری انسانیت کےلیے رحمت بن کر آیا، خاص کر عورتوں کےلیے، عورت کو اس کے مقام سے روشناس کروایا،اس کے حقوق مقرر کیے،اسکی اصل حیثیت کا تعین کیا،عورت کو پیر کی جوتی سمجھنے والے مرد کو یہ باور کرایا کہ عورت کی جوتی نہیں بلکہ گھر کی ملکہ ہے، محض دل بہلانے کا سامان نہیں عزت ہے،نحوست کی علامت نہیں رحمت و برکت کا باعث ہے۔ عورت کی عزت کو محفوظ کرنے کےلیے نکاح کا حصار دیا۔اسے گھر کی ملکہ بناکر مرد کو اس پر قوام بنادیا تاکہ عورت کو کمانے کےلیے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔

باپ،بھائ،بیٹے،شوہر کے سائبان کا مضبوط حصار جسے آج کی عورت اپنے لیے گلے کا پھندا سمجھتی ہے، درحقیقت اللہ کی نعمت اور باعث رحمت ہے۔

عورت کی ذمہ داری بس گھر سنبھالنا،بچوں کی تربیت،شوہر اور گھر والوں کی خدمت کرنا ہے اور ان سب ذمہ داریوں کو نیک نیتی سے نبھانے پر وہ ثواب بھی پاتی ہے۔

دیکھا جائے تو عورت ہر طرح سے فائدے میں رہی باہر نکل کر محنت بھی نہ کرنی پڑے اور گھر میں ہی رہ کر ثواب الگ، لیکن ہائے افسوس ناقص العقل عورت ان ذمہ داریوں کو جس پر اسے ثواب کی نوید ہے، اپنے لیے بوجھ اور قید سمجھتی ہے اور باہر نکل کر کمانے کو آزادی جو کہ دراصل بربادی اور اس بربادی کو وہ خوشی سے قبول بھی کرتی ہے۔ ایک عورت کی بربادی پوری نسل کی بربادی ہے اور وہی عورت اگر سمجھ داری سے ذمہ داری نبھائے تو نسلوں کو سنوار دے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت اپنی ذمہ داریوں کو خوشی سے قبول کرتے ہوئے احسن طریقے سے انہیں نبھائے اور اپنے آپ کو گھر کی ملکہ بنائے جانے پر بجائے بے زاری کے فخر کرے اور اپنا مقام سمجھتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرتی رہے اسی میں عورت کی کامیابی ہے۔

جواب چھوڑ دیں