جب کوئی ساتھ چھوڑ جائے

” سنو! اذیتوں کا دہواں جب روح میں پھیلتا ہے، تو اس کی چبھن سے آنکھیں خود بخود نیر بہانے لگتی ہیں۔ نہ جانے یہ کیسا دکھ ہے؟ جو آنسوؤں کے ساتھ بہہ کر بھی کسی طور کم نہیں ہو رہا۔ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ میری جان!! تمہارے جذبوں نے ہی تو میری روح کی بنجر زمین کو شادابی بخشی ہے، لیکن اب تمہاری ناراضی اس میں دراڑیں ڈال رہی ہے۔ بتاؤ بھلا، یہ بھی کوئی ناراض ہونے والی بات ہے کہ میں اظہار کیوں نہیں کرتی؟ تمہی بتاؤ میں کیا کروں ؟میرے پاس تمہارے جیسے خوبصورت الفاظ نہیں۔ تمھارے مہکتے گلنار جذبے میری زبان کو گنگ کر دیتے ہیں۔
اس پر میرے اندر کا ڈر، کسی ناگ کی طرح پہن پھیلائے کھڑا رہتا ہے، ڈرتی ہوں میری خوشیوں کو نہ ڈس لے۔ سنو! اب تو مان جاؤ ناں۔ میں نے اپنی غلطی مان لی ہے۔ دیکھو! میں تو اب اس بات پر بھی ناراض نہیں جب تم نے کہا کہ میں گھر آ رہا ہوں جلدی کھانا لگاؤ۔ اس روز میں نے تمہارا پسندیدہ زرد سوٹ پہنا، ریڈ لپ اسٹک لگائی اور وہ جھمکے بھی پہنے جو تم نے میری سالگرہ پر مجھے گفٹ کئے تھے۔
تمہیں میرے کلپ میں مقید بال اچھے نہیں لگتے تھے سو میں نے بال بھی کھلے چھوڑے اور پھر میز پر کھانا سجا کر تمہارا انتظار کرتی رہی لیکن۔ تم نہیں آئے۔ جانتے ہو میں نے کتنی شدت سے تمہارا انتظار کیا تھا؟
میں تو اس بات پر بھی اب ناراض نہیں ہوں سو تم بھی اپنی ناراضی ختم کر دو اب۔ مجھ سے ایسے منہ پھیر کر نہ بیٹھو۔ بس ایک بار میری طرف دیکھو تو سہی۔
اچھا تم کہتے تھے ناں کہ میرے بال یا میرا آنچل جب تمہارے سینے سے مس ہوتا ہے، تو تم اپنا ہر غم، ہر تکلیف بھول جاتے ہو ۔ لو، میں آج خود اپنا سر، اپنا آنچل تمہارے سینے پر رکھ رہی ہوں۔ اب تو ہنس دو ناں۔”
اپنی ماں کی قبر پر دعا مانگتے ہوئے اس شخص نے بہت حیرت اور دکھ سے اس پری وش کو دیکھا جو ارد گرد سے بے نیاز ساتھ والی قبر پر اپنا ڈوپٹہ پھیلائے سسکتی ہوئی اپنے آپ سے ہمکلام تھی۔

جواب چھوڑ دیں