عورت بیوی،بیٹی،بہن…اورماں کے عظیم درجے میں

عورت کس چیز کی بھوکی ہو تی ہے ؟ صرف اور صرف عزت کی ۔ جب وہ لڑکی ہوتی ہے تو بھی اس کے اندر ایک ممتا چھپی ہوتی ہے اس ہی لیے وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو روتا نہیں دیکھ سکتی ان کی دلجوئی کر تی ہے ۔ اگر ماں باپ ناراض ہو ں یا کسی وجہ سے خفا ہورہے ہوں تو ہمیشہ بڑی بہن اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو ان کے غصے سے اور مار سے بچاتی ہے ۔

اگر کہیں کسی اسکول میں ہاف ٹائم میں پتا بھی چل جا ئے کہ کے چھوٹی بہن یا بھائی کو کسی نے مارا یا وہ گر کر زخمی ہو گیا ہے تو فوراً ساتھیوں کو خبر دے دیتی ہیں یہ انکا انداز محبت ہے اور متعلقہ بہن فوراً دوڑی دوڑی آتی ہے پہلے اپنے سے مدد کرتی ہے دلاسہ دیتی ہے اور ضرورت ہو تو فوراً ہیڈ کو بتا کرمما کو بلواتی ہے ۔ یہ رشتے بھی کیا چیز ہیں ؟ قدرت کتنی خوبصورتی سے رشتے بناتی ہے، نصیب جگاتی ہے۔

ایک لڑکی کو عورت کا درجہ دیتی ہے اولاد کے حق میں یہی عورت ماں کے روپ میں کئی رشتوں سے بندھ جاتی ہے اور اس کو نبھانے میں اپنی جان مال اور عزت کی، صلاحیت کی، صبرو تحمل کی جگہ جگہ قربانی دیتی ہے ۔ احسان سمجھ کر نہیں اور فرض سمجھ کر اور کبھی نہیں چاہتی کسی کی بے عزتی کرے خصوصاً شوہر کی کبھی وہ بے عزتی نہیں کرتی ، نہ بے عزت ہونا پسند کرتی ہے۔ بچوں کی عزت کی خاطر ہر غم برداشت کرتی ہے لیکن اگر اسکے اپنے ہی اسکے حقوق غضب کریں جو عموماً ہمارے معاشرے کا المیہ ہے جس کی وجوہات اگر چہ کئی طرح کی ہوسکتی ہیں مگر ان میں صرف خود غرضی اور مطلب پرستی ایک ایسی وجہ ہے جسے وہ برداشت نہیں کرسکتی ۔ خاص طور سے شوہر کی طرف سے ۔

محبت اور خلوص کا اپنا رنگ ہوتا ہے برکت اور سکون لئے ہوئے جسے برداشت کیا جاسکتا ہے ۔ خوشی خوشی مگر دکھاوا خود غرضی اور مطلبی در اصل بے وفائی ہے ۔ جس کا نتیجہ بیماری سے بھی زیادہ مہلک نکلتا ہے ماں ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے لیکن سلام ہو ان عظیم مائوں کو جو ان ناقدرے لالچی اور خود غرض شوہروں کی عزت رکھتے ہوئے ہمت اور حوصلے سے ہر طرح کی قربانی دے کر نہ صرف اپنے بچوں کو انکو بلکہ اپنے اور انکے دونوں خاندانوں کی عزت رکھ کر اللہ کی خاطر ضبط سے نکھارتی رہتی ہیں ۔

نتیجے سے بے پرواہ اپنے رب کی خاطر سب کچھ سہہ جاتی ہیں ، بہہ جاتی ہیں یہاں تک کے ڈھ جاتی ہیں مگر پھر بھی شوہروں پر جوں تک نہیں رینگتی ! بلکہ بسا اوقات بچے خاص کر لڑکے بھی ویسے ہی ناقدرے نکل آتے ہیں۔ وجہ مجھے یہی سمجھ آتی ہے کہ دین کی کمی پچھلا برائی کا اثر یا پھر ہمارا ہی امتحان وہی قربانی کا بکرا ۔ اللہ ہمیں اپنے امتحان میں کبھی نہ ڈالے (آمین) مگر یہ درست ہے کہ ماں کو کبھی بھی اپنا رول نہیں بھولنا چاہئے چاہے کچھ بھی ہو جائے وہی نسلوں کی عزت بقا کی ضامن ہے معزز اور مہذب طرز زندگی اس کا شیوہ ہو نا چاہئے جو جلد یا بدیر ضرور اپنا اثر دکھا تا ہے ۔ زندگی میں نہ صحیح مرنے کے بعد بھی زندگی میں اجالا ہی پھیلاتا ہے انسان سنتے سناتے بھی خوش ہوتا ہے اور یوں نسلوں تک معاشرتی تعمیری عمل چلتا ہے گو یا صدقہ جاریہ !

مجھے بھی ماں کا احساس خود ماں بن کر اتنا نہیں ہوا جتنا خود اپنی ماں کے گزرنے کے بعد ہوا ، مجھے آج تک ان کی یہ بات یاد ہے وہ کہتی تھیں ۔ ماں کی چھٹی نہیں ہو تی مطلب وہ کبھی فارغ نہیں ہوتی، مجھے انہیں ہر وقت کام کرتا دیکھ کر کبھی افسوس ہوتاتھا کہ ان کو کتنی تکلیف ہو تی ہو گی ؟ مگر جیسے جیسے میرے کام بڑھتے گئے وہ مجھ سے کہتی تھیں کہ تم کتنا کام کرتی ہو ؟ کیونکہ انتقال سے چار سال پہلے ان کی ہپ بون ٹوٹ گئی تھی جس کی وجہ سے وہ زیادہ تر بیٹھی رہتی تھیں اور بیٹھے بیٹھے بھی مجھے کئی اشعار سناتی تھیں کچھ نہ کچھ کام کرتی رہتی تھیں۔

ہر کسی کے حصے کا کام کرنا پسند کرتی تھیں گویا قولی اور عملی طور پر محنت ، محبت، خلوص کا درس دینا چاہتی تھیں ہر وقت نماز پڑھتی اور آنسوئوں سے روتی تھیں کہتی تھیں کبھی مایوس مت ہوجانا حا لات بدلتے رہتے ہیں بس پر امید رہنا کیونکہ

                                           “مایوس  ہو کہ مت جا توبہ  کا در کھلا  ہے 

                                            سرکو جھکا کےدیکھو سجدےمیں کیامزہ ہے”

آج میں حالات سے تنگ آگئی تو بس ماں یاد آگئی نماز کے بعد مجھے اپنی ماں کی بتا ئی ہوئی پر بات سچ لگی ۔ اپنانے کے قابل ، بتانے کے قابل اور ہم سب کو بچانے کے قابل کیوں نہیں ؟ آخر ہم سب عورتیں ہیں اور عورتوں میں فطری طور پر ایک ممتا چھپی ہوتی ہے ۔ بس فرق ہے عمل کا، قول اور عمل میں تضاد نہ ہو ۔ رب چاہی کریں من چاہی سے بچیں ۔ اپنے غصے کو قابو میں رکھیں اتنا بڑا کام آسان نہیں تو مشکل بھی نہیں ۔ بس دعا اوراللہ پر یقین ورنہ تو ہماری زبان انداز، رویہ خود بول رہا ہوتا ہے ۔

                                      دل میں آپ کےآگ لگائے اوردل کوناراض کرے

                                      غصہ ایسی چیز ہے ہمدم افشاں سارے راز کرے

                                       جو عمل  کرتا  نہیں بے اثر ہے اس کی  بات 

                                       بے وزن اس کی نصیحت ، بے خبر بے التفات

واقعی ایک عورت ایک ماں کو ہر وقت اچھے اور نیک عمل ہی کرتے رہنا چاہئے ۔ اللہ سب مائوں کو عورتوں کو اسکی توفیق دے (آمین)۔

کیونکہ معاشرے کی زینت ہم سے ہے تو ہمارا ایک گندہ باطل عمل ہماری تمام نیکیوں کو برباد کردیتاہے تو ایک نیکی کئی اعمالوں کو گناہوں کو بھی دھو ہی ڈالے گی ۔ آپ جس بھی حیثیت میں ہوں بیٹی ، بہو ، بیوی ، بہن ، ماں کی قدر کریں اسی نے بولنا سکھا یا لہٰذا اس کے آگے ادب تمیز سے سیدھی اور اچھی بات بولیں اور اپنی ہزار اچھا ئیوں کو بھول جائیں مگر ایک دانستہ کی ہوئی ایک غلطی یا گناہ کو کبھی نہ بھولیں کیونکہ بقول امی

                                                “ہر عمل ایک  بیج ہے ، کل  شجر بن  جائے گا

                                                 جو کریں گے اس کے اوپر ویسا ہی پھل آئے گا “

زندگی تو ہے ہی امتحان ، مصائب آتے ہی رہتے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے جیسے بڑھتے ہیں مصائب بھی بڑھتے ہیں یا شاید ہم زیادہ ذمہ دار، زیادہ حساس ہو جاتے ہیں بہر حال ایک جگہ میں نے پڑھاتھا کہ مصائب سے کبھی نہ گھبرائیں کیونکہ ستارے تو اندھیرے میں ہی چمکتے ہیں ۔ جب کبھی میں ستاروں کو دیکھتی ہوں تو کبھی خیال آتا ہے کہ شاید یہ سارے ستارے مائیں ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں بھی چمک چمک کر ہماری رہنمائی کرتی ہیں ۔ سکون فراہم کرتی ہیں ۔ سبحان اللہ

جواب چھوڑ دیں